اباسین ایوارڈ


awes qarniاباسین آرٹس کونسل پشاور نے سال 12-2011 کے لیے اباسین ایوارڈ کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ مصنفین کے فیصلے کے مطابق تحقیق و تالیف کا جسٹس کیانی ایوارڈ پروفیسر اویس قرنی کی کتاب ’’کرشن چندر کی ذہنی تشکیل‘‘ کو دیا گیا۔ اس سے پہلے بھی کتاب کو تمام ادبی حلقوں کی جانب سے پذیرائی مل چکی ہے اور انجمن ترقی پسند مصنیفن پنجاب کی جانب سے کتاب کی تقریب رونمائی بھی ایک اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ اس کے علاوہ  ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر کتاب کے متعلق تبصرے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں عارف وقار اور مستنصر حسین تارڈ کے لکھے گئے کالم قابل ذکر ہیں۔ آہنگِ ادب کی جانب سے پیش کی جانے والی اس کتاب کا سال کی بہترین کتاب کے زمرے میں شامل  ہونا تنظیم اور خاص طور سے تنظیم کے روح رواں جناب اویس قرنی کے لیے فخر اور اعزاز کا باعث ہے۔ آہنگ ادب کے تمام ممبران کی جانب سے محترم اویس قرنی کے لیے نیک خواہشات اور ڈھیروں مبارک باد۔

کب ظلمت ہستی میں تقریبِ سحر ہوگی :او مست نظر جوگی


داعی کبیر حضرت رحمان بابا کے مزار پر حملہ ۔۔۔۔ ادبی دنیا لرز اٹھی

رحمان بابا

رحمان بابا

لا موثر فی الوجود الا اللہ ۔۔۔۔کا ورد کرنے والے ایک گڈری نشین نے جب اس شام ٹوٹی ہوئی محرابوں سے جھکی ہوئی نظریں اٹھائیں تو اس کے آنسوؤں کے تار نگاہوں کی حدت سے ہوتے ہوئے دلوں کے تاروں سے پیوست ہو چکے تھے اسی استغراق کامل اور ذکر و فکر میں ڈوبا وہ مجذوب اگلے ہی لمحے کہیں ڈوبتے سورج کے سایوں میں گم ہو چکا تھا اور میں خیالوں کے محشرستان میں اس سے اتنا بھی نہ پوچھ سکا کہ بابا کے مزار تک کونسا راستہ رہنمائی کر سکتا ہے لیکن جیسے میرے بولنے سے پہلے ہی اس نے میرے سوالوں پر چپ کی مہر لگا رکھی ہو جیسے وہ کہہ رہا ہو ۔۔۔راستے تو ۔۔۔کب کے ۔۔۔اپنی منزلوں سے بھٹک چکے ۔اور پھر ۔۔۔تم لوگ کس بنیاد پر ۔۔۔اور کونسے راستوں کی تلاش میں نکلے ہو۔
تب ایک جگر پاش احساس ندامت نے آگھیرا اور مجھے لگا جیسے دھرتی کانپ رہی ہے ۔۔۔ جیسے توکل ، ایمان ، تخلیق اور اخلاص و محبت کی استہزاء پر وہ لرزہ براندام ہو چکی ہے۔۔۔ پھر یوں لگا جیسے وہ زمین زادوں کے زندہ لاشے دیکھ کر تڑپ رہی ہو جو اپنی تمدن ، تہذیب اور قدروں کی پائمالی میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ عرفان و آگہی کے جادہ پیماؤں کے مزاروں پر بھی شیطنیت اور حیوانیت کے ننگے ناچ سے باز نہیں آئے تب میں نے سوچا کہ زمین کیوں نہیں کانپے گی ۔۔۔۔ آسمان بھی تو کتنا بدل چکا ہے ۔۔۔ حضرت رحمان بابا کے مزار کی بے حرمتی پر پوری ادبی دنیا لر ز اٹھی ہے اس وقت جبکہ ہر بچہ ، بڑا ، نوجوان اور بوڑھا سراپا احتجاج ہے آہنگ اد ب پشاور اور قلم لٹریری مومنٹ مردان نے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا اس اعلان کے بعد ملک بھر کے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں نے آہنگ کے دوستوں سے برابر رابطہ رکھا اور حضرت رحمان بابا کی روح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات و احساسات سے آگاہ کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں→

مجلہ خیابان شعبہ اردو جامعہ پشاور کی آن لائن اشاعت پر مبارک باد


آہنگ ادب پشاور مجلہ خیابان کی آن لائن اشاعت پر شعبہ اردو کے تمام اساتذہ خصوصا مدیر جناب بادشاہ منیر بخاری کو مبارک باد پیش کرتی ہے۔ جن کی انتھک محنت اور خلوص کی بدولت یہ مجلہ بین الاقوامی سطح پر  اردو ادب کےحوالے  سےشعبہ اردو کی نمائندگی کر نے میں کامیاب ہوا۔ ہماری دعا ہے کہ یہ مجلہ اسی طرح ترقی کی منازل طے کرتا رہے ۔ 

آمین