ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق


Scan1تبصرہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق
مصنف : شاہانہ مریم شان
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد ، ہندوستان
دکن میں اردو ادب اور تحقیق کے فروغ میں خواتین نے بھی گراں قدر رول انجام دیا ہے۔ تخلیقی میدان میں صغرا ہمایوں مرزا‘جیلانی بانو ‘رفیعہ منظور الامین‘فاطمہ یزدانی فریدہ زین ‘اور شاکرہ اور قمر جمالی کے نام اہم ہیں تو تحقیق کے میدان میں ڈاکٹر زینت ساجدہ‘پروفیسر سیدہ جعفر‘پروفیسر اشرف رفیع‘پروفیسر ثمینہ شوکت‘پروفیسر فاطمہ پروین نے اپنے کارناموں سے شہرت حاصل کی ہے۔ اردو کے فروغ کے لئے خواتین دکن کی خدمات کا سلسلہ اب نئی نسل کو منتقل ہورہا ہے اور شعر و ادب اور تحقیق و تنقید میں دکن سے خواتین کے کارنامے منظر عام پر آرہے ہیں ۔ ڈاکٹر عسکری صفدر‘ڈاکٹر اطہر سلطانہ‘ڈاکٹر آمنہ تحسین اور ڈاکٹر نکہت جہاں نے تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کی ایک ریسرچ اسکالر اور اردو کی ابھرتی محقق شاہانہ مریم شان نے موضوع کے اعتبار سے ایک اہم اور وقت کی ضرورت سمجھی جانے والی تصنیف” ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق“ پیش کی ہے۔ اور ان کی اس تصنیف کو جامعاتی تحقیق کے حلقوں میں کافی پذیرائی ملی ہے۔ اور ہندوستان کی تمام جامعات میں اس کتاب کو ریفرنس کی کتاب کے طور پر رکھا جارہا ہے۔ بہت عرصے سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ہندوستان کی جامعات کے اردو شعبہ جات میں ہونے والے تحقیقی کام کا تعارف کسی ایک کتاب کے ذریعے ہو تاکہ آنے والے محققین کو اپنے تحقیقی موضوعات کے انتخاب میں رہنمائی ہو اور وہ موضوعات کی تکرار سے بچتے ہوئے اپنی تحقیق کے لئے کوئی مناسب موضوع منتحب کر سکیں۔ چنانچہ شاہانہ مریم شان کی اس کتاب نے اردو شعبہ جات کی اس اہم ضرورت کو اپنی تصنیف کے ذریعے مکمل کیا ہے۔ تحقیقی کتاب” ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق“ دراصل شاہانہ مریم کا ایم فل کا تحقیقی مقالہ ہے جسے کتابی شکل دی گئی ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ پروفیسر محمد انوار الدین شعبہ اردو حیدرآبادسنٹرل یونیورسٹی نے لکھا ۔جس میں انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ دور حاضر میں اردو تحقیق کے لئے نئے موضوع کا انتخاب ایک اہم مسئلہ ہے لیکن کوئی بھی اس بات کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے خیر شاہانہ مریم نے اس ضمن میں پہل کی ہے شائد ان کی یہ پہل شعورکو بیدارکرنے کیلئے کارگر ثابت ہوگی ۔ پیش لفظ میں پروفیسر محمد انوارالدین اس بات کی اہمیت سے متعلق لکھتے ہیں۔
’’اگر کوئی اسکالر ہندوستان بھر کی جامعات کے شعبے ہائے اردو کے تحقیقی مقالوں کا جامع کٹیلاگ تیار کرتا ہے تو یہ کام نہ صرف اس کیلئے اہم کریڈٹ ثابت ہوگا بلکہ اردو کے آئندہ آنے والے تمام اسکالرس کے لیے موضوع کے انتخاب کے سلسلے میں شمع ِراہ کاکام کرے گا ۔ شاہانہ نہایت ذہین ریسرچ اسکالر ہے اس نے فوراََ اس کام کی اہمیت اور افادیت کو محسوس کیا اور اسی کو اپنا ایم فل کے مقالے کا موضوع بنانا طئے کیا ۔ اس طرح موضوع کے انتخاب کا مسئلہ حل ہوا۔“ ص۷)
تحقیق میں سب سے اہم مرحلہ موضوع کے انتخاب کاہوتا ہے ۔ اکثر طلبہ اس مرحلہ میں ناکام ہوجاتے ہیں اس کے نتیجے کے طور پر یا تو غیر دلچسپ موضوع کا انتخاب کرلیتے ہیں یا ایسا مشکل موضوع منتحب کرتے ہیں کہ تحقیقی رکاوٹوں کے سبب درمیان میں انکا تحقیقی کا کام رک جاتاہے۔ اگر ان کے سامنے تحقیقی موضوعات کا ایک کیٹلاگ ہو یا کوئی رسالہ جس میں وقفہ وقفہ سے ہندوستان کی جامعات میں تحقیقی عنوانات کا ذکر ہو تو محقق کیلئے اندھیرے شب کے مسافر کو شمع دکھانے کا عمل ہوگا۔ کیوں کہ کئی جامعات میں ایک جیسے موضوعات پر کام ہورہا ہے ۔بچوں کے ادب سے متعلق تقریبا جامعات میں کام جاری ہے لیکن کونسی یونیورسٹی میں کس موضوع کے تحت کام ہورہا ہے یہ کسی کو پتہ نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہی کہ کو ئی ایسا رسالہ شائع کیا جائے جس میں ہندوستان کی تمام جامعات میں تحقیقی موضوعات کا احاطہ ہو۔ اور نئے محقق کیلئے آسانیاں پیدا ہو۔
زیر تبصرہ کتاب میں حرف آغاز کے عنوان سے مصنفہ کا دیباچہ شامل ہیں جس کا آغاز ایک بہترین شعر سے ہوتا ہے۔

