اکیسویں صدی میں افکار اقبال کی تفہیم


تحریر: خالد سہیل ملک

alama Iqbal”مصنف نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں مندرجہ بالاموضوع پر منعقدہ سہ روزہ کانفرنس میں ایک مقالہ پڑھا ۔اس مقالے کی تلخیص قارئن کی نذرکی جاتی ہے “

نابغہ شخصیات وہی قرارپاتی ہیں کہ جو وقت کے تینوں زمانوںمیں سانس لیتی ہوںکہ جنہیں ماضی کی تصویراپنی تمام تر توجیہات اور تنائج کی صورت میں دکھائی دیں کہ حال تک پہنچنے کا منطقی ربط بھی معلوم ہو۔حال کے تقاضے بھی ان کی نظر میں سطحی سے زیادہ گہری نظر میں موجود ہوںکہ مستقبل کے رستوں کاتعین کیاجاسکے ۔علامہ اقبال بھی ایسے ہی نابغہ ہیں کہ انسانی تاریخ کے ہر باب سے ان کی نظر گزری ہے کہ جنہوں نے زمانہ حال کے حالات کو نہ صرف سمجھا بلکہ آنے والے وقتوں کو بھی اپنی نگاہ دروں بیں سے دیکھا ،پرکھا اور سمجھا ہے ۔مسلہ یہ رہا ہے کہ علامہ کو ایک خواب دیکھنے پر ہی مکمل کرلیا گیا۔ابھی ان میں بہت سے امکان باقی تھے مگر ان کی فکر کو اس سے آگے دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔ان کے فلسفہ خودی سے بات آگے بڑھائی ہی نہیں گئی ۔خودی اور بے خودی کے ان کے فلسفے میں بے شک بہت کچھ ہے لیکن علامہ تو اس سے آگے بھی بہت کچھ کہہ گئے ہیں کہ جسے درخوراعتنا ہی نہیں سمجھا گیا۔اقبال کی شاعری کا تو جواب شاید ہی اردو شاعری کی تاریخ میں کوئی دے سکے لیکن ان کے خطبات کی مثال بھی تو ہمارے ہاں کسی کے پاس نہیں ہے۔جس میں انہوں اس زمانے میں ہی عالم اسلام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔امام ابوحامد الغزالی کی جانب سے اجتہاد پر لگائی جانے والی پابندی کو اقبال نے اٹھانے کی ضرورت کو محسوس کیا تھاکہ اس دور میں جو پابندی لگائی گئی تھی وہ پابندی بجاتھی کہ بہت سے مشتشرکین کی جانب سے اجتہاد کے نام پر بہت سے ایسی باتیں سامنے آگئی تھیں کہ جو اسلام کی روح کے منافی تھیں ۔قرآن مجید جو کہ ایک بہت ہی تہذیبی زبان میں نازل ہوا ہے ۔جس کی تفہیم کے لیے اس زبان پر ویسا ہی عبور لازمی ہے،مشتشرکین عربی زبان کی اس بلندی پر تفہیم میں چوک جاتے تھے کہ جہاں مسائل جنم لیتے ہیں ۔مگر علامہ نے یہ سوال اٹھایا کہ ایک عنصر کہ جو اسلام کے عین مطابق ہے ۔کہ جس کی ضرورت بھی محسوس کی جارہی ہوتو اسے کیونکرمعطل رکھا جاسکتا ہے ۔ہاں اجتہاد کوعمل میں لانے کے لیے ضابطہ اخلاق اور مجتہد کے لیے شرائط وہی ہوں کہ جو ہونی چاہئیںمگر اجتہاد کا دروازہ کھلنا ضروری ہے ۔ اقبال کے نذدیک آج کے انسان کو اجتہاد کی ماضی کے سب ادوار سے زیادہ ضرورت ہے کہ زندگی میں ارتقاءکا عمل پہلے کی نسبت بہت تیز ہے ۔تبدیلیاں سرعت کے ساتھ ظہور پذیر ہیں ۔سائنس اور علوم وفنوں کے نئی حقیقتوں سے انسان کو روشناس کروادیا ہ گیاہے ۔ ایسی حالت میں قرآن کہ جو آخرت تک سب سے بڑا سچ اور سب سے ویلڈ تحریر ہے ،قرآن کو اس کی سپرٹ کے ساتھ سمجھ کر ہی تشکیک سے مسلمان کو نکالا جاسکتا ہے۔قرآن کونئے انداز اور زمانے کی نئی حسیات کے ساتھ سمجھنے کے لیے اجتہاد بہت ضروری ہے۔اقبال نے اس سوچ کو چیلنج کیا کہ مشاہد ہ ہی سچ ہے اور آئیڈیا سچ نہیں ،آئیڈیا اسی وقت حقیقت یا سچ ثابت ہوسکتا ہے جب وہ آئیڈیا بجائے خود مشاہدے میں تبدیل نہ ہوجائے ۔ اقبال نے تو یہاں تک کہہ دیا فورس آف آئیڈیا ہی سب کچھ ہے کہ آئیڈیا ہی سب سے بڑی قوت ہے کہ وجود سے بھی زیادہ مظبوط اور طاقت ور ہے ،کیونکہ خدا بھی مشاہد نہیں ہے بلکہ آئیڈیا ہے گویا اقبال نے جو کہا کہ گاڈ از آئیڈیا تو اس کے تناظر میں یہی فلسفہ تھا کہ جسے بہ الفاظ دیگر ایمان بھی کہاجاسکتا ہے ۔اقبال کے نذدیک آئیڈیا ایک فکری ودیعت ہے کہ یقین کی حد کو چھولیتا ہے ۔اللہ کی واحدانیت بھی تو مشاہدہ نہیں بلکہ آئیڈیا ہی کی ایک یونیٹی ہے ۔علامہ کے مطابق احساس اور فکر کا نام ایمان ہے ۔ایمان فکر کو دسپلن کرتا ہے ۔شریعت اور اسوہ حسنہ ﷺایمان کے ساتھ مل ایک چوکٹھا مرتب کرتے ہیں۔یہ فریم جو اس کائنات پر محیط ہے اور اس کائنات کامقصد بھی ۔ اس چوکٹھے میں توتصور ابھرتا ہے اس کا پروٹوٹائپ ماڈل اقبال کے نذدیک رسالت ہی ہے ۔ایمان صرف لفظوں کا محتاج نہیں بلکہ برکات وحی کے لطف لینے کا نام ہے ۔یہ سلسلہ تو علامہ کے نذدیک زبانی ،قلبی اور روحانی کیفیت کے ملاپ سے جنم لیتا ہے ،اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے اس حد تک راسخ نہ کرلیا جائے کہ جس حد پر کوانٹم تھیوری کے قانون کو مانا اور سمجھا جاتا ہے کہ جس تھیوری کی بنیاد پر دنیا کا نظام چل رہا ہے اور چلایا جارہا ہے ۔اقبال دنیا میں پھیلے فساد کی جڑ اس بے کلی یا بے چینی کو قراردیتے ہیں کہ جو انسان کو کسی اور سلسلے کے لیے ودیعت ہے

