ان سے ملیے!


اگر آپ انسان ہیں تو آپ یقینا کسی گھر میں ضرور رہتے ہوں گے ۔ اپنا نہ سہی کرائے کا سہی اور جہاں آپ کا گھر ہے وہاں کسی پڑوسی کاہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اپنے لیے گھر کا ہونا۔ میرے خیال میں ابھی تک دنیا بھر میں کسی بھی جگہ کوئی ایسا قانون نافذ نہیں کہ آپ اپنی مرضی سے اپنے پڑوسی کا انتخاب کر سکیں۔ ناچار جو بھی پڑوسی آپ کی قسمت سے آپ کے حصے میں آئے اسے من و عن قبول کر لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ عموماً ہر گھر کی چاردیواریں ہوتی ہیں اور آپ کی ہر دیوار کے ساتھ کم از کم ایک پڑوسی کا ہونا لازمی ہے۔
میرے حصے میں خوش قسمتی سے یا پھر بدقسمتی سے پورے سات پڑوسی ہیں۔ اس کا مجھے ایک فائدہ ہے کہ ہفتے میں بھی سات دن ہوتے ہیں اس لیے ہر پڑوسی کے لیے ایک دن وقف کرنا میرے لیے آسان سی بات ہے۔
یہ میرے گھر کے مشرق میں عین میرے گھر کے سامنے رہتے ہیں ، ان سے اکثر صبح ہی صبح ملاقات ہو جاتی ہے ۔ میں وہمی ہر گز نہیں لیکن تجربے کی بات ہے کہ جس دن صبح ہی صبح ان حضرت کے چہرے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے بس سمجھ لیجیے کہ وہ دن ہمارا غارت ہو گیا اگر چپلوں کی طرح چہرے کے بھی نمبر ہوتے تو ان کا چہرہ یقینا بارہ نمبر میں شمار ہوتا منہ ان کا ہمیشہ سوجھا ہوا رہتا ہے ۔معلوم نہیں شکل ہی ایسی ہے یا صبح و شام بیوی کے تھپڑ کھا کر منہ سجھا لیتا ہے ۔ پیشے کے اعتبار سے بھی ان کا شمار کسی خاص طبقے میں نہیں ہوتا۔ البتہ آپ انہیں کاروباری کہہ سکتے ہیں۔ ویسے نیک دکھائی دینے کے لیے کبھی کبھی نیک کام بھی کرتے ہیں ۔ محلے کی مسجد بن رہی تھی تو نگرانی کا ذمہ لیا ۔ جب مسجد کی دیواریں مکمل ہوئیں تو ان کے گھر کا غسل خانہ بھی تیار ہو گیا تھا۔ مسجد کے بنتے بنتے ان کے گھر کا حلیہ بھی کافی حد تک تبدیل ہو چکا تھا۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مسجد کی خدمت کے عوض اللہ نے اس کا گھر بھی بنا دیا ۔ خیر جو کچھ بھی ہو ، میں نے رات کو اینٹیں رکھنے کی آوازیں ضرور سنی ہیں۔ اب نامعلوم یہ اینٹیں رات کی تاریکی میں خود آتیں یا فرشتے اٹھا کر لاتے لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ دن کو ان کے گھر کی جانب کوئی اینٹ آتی دکھائی نہیں دی۔ پڑھنا جاری رکھیں→