تبصرہ: برقی صحافت (ٹی وی جرنلزم)


مصنف : پروفیسرمحمد مصطفی علی سروری

مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل
maazeez.sohel@gmail.com
tv tiltle (1)جدیددور سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کادور ہے اور اس ترقی کا ایک حصہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔جس کے سبب دنیا گلوگل ولیج میں بدل گئی ہے۔ دنیا میں تیزی سے معلومات پیدا ہورہی ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع انٹرنیٹ ‘ٹیلیفون ‘ٹیلی ویژن وغیرہ کے ذریعے معلومات بہت تیزی سے بریکنگ نیوز کے عنوان سے دنیا کے ہر حصہ میں پہونچ رہی ہیں جیسے کسی حادثہ کی اطلاع ہو یا کھیل کے مقابلے کی پیشرفت یا دنیا میں کوئی بھی وقوع پذیر ہونے والا ایسا واقعہ جس کی اطلاع میں دوسرے لوگ دلچسپی رکھتے ہوں انہیں فوراً انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا بھر میں منتقل کیا جاتا ہے۔ خبروں کی ترسیل کا کام میڈیا کے ذرائع پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا سے ہورہا ہے۔ پرنٹ میڈیا کی تاریخ کافی قدیم ہے اور اس کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے لیکن الکٹرانک میڈیااپنی بالکل جدید تاریخ رکھتی ہے۔ الکٹرانک میڈیا نے عوام کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے دور حاضر میں پرنٹ میڈیا سے زیادہ الکٹرانک میڈیا کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے کیونکہ اس کی پہونچ اب عوام کے ہاتھوں میں ہوگئی ہے جہاں لیپ ٹاپ اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اسمارٹ فون کی بدولت انسان جب چاہے دنیا سے تعلق پیدا کرسکتا ہے اور دنیا بھر کی معلومات سے رسائی حاصل کر سکتا ہے۔گذشتہ ایک دہائی میں زندگی کو متاثر کرنے میں الیکٹرانک میڈیا خاص طور سے ٹی وی جرنلزم نے بھی اہم رول ادا کیا ہے چاہے وہ کسی واقعے کی رپورٹنگ ہو یا کسی سیاسی ‘سماجی پہلو پر گفتگو ہو مختلف نیوز چینلز اپنے انداز میں نیوز کو پیش کرنے لگے ہیں اور لوگوں کی مخصوص انداز میں ذہن سازی کرتے ہوئے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہندوستان میں جب کبھی کہیں بم دھماکہ ہوتا ہے مخصوص قسم کے نیوز چینلز فوری شک کی انگلی کسی مسلم تنظیموں سے جو ڑ دیتے ہیں اور مختلف نام نہاد ماہرین اس واقعہ کی ایک انداز میں تشہیر کرنے لگتے ہیں لیکن جب اصل تحقےقات سامنے آتی ہیں تو ان دھماکوں کا ذمہ دار کوئی اور ہی ہوتا ہے ۔ ہندوستان اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں میڈیا کے ذریعے پروپگنڈہ عام کرنے کا جو رجحان چل پڑا ہے اسے ٹی وی دیکھنے والے عام ناظرین تک تجزیے کے ساتھ پیش کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے ۔نیوز ایک سماجی امانت ہوتی ہے اور اسے سماج تک بغیررد و بدل کے پیش کرنا صحافتی قدر کہلاتی ہے۔ دنیا کے ہر پیشہ کی طرح نیوز کو عوام تک پہونچانا بھی ایک اہم پیشہ ہے جو صحافی پیشہ صحافت سے وابستہ ہوکر کرتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں رپورٹنگ کے کیا تقاضے ہیں اور نو آموز صحافی کیسے ان تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو ایک بہتر نیوز کاسٹر ‘ نیوزرپورٹر اور الیکٹرانک جرنلسٹ بنا سکتا ہے اس کے لئے اسے اس پیشہ سے متعلق معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور میڈیا کی بڑھتی مقبولیت اور حیدرآباد کی اردو یونیورسٹی میں قائم شعبہ ماس میڈیا میں زیر تعلیم طلبائے صحافت کی تدریسی ضرورت کے لئے اردو میں یہ کام حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک جواں سال صحافی اور صحافت کی تدریس سے وابستہ پروفیسر مصطفی علی سروری اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ جرنلزم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے اپنی تصنیف ” برقی صحافت ” کے ذریعے کیا ہے ان کی اس کتاب کو میڈیا کے حقائق سے پردہ اٹھانے والی ایک اہم کتاب تسلیم کیا جارہا ہے اور اسے الکٹرانک میڈیا اور برقی صحافت کی تکنیک سے واقفیت کے موضوع پر یک اہم تصنیف کہا جاسکتا ہے۔
برقی صحافت(ٹی وی جرنلزم) پروفیسر مصطفی علی سروری کی ایک اہم تصنیف ہے جو اردو طلبائے صحافت کو پیش نظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔ کتاب کا انتساب انہوں اردو میڈیم کے طلباء کے نام معنون کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب کے پیش لفظ میں فاضل مصنف نے الکٹرانک میڈیا کی مقبولیت اور اس میڈیاکی اعتباری سے متعلق لکھا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں→

