الف نون


آنگلو بانگلو، ہیکل  اینڈ جیکل ، چلوسک ملوسک کے    کارناموں سے سجی کہانیاں آپ میں سے اکثر نے پڑھ یا سن رکھی ہونگی ، اب ان دادی جی کے زمانے والی کہانیوں سے باہر آ جائیے ، کیونکہ میں لایا ہوں آپ کیلئے الف اور نون کے کرتوت  نما کارنامے۔ مثل مشہور ہے  "اللہ ملائی جوڑی ، اک انھا تے اک کوڑھی” لیکن خبردار !!!الف اور نون پر یہ مثل  فٹ  نہیں آتی، نہ ہی کوئی فٹ کرنے کی کوشش کرے  ۔
ان سے ملیے اس لم ڈھینگ کانام والدین نے  اویس  قرنی پتا نہیں کیا سوچ کر رکھا تھا ، قد چھ فٹ ایک انچ تین سوتر ہے ، اپنے محلے کی واحد شخصیت ہے جو خدانخواستہ کبھی نہا کر باہر آجائے تو لوگ اپنے کام ادھورے چھوڑ کر  "عید مبارک” کہتے ہوئے  ایک دوسرے سے لپٹ جاتے ہیں ،  دنیا صرف دو سو عورتوں کی عزت کرتا ہے  ،  اور باقی خواتین سے یہ واقف نہیں  ۔  اور اس عجیب و غریب و مسکین  انسان کا نام نیرنگ  یعنی نین ہے ، جسم بالکل پتلا اور سوکھا ہوا جس پر  رکھا ہواایک منحنی سا چہرہ عجیب بہاریں دکھا رہا ہوتا ہے ، جیسے کسی کیلے کو چھیل کر اس کے اوپر سیب رکھ دیا گیا ہو اگر اس کے جسم میں تھوڑی سی چربی ، خون اور کافی سارا گوشت بھر دیا جائےاور  رنگ تھوڑا سا سفید نہیں تو سانولا ہی ہو جائے توامید ہے  ایک صحت مند انسان نظر آئے گا۔
دونوں ہی تعلیم یافتہ مگر بیروزگار ہیں ، اور خیر سے محلے دار ہیں   ۔ پھٹکارنے اور کوسنے میں آسانی کی خاطردنیا نے  ان بھلے مانسوں کا نام  الف اور نون رکھ چھوڑا ہے۔ جمعہ  پڑھنے مسجد  کی طرف جا رہے ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے چندہ مانگنے جا رہے ہیں ۔ جب مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو امام مسجد ان پر نظر پڑتے ہی لوگوں کو بتا دیتا ہے کہ جیب کتروں سے ہوشیار رہیں ۔ عید کے دن کسی سے گلے ملنے کی کوشش کریں تو گلے ملنے والا سب سے پہلے تو اپنی جیب سے ساری چیزیں نکال کر دوسرے کو پکڑاتا ہے، پھر ان سے گلے ملتا ہے ۔ کبھی کبھار فاتحہ پڑھنے قبرستان جا ئیں تو یوں لگتا ہے جیسے چرس پینے جا رہے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں→

