غزل


ہزار بار دبانے کو شہر یار اُٹھا
مگر یہ شور ِغریباں کہ بار بار اُٹھا

یہ ٹوٹ کر تو زیادہ وبال ِ دوش ھوئی
میں اٹھ پڑا تو نہ مجھ سے انا کا بار اُٹھا

یقین رکھنے لگا ھے جو عالم ِ دل پر
تو پھر علائق ِ دنیا سے اعتبار اُٹھا

عدو سے اگلی لڑائی کا دن تو طے کر لیں
چلے بھی جائیں گے شانوں پہ اپنی ھار اُٹھا

زمین ِحُسن بھی شق تھی سپہر ِعشق بھی شق
یہاں کسی سے نہ میری نظر کا بار اُٹھا

یہ بزمِ خاک نشیناں ھے سوچ کر بیٹھو
یہاں سے کوئی اُٹھا تو برائے دار اُٹھا

زمیں سہار نہ پائی مری شکست کا بوجھ
کہ جتنی بار گرا ھوں میں اُتنی بار اُٹھا

میں حُکم ِ ضبط کو نافذ نہ کر سکا دل پر
جہاں بھی ظُلم کو دیکھا ، وہیں پُکار اُٹھا

ملا کے خاک میں مجھ کو وہ جب چلا نیر
تو اُس کے پاؤں پکڑنے مرا غُبار اُٹھا

(شہزاد نیر)

وزیرستان


کہاں سے آگے حدِ عدو ہے
کہاں پہ لشکر کی پہلی صف ہے
کہاں ہدف ہے
کسی پہ کھلتا نہیں ہے کچھ بھی
تمام منظر بدل چکے ہیں
صفوں کی ترتیب جاچکی ہے
نہ میمنہ ہے ، نہ میسرہ ہے
نہ قلب کوئی ، نہ اب عقب ہے
کہاں پہ لشکر کی پہلی صف ہے؟
فلک پرایا ہی تھامگر اب زمیں بھی اپنی نہیں رہی ہے
کسی کو کوئی خبر نہیں ہے کہ کون سا رُخ ، رُخِ عدو ہے
چہار سمتوں سے دشمنی ہے
عَلَم وہی ہیں ، رَجز وہی ہیں
ہجومِ نعرہ زناں بھی اک سا
مری پکاروں میں ، تیرے نعروں میں اسم اک سے
یہ میں گرا ہوں کہ تو گرا ہے
کسی پہ کھلتا نہیں کدھر ہے
فلک کہاں ہے؟ زمیں کدھر ہے
غبار آلود منظروں میں تمام سمتیں الٹ گئی ہیں
خلط ملط ہو کے میں کدھر ہوں
کہیں غلط ہو کے تو کدھر ہے
وہ وعدۂ ناوفا   کدھر ہے؟
خدا کدھرہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہزاد نیئر گوجرانوالہ