بے کلی کوموجب راحت بنا
بے قراری باعث عزت بنا

اور ایسا اسی وقت ممکن ہے کہ جب ایمان کو تصدیقاً بالقلب کے درجے تک پہنچایا جاتا ہے جوکیفیت پیغمبر ﷺ کے صحابہ کرام کومیسر تھی۔اب ایسی بنیادوں باتوں کو سمجھنے کے لیے اجتہاد کتنا اہم اور موثر کردار ادا کرسکتا ہے یہی وہ سوچ تھی جو علامہ نے اپنے خطبات کے ذریعے اسلام کے ماننے والے اعلیٰ اذہان تک منتقل کرنا چاہی ۔افسوس کہ اقبال کی شاعری کی دلفریبی اتنی شاندار ہے کہ ان کی شاعری نے اپنے سرور میں ان کے خطبات کو بڑے عرصے تک دبائے رکھا ۔اکیسویں صدی میں ان کے خطبات کی تفہیم بالخصوص اسلامی معاشرے اور بالعموم ساری دنیا کے لیے کسی انٹی بائیوٹک سے کم نہیں ہے ۔مسلمان خود اپنے آئین کو توقلبی طور سمجھ نہیں سکا کہ اس کا خدا کے ساتھ ایگریمنٹ کیا ہے ۔ اسے اگر خلیفہ کا درجہ دیا گیا ہے تو اس خلافت کے تقاضے کیا ہیں ۔اقبال تو اسلام کو پنی شیا ۔یا اکسیر سمجھتے ہیں تمام تر انسانیت کے لیے ۔ماضی قریب میں جب انسان کو فزیکل بینگ تصور کیا جاتاتھا تو انسان کی سیلف یا سول کی تفہیم بھی مشکل تھی ۔نفسیات کے علم نے انسان کو سائیکوفزیکل بینگ قراردیا تو انسان کی سیلف اور کی تلاش کا سفر شروع ہوا۔اقبال بھی انسان کو سائیکوفزیکل بینگ سمجھتے ہیں جو سیلف اور سول کا ملاپ ہے کہ جس کی سیلف اور سول کا ریزن ڈیٹر وہی ایمان ہے کہ جو احساس اور فکر سے جنم لیتا ہے۔انسان نے مادی دنیا کو خود پر اتنا طاری کررکھاہے کہ اس کی سیلف اور سول کی بالیدگی کاسامان کم از کم مادیت میں موجود ہی نہیں جب تک انسان اپنے مقصد حیات کو نہیں پالیتا کہ جس مقصد کے لیے انسان کو اس دنیا میں بھیجا گیا ہے ۔اس مقصد کو سمجھنے کے لیے دین ہی واحد راستہ ہے اور ادیان میں سب سے جدید دین اسلام ہی ہے ۔ کہ جس میں کتاب اور رول ماڈل موجود ہے ۔اکیسویں صدی شاید ماضی کی صدیوں سے زیادہ حساس صدی ہے انسان تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے وہ کہ جہاں ایک طرف تو دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے تو وہیں مذہب و عقیدے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ مادیت کی دوڑ میں روحانیت کو کچلاجاچکا ہے ۔عقائید میں مکالمہ ختم ہوچکا ہے ۔فساد کے بہانے تلاشے جارہے ہیں ۔ایسے میں علامہ کے افکار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ جسے پھیلا کر ایک امن و آشتی کی فضا قائم کی جاسکتی ہے ۔