اردومیں منی افسانہ


Titleمصنفہ: آمنہ آفرین (رےسرچ اسکالر HCU)حیدرآباد۔
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل(ریسرچ اسکالرعثمانیہ یونیورسٹی)لطیف بازار، نظام آباد ہندوستان
اردو ادب میں نثری تخلیقی ادب کو افسانوی ادب اور غیر افسانوی ادب کے زمرے میں تقسیم کیا گیا ہے۔جسے انگریزی میں فکشن اور نان فکشن کہا جاتاہے۔ افسانوی ادب کی ایک جدید صنف مختصر افسانہ شارٹ اسٹوری یامنی کہانی ہے۔دراصل یہ منی کہا نی اور افسانچہ اردو افسانے کی مختصر ترین صنف ہے۔مختصر افسانہ یا منی کہانی سے متعلق کہا یہ گیا کہ کسی خاص زماں اور مکاں میں پیش آنے والے واقعہ یا باہم مربوط واقعات کا دلکش بیان مختصر افسانہ (منی کہانی)ہے۔ٹکنالوجی اور صنعتی دور میں انسان کی مصروفیت اور تنگی وقت کی وجہہ سے یہ صنف پروان چڑھی۔ کم وقت میں قاری تک کہانی کے ذریعے پیغام پہونچانے کی کوشش منی افسانے کی وجہہ تخلیق ہے۔ زندگی کے مسائل کا یکلخت اظہار بھی اس کے فروغ کا ایک سبب ہے۔ اردو افسانہ کی طرح اردو میں منی کہانی بھی ان دنوں اخبارات اور رسائل کی زینت بن رہی ہے۔ منی کہانی کے فروغ میں اردو رسائل نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔اور اردو کے کئی منی افسانہ نگار اس صنف سے وابستہ ہوگئے۔ منی افسانے کے فن اور اس کے آغاز و ارتقاءسے متعلق ایک معلوماتی اور تحقیقی کتاب ”اردو میں منی افسانہ“ کے عنوان سے یونیورسٹی آف حیدرآباد کے شعبہ اردو کی طالبہ آمنہ آفرین نے تحریر کی ہے۔یہ کتاب ان کا ایم فل کا تحقیقی مقالہ ہے۔جسے محترمہ نے بڑی ہی محنت و جدوجہد سے تصنےف کیا ہے۔
کتاب کاپیش لفظ پروفیسر مظفر شاہ میری صدر شعبہ اردویونیورسٹی آف حیدرآبادنے ”دعا گوہوں کہ“ کے عنوان سے لکھا جس میں انہوں نے منی افسانہ کے فن سے متعلق لکھا کہ

”منی افسانہ کا فن اپنے اندر ایک جاذبیت رکھتا ہے۔یہ مختصر ہے اور جامع بھی ایک عمدہ شعر کی طرح اپنے جسم کے اعتبار سے مختصرمگر روح کے اعتبار سے جامع اس صنفِ نثر کا جو فن کار رمز شناس ہوتا ہے وہ کامیاب منی افسانے تخلیق کرتا ہے اور جو نا آشنا ہوتا ہے وہ اپنے ہی فن کا شکار ہوجاتا ہے کالا جادو کرنے والے جادوگر کی طرح۔“(ص ۷)

ڈاکٹر شہ میری نے شعبے کی طالبہ کی حوصلہ افزائی کی اور اس کتاب کی اشاعت کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور مصنفہ کو مبارکباد پیش کی اور ان کے حق میں دعا بھی دی۔زیر تبصرہ کتاب میں پیش لفظ کے بعد ” حرف چند“ کے عنوان سے پروفیسر بیگ احساس سابقہ صدر شعبہ اردو HCUنے کتا ب پر اپنی رائے ثبت کرتے ہوئے منی افسانہ کے فن پر مختلف زاویوں سے گفتگو کی ہے اور منی افسانہ کو نثری نظم کی طرح اعتبار حاصل ہونے کی بات کہی ہے۔ساتھ ہی کتاب کے محاسن و معائب کو بیان کیا ہے ساتھ ہی منی افسانہ کے فروغ کے سلسلہ میں نیم ادبی فلمی رسالے شمع کے رول کو اجاگر کیا ہے اور مصنفہ سے متعلق لکھا کہ’ ’آمنہ آفرین نے بڑی عرق ریزی سے منی افسانے جمع کیے۔انہوں نے بعض فن کاروں کا ایک ایک افسانہ بھی شامل کیا جو ان کی باریک بینی کا ثبوت ہے۔تحقیقی اعتبار سے اس مقالے کو اس لیے بھی اہمیت حاصلہ ہے کہ یہ منی افسانوں کا ایک بہترین اور مستند انتخاب ہے“(ص10)
فاضل مصنفہ نے ”کچھ اپنی بات“کے عنوان سے ” اردو میں منی افسانے“ کی اشاعت کے مقاصد کو بیان کیا ہے ساتھ ہی اپنے مقالہ کی تیاری میں تحقیقی موادکی فراہمی کے مسئلہ پر گفتگو کی ہے۔ اور منی افسانہ کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔
اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کے پہلے حصہ میں”اردو منی افسانہ شناخت کا مسئلہ“ کے موضوع پر منی افسانہ کے معنی، جدید صنف،منی افسانہ کا فن ااور ہیت پر مختلف حوالوں سے معلومات فراہم کی ہے اور لکھا کہ

”قصہ پن منی افسانے کا ایک اہم عنصر ہے جسکی وجہہ سے یہ افسانوی صنف کہلاتی ہے اس میں عموماَ حقیقی واقعات ہی کو موضوع بنایا جاتاہے جسکی وجہہ سے پڑھنے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے یہ واقعہ دیکھا یا سنا ہے۔“(ص ۴۲)

