اردو غزل کا سورج (سورج نرائن)


لوگ کہتے ہیں کہ مضمونِ غزل میں سورج
ایک رنگین سا اندازِ بیاں رکھتا ہے


سورج نرائن نے شاعری کا آغاز 60ءکی دہائی میں کوہاٹ سے کیا یہ وہ دور تھا جب اردو شاعری میں تخلیقی مزاج ، شعری جمالیات اور طرز احساس کے حوالے سے متنوع تجربات ہو رہے تھے یہی وہ وقت ہے جب ترقی پسند ی اور جدیدیت کی ہم آہنگی سے ایسے تجربات ہوئے کہ اردو شاعری دنیا کی بڑی زبانوں کی شاعری کے ہمرکاب آگئی یہ نظم کا دور تھا اور ظفر اقبال جیسے باغی شعراءنے مسلسل غزل لکھ کر نئے دور کا آغاز کیا ۔ مقامی زبانوں کے الفاظ حقیر غزل بنے اور متروک تراکیب کا دوبارہ احیاءہوا۔ تب جب فیض ، ساحر لدھیانوی، ناصر کاظمی ، منیر نیازی ، شہزاد احمد جیسے شعراءاپنے اپنے موسموں کی گونج پیدا کررہے تھے ۔ سورج کی پہلی کتاب ”پیاسا چاند “ منظر عام پر آئی اورغزل کی دنیا میں ایک طوفان برپا کردیا ۔ بعض لوگوں نے ان کا کلام کو سن کر ناک بھون چڑھائی لیکن یہ تو تب بھی ہوا تھا جب فراز جیسی شخصیت جلوہ گر ہوئی تھی۔


تیغ بکف جب لوگ تھے ایسے عالم میں
میرے ہاتھ سے صرف قلم وابستہ تھا

پڑھنا جاری رکھیں→