مقبول عامر” دشت بے آب” سے "عالم بیکراں” تک


مقبول عامر کے انتقال کو سترہ سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے ممکن ہے اب تک ان کے دوستوں، رشتہ داروں اور مداحین کے دلوں کے زخم مندمل ہوچکے ہوں اگر مکمل طور پر مندمل نہ بھی ہوئے ہوں تب بھی یہ اتنے گہرے

مقبول عامر

نہیں رہے ہوں گے جتنے سترہ سال پہلے تھے۔ لہٰذا اب مقبول عامر کی وفات پر نوحے کہنے اور تعزیت نامے تحریر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اور نہ اب یہ سوچنا سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔ کہ وہ ایک ایسے مقام پر ہم سے بچھڑ گئے۔ جب وہ شعری ارتقا کے منازل طے کر رہے تھے۔ انہوں نے ابھی بہت کچھ کہنا تھا۔ اگر وہ زندہ رہتے۔ تو نہ جانے تخلیق کی کون کون سی راہیں طے کر چکے ہوتے۔ اگر ہم ان باتوں میں وقت صرف کرنے کے بجائے اپنی سوچ کا دھارا اس تخلیق تک محدود رکھیں جو ہمارے سامنے ہے اور یہ سوچیں کہ انہوں نے جو کچھ تخلیق کیا۔ اس کی قدرو قیمت کیا بنتی ہے؟ تو زیادہ مناسب ہوگا۔
ہم نے ادب کو تفریح کاذریعہ سمجھ کر اسے شخصی کوائف نامہ تسلیم کرکے زندگی کی تفہیم کے راستے میں کئی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اگرہم ٹی ایس ایلیٹ کے اس قول پر ایمان لے آتے۔ شاعر کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو فن کے حوالے کر دے تو نہ ہمیں لکیریں پیٹنے کی تکلیف گوارہ کرنی پڑتی اور نہ ہی ہماری شاعری عمومی شخصی اور رومانی کیفیات کا روزنامچہ بن کر رہ جاتی اور نہ ہی ہمارے مشاعروں میں "واہ واہ ٹھاں ٹھاں” کی روایت جنم لیتی۔ جس نے ہماری شاعری کو میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مزاحیہ شاعری کا درجہ دے دیا ہے۔ لیکن ایسی شاعری کو مکمل طور پر سنجیدہ فن بھی قرار نہیں دیا جاسکتالہٰذا کوئی بھی شاعر اگر ہماری شعری روایت میں کسی نئی فکری معنویت، نئے لہجے اور اسلوب کا اضافہ نہیں کرتا اور محض تقلیدی رویہ اختیار کئے رہتا ہے تو مناسب ہوگا کہ اس کے بجائے اصل شعرا کا مطالعہ کیا جائے۔
ہمارے عہد میں ایسے شعرا کی تعداد چونکہ اچھی خاصی ہے۔ لہٰذا ہر شاعر کے باب میں کچھ زیادہ سوچ بچار کے بعد ہی کوئی فیصلہ دیا جاسکتا ہےکہ وہ نیا شاعر ہے بھی یا نہیں؟ پڑھنا جاری رکھیں→