فاضل مصنفہ نے منی افسانہ کی شناخت کے مسئلہ پر مختلف ماہرین کی رائے کو شامل کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ” منی افسانہ ایک ایسا کوزہ ہے جس میں ایک دریا بند ہے۔“
باب دوم اردو منی افسانہ آغاز و ارتقاءکے عنوان سے شامل ہیں جس میں انہوں نے منی افسانے کا خالق یا آغاز کرنے کا سہرا سعادت حسن منٹو کے سر باندھا ہے اور لکھا ہے کہ منٹو نے اپنی منی افسانوں کے مجموعے ”سیاہ حاشیے“ کو سب سے پہلے 1948ءمیں شائع کیا تھا اور اس میں ان کا پہلا افسانہ ” ساعت شریں“ ہے“(ص۹۲)
فاضل مصنفہ نے منی افسانہ کا آغاز و ارتقاءسے متعلق کافی اہم معلومات لکھیں ہے اور جو گیندر پال کو بھی منی افسانہ کو رواج دینے والا قراردیا ہے اور دیگر افسانچہ نگاری کے منی افسانوی مجموعے کی تفصیلات دی ہیں۔باب سوم ”اردو منی افسانے کا فن تنقیدی جائزہ“ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے اس میں دوعنوانات دئیے گیے ہیں الف ۔موضوعات، ب۔اظہار کے طریقے ۔موضوعات کے تحت انہوں نے آٹھ الگ الگ حصہ بنائے ہیںاور ہر حصہ میں موضوع کے اظہار کے طریقوں پر بحث کی ہے۔جیسے ۱)فسادات ۲)مذاہب ۳)لڑکیوں کی شادی ۴)انسانی نفسیات ۵) آلودگی ۶)کمپیوٹر ۷)اردو ادب ۸)جدید زندگی کے مختلف پہلو۔ اظہار کے طریقے کے تحت انہوں نے مختلف لکھنے والوں کے طریقہ اظہار کو بیان کیا ہے۔اور اسکو بھی دو حصوں میں بانٹا ہے۔ ۱) علم بیان ۲) مکالماتی انداز بیان۔
آخری حصہ چہارم اردو میں منی افسانہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ الف۔ منی افسانہ نگار اور ان کے منی افسانے ب۔ متفرق منی افسانہ نگاروں کے منی افسانے۔حصہ الف کے تحت جن افسانہ نگاروں کا تعارف اور افسانے پیش کیے گئے ان میں سعادت حسن منٹو، جو گیندر پال، راجندر سنگھ بیدی، قاضی مشتاق احمد،عظیم راہی، نذیر فتح پوری،عبدالعزیز خان، منظور وقار، کوثر صدیقی، علیم صباءنویدی ، رحیم انوار، اقبال انصاری، محمد طارق، بشیر مالیر کوٹلوی، قاسم خورشید،محمد رفیع الدین مجاہد، سلطان آزاد ۔قطب سرشار، نسیم محمد جان، شاہد اختر، فضل امامِ، ضامن علی حسرت، ف س اعجاز ، گلشن کھنہ،مظہر الزماں،رووف خیر،حمید سہروردی، عارف خورشید، اکرام نقاش، نورالحسنین،ساحل احمد کے نام شامل ہیں۔
متفرق منی افسانہ نگاروں کے منی افسانے کے عنوان کے تحت افسانہ نگاروں کے صرف افسانہ شامل ہیں انکا تعارف و دیگر تفصیلات جس طرح سے ”منی افسانہ نگاراورانکے منی افسانے“ میں پیش کیے گئے تھا یہاں صرف نام کے نیچے افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ اس موضوع کے عنوان کوکچھ تبدیل کرنے کی ضرورت تھی جیسے جن افسانہ نگارکا تعارف نہ ہو انکے افسانچہ وغیرہ۔
متفرق افسانہ نگاروں میں ڈاکٹر اشفاق احمد،ڈاکٹڑ نریش، سالک جمیل،بتول فاطمہ، ڈاکٹر وقار انور، اعجاز قریشی، طفیل سیماب،جاوید ندیم،مجتبی نجم، ساحر کلیم،اطہرمعز،خرم سہروردی،ظفر محبوب نگری،محمد آصف،س۔علی۔نقی،اول سرحدی،محمد یحیی خان۔آصف درویش،م۔ناگ، ظفر اقبال کے افسانے شامل کیئے گئے ہیں۔آخر میں کتاب کا اختتامیہ دیاگیا ہے”ساتھ ہی یہ امید بھی کی گئی ہے کہ اردومیں منی افسانہ کا یہ ابتدائی دور ہے۔ یہ صنف آگے چل کر اپنی مقبولیت کے منازل طئے کرے گی“۔
آمنہ آفرین نے اردو میںمنی پر بہترین مواد مہیا کیا ہے جس سے افسانچہ نگاری کے موضوع پر آئند تحقیق کرنے والوں کیلئے راہیں فراہم ہونگی۔ انکی یہ کتاب منی افسانہ پر نہایت ہی اہم ہیں۔ امید کہ آمنہ آفرین کایہ کام سراہا جائے گا۔کتاب کا ٹائٹل دیدہ زیب ہے۔ اس کتاب کی خوب پذیرائی کی جانی چاہیے تاکہ منی افسانہ کے فن کو فروغ حاصل ہو سکے۔

ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق


Scan1تبصرہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق
مصنف : شاہانہ مریم شان
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد ، ہندوستان
دکن میں اردو ادب اور تحقیق کے فروغ میں خواتین نے بھی گراں قدر رول انجام دیا ہے۔ تخلیقی میدان میں صغرا ہمایوں مرزا‘جیلانی بانو ‘رفیعہ منظور الامین‘فاطمہ یزدانی فریدہ زین ‘اور شاکرہ اور قمر جمالی کے نام اہم ہیں تو تحقیق کے میدان میں ڈاکٹر زینت ساجدہ‘پروفیسر سیدہ جعفر‘پروفیسر اشرف رفیع‘پروفیسر ثمینہ شوکت‘پروفیسر فاطمہ پروین نے اپنے کارناموں سے شہرت حاصل کی ہے۔ اردو کے فروغ کے لئے خواتین دکن کی خدمات کا سلسلہ اب نئی نسل کو منتقل ہورہا ہے اور شعر و ادب اور تحقیق و تنقید میں دکن سے خواتین کے کارنامے منظر عام پر آرہے ہیں ۔ ڈاکٹر عسکری صفدر‘ڈاکٹر اطہر سلطانہ‘ڈاکٹر آمنہ تحسین اور ڈاکٹر نکہت جہاں نے تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کی ایک ریسرچ اسکالر اور اردو کی ابھرتی محقق شاہانہ مریم شان نے موضوع کے اعتبار سے ایک اہم اور وقت کی ضرورت سمجھی جانے والی تصنیف” ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق“ پیش کی ہے۔ اور ان کی اس تصنیف کو جامعاتی تحقیق کے حلقوں میں کافی پذیرائی ملی ہے۔ اور ہندوستان کی تمام جامعات میں اس کتاب کو ریفرنس کی کتاب کے طور پر رکھا جارہا ہے۔ بہت عرصے سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ہندوستان کی جامعات کے اردو شعبہ جات میں ہونے والے تحقیقی کام کا تعارف کسی ایک کتاب کے ذریعے ہو تاکہ آنے والے محققین کو اپنے تحقیقی موضوعات کے انتخاب میں رہنمائی ہو اور وہ موضوعات کی تکرار سے بچتے ہوئے اپنی تحقیق کے لئے کوئی مناسب موضوع منتحب کر سکیں۔ چنانچہ شاہانہ مریم شان کی اس کتاب نے اردو شعبہ جات کی اس اہم ضرورت کو اپنی تصنیف کے ذریعے مکمل کیا ہے۔ تحقیقی کتاب” ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق“ دراصل شاہانہ مریم کا ایم فل کا تحقیقی مقالہ ہے جسے کتابی شکل دی گئی ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ پروفیسر محمد انوار الدین شعبہ اردو حیدرآبادسنٹرل یونیورسٹی نے لکھا ۔جس میں انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ دور حاضر میں اردو تحقیق کے لئے نئے موضوع کا انتخاب ایک اہم مسئلہ ہے لیکن کوئی بھی اس بات کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے خیر شاہانہ مریم نے اس ضمن میں پہل کی ہے شائد ان کی یہ پہل شعورکو بیدارکرنے کیلئے کارگر ثابت ہوگی ۔ پیش لفظ میں پروفیسر محمد انوارالدین اس بات کی اہمیت سے متعلق لکھتے ہیں۔
’’اگر کوئی اسکالر ہندوستان بھر کی جامعات کے شعبے ہائے اردو کے تحقیقی مقالوں کا جامع کٹیلاگ تیار کرتا ہے تو یہ کام نہ صرف اس کیلئے اہم کریڈٹ ثابت ہوگا بلکہ اردو کے آئندہ آنے والے تمام اسکالرس کے لیے موضوع کے انتخاب کے سلسلے میں شمع ِراہ کاکام کرے گا ۔ شاہانہ نہایت ذہین ریسرچ اسکالر ہے اس نے فوراََ اس کام کی اہمیت اور افادیت کو محسوس کیا اور اسی کو اپنا ایم فل کے مقالے کا موضوع بنانا طئے کیا ۔ اس طرح موضوع کے انتخاب کا مسئلہ حل ہوا۔“ ص۷)
تحقیق میں سب سے اہم مرحلہ موضوع کے انتخاب کاہوتا ہے ۔ اکثر طلبہ اس مرحلہ میں ناکام ہوجاتے ہیں اس کے نتیجے کے طور پر یا تو غیر دلچسپ موضوع کا انتخاب کرلیتے ہیں یا ایسا مشکل موضوع منتحب کرتے ہیں کہ تحقیقی رکاوٹوں کے سبب درمیان میں انکا تحقیقی کا کام رک جاتاہے۔ اگر ان کے سامنے تحقیقی موضوعات کا ایک کیٹلاگ ہو یا کوئی رسالہ جس میں وقفہ وقفہ سے ہندوستان کی جامعات میں تحقیقی عنوانات کا ذکر ہو تو محقق کیلئے اندھیرے شب کے مسافر کو شمع دکھانے کا عمل ہوگا۔ کیوں کہ کئی جامعات میں ایک جیسے موضوعات پر کام ہورہا ہے ۔بچوں کے ادب سے متعلق تقریبا جامعات میں کام جاری ہے لیکن کونسی یونیورسٹی میں کس موضوع کے تحت کام ہورہا ہے یہ کسی کو پتہ نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہی کہ کو ئی ایسا رسالہ شائع کیا جائے جس میں ہندوستان کی تمام جامعات میں تحقیقی موضوعات کا احاطہ ہو۔ اور نئے محقق کیلئے آسانیاں پیدا ہو۔
زیر تبصرہ کتاب میں حرف آغاز کے عنوان سے مصنفہ کا دیباچہ شامل ہیں جس کا آغاز ایک بہترین شعر سے ہوتا ہے۔

الہی دے مجھے طرزتکلم ، میری آوازکو زندگی دے
مجھے افکار صالح بھی عطاکر، میری تحریرکو تابندگی دے

اس مضمون میں مصنفہ نے اپنے رب حقیقی کا شکر بجالایا ہے ساتھ ہی ساتھ پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر درود وسلام بھیجا ہے۔ انہوں نے موضوع کے انتخاب سے متعلق وہی باتیں لکھیں ہے جس کو پیش لفظ میں پروفیسر انوار الدین نے بیان کی تھیں۔ مصنفہ نے لکھا ہی کہ۔
”ہندوستان کی یونیورسٹیوںمیں تحقیق کی صورتحال اصلاَ میرا ایم فل کا مقالہ ہے آج یہ کتاب منظرعام پر آئی اس پر مجھے بے حد مسرت ہے کہ میری دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔پیش نظر تصنیف میں ہندوستان کی ساٹھ یونیورسٹیوں کے تحقیقی اور زیر تحقیق ایم فل ،پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کے مقالات کی فہرستوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ساٹھ یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی اور بارہ یونیورسٹیوں کے ایم فل کے مقالات کی فہرستیں اس میں شامل ہیں ۔چند ڈی لٹ مقالات کو بھی شامل کیا گیا ہے“ (، ص۰۱) پڑھنا جاری رکھیں→

ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی


nasir qazmiتبصرہ ”ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی“
مصنفہ : سمیہ تمکین(ریسرچ اسکالر یونیورسٹی آف حیدرآباد)
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد


عہد حاضر میں جامعات کے اردو شعبہ جات میں معیاری تحقیقی کام ہورہا ہے اور اردوادب کے نئے گوشے سامنے آرہے ہیں یہ اردو زبان کے فروغ کے لئے حوصلہ افزا بات ہے۔ اردو تحقیق کے بارے میں اکثر یہ تاثر دیا جاتاہے کہ جامعات میں جو سندی مقالے لکھے جاتے ہیں وہ معیاری نہیں ہوتے اور شائع ہونے کے لائق نہیں رہتے لیکن اب یہ صورتحال نہیں ہے۔ اور نگران پروفیسروں کی مناسب رہبری و رہنمائی اور اردو ادب کی زیادہ سے زیادہ کتابوں کی دستیابی نے اردو تحقیق کے معیار میں بہتری پیدا کی ہے۔ اور اچھی قابل مطالعہ کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں۔ سندی تحقیق کے مرحلے سے گذر کر کتابی شکل پانے اور اپنے موضوع کی ندرت کی وجہہ سے مقبول ہونے والی ایک ایسی ہی تصنیف ” ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی“ ہے جسے شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کی ایک لائق طالبہ سمیہ تمکین نے شائع کرایا ہے۔ اور اس کتاب کارسم اجراء3جولائی کو شعبہ اردو کے تحت منعقدہ اردو سمینار ”کاوش2013“ میں یونیورسٹی کے وائیس چانسلر پروفیسر رام کرشنا راما سوامی نے انجام دیا۔ اس تقریب میں صدر شعبہ اردو پروفیسر مظفر شہ میری اور ڈاکٹر محسن جلگانوی بھی شامل تھے۔سمیہ تمکین کی یہ تصنیف ان کے ایم فل تحقیقی مقالے پر مشتمل ہے۔ جسے انہوں نے بعد ترمیم و اضافہ کتابی شکل میں شائع کیا۔ناصر کاظمی اردو غزل کی ایک جانی پہچانی آواز ہے۔ جن کی غزلوں کی لفظیات‘ تشبیہات اور استعاروں نے انہیں اردو غزل گو شعرا میں اہم مقام عطا کیا ہے۔ ان کی شاعری میں پیکر تراشی کی تلاش اس کتاب کا بنیادی موضوع ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی“ تین ابواب پر مشتمل ہے۔ کتاب کا پیش لفظ ”پیش گفتار“کے عنوان کے تحت پروفیسر مغنی تبسم صاحب(مرحوم) نے لکھا تھا۔انہوں نے سمیہ تمکین کی کتاب اور ”ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی “سے متعلق لکھا ہے کہ
” سمیہ تمکین نے اپنے مقالہ میں ناصرکاظمی کی حیات ،شخصیت اور شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی پیکر تراشی پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ ناصر کاظمی کے اشعار میں بیشتر مرکب پیکر ملتے ہیں جو بہ یک وقت قاری کے مختلف حواس کو متوجہ کرتے ہیں ۔سمیہ تمکین نے اپنے موضوع سے پورا انصاف کیا ہے“(ص۷)
پروفےسر مغنی تبسم صاحب کے پیش لفظ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناصر کاظمی ایک عہد ساز شاعر تھے۔اور انکی شاعری میں پیکر تراشی کا مخصوص انداز پایا جاتا ہے جو انکی انفرادیت رہاہے۔ سمیہ تمکین نے ناصر کاظمی کی شاعری کے اس پہلو کو اپنی اس تصنیف کے ذریعہ اجاگر کیا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب میں پیش لفظ کے بعد پروفیسر مظفر شہ میری صاحب صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آٓف حیدرآباد نے ”پروفیسر مغنی تبسم کی یاد میں“ کے عنوان سے تبصرہ کیا ہے اورلکھا ہے کہ اس عنوان پر کام کرانے کی پروفیسر مغنی تبسم صاحب کی دیرینہ خواہش تھی ۔ جسکی تکمیل سمیہ تمکین نے کی ہے۔ سمیہ تمکین کے اس کام سے متعلق پروفیسر مظفر شہ میری صاحب لکھتے ہیں۔
” سمیہ تمکین نے پیکر تراشی اور اس کی مختلف قسموں کو ثابت کرنے کے لیے ناصر کاظمی کے علاوہ اردو کے کئی شعراءکی بیسوں اشعار کا انتخاب کیا ۔پھر ان سے عمدہ اشعار کو چھانٹ کر پیکر تراشی اور اسکی گونا گوں قسموں کو استناد و استحکام عطاکرنے کے با وصف نا صر کاظمی کی شاعری کے اس پہلو کو روشن اور اجاگر کیا۔اس طرح یہ کتاب اس موضوع پر دستاویز ی اہمیت کی حامل بن گئی ہے“(ص ۹)
اس مضمون میں پروفیسر صاحب نے پیکر تراشی سے متعلق لکھا ہے کہ پیکر تراشی پر کام کرنا کار دشوار ہے۔حرف آغاز کے عنوان سے فاضل مصنفہ نے مقدمہ لکھاہے انہوں نے اس بات کا اظہار کے ہے کہ شعر و شاعری سے انہیں از حد شغعف اور دلچسپی ہے ضروری بھی ہے کہ جب کسی شاعر پر تحقیق کا کام کیا جارہا ہے تو شعر و شاعری کی نزاکتوں سے واقفیت محقق کا اہم فریضہ بھی ہے۔ شاعری کے محاسن ومعائب سے واقف ہونا ضروری ہے۔
فاضل مصنفہ نے ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”1960کے بعد اردو ادب میں جو رحجانات در آئے ہیں ان میں پیکر تراشی کا رحجان بھی تھا جو ایک رحجان بھی ہے اور شعری تکنیک بھی۔“
اپنے مقدمہ میں انہوں نے کتا ب کی اشاعت پر اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا خوب شعر نقل کیا ہے۔