بادشاہ


لفظ ”بادشاہ“ کے ساتھ میرا تعلق تقریباً اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ میری عمر ہے۔ بچپن میں پہلی دفعہ ماں جی کو یہ دعا دیتے سنا تھا کہ ”بیٹا! اللہ میاں تجھے بادشاہ بنا دے“
اُسی دن سے میرے ننھے سے ذہن میں دو باتیں بیٹھ گئیں ۔ ایک یہ کہ اللہ میاں کوئی ایسی ہستی ہے جو لوگوں کو بادشاہ بناتا ہے اور دوسری یہ کہ اماں جی کی یہ خواہش بلکہ حسرت ہے کہ میں بادشاہ بن جاﺅں ۔ بس اُسی دن سے میں ہروقت اسی جستجو میں رہتا کہ کہیں مجھے اللہ میاں مل جائے اور میں اُ س سے کہوں کہ دیکھو! مجھے جلدی جلدی بادشاہ بنا دیں تاکہ میری ماں جی کی دلی خواہش پوری ہو سکے۔
جب میں پانچ سال کا ہوا تو مجھے سکول میں داخل کر دیاگیا ۔ ہماری کلاس میں دوتین انتہائی نالائق اور شریر قسم کے بچے بھی تھے۔ ماسٹر صاحب نے ان کو سدھارنے کی بہت کوششیں کیں ، مارا پیٹا ، سمجھایا بجھایا لیکن وہ جیسے تھے ویسے ہی رہے ۔ ایک دن صبح سویرے اچانک ماسٹر صاحب نے کلاس میں یہ اعلان کر دیا کہ ”آج سے یہ دونوںاس کلاس کے بادشاہ ہیں۔‘ ‘ یہ سنتے ہی میرے چھوٹے ذہن کو دھچکا سا لگا کہ آخر ماسٹر صاحب کو کیاہو گیا ہے کہ ایک طرف تو جو کام اللہ میاں نے کرنا تھا وہ ماسٹر صاحب کر رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ انہوں نے اللہ میاں کا کام کرنا شروع کر ہی دیا ہے تو مجھ جیسے لائق اور اچھے بچے کو بادشاہ کیوں نہیں بنا دیتے ۔ سکول سے واپسی پر ایک دفعہ پھر میرا ذہن منصوبے بنانے لگا کہ اگر راستے میں کہیں مجھے اللہ میاں مل گیا تو اُس سے ماسٹر صاحب کی شکایت ضرور کروں گا۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ شعور پختگی کی منزلیں طے کرتا رہا ۔ جمہوریت ، آمریت اور بادشاہت کی اصکافی عرصہ بعد کالج میں ایک دن ہاسٹل کلرک کے ساتھ کسی بات پہ جھگڑا ہوگیا ۔ میں شکایت لے کر سیدھا پرنسپل صاحب کے پاس گیا ۔ پرنسپل صاحب نے پنڈ چھڑاتے ہوئے کہہ دیا کہ
”بیٹا گزارا کرو یہ کلرک تو بادشاہ ہے۔ اب اس کے ساتھ کیا کریں“
”یہ سنتے ہی ماضی کی ساری فلم دماغ میں تیزی سے گھومنے لگی ۔ ماں جی کی دعا والا بادشاہ ، ماسٹر صاحب کے بادشاہ ، پرنسپل صاحب کا کلرک بادشاہ ، ایران ، سعودی عرب اور اردن کے بادشاہ ۔۔۔۔۔“
ذہن میں طرح طرح کے سوالات نے سر اٹھانا شروع کر دیا مثلا اگر ہمارے ملک میں جمہوریت ہے ، تو یہ بادشاہ کہاں سے آگئے ؟ اور اگر بالفرض شہنشاہیت ہے تو پھر ایک ہی بادشاہ ہونا چاہیے تھا۔ اتنے ڈھیرسارے بادشاہوں کابھلا ایک ہی ملک میں کیا کام ؟
ان سوالات نے مجھے اتنا الجھا دیا کہ لفظ ”بادشاہ“ کے معنی ہی مجھے مشکوک نظر آنے لگے ۔ کیا ان سب لوگوں میں کوئی قدر مشترک بھی ہے ، اگر ہے تو وہ کونسی ہے ، جس کی بنا پر یہ سارے ”بادشاہ “ کہلاتے ہیں۔
اسی ادھیڑ بن میں لائبریری کی طرف جانکلا ، مختلف لغات کنگالے ، اگلے دن اردو کے پروفیسروں سے بھی پوچھتاپھرا لیکن مسئلہ جہاں تھا وہیں رکا رہا ۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
عملی زندگی کاآغاز ہو اتو درجنوں بلکہ سینکڑوں نئے بادشاہوں کے ساتھ تعارف نصیب ہوا۔ دوستوں کی بے تکلف محفلوں میں کسی کا ذکر خیر آجاتا تو دوست کہتے ”یار چھوڑو وہ تو بادشاہ آدمی ہے۔”
میں سوچ میں پڑ جاتا کہ اگر وہ عام آدمی ہے تو بادشاہ کیسے بن گیا اور اگر بادشاہ ہے تو عام آدمی کیسے ہوا؟ بادشاہ آدمی میں کم از کم کچھ تو فرق ہو نابھی چاہیے تھا۔
ایک روز اچانک اشفاق احمد کی طرح میری کسی ”بابے“ سے سرِ راہ ملاقات ہو گئی ۔ بس اندھے کو کیا چاہیے ۔۔۔دو آنکھیں ۔ میں نے فوراً سوال داغ دیا۔
”بابا! یہ بادشاہ آخر ہوتا کیا ہے؟“
بابے نے لاپرواہی سے میری طرف دیکھے بغیر ہی جواب جڑ دیا۔
”جو کرتا ورتا کچھ نہ ہو مگر لیتا سبھی کچھ ہو۔“
یہ سنتے ہی گویا میرے چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ آنکھوں پر سے پردے دفعتاً چھٹ گئے ۔ پورا معاشرہ بے نقاب ہوگیا ۔ ہر طبقے اور ہر فرد کی اصلیت کھل گئی ۔ اپنےماحول میں جس پر بھی میری نظر پڑی وہ مجھے کسی نہ کسی حوالے اور کسی نہ کسی حد تک بادشاہ ہی نظرآیا ۔ میں چکرا سا گیا۔
”اف میرے خدا! اتنے ڈھیر سارے بادشاہ اور رعایا سرے سے ندارد!“
بھاگم بھاگ میں ماں جی کے پاس پہنچا اور کہا،
”اماں جی !آئندہ کے لیے میرے بادشاہ بننے کی دعا نہ کیجیے گا“
ماں جی بڑی حیران ہوئیں:
”کیوں بیٹا! کیا ہوا؟ خدا نہ کرے کہ تُو بادشاہ نہ بنے“
میں فوراً بول پڑا:”اماں جی! پھر وہی بادشاہ، ایک دفعہ کہہ تو دیا