الہی دے مجھے طرزتکلم ، میری آوازکو زندگی دے
مجھے افکار صالح بھی عطاکر، میری تحریرکو تابندگی دے

اس مضمون میں مصنفہ نے اپنے رب حقیقی کا شکر بجالایا ہے ساتھ ہی ساتھ پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر درود وسلام بھیجا ہے۔ انہوں نے موضوع کے انتخاب سے متعلق وہی باتیں لکھیں ہے جس کو پیش لفظ میں پروفیسر انوار الدین نے بیان کی تھیں۔ مصنفہ نے لکھا ہی کہ۔
”ہندوستان کی یونیورسٹیوںمیں تحقیق کی صورتحال اصلاَ میرا ایم فل کا مقالہ ہے آج یہ کتاب منظرعام پر آئی اس پر مجھے بے حد مسرت ہے کہ میری دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔پیش نظر تصنیف میں ہندوستان کی ساٹھ یونیورسٹیوں کے تحقیقی اور زیر تحقیق ایم فل ،پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کے مقالات کی فہرستوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ساٹھ یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی اور بارہ یونیورسٹیوں کے ایم فل کے مقالات کی فہرستیں اس میں شامل ہیں ۔چند ڈی لٹ مقالات کو بھی شامل کیا گیا ہے“ (، ص۰۱) پڑھنا جاری رکھیں→

Advertisements

ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی


nasir qazmiتبصرہ ”ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی“
مصنفہ : سمیہ تمکین(ریسرچ اسکالر یونیورسٹی آف حیدرآباد)
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد


عہد حاضر میں جامعات کے اردو شعبہ جات میں معیاری تحقیقی کام ہورہا ہے اور اردوادب کے نئے گوشے سامنے آرہے ہیں یہ اردو زبان کے فروغ کے لئے حوصلہ افزا بات ہے۔ اردو تحقیق کے بارے میں اکثر یہ تاثر دیا جاتاہے کہ جامعات میں جو سندی مقالے لکھے جاتے ہیں وہ معیاری نہیں ہوتے اور شائع ہونے کے لائق نہیں رہتے لیکن اب یہ صورتحال نہیں ہے۔ اور نگران پروفیسروں کی مناسب رہبری و رہنمائی اور اردو ادب کی زیادہ سے زیادہ کتابوں کی دستیابی نے اردو تحقیق کے معیار میں بہتری پیدا کی ہے۔ اور اچھی قابل مطالعہ کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں۔ سندی تحقیق کے مرحلے سے گذر کر کتابی شکل پانے اور اپنے موضوع کی ندرت کی وجہہ سے مقبول ہونے والی ایک ایسی ہی تصنیف ” ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی“ ہے جسے شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کی ایک لائق طالبہ سمیہ تمکین نے شائع کرایا ہے۔ اور اس کتاب کارسم اجراء3جولائی کو شعبہ اردو کے تحت منعقدہ اردو سمینار ”کاوش2013“ میں یونیورسٹی کے وائیس چانسلر پروفیسر رام کرشنا راما سوامی نے انجام دیا۔ اس تقریب میں صدر شعبہ اردو پروفیسر مظفر شہ میری اور ڈاکٹر محسن جلگانوی بھی شامل تھے۔سمیہ تمکین کی یہ تصنیف ان کے ایم فل تحقیقی مقالے پر مشتمل ہے۔ جسے انہوں نے بعد ترمیم و اضافہ کتابی شکل میں شائع کیا۔ناصر کاظمی اردو غزل کی ایک جانی پہچانی آواز ہے۔ جن کی غزلوں کی لفظیات‘ تشبیہات اور استعاروں نے انہیں اردو غزل گو شعرا میں اہم مقام عطا کیا ہے۔ ان کی شاعری میں پیکر تراشی کی تلاش اس کتاب کا بنیادی موضوع ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی“ تین ابواب پر مشتمل ہے۔ کتاب کا پیش لفظ ”پیش گفتار“کے عنوان کے تحت پروفیسر مغنی تبسم صاحب(مرحوم) نے لکھا تھا۔انہوں نے سمیہ تمکین کی کتاب اور ”ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی “سے متعلق لکھا ہے کہ
” سمیہ تمکین نے اپنے مقالہ میں ناصرکاظمی کی حیات ،شخصیت اور شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی پیکر تراشی پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ ناصر کاظمی کے اشعار میں بیشتر مرکب پیکر ملتے ہیں جو بہ یک وقت قاری کے مختلف حواس کو متوجہ کرتے ہیں ۔سمیہ تمکین نے اپنے موضوع سے پورا انصاف کیا ہے“(ص۷)
پروفےسر مغنی تبسم صاحب کے پیش لفظ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناصر کاظمی ایک عہد ساز شاعر تھے۔اور انکی شاعری میں پیکر تراشی کا مخصوص انداز پایا جاتا ہے جو انکی انفرادیت رہاہے۔ سمیہ تمکین نے ناصر کاظمی کی شاعری کے اس پہلو کو اپنی اس تصنیف کے ذریعہ اجاگر کیا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب میں پیش لفظ کے بعد پروفیسر مظفر شہ میری صاحب صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آٓف حیدرآباد نے ”پروفیسر مغنی تبسم کی یاد میں“ کے عنوان سے تبصرہ کیا ہے اورلکھا ہے کہ اس عنوان پر کام کرانے کی پروفیسر مغنی تبسم صاحب کی دیرینہ خواہش تھی ۔ جسکی تکمیل سمیہ تمکین نے کی ہے۔ سمیہ تمکین کے اس کام سے متعلق پروفیسر مظفر شہ میری صاحب لکھتے ہیں۔
” سمیہ تمکین نے پیکر تراشی اور اس کی مختلف قسموں کو ثابت کرنے کے لیے ناصر کاظمی کے علاوہ اردو کے کئی شعراءکی بیسوں اشعار کا انتخاب کیا ۔پھر ان سے عمدہ اشعار کو چھانٹ کر پیکر تراشی اور اسکی گونا گوں قسموں کو استناد و استحکام عطاکرنے کے با وصف نا صر کاظمی کی شاعری کے اس پہلو کو روشن اور اجاگر کیا۔اس طرح یہ کتاب اس موضوع پر دستاویز ی اہمیت کی حامل بن گئی ہے“(ص ۹)
اس مضمون میں پروفیسر صاحب نے پیکر تراشی سے متعلق لکھا ہے کہ پیکر تراشی پر کام کرنا کار دشوار ہے۔حرف آغاز کے عنوان سے فاضل مصنفہ نے مقدمہ لکھاہے انہوں نے اس بات کا اظہار کے ہے کہ شعر و شاعری سے انہیں از حد شغعف اور دلچسپی ہے ضروری بھی ہے کہ جب کسی شاعر پر تحقیق کا کام کیا جارہا ہے تو شعر و شاعری کی نزاکتوں سے واقفیت محقق کا اہم فریضہ بھی ہے۔ شاعری کے محاسن ومعائب سے واقف ہونا ضروری ہے۔
فاضل مصنفہ نے ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”1960کے بعد اردو ادب میں جو رحجانات در آئے ہیں ان میں پیکر تراشی کا رحجان بھی تھا جو ایک رحجان بھی ہے اور شعری تکنیک بھی۔“
اپنے مقدمہ میں انہوں نے کتا ب کی اشاعت پر اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا خوب شعر نقل کیا ہے۔

میرے ابو اور امی نے کیا کامل مجھے
بیٹھنے کے کردیا ہے چار میں قابل مجھے

زیر تبصرہ کتاب کے ابواب میں باب اول ناصر کاظمی۔ماحول اور شخصیت ،باب دوم۔ناصر کاظمی کی شاعری، باب سوم ۔ناصرکاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی ہیں۔ فاضل مصنفہ نے پہلے باب کودو حصوںمیں تقسیم کیا گیا ہے ۔پہلا حصہ ماحول اور دوسرا حصہ شخصیت سے متعلق ہے۔ جس میں انہوں نے ماحول کے تحت تقسیم ہند کے واقعہ کوبیان کیا ہے اور ناصر کاظمیسے متعلق لکھا ہے۔”ناصر کاظمی تقسیم ہند کے بعد اردو شاعری کو ایک نیا تخلیقی مزاج عطا کرنے میں پیش رو کا درجہ رکھتے ہیں“
فاضل مصنفہ نے آزاد ہند کی تقسیم کے واقعہ کو ناصر کاظمی کی زندگی کا ایک بہت بڑا جذباتی حادثہ قرار دیا ہے۔ ناصر کاظمی کی پر امیدی سے متعلق شعر کویہاں نقل کیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں→