میرے ابو اور امی نے کیا کامل مجھے
بیٹھنے کے کردیا ہے چار میں قابل مجھے

زیر تبصرہ کتاب کے ابواب میں باب اول ناصر کاظمی۔ماحول اور شخصیت ،باب دوم۔ناصر کاظمی کی شاعری، باب سوم ۔ناصرکاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی ہیں۔ فاضل مصنفہ نے پہلے باب کودو حصوںمیں تقسیم کیا گیا ہے ۔پہلا حصہ ماحول اور دوسرا حصہ شخصیت سے متعلق ہے۔ جس میں انہوں نے ماحول کے تحت تقسیم ہند کے واقعہ کوبیان کیا ہے اور ناصر کاظمیسے متعلق لکھا ہے۔”ناصر کاظمی تقسیم ہند کے بعد اردو شاعری کو ایک نیا تخلیقی مزاج عطا کرنے میں پیش رو کا درجہ رکھتے ہیں“
فاضل مصنفہ نے آزاد ہند کی تقسیم کے واقعہ کو ناصر کاظمی کی زندگی کا ایک بہت بڑا جذباتی حادثہ قرار دیا ہے۔ ناصر کاظمی کی پر امیدی سے متعلق شعر کویہاں نقل کیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں→

رحمان بابا


کتاب کا نام : رحمان باباRahman baba

مصنف :دوست محمد خان کامل مومند

مترجم : یوسف جذاب

ناشر : ڈائریکٹریٹ آف کلچر حکومت خیبر پختون خوا

الہامی اور لازوال نغموں کے شاعر ، بلبل ہزار داستان رحمان بابا پشتو کے کلاسیکی ادب کے افق پر ایک درخشاں ستارے کی مانند ہمیشہ چمکتے رہیں گے اور بھٹکے ہوئے انسانوں کی رہنمائی کا مقدس فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے ۔ یہاں کلاسیکی ادب سے مراد وہ ادب نہیں جو کتابوں کے قبرستان میں زندگی اورحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اور نقاد حضرات اپنے شعلہ بار الفاظ اور جملوں سے اسے زندگی فراہم کررہے ہیں بلکہ اس سے وہ معیاری ادب مراد ہے جس نے زماں و مکاں کی حدود سے بالاتر ہو کر ہر دور میں عوام سے تعلق رکھا ہے۔ رحمان بابا اور پشتون لوگوں کے مابین ایک مضبوط اور نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہمیشہ رہا ہے جو کسی واسطے کا محتاج نہیں اس لیے وہ پشتو کے کلاسیکی شعراء کے صفِ اول کے شاعر ہیں ۔ یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ بابا صرف عوام کے شاعر نہیں بلکہ اپنے پہلو دار کلام کے باعث اُن کی حکمرانی سب پر ہے جس میں عوام اور خواص دونوں شامل ہیں۔ ان کی شاعری کا ناطہ گھر و حجرہ ، خلوت و جلوت ، رزم و بزم اور منبر و محراب سب سے ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کی مقبولیت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ اضافہ برابر جاری رہے گی ۔
رحمان بابا کے پاکیزہ تصورات پشتون عوام اور خواص کے دلوں میں تازہ خون کی طرف دوڑ ہے ہیں ، اسی عقیدت کا تقاضا تھا کہ ان کی شاعری جو بیک وقت سادی و پُرکاری سے عبارت ہے ، کا جائزہ لیا جائے اور ان کی الہامی شاعری کے وہ گوشے بھی دریافت کیے جائیں جو ابھی تک عوام کی نظروں سے مخفی تھے چنانچہ عرصے سے اس سلسلے میں کام ہو رہا ہے اور اب تک رحمان بابا کے فکر و فن کے حوالے سے کتابوں کی ایک معقول تعداد سامنے آگئی ہے ۔ مگر دوست محمد کامل نے رحمان شناسی کے سلسلے میں جو کارنامہ سر انجام دیا ہے اس کی وہی حیثیت ہےجو اردو ادب میں اقبال شناسی کے حوالے سے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی ’’فکر اقبال‘‘ کو حاصل ہے چنانچہ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ رحمان بابا بڑے شاعری تھے مگر ان کے کلام کی تفہیم و تعبیر کے لیے انہیں نقا د بھی بڑا ملا اور یہ حقیقت میں ان کی خوش قسمتی تھی ۔ زیرِ بحث کتاب ’’ رحمان بابا‘‘ ان کے کاوش کا ثمرہ ہے جسے رحمان شناسی میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے ۔ حمزہ شنواری نے 1958ء میں کتاب کے مقدمے میں لکھا تھا کہ ’’پشتو ادب میں اس سے اچھی کتاب نہیں لکھی گئی ۔‘‘ اور دیکھا جائے تو حمزہ صاحب کے اس دعوے کی حیثیت آج بھی برقرار ہے۔
یوسف جذب صاحب نے دس سال کی محنت سے اس کتاب کو اردو میں ترجمہ کیا ہے ۔ جس کا مقصد ایک طرف اردو دان طبقے کو رحمان بابا کی فکر سے آشنا کرانا ہے تو دوسری جانب کامل صاحب کے عالمانہ اسلوب کو بھی اردو میں منتقل کرکے اردو دان طبقہ کو اس اسلوب سے واقفیت کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحقیقی حوالے سے کتاب میں حوالہ جات اور مفید حواشی کا اضافہ بھی ترجمہ نگار کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے،۔

قلزمِ فیض میرزا بیدل


کتاب کا نام : قُلزمِ فیض میرزا بیدل bedil

تحقیق و ترتیب : شوکت محمود (پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں)

