ہمارے امریکی مہمان


مسٹر فرینک کی ضیافت اڑا کر ہم ان سے تکلفاً کہہ بیٹھے:
”کبھی ہمارے ہاں بھی تشریف لایئے اور ایک روز شام کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیے۔“
دنوں میاں بیوی گویا برسوں سے ہماری دعوت کے منتظر تھے ، بولے
”ضرورآئیں گے“
میرا دل دھک سے رہ گیا ۔ ابھی سنبھلنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ مسٹرفرینک نے کہا:
”ہماری خواہش ہے کہ کسی ترک دوست کے ہاں کھانا کھایا جائے جس روز آنا ہوا، آپ کو پہلے اطلاع دے دیں گے۔“
اب ہمارا اولین کام اس خبر کو محلے میں نشر کرنا تھا۔ اگر سرارہ کوئی پوچھ بیٹھتا”کیوں حسن صاحب! یوں بھاگم بھاگ کدھر کا رخ ہے؟ “تو ہم فوراً جواب دیتے ”جی ہمارے ہاں کچھ امریکی مہمان آرہے ہیں، ذرا اسی سلسلے میں۔۔۔“
جلد ہی پورے محلے میں ایک بھی شخص ایسا باقی نہ رہا جو یہ خبر نہ سن چکا ہو۔ ایک روز محلے کے بقال نے پوچھا” آپ کے ہاں امریکی مہمان تشریف لا رہے ہیں۔ کیا یہ واقعی ٹھیک ہے؟“
میں نے یوں ظاہر کیا گویا اس واقعہ کی میری نظروں میں قطعاً کوئی وقعت ہی نہ ہو۔
”جی؟ ہاں آرہے ہیں۔“ پڑھنا جاری رکھیں→