تذکرہ ایک رنگوں بھری شام کا


تحریر : اویس قرنیawes

ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کا فون آیا کہ آج کی شام تو ڈاکٹر نذیر تبسم کے نام ہے یہ بیچ میں بادلوں کے جام کہاں سے چھلک پڑے۔ ۔۔۔ میں نے کہا نذیر تبسم کی بھی طرح طرح کے موسموں سے دوستی ہے ، پتہ نہیں کب کہاں سے کسی پھوار کے جھونکے اٹھکیلیوں پر اتر آئیں ۔ پھر ہم نے خانہ فرہنگ ایران کا راستہ لیا جہاں ڈاکٹر نذیر تبسم کو تمغہ امتیاز ملنے کی خوشی میں احباب کی محفل سجی تھی ۔ اباسین آرٹس کونسل کے بینر تلے منعقدہ اس نشست کی صدارت پروفیسر قبلہ آیاز کررہے تھے جبکہ مہمان خصوصی امریکہ سے آئے ہوئے افسانہ نگار داؤد حسین عابد تھے، رنگوں بھری اس شام میں تلاوت کی سعادت راقم الحروف کے حصے میں آئی ، پروگرام کے پہلے حصے میں نظام کی چوکی مشتاق شباب نے سنبھالی تھی۔ ڈاکٹر نذیر تبسم کی صاحبزادی صدف نذیر نے اپنے مضمون میں نہایت نپے تلے انداز مین اپنے والد صاحب کی شخصیت اور ان کی پدرانہ شفقتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کسی تشنگی کا احساس نہیں ہونے دیا ، فاروق جان بابر آزاد نے صاحب شام کو منظوم خراج تحسین پیش کیا ، پروفیسر بادشاہ منیر بخاری نے نذیر تبسم کی شاعری اور شخصیت کے ان گنت پہلوئوں پر نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی، غیغم حسن ، شکیل نایاب ، اسماعیل اعوان اور اظہار اللہ اظہار اشعار کے گلدستے لیے فضائ کو مہکاتے رہے ، اویس قرنی بھی کچھ نئی کچھ پرانی سطرح جمع جوڑ کے محبت کے قافلے مین شامل ہو گئے ، تقریب کے دوسرے حصے کی نظام ناصر علی سید کی منتظر تھی تھی جن کے آتے پروگرام نے ایک اور رنگ بدلا، ابھرتے ہوئے خاکہ نگار خالد سہیل ملک اب ادبی خاکے کے فن میں بھی طاق ہونے لگے ہیں ، انہوں نے نذیر تبسم کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بے پناہ داد بٹوری۔ یوسف عزیز زاہد نے اپنے دیرینہ دوست کو ایک طویل نثرانے کا نذرانہ دیا، مہمان خصوصی حسین عابد گزرے بیتے افسانوں کے درپن میں نذیر تبسم کو ڈھونڈتے ہوئے بہت پیچھے چلے گئے ، حسام حر نے سفر و حضر کی رفاقت اور ماہ و سال کے بدلتے مناظر و تناظر مین نذیر تبسم کی ایک نئی تصویر بنانے کی کوشش کی ۔ آغائے یوسفی نے علم و ادب کی اس چھتر چھایا مین کچھ لمحوں کی بیٹھک کو اپنی خوش نصیبی قرار دیا۔ صدر مھفل ڈاکٹر قبلہ آیاز نے تمغۂ امتیاز ملنے پر ڈاکٹر نذیر تبسم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے پشاعر کے قلم قبیلے کے لیے اعزاز قرار دیا، اس تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی ۔ آخر میں ڈاکٹر شفیع اللہ خان ( بابا جی ) نے دعائیہ کلمات کے ساتھ مہمانان گرامی کو محفل مین شالیں اوڑھائیں یوں یہ خوشگوار شام اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

Advertisements

اُردو تحقیق مسائل اور ان کا حل


اُردو تحقیق مسائل اور ان کا حل
شعبہ اُردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کے زیر اہتمام ریسرچ اسکالرس کابین جامعاتی سمینار