ناشر : قاضی جاوید ناظم، ادارہء ثقافت اسلامی لاہور

ڈاکٹر سید ابوالخیر کشفی کی یہ بات درست ہے کہ غالب کی دلآویز شخصیت اور دلپذیر فن پہ قلم اُٹھانے والے ہر سوانح نگار، محقّق اور نقاد نے غالب کی 25 برس کی عمر تک کی شعر گوئی پہ طرزِ بیدل کے اثرات کا فنی و نفسیاتی جائزہ ضرور لیا ہے۔ لیکن یہ بات بھی غلط نہیں کہ ابوالمعانی مرزا عبدالقادر بیدل کی اردو میں اپنی قائم بالذات شناخت ہمیشہ سے موجودرہی ہے۔اعلیٰ پائے کے بے شمار تحقیقی اور تنقیدی مضامین اس کے علاوہ ہیں جو وقتاً فوقتاً علم و ادب اور فکر و نظر کی مقتدر ہستیوں کے قلم سے نکل کر مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ۔ شمع ادبیاتِ بیدل میں ایسی وہ کونسی دلفریب کشش ہے جو ہر دور میں شاعروں ، ادیبوں ، صوفیوں ، مفکّروں اور دانشوروں کو اپنے گرد پروانہ وار طواف پر مجبور کرتی رہی ہے ؟ اس کا سادہ اور آسان سا جواب تو یہی ہے کہ بیدل شاعروں کا شاعر ، صوفیوں کا صوفی او ر مفکروں کا مفکر ہے اِ سی لیے ہر سطح کا قاری اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق اُس سے ذوق و شوق ، فن و تکنیک، فیض و عرفان اور فکر و نظر کی غذا حاصل کر سکتا ہے۔ علامہ اقبال نے ویسے تو نہیں کہا تھا کہ ”دنیا میں چار اشخاص یعنی محی الدین ابنِ عربیؒ ، شنکر اچاریہ ، بیدل اور ہیگل کے طلسم میں جو شخص گرفتار ہو گیا تو وہ مشکل سے رہائی پاسکتا ہے۔ ان میں سے ایسے اشخاص بھی ہیں جو اپناتن من دھن سب تج کر بیدل کے چرنوں میں دھونی رما کے یوں بیٹھ رہتے ہیں کہ پھر موت کے علاوہ اُنہیں وہاں سے کوئی اُٹھا نہیں پاتا۔ میری مراد خواجہ عباد اللہ اختر ، ڈاکٹر عبدالغنی اور سید نعیم حامد علی الحامد سے ہے۔ ان میں اوّل الذکر نے اپنی بے نظیر کتاب بیدل کے محیطِ بے ساحل میں چالیس سال کی عمیق غوّاضی کے بعد تحریر کی، ثانی الذکر تا دمِ آخر میں بیدل کی سوانح شخصیت اور فن کے مختلف پہلوﺅں پر دادِ تحقیق دیتے رہے اور ثالث الذکر نے بھی ”بہار ایجادی بیدل“ کی تالیف ، تحقیق اور ترجمے پر حیاتِ مستعار کے بیس سال پھونک ڈالے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ صاحبِ کرامات مرزا بیدل نے اپنے بعد آنے والے اِسی چُنیدہ اور گرویدہ گروہ کے لیے کہا تھا :


دیگر چہ سحر پرورد افسونِ آرزو
من زاں جہاں بہ حسرتِ دیدارت آمدم


کسی قدر طویل یہ تعارفی تمہید اس لیے باندھنی پڑی کہ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی کا بھی ذوق رکھنے والے قارئینِ ادب پر واضح ہو سکے کہ بیدل فہمی کی روایت عالمانہ شان اور تحقیقی وقار کے ساتھ بیدل کی وفات سے لے کر تادمِ تحریرِہذا اردو میں نہ صرف موجود رہی ہے بلکہ مستقبل میں بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس کے جاری و ساری رہنے کے امکانات نہایت روشن ہیں۔ جناب شوکت محمود کی جانب سے اس کتاب کی تدوین بھی انہی کاوشوں میں سے ایک ہے جو وقتاً فوقتاً اہل قلم حضرات کی طرف سے بیدل فہمی کے سسلسلے میں جاری اور ساری رہی ہے۔ زیرِ نظر مجموعے کو تین حصّوں میں تقسیم کیاگیا ہے :
الف )سوانح و شخصیت
۱۔مرزا بیدل (محمد حسین آزاد)
۲۔مرزا بیدل کیا عظیم آبادی نہ تھے ؟ (سید سلیمان ندویؒ)
ب)فکرو فن
۱۔مرزا عبدالقادر بیدل (مولانا غلام رسول مہر)
۲۔مرزا عبدالقادر بیدل (ڈاکٹر عبدالغنی)
۳۔میرزا عبدالقادر بیدل (ڈاکٹر جمیل جالبی )
۴۔بیدل ! آفتاب ِ جہل سوز و علم تاب(نعیم حامد علی الحامد )
۵۔پردیسی کے خطوط(بیدل کے سلسلے میں)(مجنوں گورکھپوری)
۶۔بیدل کی انفرادیت (ڈاکٹر سید عبداللہ)
(حقائق پسندی ، تمثال آفرینی)
۷۔بیدل کی غزل اور اخلاق و موعظت (ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی )
ج)موازنہ و تقابل
۱۔غالب اور بیدل (پروفیسر حمید احمد خان)
۲۔اقبال اور بیدل (ڈاکٹر ابواللّیث صدیقی )