نذیر تبسم


ڈاکٹر نذیر تبسم

ڈاکٹر نذیر تبسم

پروفیسرڈاکٹرنذیرتبسم۴جنوری1950ءکوپشاورمیں پیداہوئے۔اُن کااپنانام نذیراحمداورقلمی نام نذیرتبسم ہے۔اُن کے والد کانام میر ا حمدتھا۔نذیرتبسم کوگو ر نمنٹ پرائمری سکول مچھی ہٹہ ،جس کانیانام مینابازارہے، میں داخل کروادیاگیا۔ پا نچویں جماعت میں گورنمنٹ ہا ئی سکول نمبر ۱ پشاور سٹی میں دا خلہ لیا،جبکہ دسویں جماعت کاامتحان پاس کر کے ایف ایس سی اور بی اے گورنمنٹ کا لج پشاورسے کیا۔1974ءمیں ایم اے کاامتحان پشاوریونی ورسٹی کے شعبہ اُردو سے پاس کیا۔اس کے بعداسی شعبہ سے 2003ءمیں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔
اُنھوں نے ملازمت کاباقاعدہ آغازفیڈرل گورنمنٹ کالج h.9اسلام آبادسے کیا۔اس دوران انھیں چھ مہینے تک اسلامیہ کالج پشاورمیں پڑھانے کاموقع ملااور1978ءمیں شعبۂ اُردوپشاوریونی ورسٹی میں مستقل لیکچرارکی حیثیت سے تعینات ہوگئے اوریہی سے 2010ءمیں ریٹائرڈ ہوکران کی ملازمت کاسلسلہ اختتام پذیرہوگیا۔
اُن کی شاعری کاباقاعدہ آغاززمانہ طالب علمی سے ہواجب وہ گورنمنٹ کالج پشاورمیں سال اول میں پڑھ رہے تھے۔شاعری کے حوالے سے اُن کی دوکتابیں ”تم اُداس مت ہونا“اور”ابھی موسم نہیں بدلا“منظرعام پرآئی ہیں۔ان دونوں شعری مجموعوں میں اُن کی غزلیں اورنظمیں شامل ہیں۔غزل اورنظم کے علاوہ اُنھوں نے شاعری میں نعت ،قومی گیت ،اورنثرمیں بیس کے قریب تحقیقی وتنقیدی مقالات چھپ چکی ہیں۔پچیس سے تیس کتابوں کے دیباچے تحریرکرچکے ہیں اوراس کے علاوہ نثرمیں تحقیق کے حوالے سے پی یچ ڈی کامقالہ بعنوان ”سرحدکے اُردوغزل گوشعراءقیام پاکستان کے بعد“اوربے شمارتحریریں اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کی فضا ابتدا ءہی سے تخلیق ادب کے لئے بڑی منا سب رہی ہے ۔یہا ں علاقائی روایات کی رعایت سے ادب تخلیق ہوتا رہا ہے جس میںعظمت اور آفاقیت کے حوالے بھی آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔لیکن اس پس ماندہ صوبے کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہ ادب کے مرکز سے فاصلے پر رہا ہے اور وہ شا ہ پارے جوذوق مطالعے کا حصہ بننا چاہیے تھا اشاعت سے یا تو محروم رہے یا محدود پیمانے پر اُن کی نشر و اشاعت وہ نتا ئج پیدا نہ کر سکی جو ادب کا مطمع نظر ہوتے ۔اگر چہ یہا ں ادبی انجمنو ں کا وجود بھی اپنے طور پر کردارادا کرتا رہا ہے۔بزم سُخن”دائرہ ادبیہ“”سنڈیکیٹ آف رائیٹرز“حلقہ ارباب ذوق“اور ”انجمن ترقی پسند مصنفین“خیبر پختون خواہ کے نام ادبی فراغت میں پیش پیش رہے پھر بھی ذرائع ابلاغ کی قلت مسائل پیدا کرتی رہی اور بہت سارے اہل قلم اُردو کے مرکزی دائرے سے الگ الگ رہ کر ادب تخلیق کرتے رہے گو ”رضاہمدانی “ ”فارغ بخاری“”شوکت واسطی “”احمدفراز“”محسن احسان “اور”خاطر غزنوی“خیبر پختون خواہ کی نمائنداگی کرتے رہے اور دوسرے اقطاع تک اس مٹی کی خوشبو پہنچاتے رہے تاہم گنتی کے یہ چند نام زیادہ حوصلہ افزاءنہیں ہیں ۔بہرحال کسی نہ کسی شکل میں قلم کا کا رواںآگے بڑھتاہے اور ادب تخلیق ہوتا رہتا ہے
نذیر تبسم بھی مذکورہ قافلے کے ایک توانا فرد کی حیثیت سے تخلیق کے میدان میں اپنے یادگار لمحوں کو لفظی پیرایہ عطا کرتے رہے اور اپنی ذات میں اپنے علاقے کی روایات کی خو شبو سموتے ہوئے قلم کے سپرد کرتے رہے لیکن اُن کی آوازبہت کم کم مُلک کے دوسرے حصّوں تک پہنچتی رہی ”تم اُداس مت ہونا“اور” ابھی موسم نہیں بدلا‘اُن کے شعری مجموعے ہیں جو اپنی ادبی اہمیت کے تنا ظر میں نظر انداز کرنے کے حقدار نہیں اس طرح اُن کاتحقیقی کام ”صوبہ سرحد کے غزل گو شعرائ“بھی اُن کی تحقیقی کاوشوں کی یادگار ہے۔ ۔یہ حقیقت ہے کہ احمد فرازکے بعد محبت کے جذبات جس طرح نذیر تبسم نے شعر میں بسائے ہیں وہ انھیں کا حصہ ہے ۔یہ موضوع بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ایک ہی موضوع پر لکھتے ہوئے بھی اُنہوں نے تخلیقی انفرادیت کا ثبوت دیا ہے جو واقعی ہُنرمندی ہے۔نذیر تبسّم کی شاعری میں روایات کا ماضی اور نئی اقدار کا مستقبل پنہاں نظر آتا ہے۔ وہ محض ایک با نجھ عہد کے تخلیق کار نہیں ہے اُن کی شاعری نئے تنا ظر میں عہد کی شاعری اور تخلیقی کو اُجا گر کرتی ہے۔ ان کی ذات اور تخلیق میں کئی ایک ادوار کی اکائی تکمیل پذیرہوتے دکھائی دیتی ہیں ۔
نمونۂ کلام

