غزل


کوئی اجنبی خلش ہے کوئی اجنبی چبھن ہے
مجھے بھی خبر نہیں ہے مجھے کون سی لگن ہے


مری عقلِ حیلہ جُو نے کئی شانے توڑ ڈالے
تری زلف میں ابھی تک وہی خم وہی شکن ہے


تری رسمِ بے رُخی کو ترا طرزِ ناز سمجھا
میرے دیدۂ عقیدت میں عجیب بانکپن ہے


کئی روپ میں نے بدلے تری دلبری کی خاطر
تری بے نیازیوں کا وہی طور وہ چلن ہے


مری وسعتِ نظر کی نہیں سرحدیں کہیں بھی
مرا ہر جگہ بسیرا میرا ہر وطن ، وطن ہے


تری دلنشیں غزل ہے کہ پیامِ زیست طاہر
یا کہیں سحر کے دامن سے گری کوئی کرن ہے 

طاہرکلاچوی

غزل


سمندروں کے سفر پر مجھے بلاتا ہوا
فلک پہ دور ۔۔۔۔ستارہ سا ٹمٹماتا ہوا


الجھ رہا ہوں زمانوں کی بے کرانی سے
میں سطحِ آب پہ کچھ دائرے بناتا ہوا


کوئی تو بات تھی ایسی کہ ہوگیا خاموش
وہ میرے دل میں پرندہ سا چہچہاتا ہوا


چھپائے رکھتا تھا ، اندر کی خامشی جیسے
وہ اپنے یاروں میں یوں ہاؤ ہو مچاتا ہوا


سمجھ رہا ہوں تری بات بات کا مفہوم
میں حوصلے سے ، قرینے سے مسکراتا ہوا


چھنک اٹھی ہے کہیں تیری یاد کی پازیب
میں جارہا ہوں کہیں دور گنگناتا ہوا


گذر رہا ہوں کسی اور کہکشاں سے نذیر
میں روشنی کے لیے راستے بناتا ہوا


ڈاکٹر نذیر تبسم پشاور

اردو غزل کا سورج (سورج نرائن)


لوگ کہتے ہیں کہ مضمونِ غزل میں سورج
ایک رنگین سا اندازِ بیاں رکھتا ہے


سورج نرائن نے شاعری کا آغاز 60ءکی دہائی میں کوہاٹ سے کیا یہ وہ دور تھا جب اردو شاعری میں تخلیقی مزاج ، شعری جمالیات اور طرز احساس کے حوالے سے متنوع تجربات ہو رہے تھے یہی وہ وقت ہے جب ترقی پسند ی اور جدیدیت کی ہم آہنگی سے ایسے تجربات ہوئے کہ اردو شاعری دنیا کی بڑی زبانوں کی شاعری کے ہمرکاب آگئی یہ نظم کا دور تھا اور ظفر اقبال جیسے باغی شعراءنے مسلسل غزل لکھ کر نئے دور کا آغاز کیا ۔ مقامی زبانوں کے الفاظ حقیر غزل بنے اور متروک تراکیب کا دوبارہ احیاءہوا۔ تب جب فیض ، ساحر لدھیانوی، ناصر کاظمی ، منیر نیازی ، شہزاد احمد جیسے شعراءاپنے اپنے موسموں کی گونج پیدا کررہے تھے ۔ سورج کی پہلی کتاب ”پیاسا چاند “ منظر عام پر آئی اورغزل کی دنیا میں ایک طوفان برپا کردیا ۔ بعض لوگوں نے ان کا کلام کو سن کر ناک بھون چڑھائی لیکن یہ تو تب بھی ہوا تھا جب فراز جیسی شخصیت جلوہ گر ہوئی تھی۔


تیغ بکف جب لوگ تھے ایسے عالم میں
میرے ہاتھ سے صرف قلم وابستہ تھا

پڑھنا جاری رکھیں→