کرشن چندر کی ذہنی تشکیل


کتاب: کرشن چندر کی ذہنی تشکیلkrishan_chander_book1
مصنف: محمد اویس قرنی
ناشر: آہنگِ ادب پشاور
صفحات: 465
قیمت: 400 روپے
منٹو، عصمت اور بیدی کو پڑھنے اور سراہنے والی نسل کرشن چندر کو بھی فراموش نہیں کر سکتی، بلکہ اِن تینوں ساتھیوں کے مقابل کرشن چندر اس لحاظ سے منفرد رہے کہ انھیں ایک نیم خواندہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تک یکساں دلچسپی سے پڑھ سکتا ہے۔ پنواڑی سے پروفیسر تک کے قارئین کی یہ رینج شاید اردو کے کسی اور فکشن نگار کو نصیب نہیں ہوئی۔
کرشن چندر نے چالیس برس تک مسلسل اور بِلا تکان لکھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ناقدین نے جتنا زورِ قلم اُس دور کے دیگر افسانہ نگاروں پر لگایا ہے، کرشن چندر کے حصّے میں اسکا عشرِ عشیر بھی نہیں آیا، اور جس طرح منٹو اور بیدی کی کلیات چھپ کر منظرِ عام پر آئی ہیں۔ کرشن چندر کی کہانیاں ہمیں اس طرح یکجا نہیں ملتیں۔
چند برس پہلے ایک پاکستانی ناشر نے اعلان کیا کہ وہ کرشن چندر کی تمام کہانیاں بارہ جلدوں میں شائع کر رہے ہیں۔ لیکن اس اعلان پر آج تک عمل نہ ہو سکا، البتہ اُن کے ایک سو منتخب افسانوں کا مجموعہ ضرور مارکیٹ میں آچکا ہے۔
کرشن چندر کی ادبی پرورش لاہور میں ہوئی اور اردو زبان میں ہوئی۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ سرحد پار چلےگئے تو وہاں بھی اُردو کا چلن تھا اور اُردو پڑھنے والوں کی ایک کثیر تعداد وہاں آباد تھی۔ آہستہ آہستہ جب وہاں اردو کا اثر و رسوخ ختم ہوا تو کرشن چندر کو بھی ہندی میں لکھنا پڑا اور انگریزی کا سہارا بھی لینا پڑا۔
کرشن چندر کی شخصیت اور فن پر تھوڑا بہت کام تو بھارت اور پاکستان دونوں میں ہوتا رہا لیکن اُن کے ادبی مقام کا درست تعین شاید اب جا کر ہوا ہے جب مردان کے جواں سال محقق محمد اویس قرنی نے اِس کام کا بیڑا اٹھایا۔  یہ دراصل اُن کے ایمِ فِل کا مقالہ تھا جسے مناسب ترامیم اور اضافوں کے ساتھ انھوں نے اب کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے۔
چار سو پینسٹھ صفحوں کی اس کتاب کو مولف نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں کرشن چندر کی فکری جہتوں کو زیرِ بحث لاتے ہوئے اُن کے تصورِ حیات پر سیر حاصل تبصرہ کیاگیا ہے۔
دوسرے باب میں کرشن چندر کے سیاسی رجحانات زیرِ بحث آئے ہیں۔ خاص طور پر اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں اُن کے نظریات، تیسرا باب کرشن چندر کے ذہنی میلانات سے تعلق رکھتا ہے جس میں انھیں نسلی، مذہبی، علاقائی اور نظریاتی تعصبات سے ماورا ایک خالص انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اس سلسلے میں سلمیٰ صدیقی سے اُن کے شادی کو ایک ٹھوس دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہوگا کہ مولف نے ساری کتاب میں کوئی بات بھی دلائل کے بغیر نہیں کی بلکہ جو کچھ کہا ہے اس کے لئے کرشن چندر کی تحریروں سے انتہائی برمحل حوالے تلاش کر کے پیش کئے ہیں۔
کتاب کے چوتھے باب کا عنوان ہے: کرشن چندر اور تقسیمِ ہند۔ اس باب میں اُردو زبان سے کرشن چندر کے عشق، متحدہ ہندوستان کی آزادی کے لئے ہونے والی جدوجہد میں کرشن چندر کا کردار، ہندو مسلم فسادات پر کرشن کا ردِ عمل اور پاکستان کے بارے میں کرشن چندر کے خیالات سے بحث کی گئی ہے۔
کرشن چندر کے فن اور شخصیت میں دلچسپی رکھنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ انھیں پرولتاری نقاّدوں نے کبھی اپنی صف میں شامِل نہیں کیا بلکہ اُن پر رومان پسند ہونے کا ٹھپّا لگاتے رہے جبکہ رومانوی ادیب اور نقاد انھیں بائیں بازو کا پروپیگینڈا رائٹر کہتے تھے۔ مہا لکشمی کے پُل پر کھڑے ہو کر دو ٹوک انداز میں اپنا نظریہ پیش کرنے کے باوجود بھی وہ مزدور ادیبوں کے نزدیک سُوٹ پہننے اور ٹائی لگانے والے ایک پیٹی بورژوا ادیب ہی رہے، جو ریڈیو بانڈ کے مہنگے رائٹنگ پیڈ پر’پارکر‘ کے پین سے جھونپڑ پٹی میں رہنے والوں کی درد بھری داستانیں لکھتے ہیں۔
ایسے متضاد اور متصادم بیانات کے ہجوم میں کرشن چندر کی اصل شخصیت کے خد و خال گم ہو کے رہ گئے تھے اور ضرورت اس امر کی تھی کہ تعصبات کی گرد جھاڑ کر کرشن چندر کی اصل شبیہ برآمد کی جائے۔
یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ محمد اویس قرنی کی کتاب نے کرشن چندر کی شخصیت کے ارد گرد اُگے اس جھاڑ جھنکار کو صاف کر کے ہمیں اس ادیب کی اصل صورت صحیح تناظر میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔
مولف کا اپنا اندازِ بیان بھی اگرچہ واقعاتی سے زیادہ استعاراتی ہے لیکن اُن کی یہ ادا صرف طرزِ بیان تک محدود ہے۔ جہاں تک طرزِ استدلال کا تعلق تو اُن کا مقالہ تحقیق کے تمام جدید تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور ہر باب کے اختتام پر انھوں نے تفصیلی حوالہ جات کا پورا اہتمام کیا ہے۔

تحریر : عارف وقار بی بی سی اردو سروس