اباسین ایوارڈ


awes qarniاباسین آرٹس کونسل پشاور نے سال 12-2011 کے لیے اباسین ایوارڈ کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ مصنفین کے فیصلے کے مطابق تحقیق و تالیف کا جسٹس کیانی ایوارڈ پروفیسر اویس قرنی کی کتاب ’’کرشن چندر کی ذہنی تشکیل‘‘ کو دیا گیا۔ اس سے پہلے بھی کتاب کو تمام ادبی حلقوں کی جانب سے پذیرائی مل چکی ہے اور انجمن ترقی پسند مصنیفن پنجاب کی جانب سے کتاب کی تقریب رونمائی بھی ایک اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ اس کے علاوہ  ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر کتاب کے متعلق تبصرے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں عارف وقار اور مستنصر حسین تارڈ کے لکھے گئے کالم قابل ذکر ہیں۔ آہنگِ ادب کی جانب سے پیش کی جانے والی اس کتاب کا سال کی بہترین کتاب کے زمرے میں شامل  ہونا تنظیم اور خاص طور سے تنظیم کے روح رواں جناب اویس قرنی کے لیے فخر اور اعزاز کا باعث ہے۔ آہنگ ادب کے تمام ممبران کی جانب سے محترم اویس قرنی کے لیے نیک خواہشات اور ڈھیروں مبارک باد۔

درد کا دارو


ڈاکٹر صاحب! اگر آپ کے پاس اس درد کا کوئی علاج نہیں تو آپ مجھے نشے کی یہ گولیاں کیوں دے رہے ہیں؟ پتہ نہیں آپ مجھے فریب دے رہے یا اپنے آپ کو۔۔۔۔۔
نہیں ڈاکٹر صاحب! مجھے شعور کی سطح پر اس درد کو محسوس کرنے دیجئے کیونکہ میں نے آج تک دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی محض اداکاری ،بھونڈی حرکتیں یا صاف کہیں تو صرف کرتب دکھائے ہیں۔
آپ یہ گولیاں دے کر سمجھتے ہیں مجھے آرام ملے گا لیکن یہ آپ کی خوش فہمی ہے ایک نفسیاتی معالج کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اس کے پاس بہت ساری گھتیوں کو سلجھانے کا ہنر ہوگا لیکن آپ کی ساری باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر رہی ہیں آپ تو یہ بھی جانتے ہیں مجھ جیسے مریض بہت ساری چیزیں شعور نہیں بلکہ لا شعور کی سطح پر محسوس کرتے ہیں اور یہ تو مجھے ابھی معلوم ہوا کہ آپ میری کہانیاں اپنی زمانہ طالب علمی سے پڑھتے آئے ہیں۔
تو میں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہوں کی وہ ساری کہانیاں ایسے ہی لمحات کی دین ہیں جب میں ماورائے شعور زندگی کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن شعور میں آتے ہی مصلحت کے ہاتھوں اپنا قلم روک لیتا تھا شعور کا یہ سپاہی میرے لڑکپن سے اپنا سونٹا لیے میرے ذہن اور میرے ادراک کے دروازے پر پہرا دیتا رہا ہے قبل اس کے کائنات کے کسی چھپے ہوئے خزانے کی کنجی میرے ہاتھ لگتی یہ سپاہی آگے بڑھ کر میری نگاہوں کو اس منظر میں بھٹکا دیتا جو صرف سامنے دکھائی دیتا ہے جو سب کو یکساں نظرآتا ہے اور جس نے گویا میری تلاش کا راستہ روکا ہوا ہے، آپ کی یہ گولیاں کھا کر میں بے مزہ تو نہیں ہوتا لیکن میں صرف اپنے بارے میں آپ کی خام خیالی یا آپ کے بارے میں آپ کی غلط فہمی دور کرانا چاہتا ہوں، آپ ہی نے تو ایک دن کہا تھا کہ درد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وقت بھی جن کا مرہم نہیں ہوسکتا پھر کیوں ہم دونوں اس درد کی دوا بننے کا انتظار کریں ، میں جانتا ہوں کہ قدرت نے انسان کو اذیت اور مشقت میں پیدا کیا ہے ممکن ہے آپ میرے خیالات کو کوئی اورمعنی دیں لیکن آپ شاید سوچ بھی نہیں سکتے کہ اپنی پیدائش کے وقت میں صرف اس لیے رویا تھا کہ مجھ سے میری ماں کی اذیت دیکھی نہ گئی ڈاکٹر صاحب! آپ بہت ضد کرتے ہیں دوائی دینے میں۔ ۔۔۔ سمجھا کریں نہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔۔۔۔ پڑھنا جاری رکھیں→

