غزل


دھنک ملے تو نگاہوں میں قید رنگ کریں
رم آج رات چلو چاندنی کے سنگ کریں


یہ آئینہ سا میرا دل ہے اس میں سجتی رہو
پھر اس کے بعد تمنا نئی امنگ کریں


بدن تو مل گئے روحوں کی تشنگی بھی مٹے
سو اختیار چلو آج کوئی ڈھنگ کریں


نہیں ہیں فرصتیں آلامِ روزگار سے جب
اب اس کے بعد بتا کیا ترے ملنگ کریں


یہی ارادہ ہے بزمِ سخن سجائیں کہیں
ردیف وار لکھیں قافیہ نہ تنگ کریں

سید انور جاوید ہاشمی (کراچی)

غزل


سمندروں کے سفر پر مجھے بلاتا ہوا
فلک پہ دور ۔۔۔۔ستارہ سا ٹمٹماتا ہوا


الجھ رہا ہوں زمانوں کی بے کرانی سے
میں سطحِ آب پہ کچھ دائرے بناتا ہوا


کوئی تو بات تھی ایسی کہ ہوگیا خاموش
وہ میرے دل میں پرندہ سا چہچہاتا ہوا


چھپائے رکھتا تھا ، اندر کی خامشی جیسے
وہ اپنے یاروں میں یوں ہاؤ ہو مچاتا ہوا


سمجھ رہا ہوں تری بات بات کا مفہوم
میں حوصلے سے ، قرینے سے مسکراتا ہوا


چھنک اٹھی ہے کہیں تیری یاد کی پازیب
میں جارہا ہوں کہیں دور گنگناتا ہوا


گذر رہا ہوں کسی اور کہکشاں سے نذیر
میں روشنی کے لیے راستے بناتا ہوا


ڈاکٹر نذیر تبسم پشاور

اقبال کی شاعری میں ابلیس کا کردار


روایتِ دینی سے ماخوذ کرداروں میں ابلیس کا کرداراقبال کے ہاں نہایت پر کشش کردار ہے ۔ یہ کردار مختلف مذہبی روایات میں مختلف ہے لیکن ہر روپ میں توانا اور کسی بڑی طاقت کی صورت میں ابھرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس کردار نے بہت سے شاعروں اور ادیبوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی ہے۔ کرسٹوفر مارلو ، جان ملٹن اور گوئٹے کی تخلیقات میں ابلیس ایک نمایاں ہی نہیں ، شاہکار کردار ہے۔
اقبال نے ابلیس کے کردار کی پیشکش میں روایتوں سے کسی حد تک استفادہ کیاہے اور ان کے ذہن میں ابلیس کے کردار کی وہ شکل بھی ہے جو روایت قرآنی سے متعلق ہے لیکن اپنی نظموں میں اقبال نے اس کردار کو ایک ایسے کردار کی شکل میں پیش کیا جس کی تشریح ، شیکسپیئر کے کرداروں کی طرح مختلف سطحوں پر کی جاسکتی ہے۔
ابلیس کاکردار اقبال کے ہاں مختلف جہتیں رکھتا ہے ، ایک جہت تو وہ ہے جو مذہبی روایتوں میں عام ہے یعنی شر اور بدی کا استعارہ ، اقبال نے شیطان کو اس روپ میں اپنی مختلف نظموںمیں دکھایا ہے ۔ ان نظموں میں ”ابلیس کی عرضداشت“ ، ”ابلیس کافرمان“ اور ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ لائقِ ذکر ہیں، لیکن موخر الذکرنظم میں ابلیس کا کردار زیادہ توانا نظرآتا ہے ۔ اس نظم میں ابلیس اپنے مشیروں سے یہ مشورہ کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنی طاقتِ شر کو استحکام بخش سکتا ہے ، شیطان کی طاقت دنیا میں دو نظام ہائے زندگی کے بل بوتے پر قائم ہے یعنی شہنشاہیت اور فاشزم ۔ شیطان کو خوف ہے کہ یہ دونوں نظام ، انقلاب کی زد پر ہیں اور ان کا خاتمہ دراصل اس کی اپنی ہی موت ہے ۔ شیطان اس موقع پر زیاہ خائف سوشلزم سے نہیں بلکہ اسلام سے ہے: پڑھنا جاری رکھیں→

یقینِ خدا ، خدا حافظ!