نہیں ہے یوں کہ بس میری خوشی اچھی نہیں لگتی
اسے تو میری کوئی بات بھی اچھی نہیں لگتی
میں اپنی ذات میں بھی اک خلا محسوس کرتا ہوں
تمہارے بعد کوئی چیز بھی اچھی نہیں لگتی
اچانک تیرے آنے کی خوشی کچھ اور ہوتی ہے
مجھے بادِ صبا کی مخبری اچھی نہیں لگتی

عشق اور ضرورت میں اک عجیب ناتا ہے
وصل کس سے ہوتا ہے یاد کون آتا ہے

اتنی سی بات تھی جسے پر لگے گئے نذیر
میں نے اُسے خیالوں میں چوما تھا اور بس

کہانی کیا سناؤں اپنے گھر کی
تمہارے سامنے ملبہ پڑا ہے

مجھے بچوں سے خوف آنے لگا ہے
یہ بچپن ہی میں بوڑھے ہو گئے ہیں

تحریر: تنزیلا ایم فل اسکالر اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور

ابرار سالک


ibrar salikابرار سالک 14دسمبر 1960ء کو داتا مانسہرہ میں پیدا ہوئے۔اُن کے والد کانام سید معروف شاہ گیلانی تھا۔ ابرار سالک نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے سکول گورنمنٹ ہائی سکول داتا میں حاصل کی۔ اس سکول سے انہوں نے 1976ءمیں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔گورنمنٹ کالج نمبر۱ ،ایبٹ آباد سے1980ءمیں ایف اے اوراسی کالج سے1984 ءمیں بی اے کیا۔اپنی تعلیمی سفرکوجاری رکھتے ہوئے1997ءمیں اُنھوں نے پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آبادسے اُردومیں ایم اے کاامتحان پاس کیا۔
ابرار سالک نے ایم۔ اے کرنے سے پہلے ۱۹۹۱ءمیں گورنمنٹ کالج چھوٹا لاہور صوابی میں بطور لیکچرر عملی زندگی کا آغاز کیا۔2004ءمیں ابرار سالک گورنمنٹ کالج الپور شانگلہ میں بطور اسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوئے اوراسی کالج میں فرائض سرانجام دیتے ہوئے فروری2011ءکواس دارفانی سے رخصت ہوئے۔
اُن کی شاعری کاباقاعدہ آغازکالج کے زمانے میں ہوا جب وہ1980ءایبٹ آباد کالج میں زیرِ تعلیم تھے۔ شاعری کے حوالے سے ان کے دو شعری مجموعے اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ پہلا مجموعہ ”مسافت کم نہیں ہوتی“ کے عنوان سے الحمد پبلی کیشنزلاہور سے شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ ”اک دشت کی کہانی“ کے عنوان سے بھی الحمد پبلی کیشنز لاہورنے شائع کیاہے۔ ابرار سالک کے شعری مجموعوں میں غزلیں، نظمیں،حمد،نعت،مرثیہ،گیت وغیرہ شامل ہیں،جبکہ اس کے علاوہ اُن کابہت کلام غیرمطبوعہ بھی ہے،جس میں غزلیں ،نظمیں ،حمد،نعت اورگیت شامل ہیں۔
موجودہ دور کے غزل گو شعراءمیں ابرار سالک ایسا نام ہے جنھوں نے رومانوی اور انقلابی رویوں کے ساتھ شکست ذات اور احساس تنہائی کے رنگوں کو اپنی غزل میں سمیٹاہے، بلکہ اُن کا بنیادی رویہ نئی غزل کا وہ رویہ ہے جو شکست ذات اور احساس تنہائی سے ترتیب پاتا ہے۔اُنھوں نے شاعری میں نہ صرف خیبرپختونخواہ کی نمائندگی کی ہے ،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان وہندوستان کی ادبی روایت کوبھی بھرپورطریقے سے آگے بڑھایا ہے۔غزل کے میدان میں اُن کی پہچان اُن کامنفردلب ولہجہ ہے۔ اُن کالہجہ دھیما، گہرا، سنجیدہ اور بامعنی ہے۔ابرار سالک ان شاعروں میں سے نہیں ہیں جو پٹے ہوئے راستوں پر رواں رہتے ہیں۔ وہ ذہن و دل کے دریچے وا رکھتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں روایت سے پیار کے باوجود تازگی کا احساس ملتاہے۔