Advertisements

قلم کے دھنی ، حیران خٹک


تحریر: بلیاز خاکساربنوسے
HIRAN KHATTAKکسی نے کیا خوب کہاہے کہ مال ودولت اور دنیا کی چیزیں انسان کو مفت میں بھی مل سکتی ہیں لیکن علم وادب کے حصول کیلئے انسان کو خود محنت کرنی پڑتی ہے۔یہ بات کسی حد تک صحیح ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اور مشاہدے اور تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ کہ اگر کسی خاندان کے آبا واجداد میں عالم ،فاضل اور ادیب گزرے ہوں تو ان کے علم وفضل کا اثر بھی ایک زمانے تک جاری رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال پشتونوں کے ایک بڑے معزز اور علمی وادبی موتیوں سے بھرپور قبیلے خٹک کابھی ہے۔اس قبیلے میں خوشحال خان خٹک جیسے نابغہ روز گار اور متنوع الصفات شخصیت نے جنم لیا ہے جو دوسری کئی صفات رکھنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے مصنف ہو گزرے ہیں،بلکہ پشتو ادب میں شاید ہی کوئی دوسرا ادیب ہوجس نے خوشحال خان کی طرح نظم ونثر کی متعدد بلند پایہ تصنیفات چھوڑی ہوں۔انہیں دور حاضر کے ادباءنے صحیح طور پر د پختو پلار(بابائے پشتو ) تسلیم کیا ہے خوشحال خان خٹک کے عہد میں اور اس کی وفات کے بعد بھی اس قبیلے میں ایسی ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جو آسمانِ علم ادب کے درخشندہ ستارے ہیں جن کی پشتو ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب کیلئے بھی اَن گنت خدمات ہیں۔انہی درخشندہ ستاروں میں ایک ستارہ حیران خٹک بھی ہیں جن کے ابا واجداد کاشت کے لحاظ سے بنجر اور معدنیات کے لحاظ سے مالا مال علاقے کرک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کی جنم بھومی ضلع بنوں کازرخیز علاقہ ہے۔9ستمبر1955ءکو پیاوداد خان خٹک کے گھر میں آنکھ کھولنے والے دلاور خان گیارہ سال کی عمر میں دلاور خان سے حیران خٹک کے نام سے مشہور ومعروف ہوئے یعنی گیارہ سال کی عمر سے حیران خٹک کے دل ودماغ میں شعر وشاعری کے جذبے نے انگڑائی لی۔ابھی پانچویں جماعت میں تھے کہ شعر وشاعری کا شغف رکھتے تھے۔ 1969ءمیں سکول میں”کاروانِ ادب”کے نام سے ایک ادبی اور ثقافتی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی اور حیران خٹک اس کے جنرل سیکرٹری چنے گئے اس تنظیم نے طلباءمیں ادبی شعوراُجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا جن کے روح روا ںحیران خٹک تھے۔ایک اور اصلاحی تنظیم جو” معماران ملت "کے نام سے بنائی گئی تھی اس میں بھی حیران صاحب کا کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔حیران خٹک زمانہ طالب علمی ہی سے ادبی وثقافتی اور اصلاحی تنظیموں سے وابستہ رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر بھی بھر پور توجہ دی اور گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان سے نمایاں پوزیشن میں ایم ایس سی اکنامکس کی ڈگری حاصل کی۔پشاور میں کچھ عرصہ ایک فلاحی تنظیم میں خدمات سر انجام دینے کے بعد پریس انفارمیشن میں پہلے "کاروان”اور پھر ایک سرکاری رسالے "اباسین”کے مدیر مقرر ہوئے۔آپ کی زیر اِدارت اباسین کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگا۔جس کا ثبوت اس دور کے وہ رسالے ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں ۔عظیم صوفی شاعر رحمٰن بابا اوربابائے پشتوخوشحال خان خٹک پر ضخیم نمبرات کی اشاعت آپ کاایک ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔حیران خٹک کا تصنیفی وتالیفی کام بہت زیادہ ہے جس کا احاطہ یہاں ممکن نہیں تاہم چینی لوک کہانیوں (ڈاور قوم کی کہانیاں)کا پشتو ترجمہ،حافظ محمد ادریس کے پشتو ناول "پیغلہ”کا اردو ترجمہ دوشیزہ اور افغانستان کے حالات پر پشتوشاعری کی کتاب”وینے بھیگی سپرلے بہ راشی”وغیرہ ایسی کتابیں ہیں جو محتاجِ تعارف نہیں۔حیران خٹک آج کل بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے عہدے پر ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ لیکرایک نہایت ہی فرض شناس اور ذمہ دار افسر کے طور پر اپنے کام میں مصروف ہیں ۔اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دنیائے علم وادب سے بھی اپنا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیںاور اپنی قومی زبان اردو میں نظم ونثر میں اپنی فن کے موتی بکھیر رہے ہیں۔ان کی پشتواور اردو تحریریں معاصر قومی اخبارات ورسائل میں زیورِطباعت سے آراستہ ہوتے رہتے ہیں۔1971ءمیں نامور پشتو شاعر وادیب مولانا عبید اللہ مجبور سورانی نے ادبی تنقیدی ٹولنہ بنوں کے زیر اہتمام بنوں کے معروف شعرائے کرام کا ایک ادبی تذکرہ”دَبنوں اَدب”کے نام سے شائع کیاتھا۔اس وقت حیران خٹک میٹرک کے طالب علم تھے لیکن اپنے معیاری ادبی شاعری کی وجہ سے ان کا کلام بھی اس کتاب میں شامل کیا گیا۔”بنوں ادب "کے مولف مجبور سورانی اُن کے تعارف کے باب میں اُن کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں”حیران خٹک کی موجودہ شاعری اُن کے روشن مستقبل کی غمازی کرتی ہے۔ اور اگر زمانے اور ماحول نے اس کی بہترین تربیت کی تو حیران صاحب ایک اعلیٰ پائے کے ادیب اور صاحب طرز شاعرثابت ہوسکتے ہیں”مجبور سورانی کی یہ پیشن گوئی واقعی درست ثابت ہوئی اور حیران خٹک نے ایک صاحب طرز اور عمدہ صاحب اسلوب کے شاعر کے طور پر ادبی دنیا میں اپنا ایک مقام پیدا کیا۔اُن کی ادبی تربیت میں نامور شاعر ،ادیب اور چالیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ومو¿لف سرفراز خان عقاب خٹک کا بڑا ہاتھ ہے۔کیونکہ آپ ابتداءمیں انہی نابغہ ¿ روزگار شخصیت سے اپنی شاعر ی کی اصلاح کرواتے تھے۔حیران خٹک بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور غزل کیلئے جن تہذیبی شائستگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ اُن کے کلام میں موجود ہے۔لفظوں کے استعمال کا سلیقہ ،جذبے اور فکر کو پُراثر انداز میں قاری تک پہنچانے کا شعور اُن کی شاعری کا وہ جوہر ہے جس نے اُن کی غزل میں نکھار پیدا کیا ہے۔اُن کی شاعری میں رومانیت بھی ہے اور موسیقیت بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کا کلام نامو رگلوکاروں کی آواز وں میں ریکارڈ ہوا ہے ۔خصوصاً بنوں کے مرحوم گلو کار قسمت خان کی آواز میں آپ کی جو غزلیں ریکارڈہوئی ہیں وہ عوامی حلقوں کے ساتھ ساتھ خواص میں بھی خاصے معروف ومقبول ہیں۔اپنے ایک شعر میں اپنے دل سے یوں مخاطب ہیں۔

چہ ھغہ نہ رازی دَ چا سہ وس دے
زڑگیہ سہ اوکڑم زما سہ وس دے

یعنی محبوب اگر یہاں آنا نہیں چاہتے تو اس کو یہاں آنے پرآمادہ کرناکسی کے بس کی بات نہیں۔اے دل میں کیا کرسکتا ہوں میں خود بھی بے بس ہوں ۔ایک اور شعر میں اپنے زندگی کے شب وروزکا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔

پہ سنگ کے مِ چہ نشتہ نن قرار دَ زندگی
پیکہ پیکہ بہ خود خکاری بازار دَ زندگی

(ترجمہ)یعنی آج کل میری زندگی بے رونق ہے اوراس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میرا محبوب میرا ہم نشین نہیں ہے۔اپنی بہترین اور عمدہ غزل گوئی کےساتھ ساتھ حیران خٹک کی نظم گوئی بھی منفرد انداز کی حامل ہے۔اُن کی نظموں میں قومی درد ،نوجوانوں کیلئے ایک تحریک اورخدمت وطن کا درس پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حیران خٹک کو ہم بہترین غزل گو شعراءکے ساتھ ساتھ ساتھ بہترین نظم گو شعراءکے صف میں بھی کھڑا کرسکتے ہیں۔اُن کی شاعری پر اثر ہے اور ہم اُنہیں کامیاب شاعر کہہ سکتے ہیں ۔حیران خٹک کی شاعر ی کے ساتھ ساتھ اُن کی نثری تخلیقات بھی فنِ اثر سے بھر پورہیں ۔وہ ہر موضوع پر لکھ سکتے ہیں۔