آگ ہی آگ چار جانب آگ
کیا بہشتِ وطن کا حال لکھوں
کچھ نہیں میری دسترس میں مگر
چاہتا ہوں چمن کا حال لکھوں
کیوں وہ پھولوں کے سہرے مرجھائے
کیوں خزاؤں نے ڈیرے ڈالے ہیں
رُوح فرسا نسیم کے جھونکے
غم فزا پنچھیوں کے نالے ہیں
سوچتا ہوں تو جان جاتی ہے
کل یہاں کیا تھا اور اب کیا ہے
پیار تھا صحبتیں تھیں میلے تھے
تھے مگر اب نہیں ، سبب کیا ہے
کن بلاؤں میں گِھر گئے ہیں ہم
کون خونخوار حملہ آور ہیں
کہیں لٹکے ہیں سر بغیر بدن
کہیں زنجیر بے بدن سر ہیں
موت کا راج ہے سرِ مُو بھی
زندگی مدارات نہیں رکھتی
بے حسی نے لگا لیے خیمے
رہبری معرفت نہیں رکھتی
رہ گزاروں پہ سوگ سایہ کناں
منزلوں ماتمی قناتیں ہیں
دھند میں کچھ پتا نہیں چلتا
یہ جنازے ہیں یا باراتیں ہیں
نا امیدی کی تیز بارش میں
بھگتی ہر دُعا ، خدا حافظ
جا رہا ہے خدا کے گھر لیکن
اے یقینِ خدا ۔۔۔ خدا حافظ !

شہاب صفدر

وزیرستان


کہاں سے آگے حدِ عدو ہے
کہاں پہ لشکر کی پہلی صف ہے
کہاں ہدف ہے
کسی پہ کھلتا نہیں ہے کچھ بھی
تمام منظر بدل چکے ہیں
صفوں کی ترتیب جاچکی ہے
نہ میمنہ ہے ، نہ میسرہ ہے
نہ قلب کوئی ، نہ اب عقب ہے
کہاں پہ لشکر کی پہلی صف ہے؟
فلک پرایا ہی تھامگر اب زمیں بھی اپنی نہیں رہی ہے
کسی کو کوئی خبر نہیں ہے کہ کون سا رُخ ، رُخِ عدو ہے
چہار سمتوں سے دشمنی ہے
عَلَم وہی ہیں ، رَجز وہی ہیں
ہجومِ نعرہ زناں بھی اک سا
مری پکاروں میں ، تیرے نعروں میں اسم اک سے
یہ میں گرا ہوں کہ تو گرا ہے
کسی پہ کھلتا نہیں کدھر ہے
فلک کہاں ہے؟ زمیں کدھر ہے
غبار آلود منظروں میں تمام سمتیں الٹ گئی ہیں
خلط ملط ہو کے میں کدھر ہوں
کہیں غلط ہو کے تو کدھر ہے
وہ وعدۂ ناوفا   کدھر ہے؟
خدا کدھرہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہزاد نیئر گوجرانوالہ

مقبول عامر” دشت بے آب” سے "عالم بیکراں” تک


مقبول عامر کے انتقال کو سترہ سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے ممکن ہے اب تک ان کے دوستوں، رشتہ داروں اور مداحین کے دلوں کے زخم مندمل ہوچکے ہوں اگر مکمل طور پر مندمل نہ بھی ہوئے ہوں تب بھی یہ اتنے گہرے