سا لک نے زندگی کا مشاہدہ بہت قریب سے کیاتھا۔زندگی کی کئی سفاک سچائیاں اُن کی شاعری میں جھلکتی ہیں۔اُن کی شاعری بالخصوص غزل کا بہت مضبوط حوالہ انسان اور انسانی زندگی کے مختلف روپ ہیں ۔اُنہوں نے بیرونی طور پر معاشرے میں جو کچھ دیکھا اپنی شاعری میں احسن طریقے سے بیان کیا۔ زیادہ تر نئے زمانے کے افکار کو شاعری میں جگہ دی ہے۔وہ انسانی احساسات وجذبات کو معاشرتی قدروں کے قریب لاتے ہیں۔وہ اپنی شاعری میں نئے دور کی تصویریں دکھاتے ہےں۔
سالک نے جذبوں کو جن رنگوں میں ڈھالا ہے ۔اُنھوں نے لفظ ایجاد نہیں کیے ہیں لیکن من کی گہرائی میں جس طرح لفظوں کو بسا کر اُنھیں شعور کے ساتھ برتا ہے وہ نظر انداز کرنے کے قا بل نہیں ہے ۔وہ لفظ ،وہ شعری تجربے نہ صرف غزلوں میں تکمیل پذیر ہو تے ہیں بلکہ آزاد اور پا بند نظموں کے دریچوں سے بھی جھانکتے نظر آتے ہیں ،یہ سلسلے اپنی انفرادیت کے با وصف روایات کے سلیقے میں سے ناتا نہیں تو ڑ تے اور فن کے ارتقاءکی نئی کہا نیوں کو بھی جنم دیتے ہیں ۔اس سسلسلے میں ان کے مشہور اشعار درجِ ذیل ہیں۔ 

اب تواپنے ہونے نہ ہونے کا شک ہے اور میں ہوں
کتنی ہل چل تھی سینے میں اس ٹھہراؤسے پہلے

یہ اپنی ذات میں محصور لوگ کیسے ہیں
پس فصیل بھی دیکھوں اُچال کر آنکھیں

مجھے تلاش نہ کر شہر جاں کی گلیوں میں
میں لا مکاں میں ہوں میرا کوئی مکاں نہیں ہے

یو نہی خلش سی ہے حرفِ دعا کے بارے میں
میں بے یقیں تو نہیں ہوں خدا کے بارے میں

تو خود کشی کا گنہ اپنے سر نہ لے سالک
یہ خلق خود ہی کو ئی اہتمام کر دے گی

یہ دور بے روز گاریوں کا ہے دور سالک
ذہانتیں کیا ، ہُنر کہاں کا ، کمائی کیسی

پہنتا ہوں میں سالک جب بھی کوئی قیمتی ملبوس
مجھے اپنا وہ صد پارہ لبادہ یاد آتا ہے

کسی نے مڑ کے نہ دیکھا مسافرِ غم کو
مثال نقشِ قدم نیم جان بیٹھ گیا

ذرا سی دیر بھی خالی رہا نہ تختِ مراد
جو اک اُٹھا تو نیا حکمران بیٹھ گیا

یہ کون اُٹھا ہے اس جلسہ گاہ میں سالک
کہ جس کو دیکھ کے سارا جہان بیٹھ گیا

حِرص کی ہو لی بس اِک لمحے کو کھیلے تھے مگر اب رنگ اُترتا ہی نہیں ہے
ایک پل کو زندگی کی بھیڑ میں گزرے ہیں اور ہاتھوں سے پرچم کھو گیا

سائے جلتی ہے گٹھا جلتی ہے
شہر کی آب و ہوا جلتی ہے

اُنہیں تو خون بہاناہے ، چاہے کس کا ہو
جو سامنے ہو اُسی کو نشانہ کرتے ہیں

قینچیاں لے کر پھرے گی شہر میں پاگل ہوا
چھت کی کڑیوں میں چُھپی چڑیوں کے پر لے جا ئے گی