تحریر محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر ( عثمانیہ یونیورسٹی )

جنوبی ہندوستان میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم کی ایک اہم درسگاہ سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد ہے ۔اس یونیورسٹی کو ہندوستان کی جامعات میں ایک معیاری یونیورسٹی کا مقام حاصل ہے ۔ یہاں کا شعبہ اردو بھی اپنی علمی و ادبی کاوشوں کی بدولت ساری اردو دنیا میں ایک اہم شناخت رکھتا ہے۔ شعبہ اردو کے نئے صدر پروفیسر مظفر شہ میری اردو کے فروغ کے لئے جدت سے بھر پور پروگرام کراتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ” تخلیق 2012 “ کے عنوان سے ریسرچ اسکالر س کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے والا پروگرام کروایا تھا۔ جسے hcu 2بہت پسند کیا گیاتھا۔ 3جولائی 2013ءکو شعبہ اردو میں انہوں نے ” کاوش 2013ئ“ ریسرچ اسکالرس کا بین جامعاتی اردو سمینار ترتیب دیا۔ اور سمینار کا مرکزی موضوع ” اردو تحقیق مسائل اور حل“ رکھا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اردو کے اکثر علاقائی اور قومی سمیناروں اور دیگر ادبی اجلاسوں میں سینئر اساتذہ کو ہی مقالے سنانے کا موقع ملتا ہے۔ اور ریسرچ اسکالرس اس طرح کی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں۔ جامعات میں اردو تحقیقی کام میں مصروف ریسرچ اسکالر س کو سمینار میں حصہ لینے اور اپنا مقالہ پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے کی غرض سے شعبہ اردو نے یہ سمینار رکھا ۔اس سمینار میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی اور سری وینکٹیشورا یونیورسٹی اور دیگر جامعات کے ریسرچ اسکالرس کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ اور اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بڑے اچھے مقالے پیش کئے اور تحقیق کے موضوع پر عصر حاصل کے مسائل سے بھی آگہی حاصل کرتے ہوئے سمینار کے مقاصد کی تکمیل کو اور اپنی نوعیت کے اس منفرد اردو سمینار کو کامیاب بنایا۔سمینار کے کنوینرس جے محمد شفیع اور محمد عبدالخالق ریسرچ اسکالرس نے پروفیسر مظفر شہ میری صاحب کے مشوروں کی روشنی میں سمینار کے انتظامات کئے۔ اور تمام یونیورسٹیوں کے پروفیسرس کو اپنے ریسرچ اسکالرس کو سمینار میں مقالے پڑھنے کے لئے مدعو کیا۔نظام آباد سے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گرراج گورنمنٹ کالج اور محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد پہونچ گئے۔ شعبہ کے سینئیر اسکالرس کے طور پر ڈاکٹر محسن جلگانوی ایڈیٹر اوراق ادب اعتماد اور ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کو بہ طور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا ۔
شعبہ اردو اسکول آف ہیومانٹیز کے خوبصورت آڈیٹوریم میں ریسرچ اسکالرس صبح سے ہی جمع ہونے لگے۔ پروفیسر مظفر شہ میری ‘پروفیسر محمد انور الدین‘ ڈاکٹر رضوانہ معین ‘ڈاکٹر عرشیہ جبین اور ڈاکٹر نشاط احمد نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اففتاحی اجلاس کا آغاز ہوا۔ شعبہ کی ریسرچ اسکالر غوثیہ بانو نے نظامت انجام دی۔ اور مہمانوں کو شہ نشین پر مدعو کیا۔ مہمانوں کو گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد پروفیسر راما کرشنا راما سوامی وائس چانسلرHCU نے شمع جلا کر 10-30بجے دن سمینار کا افتتاح کیا۔ ۔اس موقع پریہ شعر بھی پڑھاگیا۔
سورج سمجھ کے سارے پرندوں نے غل کیا ….اس نے جلائی شمع تو منظر چمک اٹھے
ا س سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈین ہیومانیٹزپروفیسر امیتابھ داس گپتا نے کی۔ جبکہ بطور مہمان خصوصی ڈاکٹر محسن جلگانوی صاحب ایڈیٹراوراق ادب ،روزنامہ اعتماد حیدرآباد مدعوتھے۔ اس اجلاس کے افتتاحی پروگرام کے خیر مقدمی کلمات اداکرتے ہوئے پروفیسر مظفر شہ میری صاحب صدر شعبہ اردوHCU نے سمینار میں شرکت کرنے والے تمام ہی مہمانوں اور اسکالرس کا دلی خیر مقدم کیا اور علامہ اقبالؒ کا شعر ”پلٹنا جھپٹنا پلٹ کر جھپٹنا ۔ہے خوںگرم رکھنے کا یہ ایک بہانا“ پڑھا۔ اور کہا کہ اردو میں ہر موقع کے لئے کوئی نہ کوئی شعر نکل ہی آتا ہے۔ چنانچہ تحقیق سے متعلق بھی خواجہ الطاف حسین حالی کا شعراس طرح ہے ”ہے جستجو کہ خو ب سے ہے خوب ترکہاں۔اب دیکھئے کہ جاکر ٹھہر تی ہے نظر کہاں“۔ پڑھنا جاری رکھیں→