کہ میں بادشاہ نہیں بنوں گا۔“
ماں جی ناراض ہوتے ہوئے بولیں:
”اچھا تو بتا، پھر میں تیرے لیے اور کون سی دُعا مانگوں“
میں نے کہا ، میرے لیے ہمیشہ یہی دُعا کیا کرو کہ
”اے اللہ ! میرے بیٹے کو معاشرے اور سماج کا فرض شناس اور محنتی فرد بنا دے۔“
ماں جی نے دل پر بھاری پتھر رکھ کر میری دعا دہرائی اور میں مطمئن ہوگیا !

تحریر: پروفیسر شاہد اسلام

اردو کا پروفیسر


کچھ لوگ انکشافِ ذات کے لیے ماہرینِ نفسیات سے رجوع کرتے ہیں۔ بعض گوتم کی طرح جنگلوں میں نکل جاتے ہیںچند ایک طوطے سے فال نکلواتے ہیں اور کئی ایک تو قیافہ آشناؤں اور دست شناسوں کے آگے دھونی رماتے نظر آتے ہیں۔ لیکن میں نے اس گھمبیر و گنجلک مسئلے کے آسان اور سستے حل کے لیے دیوار پر لٹکتے آئینے کا رُخ کیا ۔ پھر کیا تھا، میرے ہی عکسِ ہزار جہت نے مجھے اپنے خدوخال کے نشیب و فراز کی کچھ چھپی، کچھ اَن چھپی داستانِ ہزار قسط یوں سنانی شروع کر دی:
ٍ    اونٹ کی طرح اردو کے پروفیسر کی بھی آپ کو کوئی کل سیدھی نہیں ملے گی ۔ اُس کی نشست و برخاست اُس کی گفت و شنید اور اُس کے عادات و خصائل میں ایک ایسی مضحکہ خیزندرت اور خودپسندانہ جھلک پائی جاتی ہے کہ دور سے آپ اُسے پہچان لیں گے۔
اس کے حُلیئے اور لباس میں آپ کو ایک مجنونانہ بے پروائی ملے گی اور بالوں کی صورتِ حال کو تو دیکھ کر ذوق کا یہ شعر یا د آجائے گا کہ :


