محبت کے نخلستانوں میں عقیدت کا سفر


بنوں اور لکی مروت زمانۂ قدیم سے بے شمار تہذیبی و ثقافتی ، دینی و مذہبی ، علمی و ادبی اور انتظامی و انصرامی اٹوٹ رشتوں میں بندھے چلے آرہے ہیں۔ ان میں دو بھائیوں جیسا پیار یا دو اچھے پڑوسیوں کا سا رشتہ پایا جاتا ہے ۔ بڑا بھائی گروپ فوٹوہونے کے ناتے بنوں کو افرادی قوت کی کُمک پچھلے ہر دور میں ہمیشہ اپنے چھوٹے بھائی لکی مروت سے ہی ملی ہے ۔ چنانچہ محکمہ  تعلیم ، پولیس اور بینک کے متنوع شعبوں سے لے کر اردو اور پشتو شاعروں تک کی ہر چھوٹی بڑی کھیپ وہیں سے درآمد کی جاتی رہی ہے۔ فرانسیسی مفکر اندرے ژید کے نظریے ( حسن اور فن کے معاملے میں حب الوطنی کے جذبے کو دخل نہیں دینا چاہیے ) کی روشنی میں بات کی جائے تو کہنا پڑے گا کہ بنوں کے چند ایک قد آور شاعروں (مقبول عامر ، مطیع اللہ قریشی ، غازی سیال) کو چھوڑ کر دیگر تمام چھوٹے بڑے شاعروں پرلکی مروت کے رحمت اللہ درد ، عبدالرحیم مجذوب ، تبسم مروت ، افگار بخاری اور انور بابر کو واضح بزرگانہ برتری حاصل ہے اس رائے سے ہمارا مقصد کسی کی بے جا تحسین یا تنقیص کرنا ہر گز نہیں ۔ اصحابِ نظر جانتے ہیں کہ قبولِ خاطر و ُلطفِ سخن خداداد چیز ہے۔ کسی بھی ادبی ، لسانی یا علاقائی تعصب سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کے فوری ازالے کے لیے اتنا عرض کر دنیا بہر حال ضروری سمجھتا ہوں کہ بنوںنے فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں ( موسیقی، مصوری اور خطاطی ) میں جیسے جیسے قدآور نام پیدا کیے ہیں لکی مروت میں اُس کا عُشرِ عشیر بھی دکھائی نہیں دیتا۔
فنون ِ لطیفہ کے کئی ایک شعبوں ( موسیقی ، خطاطی ، نقاشی ، مصوری اور شعر و ادب ) سے مجھے بچپن ہی سے گہری دلچسپی رہی ہے ۔ خصوصاًا چھا شعر تو میرے انگ انگ کو ایک وجدانی کیف اور روحانی سرُور سے آشنا کردیتا ہے۔ معلوم نہیں بُطُونِ شعر سے کونسی ایسی طلسماتی پری نکلتی ہے جو خیالوں کی انگلی تھام کر ان دیکھے پربتوں پر لے اُڑتی ہے ۔ پھر شام و سحر ، روشنی و تاریکی ، افسانہ و افسوں ، خوف و امید ، لذت واذیت اور مسرت و ملال کے ملے جلے تاثرات کے تختِ رواں پر بٹھا کر خدا جانے کہاں کہاں لیے پھرتی ہے میں اس باطنی کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا آپ اپنی سہولت کے لیے چاہیں تو اِسے کسی نوخیز حسینہ کا غمزۂ دلفریب کہہ لیں ، کسی معصوم بچے کا تبسمِ دلنواز کہہ لیں یا کسی واصل بااللہ کا نورِ باطن ! مجھے اگر مجبور کیا جائے تو فقط اتنا کہوں گا کہ:


خوبی ہمیں کرشمۂ ناز و خرام نیست
بِسیار شیوہ ہاست بتاں راکہ نام نیست


چنانچہ شعر و سخن کے گلہائے رنگا رنگ سے اِسی ”غمزۂ دلفریب“ اِسی” تبسم ِ دلنواز“ اور اسی ”نورِ باطن “ کی نکہت و شمیم کو پیالۂ ذوق و وجدان میں اپنے نوجوان قارئینِ کرُم کے لیے سمیٹ کر لانے کی غرض سے ہم نے 24 جون 2010ءکی ایک کُہر آلود اور انتہائی خنک مگر دلفریب صبح اپنے ہمدمِ دیرینہ محمد ولی کی گاڑی میں لکی مروت کا ادبی دورہ کیا۔ میرے ساتھ میرے حساس اور ادب نواز دوست جاوید احساس بھی تھے۔ راستے میں مفتی محمود کالج ڈیرہ اسماعیل خان کے شعبہ اردو کے انتہائی سخن طراز اور سخن ساز لیکچرر عبدالمتین مبتلا بھی اپنی گرم گفتاری میں ہمیں مبتلا کرنے کے لیے آشامل ہوئے ۔ کار بنوں سے لکی مروت جانے والی نئی اور کشادہ روڈ پر کُہر اور دُھند کے مرغولوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سورج دیوتا نے اُفق ِ شرق سے بلند ہو کر اپنی نٹ کھٹ شعاعوں کے مشفق و مہربان نیزے ہماری نظروں کے ہدف پر چلانے شروع کر دئیے مجھے بے اختیار مقبول عامر یاد آگئے : پڑھنا جاری رکھیں→