تحریر:سبحان اللہ لیکچرر ڈگری کالج نواگئی باجوڑ

اباسین ایوارڈ


awes qarniاباسین آرٹس کونسل پشاور نے سال 12-2011 کے لیے اباسین ایوارڈ کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ مصنفین کے فیصلے کے مطابق تحقیق و تالیف کا جسٹس کیانی ایوارڈ پروفیسر اویس قرنی کی کتاب ’’کرشن چندر کی ذہنی تشکیل‘‘ کو دیا گیا۔ اس سے پہلے بھی کتاب کو تمام ادبی حلقوں کی جانب سے پذیرائی مل چکی ہے اور انجمن ترقی پسند مصنیفن پنجاب کی جانب سے کتاب کی تقریب رونمائی بھی ایک اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ اس کے علاوہ  ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر کتاب کے متعلق تبصرے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں عارف وقار اور مستنصر حسین تارڈ کے لکھے گئے کالم قابل ذکر ہیں۔ آہنگِ ادب کی جانب سے پیش کی جانے والی اس کتاب کا سال کی بہترین کتاب کے زمرے میں شامل  ہونا تنظیم اور خاص طور سے تنظیم کے روح رواں جناب اویس قرنی کے لیے فخر اور اعزاز کا باعث ہے۔ آہنگ ادب کے تمام ممبران کی جانب سے محترم اویس قرنی کے لیے نیک خواہشات اور ڈھیروں مبارک باد۔

حسن کی ہمہ گیر قدر کا شاعر


Photo0145غلام سرور نام ، تخلص طاہرؔ ، آبائی شہر کلاچی ، مسکن بنوں، خاندانی پیشہ طب مصروفیت کتابت ، شغل شاعری ، اوڑھنا بچھونا تصوف ۔ وہ واقعی ہمارے بزرگوں کے اُس آخری قافلے کے خوش نصیب فرد تھے جنہیں بیک وقت اتنے ڈھیر سارے مشرقی علوم اور اسلامی فنون سیکھنے کی فرصت اور موقع ملا۔ میں خود تو اُن سے شرفِ نیاز حاصل کرنے سے محروم رہا ۔تاہم اُن بڑے بوڑھوں کی جوتیاں سیدھی کرنے کا موقع مجھے ضرور ملا جنہوں نے طاہر کلاچوی جیسے بامروت اور باکرار بزرگوں کی آنکھیں دیکھی تھیں ۔ چائے بازار جہاں طاہرؔ صاحب مطب کرتے تھے وہیں ایک چوبارے میں مجھے اُستادِ محترم جناب فضل الرحمن صاحب سے اپنی طرز تحریر کی نوک پلک سنوارنے کے یادگار اور خوشگوار لمحے گزارنے کا اتفاق ہوا۔طباعت جو طاہرؔ صاحب کا پیشہ اور روزگار تھا میرے بھی خاندان کے کئی ایک بزرگوں کا کل وقتی یا جُز وقتی شغل رہا ہے۔ شاعری جہاں اُن کی ذہنی کیفیات اور قلبی وارداتوں کے اظہار کا وسیلہ تھی وہیں میرے لیے بھی ذوق کی تسکین کا سامان رکھنے کے علاوہ انسان کے ذہنی وظائف اور قلبی اُمور کے سمجھنے اور سمجھانے کا ذریعہ بنی ۔
تصوف ان کا مسلک اور کردار تھا۔ تصوف میر بھی دین اور ایمان ہے نپولین بونا پارٹ جب جرمن شاعر گوئٹے سے پہلی بار ملا تو وہ بے ساختہ پکار اٹھا کہ’’ میری ایک انسان سے ملاقات ہوئی ہے۔‘‘ میں بھی آج تک ایسے جتنے لوگوں سے ملا ہوں جنہیں طاہرؔ صاحب کی صحبت میں بیٹھنے کا ایک یا ایک سے زیادہ بار اتفاق ہوا تھا، سب کو میں نے طاہر ؔصاحب میں کوٹ کوٹ کر بھری انسانیت اور آدمیت کی تعریف میں رطب اللسان پایا۔
لوگوں سے سنے ایسے بے شمار تاثرات کو سمیٹ کر تخیل کے کینوس پر جب میں اُن کی شخصیت کا خاکہ بنانے کی کوشش کرتا ہوں تو ایسا محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتا کہ جیسے اُن کے باطن میں’’ احساس جمال ‘‘ کی کوئی ایسی ہمہ دم جھلملاتی شمع سی روشن رہتی تھی جس کی نفیس اور لطیف کرنیں کبھی تو خوش خوئی اور خوش اخلاقی کی صورت میں ظاہر ہوتی تھیں کبھی خوش خطی اور خوش نویسی کے روپ میں تو کبھی شروع کی شکل میں اپنی خوش نوائی اور خوش گفتاری سے قارئین و سامعین کے کانوں میں رس گھولتی رہتی تھی ۔ یہی احساسِ حسن و جمال اُن کے مزاج اور مذاق کی وہ بنیادی و اساسی قدر قرار دی جاسکتی ہے جو اُن کی شخصیت و کردار ، اُن کی سوچ و فکر ، اُن کے علم و فن میں نت نئی صورتوں اور شکلوں میں جلوہ گر ہوتی رہی وہ شخصی اور اجتماعی زندگی کے ہرمظہر میں ایک معیاری حسن کے جو یا رہے ادبی اصطلاح میں اگر بات کو سمجھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ایک شعر کا معیاری حسن اُس کے ’’تغزل‘‘ کو قرار دیا جاسکتا ہے طاہر ؔ صاحب کی نظر میں پوری انسانی زندگی اور خدائی کائنات ایک غزل کی طرح تھی ۔جس کا ہر ہر مظہر اور روپ اُن کے لیے ایک شعر کی حیثیت رکھتا تھا۔ جس میں وہ تغزل ( یعنی معیاری حسن ) کی تلاش میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔ شاید اسی لیے وہ ادبی اصناف میں سے غزل ہی کے اچھے شاعر ثابت ہوئے۔
فطری منظر ہو کہ نسوانی پیکر ، انسانی عمل ہو کہ سیاسی نظام معاشرتی تعلقات ہوں کہ فنی اسالیت وہ ہر چیز میں ایک معیار کا تعین کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اہلِ نظر جانتے ہیں کہ تناسب ، توازن اور معیار جمالیات ہی کی بنیادی اقدار ، شرائط اور اصول ہیں۔ طاہر کلاچوی کے اس جمالیاتی سفر کی کئی منزلیں اور پڑاؤ ہیں کہیں یہ صوفیانہ ہے تو کہیں اخلاقی ، کہیں ادبی ہے تو کہیں فنی ، کہیں یہ معاشرتی ہے تو کہیں سیاسی اورکہیں شخصی ہے تو کہیں اجتماعی ۔ اقبالؔ کی خودی کی طرح یہ ہر رنگ میں ڈوب کے بے رنگ ہے لیکن کہیں یہ بے چگوں ہے اور بے نظیر بھی ۔ افلاطون نے بنیادیں قدرین تین گنوائی تھیں یعنی حسن کا خیراور صداقت لیکن طاہرؔ کلاچوی کی انفرادیت بلکہ کملا یہ ہے کہ اُنہوں نے خیر او ر صداقت تک میں حسن کو ڈھونڈ نکالا ۔ آئیے ان کے اس جمالیاتی سفر میں کچھ دیر اُن کے ہم سفر بنیں ۔ اُن کی نظر میں غزل کا معیاری حسن اُس کی دلنشینی میں مضمر ہے:

تری دلنشین غزل ہے کہ پیامِ زیست طاہرؔ
یا کہیں سحر کے دامن سے گری کوئی کرن ہے

اب اخلاقی حسن کا معیار دیکھیے ۔ یہ احترامِ انسانیت سے عبارت ہے:

محترم جب بنو گے اے طاہرؔ
پہلے اوروں کا احترام کرو

فطرت کا معیاری حسن و سادگی کے بجائے مشاطگی اور آرائش میں دیکھتے ہیں:

عارضِ گل پہ گوہرِ شبنم
حسن کے سلسلے نرالے ہیں پڑھنا جاری رکھیں→

غزل


ہزار بار دبانے کو شہر یار اُٹھا
مگر یہ شور ِغریباں کہ بار بار اُٹھا

یہ ٹوٹ کر تو زیادہ وبال ِ دوش ھوئی
میں اٹھ پڑا تو نہ مجھ سے انا کا بار اُٹھا

یقین رکھنے لگا ھے جو عالم ِ دل پر
تو پھر علائق ِ دنیا سے اعتبار اُٹھا

عدو سے اگلی لڑائی کا دن تو طے کر لیں
چلے بھی جائیں گے شانوں پہ اپنی ھار اُٹھا

زمین ِحُسن بھی شق تھی سپہر ِعشق بھی شق
یہاں کسی سے نہ میری نظر کا بار اُٹھا

یہ بزمِ خاک نشیناں ھے سوچ کر بیٹھو
یہاں سے کوئی اُٹھا تو برائے دار اُٹھا

زمیں سہار نہ پائی مری شکست کا بوجھ
کہ جتنی بار گرا ھوں میں اُتنی بار اُٹھا

میں حُکم ِ ضبط کو نافذ نہ کر سکا دل پر
جہاں بھی ظُلم کو دیکھا ، وہیں پُکار اُٹھا

ملا کے خاک میں مجھ کو وہ جب چلا نیر
تو اُس کے پاؤں پکڑنے مرا غُبار اُٹھا

(شہزاد نیر)