ایک شام ہمہ جہت شخصیت مشتاق شباب کے نام


تحریر : اویس قرنی

وہ شام ہی ایسی تھی کہ رات کا خیمہ لگانا پڑا وہ بات ہی ایسی تھی کہ رات کم اور خیمہ چھوٹا پڑ گیا، لوٹتے سمے محسوس ہوا کہ سیدھی راہوں پر بھی گاڑی دوڑاتے موڑآہی جاتے ہیں ، جیسے اس شام نذیرتبسم اور ناصر علی سید کی الف لیلہٰ نے کئی بل کھاتے نازک پہلو بدلے۔
لیکن سڑک پر قمقموں کی روشنی قریب آئی تو گاڑی تیزی سے آگے گزر جاتی جیسے کسی کی شخصیت پر بات کرتے ہوئے کردار کے روشن نگینے ذات کے نگر تک پہنچنے کا راستہ آسان بنا دیتے ہیں ایسی ہی محبت تھی جس کی بناء پر ایک دن اپنے احباب کو ڈاکٹر خالد مفتی نے شباب کی نفسیاتی مطالعے پر آمادہ کیا تھا اور ایک آج کی شام تھی، سنڈیکیٹ کا قافلہ تھا کہ آتے آتے اتفاق سے حق بابا کی یخ بستہ عمارت میں دھونی رما کے بیٹھ گیا تھا۔
جمعہ کی شام افق کے پہلے ستارے سے مشورہ کئے بغیر ناصر علی سید نے اس مشتاق قلمکار(جنہیں مشتاق شباب کہا جاتا ہے) سے منسوب محفل کی مشعل روشن کر دی ناصر علی سید نے مشتاق کو بیکن کے قول کا ردعمل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ مشورہ تو سب سے کرتے ہیں لیکن کرتے وہی تھے جو ہم دونوں کی مشترکہ مشاورت سے طے ہوتا تھا مشتاق نے اپنی سینیارٹی کے

