غزل


سمندروں کے سفر پر مجھے بلاتا ہوا
فلک پہ دور ۔۔۔۔ستارہ سا ٹمٹماتا ہوا


الجھ رہا ہوں زمانوں کی بے کرانی سے
میں سطحِ آب پہ کچھ دائرے بناتا ہوا


کوئی تو بات تھی ایسی کہ ہوگیا خاموش
وہ میرے دل میں پرندہ سا چہچہاتا ہوا


چھپائے رکھتا تھا ، اندر کی خامشی جیسے
وہ اپنے یاروں میں یوں ہاؤ ہو مچاتا ہوا


سمجھ رہا ہوں تری بات بات کا مفہوم
میں حوصلے سے ، قرینے سے مسکراتا ہوا


چھنک اٹھی ہے کہیں تیری یاد کی پازیب
میں جارہا ہوں کہیں دور گنگناتا ہوا


گذر رہا ہوں کسی اور کہکشاں سے نذیر
میں روشنی کے لیے راستے بناتا ہوا


ڈاکٹر نذیر تبسم پشاور

یقینِ خدا ، خدا حافظ!


آگ ہی آگ چار جانب آگ
کیا بہشتِ وطن کا حال لکھوں
کچھ نہیں میری دسترس میں مگر
چاہتا ہوں چمن کا حال لکھوں
کیوں وہ پھولوں کے سہرے مرجھائے
کیوں خزاؤں نے ڈیرے ڈالے ہیں
رُوح فرسا نسیم کے جھونکے
غم فزا پنچھیوں کے نالے ہیں
سوچتا ہوں تو جان جاتی ہے
کل یہاں کیا تھا اور اب کیا ہے
پیار تھا صحبتیں تھیں میلے تھے
تھے مگر اب نہیں ، سبب کیا ہے
کن بلاؤں میں گِھر گئے ہیں ہم
کون خونخوار حملہ آور ہیں
کہیں لٹکے ہیں سر بغیر بدن
کہیں زنجیر بے بدن سر ہیں
موت کا راج ہے سرِ مُو بھی
زندگی مدارات نہیں رکھتی
بے حسی نے لگا لیے خیمے
رہبری معرفت نہیں رکھتی
رہ گزاروں پہ سوگ سایہ کناں
منزلوں ماتمی قناتیں ہیں
دھند میں کچھ پتا نہیں چلتا
یہ جنازے ہیں یا باراتیں ہیں
نا امیدی کی تیز بارش میں
بھگتی ہر دُعا ، خدا حافظ
جا رہا ہے خدا کے گھر لیکن
اے یقینِ خدا ۔۔۔ خدا حافظ !

شہاب صفدر

محبت کے نخلستانوں میں عقیدت کا سفر


بنوں اور لکی مروت زمانۂ قدیم سے بے شمار تہذیبی و ثقافتی ، دینی و مذہبی ، علمی و ادبی اور انتظامی و انصرامی اٹوٹ رشتوں میں بندھے چلے آرہے ہیں۔ ان میں دو بھائیوں جیسا پیار یا دو اچھے پڑوسیوں کا سا رشتہ پایا جاتا ہے ۔ بڑا بھائی گروپ فوٹوہونے کے ناتے بنوں کو افرادی قوت کی کُمک پچھلے ہر دور میں ہمیشہ اپنے چھوٹے بھائی لکی مروت سے ہی ملی ہے ۔ چنانچہ محکمہ  تعلیم ، پولیس اور بینک کے متنوع شعبوں سے لے کر اردو اور پشتو شاعروں تک کی ہر چھوٹی بڑی کھیپ وہیں سے درآمد کی جاتی رہی ہے۔ فرانسیسی مفکر اندرے ژید کے نظریے ( حسن اور فن کے معاملے میں حب الوطنی کے جذبے کو دخل نہیں دینا چاہیے ) کی روشنی میں بات کی جائے تو کہنا پڑے گا کہ بنوں کے چند ایک قد آور شاعروں (مقبول عامر ، مطیع اللہ قریشی ، غازی سیال) کو چھوڑ کر دیگر تمام چھوٹے بڑے شاعروں پرلکی مروت کے رحمت اللہ درد ، عبدالرحیم مجذوب ، تبسم مروت ، افگار بخاری اور انور بابر کو واضح بزرگانہ برتری حاصل ہے اس رائے سے ہمارا مقصد کسی کی بے جا تحسین یا تنقیص کرنا ہر گز نہیں ۔ اصحابِ نظر جانتے ہیں کہ قبولِ خاطر و ُلطفِ سخن خداداد چیز ہے۔ کسی بھی ادبی ، لسانی یا علاقائی تعصب سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کے فوری ازالے کے لیے اتنا عرض کر دنیا بہر حال ضروری سمجھتا ہوں کہ بنوںنے فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں ( موسیقی، مصوری اور خطاطی ) میں جیسے جیسے قدآور نام پیدا کیے ہیں لکی مروت میں اُس کا عُشرِ عشیر بھی دکھائی نہیں دیتا۔
فنون ِ لطیفہ کے کئی ایک شعبوں ( موسیقی ، خطاطی ، نقاشی ، مصوری اور شعر و ادب ) سے مجھے بچپن ہی سے گہری دلچسپی رہی ہے ۔ خصوصاًا چھا شعر تو میرے انگ انگ کو ایک وجدانی کیف اور روحانی سرُور سے آشنا کردیتا ہے۔ معلوم نہیں بُطُونِ شعر سے کونسی ایسی طلسماتی پری نکلتی ہے جو خیالوں کی انگلی تھام کر ان دیکھے پربتوں پر لے اُڑتی ہے ۔ پھر شام و سحر ، روشنی و تاریکی ، افسانہ و افسوں ، خوف و امید ، لذت واذیت اور مسرت و ملال کے ملے جلے تاثرات کے تختِ رواں پر بٹھا کر خدا جانے کہاں کہاں لیے پھرتی ہے میں اس باطنی کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا آپ اپنی سہولت کے لیے چاہیں تو اِسے کسی نوخیز حسینہ کا غمزۂ دلفریب کہہ لیں ، کسی معصوم بچے کا تبسمِ دلنواز کہہ لیں یا کسی واصل بااللہ کا نورِ باطن ! مجھے اگر مجبور کیا جائے تو فقط اتنا کہوں گا کہ:


خوبی ہمیں کرشمۂ ناز و خرام نیست
بِسیار شیوہ ہاست بتاں راکہ نام نیست


چنانچہ شعر و سخن کے گلہائے رنگا رنگ سے اِسی ”غمزۂ دلفریب“ اِسی” تبسم ِ دلنواز“ اور اسی ”نورِ باطن “ کی نکہت و شمیم کو پیالۂ ذوق و وجدان میں اپنے نوجوان قارئینِ کرُم کے لیے سمیٹ کر لانے کی غرض سے ہم نے 24 جون 2010ءکی ایک کُہر آلود اور انتہائی خنک مگر دلفریب صبح اپنے ہمدمِ دیرینہ محمد ولی کی گاڑی میں لکی مروت کا ادبی دورہ کیا۔ میرے ساتھ میرے حساس اور ادب نواز دوست جاوید احساس بھی تھے۔ راستے میں مفتی محمود کالج ڈیرہ اسماعیل خان کے شعبہ اردو کے انتہائی سخن طراز اور سخن ساز لیکچرر عبدالمتین مبتلا بھی اپنی گرم گفتاری میں ہمیں مبتلا کرنے کے لیے آشامل ہوئے ۔ کار بنوں سے لکی مروت جانے والی نئی اور کشادہ روڈ پر کُہر اور دُھند کے مرغولوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سورج دیوتا نے اُفق ِ شرق سے بلند ہو کر اپنی نٹ کھٹ شعاعوں کے مشفق و مہربان نیزے ہماری نظروں کے ہدف پر چلانے شروع کر دئیے مجھے بے اختیار مقبول عامر یاد آگئے : پڑھنا جاری رکھیں→

اردو غزل کا سورج (سورج نرائن)


لوگ کہتے ہیں کہ مضمونِ غزل میں سورج
ایک رنگین سا اندازِ بیاں رکھتا ہے


سورج نرائن نے شاعری کا آغاز 60ءکی دہائی میں کوہاٹ سے کیا یہ وہ دور تھا جب اردو شاعری میں تخلیقی مزاج ، شعری جمالیات اور طرز احساس کے حوالے سے متنوع تجربات ہو رہے تھے یہی وہ وقت ہے جب ترقی پسند ی اور جدیدیت کی ہم آہنگی سے ایسے تجربات ہوئے کہ اردو شاعری دنیا کی بڑی زبانوں کی شاعری کے ہمرکاب آگئی یہ نظم کا دور تھا اور ظفر اقبال جیسے باغی شعراءنے مسلسل غزل لکھ کر نئے دور کا آغاز کیا ۔ مقامی زبانوں کے الفاظ حقیر غزل بنے اور متروک تراکیب کا دوبارہ احیاءہوا۔ تب جب فیض ، ساحر لدھیانوی، ناصر کاظمی ، منیر نیازی ، شہزاد احمد جیسے شعراءاپنے اپنے موسموں کی گونج پیدا کررہے تھے ۔ سورج کی پہلی کتاب ”پیاسا چاند “ منظر عام پر آئی اورغزل کی دنیا میں ایک طوفان برپا کردیا ۔ بعض لوگوں نے ان کا کلام کو سن کر ناک بھون چڑھائی لیکن یہ تو تب بھی ہوا تھا جب فراز جیسی شخصیت جلوہ گر ہوئی تھی۔


تیغ بکف جب لوگ تھے ایسے عالم میں
میرے ہاتھ سے صرف قلم وابستہ تھا

پڑھنا جاری رکھیں→