خط بڑھا ، کاکل بڑھے ، قلمیں بڑھیں گیسو بڑھے
حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے


مقصد جس کا یہی ہوگا کہ ہم بھی شاعروں کی طرح تخیلی دنیا میں ہر وقت کھوئے رہتے ہیں ہیں۔ اس لیے نیم خود استغراقی اور نیم خود فراموشی کے باعث لباس اور بال بنانے کی طرح دھیان دینے کا موقع ہی نہیں ملا شیروانی جو کبھی اِ س کی پہچان ہوا کرتی تھی عرصہ ہوا اس طبقۂ خاص سے رخصت ہوچکی ہے البتہ شیروانی کی جگہ اب واسکٹ نے لے لی ہے۔ اب یہی سٹیٹس سمبل بن چکی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں→

ان سے ملیے!


اگر آپ انسان ہیں تو آپ یقینا کسی گھر میں ضرور رہتے ہوں گے ۔ اپنا نہ سہی کرائے کا سہی اور جہاں آپ کا گھر ہے وہاں کسی پڑوسی کاہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اپنے لیے گھر کا ہونا۔ میرے خیال میں ابھی تک دنیا بھر میں کسی بھی جگہ کوئی ایسا قانون نافذ نہیں کہ آپ اپنی مرضی سے اپنے پڑوسی کا انتخاب کر سکیں۔ ناچار جو بھی پڑوسی آپ کی قسمت سے آپ کے حصے میں آئے اسے من و عن قبول کر لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ عموماً ہر گھر کی چاردیواریں ہوتی ہیں اور آپ کی ہر دیوار کے ساتھ کم از کم ایک پڑوسی کا ہونا لازمی ہے۔
میرے حصے میں خوش قسمتی سے یا پھر بدقسمتی سے پورے سات پڑوسی ہیں۔ اس کا مجھے ایک فائدہ ہے کہ ہفتے میں بھی سات دن ہوتے ہیں اس لیے ہر پڑوسی کے لیے ایک دن وقف کرنا میرے لیے آسان سی بات ہے۔
یہ میرے گھر کے مشرق میں عین میرے گھر کے سامنے رہتے ہیں ، ان سے اکثر صبح ہی صبح ملاقات ہو جاتی ہے ۔ میں وہمی ہر گز نہیں لیکن تجربے کی بات ہے کہ جس دن صبح ہی صبح ان حضرت کے چہرے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے بس سمجھ لیجیے کہ وہ دن ہمارا غارت ہو گیا اگر چپلوں کی طرح چہرے کے بھی نمبر ہوتے تو ان کا چہرہ یقینا بارہ نمبر میں شمار ہوتا منہ ان کا ہمیشہ سوجھا ہوا رہتا ہے ۔معلوم نہیں شکل ہی ایسی ہے یا صبح و شام بیوی کے تھپڑ کھا کر منہ سجھا لیتا ہے ۔ پیشے کے اعتبار سے بھی ان کا شمار کسی خاص طبقے میں نہیں ہوتا۔ البتہ آپ انہیں کاروباری کہہ سکتے ہیں۔ ویسے نیک دکھائی دینے کے لیے کبھی کبھی نیک کام بھی کرتے ہیں ۔ محلے کی مسجد بن رہی تھی تو نگرانی کا ذمہ لیا ۔ جب مسجد کی دیواریں مکمل ہوئیں تو ان کے گھر کا غسل خانہ بھی تیار ہو گیا تھا۔ مسجد کے بنتے بنتے ان کے گھر کا حلیہ بھی کافی حد تک تبدیل ہو چکا تھا۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مسجد کی خدمت کے عوض اللہ نے اس کا گھر بھی بنا دیا ۔ خیر جو کچھ بھی ہو ، میں نے رات کو اینٹیں رکھنے کی آوازیں ضرور سنی ہیں۔ اب نامعلوم یہ اینٹیں رات کی تاریکی میں خود آتیں یا فرشتے اٹھا کر لاتے لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ دن کو ان کے گھر کی جانب کوئی اینٹ آتی دکھائی نہیں دی۔ پڑھنا جاری رکھیں→