ڈاکٹر محمد اعظم اعظم

جن کو کبھی بوتل سے باہر نہیں آنے دیا لیکن ایک جن ایسا ہے جو شباب کے قابو میں نہیں آیا یہ اس کی جارحانہ صاف گوئی کا بادہ ہے جو کبھی کبھی پیمانے سے چھلک پڑتا ہے اورکناروں کو ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ کوئٹہ میں اپنوں سے مفارقت اور ایک خوشگوار مگر نمدار ملن رت نے پھر سے شاعری کی طرف متوجہ کیا۔ ایک نازک مثال حیات کے نازک مقدمے سے دیتے ہوئے ناصر علی سید نے کہا کہ ایک دفعہ تو بڑی گڑ بڑ ہوگئی اور یہی شاید اس ڈرامے کا المیہ ہے جس کا سکرپٹ کسی اور نے لکھا تھا تو ایک تو ان کی شادی جو انہوں نے بہت جلدی میں کی اور دوسری ان کی محبت جو انہوں نے بہت تاخیر سے شروع کی ۔ راقم الحروف نے اس شام کے ممدوح مشتاق کے ساتھ منظوم مکالمے کی صورت نکالی جس میں مشتاق کی مروت و مودت کےساتھ ان کی خود کو مشکلات میں ڈالنے کی ادا پر بھی ایک شتابی تبصرہ شامل تھا۔ مشتاق کی زندگی کا ہر ورق متحرک ہے کسی مثبت کام سے اور ممتنع ہے کسی اشرداد کے انعام سے ، علم و ادب کے میدانوں میں جہاں جہاں گئے ایسا یوگدان رہا انکا کہ ہر بار ملنے پر جی چاہتا کہ انہیں ’’یا ابو ریاضت‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جائے۔
ش شوکت میونسپل لائبریری میں عرصہ دراز تک خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اس تاریخی لائبریری کے ساتھ کھلواڑ شروع کیا گیا تو شباب کا جلال دیدنی تھا اب کی بار شہر کے بڑے ان کے نشانے پر تھے سو وہ ہدف ملامت بنتے ہوئے مشتاق کے آگے مقہور ٹھہرے اور ایسے کہ کسی کے لیے جائے مفر نہ تھی اس موقع پر شباب معاندانہ رویہ رکھنے والوں کو چیخ کر مخاطب کیا کہ کیا تم چنگیز خان بننا چاہتے و یا ہلاکو خان ۔ مشتاق کے قلم سے مضروب ہوکے پھر کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ کتاب و قلم اور علم و عمل کے رشتے میں مخل ہوجائیں۔ پڑھنا جاری رکھیں→

محبت کے نخلستانوں میں عقیدت کا سفر


بنوں اور لکی مروت زمانۂ قدیم سے بے شمار تہذیبی و ثقافتی ، دینی و مذہبی ، علمی و ادبی اور انتظامی و انصرامی اٹوٹ رشتوں میں بندھے چلے آرہے ہیں۔ ان میں دو بھائیوں جیسا پیار یا دو اچھے پڑوسیوں کا سا رشتہ پایا جاتا ہے ۔ بڑا بھائی گروپ فوٹوہونے کے ناتے بنوں کو افرادی قوت کی کُمک پچھلے ہر دور میں ہمیشہ اپنے چھوٹے بھائی لکی مروت سے ہی ملی ہے ۔ چنانچہ محکمہ  تعلیم ، پولیس اور بینک کے متنوع شعبوں سے لے کر اردو اور پشتو شاعروں تک کی ہر چھوٹی بڑی کھیپ وہیں سے درآمد کی جاتی رہی ہے۔ فرانسیسی مفکر اندرے ژید کے نظریے ( حسن اور فن کے معاملے میں حب الوطنی کے جذبے کو دخل نہیں دینا چاہیے ) کی روشنی میں بات کی جائے تو کہنا پڑے گا کہ بنوں کے چند ایک قد آور شاعروں (مقبول عامر ، مطیع اللہ قریشی ، غازی سیال) کو چھوڑ کر دیگر تمام چھوٹے بڑے شاعروں پرلکی مروت کے رحمت اللہ درد ، عبدالرحیم مجذوب ، تبسم مروت ، افگار بخاری اور انور بابر کو واضح بزرگانہ برتری حاصل ہے اس رائے سے ہمارا مقصد کسی کی بے جا تحسین یا تنقیص کرنا ہر گز نہیں ۔ اصحابِ نظر جانتے ہیں کہ قبولِ خاطر و ُلطفِ سخن خداداد چیز ہے۔ کسی بھی ادبی ، لسانی یا علاقائی تعصب سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کے فوری ازالے کے لیے اتنا عرض کر دنیا بہر حال ضروری سمجھتا ہوں کہ بنوںنے فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں ( موسیقی، مصوری اور خطاطی ) میں جیسے جیسے قدآور نام پیدا کیے ہیں لکی مروت میں اُس کا عُشرِ عشیر بھی دکھائی نہیں دیتا۔
فنون ِ لطیفہ کے کئی ایک شعبوں ( موسیقی ، خطاطی ، نقاشی ، مصوری اور شعر و ادب ) سے مجھے بچپن ہی سے گہری دلچسپی رہی ہے ۔ خصوصاًا چھا شعر تو میرے انگ انگ کو ایک وجدانی کیف اور روحانی سرُور سے آشنا کردیتا ہے۔ معلوم نہیں بُطُونِ شعر سے کونسی ایسی طلسماتی پری نکلتی ہے جو خیالوں کی انگلی تھام کر ان دیکھے پربتوں پر لے اُڑتی ہے ۔ پھر شام و سحر ، روشنی و تاریکی ، افسانہ و افسوں ، خوف و امید ، لذت واذیت اور مسرت و ملال کے ملے جلے تاثرات کے تختِ رواں پر بٹھا کر خدا جانے کہاں کہاں لیے پھرتی ہے میں اس باطنی کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا آپ اپنی سہولت کے لیے چاہیں تو اِسے کسی نوخیز حسینہ کا غمزۂ دلفریب کہہ لیں ، کسی معصوم بچے کا تبسمِ دلنواز کہہ لیں یا کسی واصل بااللہ کا نورِ باطن ! مجھے اگر مجبور کیا جائے تو فقط اتنا کہوں گا کہ:


خوبی ہمیں کرشمۂ ناز و خرام نیست
بِسیار شیوہ ہاست بتاں راکہ نام نیست


چنانچہ شعر و سخن کے گلہائے رنگا رنگ سے اِسی ”غمزۂ دلفریب“ اِسی” تبسم ِ دلنواز“ اور اسی ”نورِ باطن “ کی نکہت و شمیم کو پیالۂ ذوق و وجدان میں اپنے نوجوان قارئینِ کرُم کے لیے سمیٹ کر لانے کی غرض سے ہم نے 24 جون 2010ءکی ایک کُہر آلود اور انتہائی خنک مگر دلفریب صبح اپنے ہمدمِ دیرینہ محمد ولی کی گاڑی میں لکی مروت کا ادبی دورہ کیا۔ میرے ساتھ میرے حساس اور ادب نواز دوست جاوید احساس بھی تھے۔ راستے میں مفتی محمود کالج ڈیرہ اسماعیل خان کے شعبہ اردو کے انتہائی سخن طراز اور سخن ساز لیکچرر عبدالمتین مبتلا بھی اپنی گرم گفتاری میں ہمیں مبتلا کرنے کے لیے آشامل ہوئے ۔ کار بنوں سے لکی مروت جانے والی نئی اور کشادہ روڈ پر کُہر اور دُھند کے مرغولوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سورج دیوتا نے اُفق ِ شرق سے بلند ہو کر اپنی نٹ کھٹ شعاعوں کے مشفق و مہربان نیزے ہماری نظروں کے ہدف پر چلانے شروع کر دئیے مجھے بے اختیار مقبول عامر یاد آگئے : پڑھنا جاری رکھیں→

