خورشید ربانی کا خواب نگر


جب آنگن میں بیری کے پیڑ پتھر کے عذاب سہنے لگیں ، جب محبوب کی یاد غزل کے بے معنی حرفوں میں معنی بھرنے آئے ، جب ٹوٹا ہوا پتا اور بکھرا ہوا خواب درد کی جوت لگائے ، جب آفتاب مثالِ ماہ شبِ سیاہ کا سفر اختیار کرے ، جب آنکھوں میں کسی خیال کی خوشبو سے وصلِ یار کے خواب جاگنے لگیں ، جب انسان کی سلگتی سوچتی نسلوں کو پہچان کا غم کھانے لگے ، جب کسی کی باتوں اور یادوں کی خوشبو سے تنہائی کا شہر بسایا جانے لگے ، جب دل کے ٹھنڈے میٹھے چشمے پر اِک دوشیزہ پانی بھرنے آئے ، جب کسی کے فیضِ نگاہ سے شہر بھر میں پذیرائی ملنے لگے ، جب محبوب کے ہجر کی تیز ہوا سے کوئی پتا پتا بکھر جائے، جب فکر وخیال کی مشعل کو دامنِ شعر ہوا دینے لگے ۔۔۔ محبت کے پرانے راگ کو کوئی استاد گانے لگے ، شجر پکے پھلوں کو پھینکنے لگیں ، اندھی سوچوں کے ہاتھ پر کوئی اُجلے حرفوں کا عصاءرکھنے لگے تو یہ سارے تصویری پیکر ”کفِ ملال“ جیسے شعری مرقعے کو وجود میں لانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
جس طرف اقبال کی شاعری کا محور و مرکز ”اسلام کا نشاةثانیہ “ فیض کا ”اشتراکیت“ ن۔ م راشد کا ”جنس “ ، ناصر کاظمی کا ”ہجرت“ مجید امجد کا ”ہمدردی “ او ر افتخارعارف کا ”واقعہ کربلا اور اہل بیت کی محبت“ ہے اسی طرح ”کفِ ملال “ کے نرم دمِ گفتگو ، گرم دم ِ جستجو خالق ” خورشید ربانی “ کا سرچشمہ  تخلیق اور مرکز ِفکر و احساس” تنہائی “ ہے جس سے دیگر ضمنی احساسات ، تصورات اور استعارات یعنی اُمید و بیم ، یاد آوری ، خواب اور چراغ وغیرہ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔
یہ حقیقت تو آئینہ ہے کہ ہجر کی کلفتوں یا وصال کی راحتوں کو وجود میں لانے کا واحد سبب ”محبت کا جذبہ “ ہے۔ کفِ ملال کے بلاستعیاب مطالعے سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہنے پاتی کہ خورشید ربانی کے نہاں خانہ دل میں کئی شخصیات ۔۔۔(پیغمبر آخر الزمان، اہلِ بیت و شہدائے کربلا، بنی نوع انسان ، نسوانی پیکر) سے محبت کے چراغ روشن ہیں ۔ آخر الذکر شخصیت جسے کبھی وہ ”شاہزادی“ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں ، اس ساری شعری کائنات کو خلق کرنے کی باعث ہے ہمارے شاعر کو تنہائی کا تحفہ اور ہجر کی سوغات اُسی نے بخشی ہے جسے پانے یا نہ پانے کی آس اور یاس پہ مبنی نفسی کیفیات سے شاعر اِ س تخلیقی سفر کے دروان گزرتا ہے لیکن ”کفِ ملال “ کے خاتمے پر یہ اندوہناک انکشاف ہوتا ہے کہ دائمی جدائی تو شاعر کا مقدر ہو چکی ہے ایسے میں واحد سرمایۂ  ہستی کے طور پر اُس کے پاس اُس پیکرِ ناز کی ”یادیں “ رہ جاتی ہیں جن کی رنگین و شوخ پنسلوں سے تخیل کے کینوس پر خوش منظر تصویریں (Images)کھینچنے میں ہی شاعر کو اپنی بقا کے آثار نظرآتے ہیں اور اس عملِ مصوری کو انہوں نے ”کفِ ملال“ کے صفحات میں ”خواب“ سے تعبیر کیا ہے۔
یہ کہانی کا وہ ذرا سا پلاٹ ہے جسے اُنہوں نے بڑی چابکدستی اور مہارت سے 124صفحات پر پھیلا کر 12منظومات ، 10ہائیکو اور غزل کے263اشعار کے ذریعے ہم تک پہنچانے کا جتن کیا ہے ۔ اب وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ:


قلم کی نوک سے پتھر تراش کر ہم نے
یقین جانئیے ہیرے کی قدر کم کر دی


ویسے تو انسان کی تقدیر میں ازل ہی سے احساسِ تنہائی لکھ دیا گیا ہے مگر اکثر مادہ پرست ذہنوں کو تعیشات دُینوی میں انہماک کے باعث اِ س کا احساس و ادراک نہیں ہوتا مگر حساس لوگوں کا معاملہ اِ س کے برعکس ہے اُنہیں قدم قدم پر اُس ازلی و سرمدی تجرید و تفرید کا ناگ ڈستا رہتا ہے جو اِ س زیاں خانۂ ہستی میں حضرتِ آدمؑ کے ساتھ اُترا تھا۔مولانا روم ؒ نے بھی بانسری کے منہ سے یہی صدائے درناک سنی تھی: پڑھنا جاری رکھیں→