مقبول عامر

نہیں رہے ہوں گے جتنے سترہ سال پہلے تھے۔ لہٰذا اب مقبول عامر کی وفات پر نوحے کہنے اور تعزیت نامے تحریر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اور نہ اب یہ سوچنا سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔ کہ وہ ایک ایسے مقام پر ہم سے بچھڑ گئے۔ جب وہ شعری ارتقا کے منازل طے کر رہے تھے۔ انہوں نے ابھی بہت کچھ کہنا تھا۔ اگر وہ زندہ رہتے۔ تو نہ جانے تخلیق کی کون کون سی راہیں طے کر چکے ہوتے۔ اگر ہم ان باتوں میں وقت صرف کرنے کے بجائے اپنی سوچ کا دھارا اس تخلیق تک محدود رکھیں جو ہمارے سامنے ہے اور یہ سوچیں کہ انہوں نے جو کچھ تخلیق کیا۔ اس کی قدرو قیمت کیا بنتی ہے؟ تو زیادہ مناسب ہوگا۔
ہم نے ادب کو تفریح کاذریعہ سمجھ کر اسے شخصی کوائف نامہ تسلیم کرکے زندگی کی تفہیم کے راستے میں کئی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اگرہم ٹی ایس ایلیٹ کے اس قول پر ایمان لے آتے۔ شاعر کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو فن کے حوالے کر دے تو نہ ہمیں لکیریں پیٹنے کی تکلیف گوارہ کرنی پڑتی اور نہ ہی ہماری شاعری عمومی شخصی اور رومانی کیفیات کا روزنامچہ بن کر رہ جاتی اور نہ ہی ہمارے مشاعروں میں "واہ واہ ٹھاں ٹھاں” کی روایت جنم لیتی۔ جس نے ہماری شاعری کو میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مزاحیہ شاعری کا درجہ دے دیا ہے۔ لیکن ایسی شاعری کو مکمل طور پر سنجیدہ فن بھی قرار نہیں دیا جاسکتالہٰذا کوئی بھی شاعر اگر ہماری شعری روایت میں کسی نئی فکری معنویت، نئے لہجے اور اسلوب کا اضافہ نہیں کرتا اور محض تقلیدی رویہ اختیار کئے رہتا ہے تو مناسب ہوگا کہ اس کے بجائے اصل شعرا کا مطالعہ کیا جائے۔
ہمارے عہد میں ایسے شعرا کی تعداد چونکہ اچھی خاصی ہے۔ لہٰذا ہر شاعر کے باب میں کچھ زیادہ سوچ بچار کے بعد ہی کوئی فیصلہ دیا جاسکتا ہےکہ وہ نیا شاعر ہے بھی یا نہیں؟ پڑھنا جاری رکھیں→

اردو غزل کا سورج (سورج نرائن)


لوگ کہتے ہیں کہ مضمونِ غزل میں سورج
ایک رنگین سا اندازِ بیاں رکھتا ہے


سورج نرائن نے شاعری کا آغاز 60ءکی دہائی میں کوہاٹ سے کیا یہ وہ دور تھا جب اردو شاعری میں تخلیقی مزاج ، شعری جمالیات اور طرز احساس کے حوالے سے متنوع تجربات ہو رہے تھے یہی وہ وقت ہے جب ترقی پسند ی اور جدیدیت کی ہم آہنگی سے ایسے تجربات ہوئے کہ اردو شاعری دنیا کی بڑی زبانوں کی شاعری کے ہمرکاب آگئی یہ نظم کا دور تھا اور ظفر اقبال جیسے باغی شعراءنے مسلسل غزل لکھ کر نئے دور کا آغاز کیا ۔ مقامی زبانوں کے الفاظ حقیر غزل بنے اور متروک تراکیب کا دوبارہ احیاءہوا۔ تب جب فیض ، ساحر لدھیانوی، ناصر کاظمی ، منیر نیازی ، شہزاد احمد جیسے شعراءاپنے اپنے موسموں کی گونج پیدا کررہے تھے ۔ سورج کی پہلی کتاب ”پیاسا چاند “ منظر عام پر آئی اورغزل کی دنیا میں ایک طوفان برپا کردیا ۔ بعض لوگوں نے ان کا کلام کو سن کر ناک بھون چڑھائی لیکن یہ تو تب بھی ہوا تھا جب فراز جیسی شخصیت جلوہ گر ہوئی تھی۔


تیغ بکف جب لوگ تھے ایسے عالم میں
میرے ہاتھ سے صرف قلم وابستہ تھا

پڑھنا جاری رکھیں→