فیض امن میلہ 2009


فیض احمد فیض

گاگ اڑاتی ایسی کئی راتوں سے زندگی شبنم اور شعلے کی ملی جلی شدت اور لذت اندوزی سے گزری تھی۔۔جب زندگی کی نبضیں تیر تیز چلنی شروع ہو جایا کرتیں۔۔۔وقت کے پیمانوں کی چھلکاہٹ اپنی گردش کے مدار سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی اور رندوں کی راہوں میں بنجاروں کے استقبالیہ نغمے بلند ہوتے ہوئے میخانے کے غرور کو سہ آتشہ بنا دیتے تھے۔
اس رات بھی دھومیں مچی ہوئی تھیں تغزل کی بینا الاپتے الاپتے لاہور اپنی سرمستی اور قلندری پر نازاں شہر ادب کے ستاروں سے خراج لے رہا تھا اشعار کے جگنوؤں نے شبنمستان فیض کو بقعہ نور بنا دیا تھا ۔۔۔ زینہ زینہ اترتے صلح محبت اور وفا کے دیئے باد نو بہار کی نوید سناتے گلوں میں رنگ بھر رہے تھے ایسا لگا جیسے مدتوں بعد آوازوں کی تنہائی سایوں کے دشت سے نکل آئی ہو۔ ہونٹوں کے سراب پیاس کے دریا کو سمندروں کی وسعتیں دے چکے تھے۔
ابھی ہجر کے غم کا نغمہ اپنے سوز کا فسانہ مکمل نہ کر پایا تھا کہ یکبارگی تاریک راہوں سے پھر کچھ بانکوں کی جی دار چیخیں ابھر آئیں تب بزم آرائی نے ایک ثانیے کے لیے خاموشی کا ہنگام اوڑھ لیا اوراس مختصر سے وقفے میں نگاہوں نے دن بھر کی دیکھی ہوئی تصویروں کو ذہن کے پردے سے جھٹکنے کی پھر سے کوششیں شروع کیں دن جس کے سحر کے لیے مدتوں انتظار کی سولیوں پر لٹکنا پڑ گیا ۔ جس کی آرزو میں یاروں نے رات کے پنجوں سے پنجہ لڑایا لیکن اب جب دن ، رات کے پنجے سے نکلی تو اس شب گزیدہ حالت میں کہ رات اور دن کے فرق کو مٹانا ممکن نہ رہا۔ پڑھنا جاری رکھیں→

عالمی اردو کانفرنس کراچی


یہ کراچی ہے ، طرح طرح کی البیلی روشنیوں ، رنگوں اور انسان کی محنت کی دھڑکنوں میں بسی امنگوں کا شہر ، یہاں کے ساحل پر ہر روز نئی کہانیوں کے جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں یہ پانی یہاں کے ملاحوں کو ایک دن بہت دور سے کھینچ لایا تھا شاید اس وقت جب انسان کو اس بات کا احساس ہو چلا تھا کہ پانی کے بغیر وجود کی کشتی زندگی کے جزیرے پر زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکے گی۔
میں اب سے کچھ ہی دیر پہلے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترا ہوں جہاں بال بکھیرے شوخ ہوائیں نگاہوں پر سے سپنوں کی طرح گزر رہی ہیں۔
دیکھا جائے تو یہاں بڑی لگن لگتی دکھائی دیتی ہے لیکن دراصل مجھے یہاں عالمی اردو کانفرنس میں شریک ہونا ہے ۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ میں ذرا انتظار حسین صاحب سے مل لوں جو ابھی ابھی لاہور سے پہنچے ہیں۔ انتظار صاحب کو تو آپ جانتے ہوں گے جو اردو افسانے میں گنگا جمنی تہذیب کے سب سے بڑے امین ہیں ان کے ہمراہ حمید اختر صاحب ہیں، وہ حمید اختر جن کے قلم سے غیر منقسم ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کا دفتر حرکت و عمل کی سرخیاں کشید کرتا تھا ۔ ہمیں لینے کے لیے پروفیسر انیس زیدی اور مختیار احمد ائیرپورٹ پر پہلے سے موجود ہیں۔
اس وقت ہمیں کراچی آرٹس کونسل پہنچ کر اس تقریب کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں شرکت کرنی ہے کراچی کی وسیع اور طویل و عریض سڑکوں سےہوتے ہوئے آرٹس کونسل کے دروازے تک پہنچے ہی تھے کہ اس یادگار سبھا کے ایک محبوب کردار کالا چشمہ چمکائے ہر دم مستعد اور جاذب نظر محمد احمد شاہ پرتپاک قہقہے اور سگریٹ کا دھواں بکھیرتے بکھیرتے گلے لگ گئے۔
اسی دوران کجلائی ہوئی سندرتا کے نین جھکاتی شایدہ کنول نے احمد شاہ کے دفتر تک ساتھ دیتے ہوئے کانفرنس کے لیے ہونے والی تیاریوں کے سلسلے میں آرٹس کونسل کے رت جگوں سے اجمالاً سیڑھی سیڑھی آگاہی بخشی۔ پڑھنا جاری رکھیں→