حسن کی ہمہ گیر قدر کا شاعر


Photo0145غلام سرور نام ، تخلص طاہرؔ ، آبائی شہر کلاچی ، مسکن بنوں، خاندانی پیشہ طب مصروفیت کتابت ، شغل شاعری ، اوڑھنا بچھونا تصوف ۔ وہ واقعی ہمارے بزرگوں کے اُس آخری قافلے کے خوش نصیب فرد تھے جنہیں بیک وقت اتنے ڈھیر سارے مشرقی علوم اور اسلامی فنون سیکھنے کی فرصت اور موقع ملا۔ میں خود تو اُن سے شرفِ نیاز حاصل کرنے سے محروم رہا ۔تاہم اُن بڑے بوڑھوں کی جوتیاں سیدھی کرنے کا موقع مجھے ضرور ملا جنہوں نے طاہر کلاچوی جیسے بامروت اور باکرار بزرگوں کی آنکھیں دیکھی تھیں ۔ چائے بازار جہاں طاہرؔ صاحب مطب کرتے تھے وہیں ایک چوبارے میں مجھے اُستادِ محترم جناب فضل الرحمن صاحب سے اپنی طرز تحریر کی نوک پلک سنوارنے کے یادگار اور خوشگوار لمحے گزارنے کا اتفاق ہوا۔طباعت جو طاہرؔ صاحب کا پیشہ اور روزگار تھا میرے بھی خاندان کے کئی ایک بزرگوں کا کل وقتی یا جُز وقتی شغل رہا ہے۔ شاعری جہاں اُن کی ذہنی کیفیات اور قلبی وارداتوں کے اظہار کا وسیلہ تھی وہیں میرے لیے بھی ذوق کی تسکین کا سامان رکھنے کے علاوہ انسان کے ذہنی وظائف اور قلبی اُمور کے سمجھنے اور سمجھانے کا ذریعہ بنی ۔
تصوف ان کا مسلک اور کردار تھا۔ تصوف میر بھی دین اور ایمان ہے نپولین بونا پارٹ جب جرمن شاعر گوئٹے سے پہلی بار ملا تو وہ بے ساختہ پکار اٹھا کہ’’ میری ایک انسان سے ملاقات ہوئی ہے۔‘‘ میں بھی آج تک ایسے جتنے لوگوں سے ملا ہوں جنہیں طاہرؔ صاحب کی صحبت میں بیٹھنے کا ایک یا ایک سے زیادہ بار اتفاق ہوا تھا، سب کو میں نے طاہر ؔصاحب میں کوٹ کوٹ کر بھری انسانیت اور آدمیت کی تعریف میں رطب اللسان پایا۔
لوگوں سے سنے ایسے بے شمار تاثرات کو سمیٹ کر تخیل کے کینوس پر جب میں اُن کی شخصیت کا خاکہ بنانے کی کوشش کرتا ہوں تو ایسا محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتا کہ جیسے اُن کے باطن میں’’ احساس جمال ‘‘ کی کوئی ایسی ہمہ دم جھلملاتی شمع سی روشن رہتی تھی جس کی نفیس اور لطیف کرنیں کبھی تو خوش خوئی اور خوش اخلاقی کی صورت میں ظاہر ہوتی تھیں کبھی خوش خطی اور خوش نویسی کے روپ میں تو کبھی شروع کی شکل میں اپنی خوش نوائی اور خوش گفتاری سے قارئین و سامعین کے کانوں میں رس گھولتی رہتی تھی ۔ یہی احساسِ حسن و جمال اُن کے مزاج اور مذاق کی وہ بنیادی و اساسی قدر قرار دی جاسکتی ہے جو اُن کی شخصیت و کردار ، اُن کی سوچ و فکر ، اُن کے علم و فن میں نت نئی صورتوں اور شکلوں میں جلوہ گر ہوتی رہی وہ شخصی اور اجتماعی زندگی کے ہرمظہر میں ایک معیاری حسن کے جو یا رہے ادبی اصطلاح میں اگر بات کو سمجھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ایک شعر کا معیاری حسن اُس کے ’’تغزل‘‘ کو قرار دیا جاسکتا ہے طاہر ؔ صاحب کی نظر میں پوری انسانی زندگی اور خدائی کائنات ایک غزل کی طرح تھی ۔جس کا ہر ہر مظہر اور روپ اُن کے لیے ایک شعر کی حیثیت رکھتا تھا۔ جس میں وہ تغزل ( یعنی معیاری حسن ) کی تلاش میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔ شاید اسی لیے وہ ادبی اصناف میں سے غزل ہی کے اچھے شاعر ثابت ہوئے۔
فطری منظر ہو کہ نسوانی پیکر ، انسانی عمل ہو کہ سیاسی نظام معاشرتی تعلقات ہوں کہ فنی اسالیت وہ ہر چیز میں ایک معیار کا تعین کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اہلِ نظر جانتے ہیں کہ تناسب ، توازن اور معیار جمالیات ہی کی بنیادی اقدار ، شرائط اور اصول ہیں۔ طاہر کلاچوی کے اس جمالیاتی سفر کی کئی منزلیں اور پڑاؤ ہیں کہیں یہ صوفیانہ ہے تو کہیں اخلاقی ، کہیں ادبی ہے تو کہیں فنی ، کہیں یہ معاشرتی ہے تو کہیں سیاسی اورکہیں شخصی ہے تو کہیں اجتماعی ۔ اقبالؔ کی خودی کی طرح یہ ہر رنگ میں ڈوب کے بے رنگ ہے لیکن کہیں یہ بے چگوں ہے اور بے نظیر بھی ۔ افلاطون نے بنیادیں قدرین تین گنوائی تھیں یعنی حسن کا خیراور صداقت لیکن طاہرؔ کلاچوی کی انفرادیت بلکہ کملا یہ ہے کہ اُنہوں نے خیر او ر صداقت تک میں حسن کو ڈھونڈ نکالا ۔ آئیے ان کے اس جمالیاتی سفر میں کچھ دیر اُن کے ہم سفر بنیں ۔ اُن کی نظر میں غزل کا معیاری حسن اُس کی دلنشینی میں مضمر ہے:

تری دلنشین غزل ہے کہ پیامِ زیست طاہرؔ
یا کہیں سحر کے دامن سے گری کوئی کرن ہے

اب اخلاقی حسن کا معیار دیکھیے ۔ یہ احترامِ انسانیت سے عبارت ہے:

محترم جب بنو گے اے طاہرؔ
پہلے اوروں کا احترام کرو

فطرت کا معیاری حسن و سادگی کے بجائے مشاطگی اور آرائش میں دیکھتے ہیں:

عارضِ گل پہ گوہرِ شبنم
حسن کے سلسلے نرالے ہیں پڑھنا جاری رکھیں→

غزل


کوئی اجنبی خلش ہے کوئی اجنبی چبھن ہے
مجھے بھی خبر نہیں ہے مجھے کون سی لگن ہے


مری عقلِ حیلہ جُو نے کئی شانے توڑ ڈالے
تری زلف میں ابھی تک وہی خم وہی شکن ہے


تری رسمِ بے رُخی کو ترا طرزِ ناز سمجھا
میرے دیدۂ عقیدت میں عجیب بانکپن ہے


کئی روپ میں نے بدلے تری دلبری کی خاطر
تری بے نیازیوں کا وہی طور وہ چلن ہے


مری وسعتِ نظر کی نہیں سرحدیں کہیں بھی
مرا ہر جگہ بسیرا میرا ہر وطن ، وطن ہے


تری دلنشیں غزل ہے کہ پیامِ زیست طاہر
یا کہیں سحر کے دامن سے گری کوئی کرن ہے 

طاہرکلاچوی