نذیر تبسم


ڈاکٹر نذیر تبسم

ڈاکٹر نذیر تبسم

پروفیسرڈاکٹرنذیرتبسم۴جنوری1950ءکوپشاورمیں پیداہوئے۔اُن کااپنانام نذیراحمداورقلمی نام نذیرتبسم ہے۔اُن کے والد کانام میر ا حمدتھا۔نذیرتبسم کوگو ر نمنٹ پرائمری سکول مچھی ہٹہ ،جس کانیانام مینابازارہے، میں داخل کروادیاگیا۔ پا نچویں جماعت میں گورنمنٹ ہا ئی سکول نمبر ۱ پشاور سٹی میں دا خلہ لیا،جبکہ دسویں جماعت کاامتحان پاس کر کے ایف ایس سی اور بی اے گورنمنٹ کا لج پشاورسے کیا۔1974ءمیں ایم اے کاامتحان پشاوریونی ورسٹی کے شعبہ اُردو سے پاس کیا۔اس کے بعداسی شعبہ سے 2003ءمیں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔
اُنھوں نے ملازمت کاباقاعدہ آغازفیڈرل گورنمنٹ کالج h.9اسلام آبادسے کیا۔اس دوران انھیں چھ مہینے تک اسلامیہ کالج پشاورمیں پڑھانے کاموقع ملااور1978ءمیں شعبۂ اُردوپشاوریونی ورسٹی میں مستقل لیکچرارکی حیثیت سے تعینات ہوگئے اوریہی سے 2010ءمیں ریٹائرڈ ہوکران کی ملازمت کاسلسلہ اختتام پذیرہوگیا۔
اُن کی شاعری کاباقاعدہ آغاززمانہ طالب علمی سے ہواجب وہ گورنمنٹ کالج پشاورمیں سال اول میں پڑھ رہے تھے۔شاعری کے حوالے سے اُن کی دوکتابیں ”تم اُداس مت ہونا“اور”ابھی موسم نہیں بدلا“منظرعام پرآئی ہیں۔ان دونوں شعری مجموعوں میں اُن کی غزلیں اورنظمیں شامل ہیں۔غزل اورنظم کے علاوہ اُنھوں نے شاعری میں نعت ،قومی گیت ،اورنثرمیں بیس کے قریب تحقیقی وتنقیدی مقالات چھپ چکی ہیں۔پچیس سے تیس کتابوں کے دیباچے تحریرکرچکے ہیں اوراس کے علاوہ نثرمیں تحقیق کے حوالے سے پی یچ ڈی کامقالہ بعنوان ”سرحدکے اُردوغزل گوشعراءقیام پاکستان کے بعد“اوربے شمارتحریریں اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کی فضا ابتدا ءہی سے تخلیق ادب کے لئے بڑی منا سب رہی ہے ۔یہا ں علاقائی روایات کی رعایت سے ادب تخلیق ہوتا رہا ہے جس میںعظمت اور آفاقیت کے حوالے بھی آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔لیکن اس پس ماندہ صوبے کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہ ادب کے مرکز سے فاصلے پر رہا ہے اور وہ شا ہ پارے جوذوق مطالعے کا حصہ بننا چاہیے تھا اشاعت سے یا تو محروم رہے یا محدود پیمانے پر اُن کی نشر و اشاعت وہ نتا ئج پیدا نہ کر سکی جو ادب کا مطمع نظر ہوتے ۔اگر چہ یہا ں ادبی انجمنو ں کا وجود بھی اپنے طور پر کردارادا کرتا رہا ہے۔بزم سُخن”دائرہ ادبیہ“”سنڈیکیٹ آف رائیٹرز“حلقہ ارباب ذوق“اور ”انجمن ترقی پسند مصنفین“خیبر پختون خواہ کے نام ادبی فراغت میں پیش پیش رہے پھر بھی ذرائع ابلاغ کی قلت مسائل پیدا کرتی رہی اور بہت سارے اہل قلم اُردو کے مرکزی دائرے سے الگ الگ رہ کر ادب تخلیق کرتے رہے گو ”رضاہمدانی “ ”فارغ بخاری“”شوکت واسطی “”احمدفراز“”محسن احسان “اور”خاطر غزنوی“خیبر پختون خواہ کی نمائنداگی کرتے رہے اور دوسرے اقطاع تک اس مٹی کی خوشبو پہنچاتے رہے تاہم گنتی کے یہ چند نام زیادہ حوصلہ افزاءنہیں ہیں ۔بہرحال کسی نہ کسی شکل میں قلم کا کا رواںآگے بڑھتاہے اور ادب تخلیق ہوتا رہتا ہے
نذیر تبسم بھی مذکورہ قافلے کے ایک توانا فرد کی حیثیت سے تخلیق کے میدان میں اپنے یادگار لمحوں کو لفظی پیرایہ عطا کرتے رہے اور اپنی ذات میں اپنے علاقے کی روایات کی خو شبو سموتے ہوئے قلم کے سپرد کرتے رہے لیکن اُن کی آوازبہت کم کم مُلک کے دوسرے حصّوں تک پہنچتی رہی ”تم اُداس مت ہونا“اور” ابھی موسم نہیں بدلا‘اُن کے شعری مجموعے ہیں جو اپنی ادبی اہمیت کے تنا ظر میں نظر انداز کرنے کے حقدار نہیں اس طرح اُن کاتحقیقی کام ”صوبہ سرحد کے غزل گو شعرائ“بھی اُن کی تحقیقی کاوشوں کی یادگار ہے۔ ۔یہ حقیقت ہے کہ احمد فرازکے بعد محبت کے جذبات جس طرح نذیر تبسم نے شعر میں بسائے ہیں وہ انھیں کا حصہ ہے ۔یہ موضوع بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ایک ہی موضوع پر لکھتے ہوئے بھی اُنہوں نے تخلیقی انفرادیت کا ثبوت دیا ہے جو واقعی ہُنرمندی ہے۔نذیر تبسّم کی شاعری میں روایات کا ماضی اور نئی اقدار کا مستقبل پنہاں نظر آتا ہے۔ وہ محض ایک با نجھ عہد کے تخلیق کار نہیں ہے اُن کی شاعری نئے تنا ظر میں عہد کی شاعری اور تخلیقی کو اُجا گر کرتی ہے۔ ان کی ذات اور تخلیق میں کئی ایک ادوار کی اکائی تکمیل پذیرہوتے دکھائی دیتی ہیں ۔
نمونۂ کلام

نہیں ہے یوں کہ بس میری خوشی اچھی نہیں لگتی
اسے تو میری کوئی بات بھی اچھی نہیں لگتی
میں اپنی ذات میں بھی اک خلا محسوس کرتا ہوں
تمہارے بعد کوئی چیز بھی اچھی نہیں لگتی
اچانک تیرے آنے کی خوشی کچھ اور ہوتی ہے
مجھے بادِ صبا کی مخبری اچھی نہیں لگتی

عشق اور ضرورت میں اک عجیب ناتا ہے
وصل کس سے ہوتا ہے یاد کون آتا ہے

اتنی سی بات تھی جسے پر لگے گئے نذیر
میں نے اُسے خیالوں میں چوما تھا اور بس

کہانی کیا سناؤں اپنے گھر کی
تمہارے سامنے ملبہ پڑا ہے

مجھے بچوں سے خوف آنے لگا ہے
یہ بچپن ہی میں بوڑھے ہو گئے ہیں

تحریر: تنزیلا ایم فل اسکالر اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور

ابرار سالک


ibrar salikابرار سالک 14دسمبر 1960ء کو داتا مانسہرہ میں پیدا ہوئے۔اُن کے والد کانام سید معروف شاہ گیلانی تھا۔ ابرار سالک نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے سکول گورنمنٹ ہائی سکول داتا میں حاصل کی۔ اس سکول سے انہوں نے 1976ءمیں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔گورنمنٹ کالج نمبر۱ ،ایبٹ آباد سے1980ءمیں ایف اے اوراسی کالج سے1984 ءمیں بی اے کیا۔اپنی تعلیمی سفرکوجاری رکھتے ہوئے1997ءمیں اُنھوں نے پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آبادسے اُردومیں ایم اے کاامتحان پاس کیا۔
ابرار سالک نے ایم۔ اے کرنے سے پہلے ۱۹۹۱ءمیں گورنمنٹ کالج چھوٹا لاہور صوابی میں بطور لیکچرر عملی زندگی کا آغاز کیا۔2004ءمیں ابرار سالک گورنمنٹ کالج الپور شانگلہ میں بطور اسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوئے اوراسی کالج میں فرائض سرانجام دیتے ہوئے فروری2011ءکواس دارفانی سے رخصت ہوئے۔
اُن کی شاعری کاباقاعدہ آغازکالج کے زمانے میں ہوا جب وہ1980ءایبٹ آباد کالج میں زیرِ تعلیم تھے۔ شاعری کے حوالے سے ان کے دو شعری مجموعے اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ پہلا مجموعہ ”مسافت کم نہیں ہوتی“ کے عنوان سے الحمد پبلی کیشنزلاہور سے شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ ”اک دشت کی کہانی“ کے عنوان سے بھی الحمد پبلی کیشنز لاہورنے شائع کیاہے۔ ابرار سالک کے شعری مجموعوں میں غزلیں، نظمیں،حمد،نعت،مرثیہ،گیت وغیرہ شامل ہیں،جبکہ اس کے علاوہ اُن کابہت کلام غیرمطبوعہ بھی ہے،جس میں غزلیں ،نظمیں ،حمد،نعت اورگیت شامل ہیں۔
موجودہ دور کے غزل گو شعراءمیں ابرار سالک ایسا نام ہے جنھوں نے رومانوی اور انقلابی رویوں کے ساتھ شکست ذات اور احساس تنہائی کے رنگوں کو اپنی غزل میں سمیٹاہے، بلکہ اُن کا بنیادی رویہ نئی غزل کا وہ رویہ ہے جو شکست ذات اور احساس تنہائی سے ترتیب پاتا ہے۔اُنھوں نے شاعری میں نہ صرف خیبرپختونخواہ کی نمائندگی کی ہے ،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان وہندوستان کی ادبی روایت کوبھی بھرپورطریقے سے آگے بڑھایا ہے۔غزل کے میدان میں اُن کی پہچان اُن کامنفردلب ولہجہ ہے۔ اُن کالہجہ دھیما، گہرا، سنجیدہ اور بامعنی ہے۔ابرار سالک ان شاعروں میں سے نہیں ہیں جو پٹے ہوئے راستوں پر رواں رہتے ہیں۔ وہ ذہن و دل کے دریچے وا رکھتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں روایت سے پیار کے باوجود تازگی کا احساس ملتاہے۔
سا لک نے زندگی کا مشاہدہ بہت قریب سے کیاتھا۔زندگی کی کئی سفاک سچائیاں اُن کی شاعری میں جھلکتی ہیں۔اُن کی شاعری بالخصوص غزل کا بہت مضبوط حوالہ انسان اور انسانی زندگی کے مختلف روپ ہیں ۔اُنہوں نے بیرونی طور پر معاشرے میں جو کچھ دیکھا اپنی شاعری میں احسن طریقے سے بیان کیا۔ زیادہ تر نئے زمانے کے افکار کو شاعری میں جگہ دی ہے۔وہ انسانی احساسات وجذبات کو معاشرتی قدروں کے قریب لاتے ہیں۔وہ اپنی شاعری میں نئے دور کی تصویریں دکھاتے ہےں۔
سالک نے جذبوں کو جن رنگوں میں ڈھالا ہے ۔اُنھوں نے لفظ ایجاد نہیں کیے ہیں لیکن من کی گہرائی میں جس طرح لفظوں کو بسا کر اُنھیں شعور کے ساتھ برتا ہے وہ نظر انداز کرنے کے قا بل نہیں ہے ۔وہ لفظ ،وہ شعری تجربے نہ صرف غزلوں میں تکمیل پذیر ہو تے ہیں بلکہ آزاد اور پا بند نظموں کے دریچوں سے بھی جھانکتے نظر آتے ہیں ،یہ سلسلے اپنی انفرادیت کے با وصف روایات کے سلیقے میں سے ناتا نہیں تو ڑ تے اور فن کے ارتقاءکی نئی کہا نیوں کو بھی جنم دیتے ہیں ۔اس سسلسلے میں ان کے مشہور اشعار درجِ ذیل ہیں۔ 

اب تواپنے ہونے نہ ہونے کا شک ہے اور میں ہوں
کتنی ہل چل تھی سینے میں اس ٹھہراؤسے پہلے

یہ اپنی ذات میں محصور لوگ کیسے ہیں
پس فصیل بھی دیکھوں اُچال کر آنکھیں

مجھے تلاش نہ کر شہر جاں کی گلیوں میں
میں لا مکاں میں ہوں میرا کوئی مکاں نہیں ہے

یو نہی خلش سی ہے حرفِ دعا کے بارے میں
میں بے یقیں تو نہیں ہوں خدا کے بارے میں

تو خود کشی کا گنہ اپنے سر نہ لے سالک
یہ خلق خود ہی کو ئی اہتمام کر دے گی

یہ دور بے روز گاریوں کا ہے دور سالک
ذہانتیں کیا ، ہُنر کہاں کا ، کمائی کیسی

پہنتا ہوں میں سالک جب بھی کوئی قیمتی ملبوس
مجھے اپنا وہ صد پارہ لبادہ یاد آتا ہے

کسی نے مڑ کے نہ دیکھا مسافرِ غم کو
مثال نقشِ قدم نیم جان بیٹھ گیا

ذرا سی دیر بھی خالی رہا نہ تختِ مراد
جو اک اُٹھا تو نیا حکمران بیٹھ گیا

یہ کون اُٹھا ہے اس جلسہ گاہ میں سالک
کہ جس کو دیکھ کے سارا جہان بیٹھ گیا

حِرص کی ہو لی بس اِک لمحے کو کھیلے تھے مگر اب رنگ اُترتا ہی نہیں ہے
ایک پل کو زندگی کی بھیڑ میں گزرے ہیں اور ہاتھوں سے پرچم کھو گیا