ایک شام ہمہ جہت شخصیت مشتاق شباب کے نام


تحریر : اویس قرنی

وہ شام ہی ایسی تھی کہ رات کا خیمہ لگانا پڑا وہ بات ہی ایسی تھی کہ رات کم اور خیمہ چھوٹا پڑ گیا، لوٹتے سمے محسوس ہوا کہ سیدھی راہوں پر بھی گاڑی دوڑاتے موڑآہی جاتے ہیں ، جیسے اس شام نذیرتبسم اور ناصر علی سید کی الف لیلہٰ نے کئی بل کھاتے نازک پہلو بدلے۔
لیکن سڑک پر قمقموں کی روشنی قریب آئی تو گاڑی تیزی سے آگے گزر جاتی جیسے کسی کی شخصیت پر بات کرتے ہوئے کردار کے روشن نگینے ذات کے نگر تک پہنچنے کا راستہ آسان بنا دیتے ہیں ایسی ہی محبت تھی جس کی بناء پر ایک دن اپنے احباب کو ڈاکٹر خالد مفتی نے شباب کی نفسیاتی مطالعے پر آمادہ کیا تھا اور ایک آج کی شام تھی، سنڈیکیٹ کا قافلہ تھا کہ آتے آتے اتفاق سے حق بابا کی یخ بستہ عمارت میں دھونی رما کے بیٹھ گیا تھا۔
جمعہ کی شام افق کے پہلے ستارے سے مشورہ کئے بغیر ناصر علی سید نے اس مشتاق قلمکار(جنہیں مشتاق شباب کہا جاتا ہے) سے منسوب محفل کی مشعل روشن کر دی ناصر علی سید نے مشتاق کو بیکن کے قول کا ردعمل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ مشورہ تو سب سے کرتے ہیں لیکن کرتے وہی تھے جو ہم دونوں کی مشترکہ مشاورت سے طے ہوتا تھا مشتاق نے اپنی سینیارٹی کے

ڈاکٹر محمد اعظم اعظم

جن کو کبھی بوتل سے باہر نہیں آنے دیا لیکن ایک جن ایسا ہے جو شباب کے قابو میں نہیں آیا یہ اس کی جارحانہ صاف گوئی کا بادہ ہے جو کبھی کبھی پیمانے سے چھلک پڑتا ہے اورکناروں کو ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ کوئٹہ میں اپنوں سے مفارقت اور ایک خوشگوار مگر نمدار ملن رت نے پھر سے شاعری کی طرف متوجہ کیا۔ ایک نازک مثال حیات کے نازک مقدمے سے دیتے ہوئے ناصر علی سید نے کہا کہ ایک دفعہ تو بڑی گڑ بڑ ہوگئی اور یہی شاید اس ڈرامے کا المیہ ہے جس کا سکرپٹ کسی اور نے لکھا تھا تو ایک تو ان کی شادی جو انہوں نے بہت جلدی میں کی اور دوسری ان کی محبت جو انہوں نے بہت تاخیر سے شروع کی ۔ راقم الحروف نے اس شام کے ممدوح مشتاق کے ساتھ منظوم مکالمے کی صورت نکالی جس میں مشتاق کی مروت و مودت کےساتھ ان کی خود کو مشکلات میں ڈالنے کی ادا پر بھی ایک شتابی تبصرہ شامل تھا۔ مشتاق کی زندگی کا ہر ورق متحرک ہے کسی مثبت کام سے اور ممتنع ہے کسی اشرداد کے انعام سے ، علم و ادب کے میدانوں میں جہاں جہاں گئے ایسا یوگدان رہا انکا کہ ہر بار ملنے پر جی چاہتا کہ انہیں ’’یا ابو ریاضت‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جائے۔
ش شوکت میونسپل لائبریری میں عرصہ دراز تک خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اس تاریخی لائبریری کے ساتھ کھلواڑ شروع کیا گیا تو شباب کا جلال دیدنی تھا اب کی بار شہر کے بڑے ان کے نشانے پر تھے سو وہ ہدف ملامت بنتے ہوئے مشتاق کے آگے مقہور ٹھہرے اور ایسے کہ کسی کے لیے جائے مفر نہ تھی اس موقع پر شباب معاندانہ رویہ رکھنے والوں کو چیخ کر مخاطب کیا کہ کیا تم چنگیز خان بننا چاہتے و یا ہلاکو خان ۔ مشتاق کے قلم سے مضروب ہوکے پھر کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ کتاب و قلم اور علم و عمل کے رشتے میں مخل ہوجائیں۔ پڑھنا جاری رکھیں→