سائے جلتی ہے گٹھا جلتی ہے
شہر کی آب و ہوا جلتی ہے

اُنہیں تو خون بہاناہے ، چاہے کس کا ہو
جو سامنے ہو اُسی کو نشانہ کرتے ہیں

قینچیاں لے کر پھرے گی شہر میں پاگل ہوا
چھت کی کڑیوں میں چُھپی چڑیوں کے پر لے جا ئے گی

تحریر:سبحان اللہ لیکچرر ڈگری کالج نواگئی باجوڑ

حسن کی ہمہ گیر قدر کا شاعر


Photo0145غلام سرور نام ، تخلص طاہرؔ ، آبائی شہر کلاچی ، مسکن بنوں، خاندانی پیشہ طب مصروفیت کتابت ، شغل شاعری ، اوڑھنا بچھونا تصوف ۔ وہ واقعی ہمارے بزرگوں کے اُس آخری قافلے کے خوش نصیب فرد تھے جنہیں بیک وقت اتنے ڈھیر سارے مشرقی علوم اور اسلامی فنون سیکھنے کی فرصت اور موقع ملا۔ میں خود تو اُن سے شرفِ نیاز حاصل کرنے سے محروم رہا ۔تاہم اُن بڑے بوڑھوں کی جوتیاں سیدھی کرنے کا موقع مجھے ضرور ملا جنہوں نے طاہر کلاچوی جیسے بامروت اور باکرار بزرگوں کی آنکھیں دیکھی تھیں ۔ چائے بازار جہاں طاہرؔ صاحب مطب کرتے تھے وہیں ایک چوبارے میں مجھے اُستادِ محترم جناب فضل الرحمن صاحب سے اپنی طرز تحریر کی نوک پلک سنوارنے کے یادگار اور خوشگوار لمحے گزارنے کا اتفاق ہوا۔طباعت جو طاہرؔ صاحب کا پیشہ اور روزگار تھا میرے بھی خاندان کے کئی ایک بزرگوں کا کل وقتی یا جُز وقتی شغل رہا ہے۔ شاعری جہاں اُن کی ذہنی کیفیات اور قلبی وارداتوں کے اظہار کا وسیلہ تھی وہیں میرے لیے بھی ذوق کی تسکین کا سامان رکھنے کے علاوہ انسان کے ذہنی وظائف اور قلبی اُمور کے سمجھنے اور سمجھانے کا ذریعہ بنی ۔
تصوف ان کا مسلک اور کردار تھا۔ تصوف میر بھی دین اور ایمان ہے نپولین بونا پارٹ جب جرمن شاعر گوئٹے سے پہلی بار ملا تو وہ بے ساختہ پکار اٹھا کہ’’ میری ایک انسان سے ملاقات ہوئی ہے۔‘‘ میں بھی آج تک ایسے جتنے لوگوں سے ملا ہوں جنہیں طاہرؔ صاحب کی صحبت میں بیٹھنے کا ایک یا ایک سے زیادہ بار اتفاق ہوا تھا، سب کو میں نے طاہر ؔصاحب میں کوٹ کوٹ کر بھری انسانیت اور آدمیت کی تعریف میں رطب اللسان پایا۔
لوگوں سے سنے ایسے بے شمار تاثرات کو سمیٹ کر تخیل کے کینوس پر جب میں اُن کی شخصیت کا خاکہ بنانے کی کوشش کرتا ہوں تو ایسا محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتا کہ جیسے اُن کے باطن میں’’ احساس جمال ‘‘ کی کوئی ایسی ہمہ دم جھلملاتی شمع سی روشن رہتی تھی جس کی نفیس اور لطیف کرنیں کبھی تو خوش خوئی اور خوش اخلاقی کی صورت میں ظاہر ہوتی تھیں کبھی خوش خطی اور خوش نویسی کے روپ میں تو کبھی شروع کی شکل میں اپنی خوش نوائی اور خوش گفتاری سے قارئین و سامعین کے کانوں میں رس گھولتی رہتی تھی ۔ یہی احساسِ حسن و جمال اُن کے مزاج اور مذاق کی وہ بنیادی و اساسی قدر قرار دی جاسکتی ہے جو اُن کی شخصیت و کردار ، اُن کی سوچ و فکر ، اُن کے علم و فن میں نت نئی صورتوں اور شکلوں میں جلوہ گر ہوتی رہی وہ شخصی اور اجتماعی زندگی کے ہرمظہر میں ایک معیاری حسن کے جو یا رہے ادبی اصطلاح میں اگر بات کو سمجھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ایک شعر کا معیاری حسن اُس کے ’’تغزل‘‘ کو قرار دیا جاسکتا ہے طاہر ؔ صاحب کی نظر میں پوری انسانی زندگی اور خدائی کائنات ایک غزل کی طرح تھی ۔جس کا ہر ہر مظہر اور روپ اُن کے لیے ایک شعر کی حیثیت رکھتا تھا۔ جس میں وہ تغزل ( یعنی معیاری حسن ) کی تلاش میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔ شاید اسی لیے وہ ادبی اصناف میں سے غزل ہی کے اچھے شاعر ثابت ہوئے۔
فطری منظر ہو کہ نسوانی پیکر ، انسانی عمل ہو کہ سیاسی نظام معاشرتی تعلقات ہوں کہ فنی اسالیت وہ ہر چیز میں ایک معیار کا تعین کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اہلِ نظر جانتے ہیں کہ تناسب ، توازن اور معیار جمالیات ہی کی بنیادی اقدار ، شرائط اور اصول ہیں۔ طاہر کلاچوی کے اس جمالیاتی سفر کی کئی منزلیں اور پڑاؤ ہیں کہیں یہ صوفیانہ ہے تو کہیں اخلاقی ، کہیں ادبی ہے تو کہیں فنی ، کہیں یہ معاشرتی ہے تو کہیں سیاسی اورکہیں شخصی ہے تو کہیں اجتماعی ۔ اقبالؔ کی خودی کی طرح یہ ہر رنگ میں ڈوب کے بے رنگ ہے لیکن کہیں یہ بے چگوں ہے اور بے نظیر بھی ۔ افلاطون نے بنیادیں قدرین تین گنوائی تھیں یعنی حسن کا خیراور صداقت لیکن طاہرؔ کلاچوی کی انفرادیت بلکہ کملا یہ ہے کہ اُنہوں نے خیر او ر صداقت تک میں حسن کو ڈھونڈ نکالا ۔ آئیے ان کے اس جمالیاتی سفر میں کچھ دیر اُن کے ہم سفر بنیں ۔ اُن کی نظر میں غزل کا معیاری حسن اُس کی دلنشینی میں مضمر ہے:

تری دلنشین غزل ہے کہ پیامِ زیست طاہرؔ
یا کہیں سحر کے دامن سے گری کوئی کرن ہے

اب اخلاقی حسن کا معیار دیکھیے ۔ یہ احترامِ انسانیت سے عبارت ہے:

محترم جب بنو گے اے طاہرؔ
پہلے اوروں کا احترام کرو

فطرت کا معیاری حسن و سادگی کے بجائے مشاطگی اور آرائش میں دیکھتے ہیں:

عارضِ گل پہ گوہرِ شبنم
حسن کے سلسلے نرالے ہیں پڑھنا جاری رکھیں→

خورشید ربانی کا خواب نگر


جب آنگن میں بیری کے پیڑ پتھر کے عذاب سہنے لگیں ، جب محبوب کی یاد غزل کے بے معنی حرفوں میں معنی بھرنے آئے ، جب ٹوٹا ہوا پتا اور بکھرا ہوا خواب درد کی جوت لگائے ، جب آفتاب مثالِ ماہ شبِ سیاہ کا سفر اختیار کرے ، جب آنکھوں میں کسی خیال کی خوشبو سے وصلِ یار کے خواب جاگنے لگیں ، جب انسان کی سلگتی سوچتی نسلوں کو پہچان کا غم کھانے لگے ، جب کسی کی باتوں اور یادوں کی خوشبو سے تنہائی کا شہر بسایا جانے لگے ، جب دل کے ٹھنڈے میٹھے چشمے پر اِک دوشیزہ پانی بھرنے آئے ، جب کسی کے فیضِ نگاہ سے شہر بھر میں پذیرائی ملنے لگے ، جب محبوب کے ہجر کی تیز ہوا سے کوئی پتا پتا بکھر جائے، جب فکر وخیال کی مشعل کو دامنِ شعر ہوا دینے لگے ۔۔۔ محبت کے پرانے راگ کو کوئی استاد گانے لگے ، شجر پکے پھلوں کو پھینکنے لگیں ، اندھی سوچوں کے ہاتھ پر کوئی اُجلے حرفوں کا عصاءرکھنے لگے تو یہ سارے تصویری پیکر ”کفِ ملال“ جیسے شعری مرقعے کو وجود میں لانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
جس طرف اقبال کی شاعری کا محور و مرکز ”اسلام کا نشاةثانیہ “ فیض کا ”اشتراکیت“ ن۔ م راشد کا ”جنس “ ، ناصر کاظمی کا ”ہجرت“ مجید امجد کا ”ہمدردی “ او ر افتخارعارف کا ”واقعہ کربلا اور اہل بیت کی محبت“ ہے اسی طرح ”کفِ ملال “ کے نرم دمِ گفتگو ، گرم دم ِ جستجو خالق ” خورشید ربانی “ کا سرچشمہ  تخلیق اور مرکز ِفکر و احساس” تنہائی “ ہے جس سے دیگر ضمنی احساسات ، تصورات اور استعارات یعنی اُمید و بیم ، یاد آوری ، خواب اور چراغ وغیرہ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔
یہ حقیقت تو آئینہ ہے کہ ہجر کی کلفتوں یا وصال کی راحتوں کو وجود میں لانے کا واحد سبب ”محبت کا جذبہ “ ہے۔ کفِ ملال کے بلاستعیاب مطالعے سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہنے پاتی کہ خورشید ربانی کے نہاں خانہ دل میں کئی شخصیات ۔۔۔(پیغمبر آخر الزمان، اہلِ بیت و شہدائے کربلا، بنی نوع انسان ، نسوانی پیکر) سے محبت کے چراغ روشن ہیں ۔ آخر الذکر شخصیت جسے کبھی وہ ”شاہزادی“ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں ، اس ساری شعری کائنات کو خلق کرنے کی باعث ہے ہمارے شاعر کو تنہائی کا تحفہ اور ہجر کی سوغات اُسی نے بخشی ہے جسے پانے یا نہ پانے کی آس اور یاس پہ مبنی نفسی کیفیات سے شاعر اِ س تخلیقی سفر کے دروان گزرتا ہے لیکن ”کفِ ملال “ کے خاتمے پر یہ اندوہناک انکشاف ہوتا ہے کہ دائمی جدائی تو شاعر کا مقدر ہو چکی ہے ایسے میں واحد سرمایۂ  ہستی کے طور پر اُس کے پاس اُس پیکرِ ناز کی ”یادیں “ رہ جاتی ہیں جن کی رنگین و شوخ پنسلوں سے تخیل کے کینوس پر خوش منظر تصویریں (Images)کھینچنے میں ہی شاعر کو اپنی بقا کے آثار نظرآتے ہیں اور اس عملِ مصوری کو انہوں نے ”کفِ ملال“ کے صفحات میں ”خواب“ سے تعبیر کیا ہے۔
یہ کہانی کا وہ ذرا سا پلاٹ ہے جسے اُنہوں نے بڑی چابکدستی اور مہارت سے 124صفحات پر پھیلا کر 12منظومات ، 10ہائیکو اور غزل کے263اشعار کے ذریعے ہم تک پہنچانے کا جتن کیا ہے ۔ اب وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ:


قلم کی نوک سے پتھر تراش کر ہم نے
یقین جانئیے ہیرے کی قدر کم کر دی


ویسے تو انسان کی تقدیر میں ازل ہی سے احساسِ تنہائی لکھ دیا گیا ہے مگر اکثر مادہ پرست ذہنوں کو تعیشات دُینوی میں انہماک کے باعث اِ س کا احساس و ادراک نہیں ہوتا مگر حساس لوگوں کا معاملہ اِ س کے برعکس ہے اُنہیں قدم قدم پر اُس ازلی و سرمدی تجرید و تفرید کا ناگ ڈستا رہتا ہے جو اِ س زیاں خانۂ ہستی میں حضرتِ آدمؑ کے ساتھ اُترا تھا۔مولانا روم ؒ نے بھی بانسری کے منہ سے یہی صدائے درناک سنی تھی: پڑھنا جاری رکھیں→

اقبال کا تصورِ خودی


علامہ اقبال نے فرمایا ہے:


خودی وہ بحر ہے جس کوئی کنارہ نہیں
تو آبِ جُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں


حقیقت یہ ہے کہ خودی ایک بحر بے کنار ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اسے ایک چھوٹی سی ندی سے زیادہ نہیں سمجھا۔ خودی کیا چیز ہے؟ اس کی وضاحت ایک مرتبہ علامہ اقبال نے ڈاکٹر نکلسن کی خواہش پر کی تھی۔ علامہ صاحب کی وضاحت کا خلاصہ یہ تھا:


”حیات تمام و کمال انفرادی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہر موجود میں انفرادیت پائی جاتی ہے ایسی کوئی شے موجود نہیں جسے حیات ِکلّی کہہ سکیں۔ خود خدا بھی ایک فرد ہی ہے لیکن ایسا فرد جس کا عدیل و نظیر نہیں۔ کائنات افراد کے مجموعے کا نام ہے مگر اس مجموعے میں جو نظم و ترتیب ہم دیکھتے ہیں وہ کامل و دائم نہیں ۔ ہمارا قدیم تدریجی طور پر بد نظمی اور انتشار سے نظم و ترتیب کی طرف بڑھ رہا ہے اور کائنات مراتبِ تکمیل طے کر رہی ہے۔ ہنوز مکمل نہیں ہوئی۔فعلِ تخلیق بھی برابر جاری ہے اور جس حد تک انسان کائنات کے اندر ربط و ترتیب پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے اس حد تک گویا وہ خود بھی فعلِ تخلیق میں حصہ لیتا ہے ۔ حیات دراصل ایک آگے بڑھنے والی اور کائنات کو اپنے اندر جذب کرلینے والی حرکت کانام ہے۔ انسان کا اخلاقی اور مذہبی منتہائے مقصود اپنی انفرادی ہستی کو فنا کر دینا نہیں بلکہ اسے قائم رکھنا ہے۔ اور اس کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ انفرادیت پیدا کرے اور زیادہ سے زیادہ بے عدیل بنے۔ پس فرد کا دوسرا نام حیات ہے اور فرد کی اعلیٰ ترین صورت جو اس وقت تک معلوم ہو سکی ہے وہ خودی ہے۔“


اقبال کے نزدیک خودی اپنی تمام جلوہ آرائیوں کے ساتھ اس کائنات میں اپنا اظہار چاہتی ہے اس کی اصل روح روحانی ہے اقبال فرد کی ترقی کے لیے خودی کی تربیت پر بہت زور دیتے ہیں کیونکہ اس کی تربیت انسان کی زندگی کا حقیقی نصب العین ہے۔
جس دور میں اقبال نے آنکھ کھولی وہ مسلمانوں کے لیے ابتلاءاور تکالیف کا دور تھا ۔ دنیا میں مسلمان جہاں کہیں بھی تھے غلامی کی زنجیر پہنے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کے علاقوں کو یورپی اقوام نے کالونیاں بنا رکھا تھا۔ مسلمان حوصلہ ہا ر چکے تھے اور حالات سے ناامید ہوگئے تھے ۔ لیکن شاعرِ مشرق قطعاً ناامید نہیں تھے ۔ آپ کے خیال میں مسلمانوں کی پستی اور زوال کا سبب خودی کو بھولنا تھا۔ شاعرِ مشرق کے نزدیک خودی کا مطلب غرور تکبر کرنا نہیں نہ ہی اپنے آپ کو بڑا سمجھنا خود ی ہے بلکہ خودی کامطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہچان سکے ۔ دوسرے لفظوں میں خودی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر جو صلاحیتیں اور قابلیتیں موجود ہیں اُن کو پہچاننا اور ان کا صحیح استعمال ہے۔
انسان اشرف المخلوقات ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جبکہ باقی ساری کائنات کو انسان کے لیے پیدا کیا ۔ یہ انسان کا کام ہے کہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو استعمال کرکے تسخیرِ کائنات کا کردار ادا کرے ۔ علامہ اقبال مسلمانوں سے فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے جبکہ خودی اس کو استعمال کرنے کا نام ہے۔


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے


خودی کے ارتقاءکے لیے اقبال کے نزدیک دو چیزیں ازبس ضروری ہیں ایک استحکامِ خودی اور دوسرے اس کا اجتماعی مقصد سے ہم آہنگ ہونا۔ چنانچہ اقبال نے ”اسرار خودی“ اور ”رموز بے خودی“ میں ان دونوں مقاصد پر بحث کی ہے۔ آپ کے نزدیک فرد کو اپنی امکانی صلاحیتوں کو اس طرح نشوونما دینی چاہیے کہ جماعت بھی زیادہ سے زیادہ ارتقاءکر سکے۔ آپ کے نزدیک شانِ یکتائی پیدا کرنے کے لیے خودی کو تین منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے ان میں اتباع شریعت ، ضبطِ نفس اور نیابت الہٰی شامل ہیں۔
آپ کے مطابق نیابتِ الٰہی دنیا میں انسانی ارتقاءکی آخری منزل ہے جو شخص اس منزل پرپہنچ جاتا ہے اس دنیا میں خلیفہ اللہ ہوتا ہے ۔ اگر انسان کا اپنے اللہ پر ایمان مضبوط ہو تو اس کی خود مضبوط ہوتی ہے۔ اگرانسان کا اللہ کے ساتھ رشتہ مضبوط ہو تو وہ ہر کام کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔


بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی


حکیم الامت بہادری کو بھی خودی کی ترقی کے لیے ضروری گردانتے ہیں۔ اگر انسان بہادر ہو ۔ حق بات کہنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کی خودی ترقی کے منازل طے کرتی ہے۔ فرماتے ہیں:


آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی


اقبال نے ان فلسفیانہ مذاہب کی تردید کی ہے جو بقا کے بجائے فنا کو انسان کا نصب العین قرار دیتے ہیں ۔ یہ مذاہب انسان کو بزدلی سکھاتے ہیں کیونک حیات کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے یعنی مادّہ وہ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اور مادّہ کا مقابلہ کرکے اُسے جذب کرلینے کے بجائے اس سے گریز کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ علامہ اقبال کے خیال میں خوف کی بجائے بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ انسان میںصرف خوفِ خدا ہونا چاہیے۔ تب انسان میں خودی کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے۔


وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات


شاعرِ مشرق کے نزدیک خودی مسلسل جدوجہد کی حالت کا نام ہے شخصیت کی بقاءاسی حالت کے باقی رہنے پر منحصر ہے اگرچہ یہ حالت قائم نہ رہے تو لازمی طور پر تعطل یا ضعف دستی کی حالت طاری ہوجاتی ہے اور یہ چیز علامہ کے نزدیک خودی کے لیے زہر ہے۔ جبکہ جدوجہد ہی دراصل زندگی ہے۔ فرماتے ہیں۔


عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے


رومی کی طرح اقبال بھی نظریہ ارتقا کا حامی ہے اس کے عقیدے کے مطابق انسان جمادی نباتی اور حیوانی مدارج سے گزر کر انساینیت کے موجودہ مرتبے پر فائز ہوا ہے۔ مگر یہ اس کی آخری منزل نہیں ہے ابھی اسے اور آگے بڑھنا اور ملکوتی درجے پر پہنچنا ہے انسان ملکوتی اور حیوانی عناصر کا مجموعہ ہے ملکوتی عنصرکا دوسرا نام خودی ہے اور اسی کی تربیت انسان کی زندگی کا حقیقی نصب العین ہے۔ اقبال نے عرفانِ خودی اور تعمیر خودی پر بہت زور دیا ہے اور درحقیقت ان کی ساری شاعری کا لُبّ لبُاب عرفانِ خودی اور تعمیر خودی  ہے۔

تحریر : پروفیسر محمد اقبال خان