غزل


ہزار بار دبانے کو شہر یار اُٹھا
مگر یہ شور ِغریباں کہ بار بار اُٹھا

یہ ٹوٹ کر تو زیادہ وبال ِ دوش ھوئی
میں اٹھ پڑا تو نہ مجھ سے انا کا بار اُٹھا

یقین رکھنے لگا ھے جو عالم ِ دل پر
تو پھر علائق ِ دنیا سے اعتبار اُٹھا

عدو سے اگلی لڑائی کا دن تو طے کر لیں
چلے بھی جائیں گے شانوں پہ اپنی ھار اُٹھا

زمین ِحُسن بھی شق تھی سپہر ِعشق بھی شق
یہاں کسی سے نہ میری نظر کا بار اُٹھا

یہ بزمِ خاک نشیناں ھے سوچ کر بیٹھو
یہاں سے کوئی اُٹھا تو برائے دار اُٹھا

زمیں سہار نہ پائی مری شکست کا بوجھ
کہ جتنی بار گرا ھوں میں اُتنی بار اُٹھا

میں حُکم ِ ضبط کو نافذ نہ کر سکا دل پر
جہاں بھی ظُلم کو دیکھا ، وہیں پُکار اُٹھا

ملا کے خاک میں مجھ کو وہ جب چلا نیر
تو اُس کے پاؤں پکڑنے مرا غُبار اُٹھا

(شہزاد نیر)

غزل ۔ڈاکٹرفقیرا خان فقری


دندناتا ہوا جس روز نکل آئے گا
شہر کا بھوت مرے کھیت نگل جائے گا


آک ٹیلوں پہ رہیں گے نہ شجر کیکر کے
دل گڈریا ہے کہاں روز غزل گائے گا؟


پھول سرسوں کے کھلیں گے نہ مہک پھیلے گی
شہرترکول جو فطرت پہ چھڑک جائے گا


میں کہاں جاؤں گا اب سوچ رہا ہوں فقری
وقت ویرانوں میں بازار اٹھا لا ئے گا

غزل


یہ اور بات کہ موجود اپنے گھر میں ہوں
میں تیری سمت مگر مستقل سفر میں ہوں


نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جاؤں
ابھی تو چاک پہ ہوں دستِ کوزہ گر میں ہوں


میں اپنے فکر کی تجسیم کس طرح سے کروں
بریدہ دست ہوں اور شہرِ بے ہنر میں ہوں


نہ جانے کون سا موسم مجھے ہرا کر دے
نمو کے واسطے بے تاب ہوں شجر میں ہوں


یہ دوستی بھی عجب چوبِ خشک ہے ناصر
نبھا رہا ہوں مگر ٹوٹنے کے ڈر میں ہوں

ناصر علی سید

ایک ذاتی نظم


میں اکثر دیکھنے جاتا تھا اُس کو جس کی ماں مرتی
اور اپنے دل میں کہتا تھا یہ کیسا شخص ہے؟ اب بھی
جیے جاتا ہے ۔ آخر کون اس کے گھر میں ہے جس کے
لیے یہ سختیاں سہتا ہے تکلیفیں اُٹھاتا ہے
تھکن دن کی سمیٹے شب کو گھر جانے پہ کون اس کے
لیے دہلیز پر بیٹھا ۔۔۔ دعا کی مشعلیں دل میں
جلائے ۔۔۔   دیدہ بے خواب کی ہر راہ دروازے
کی درزوں سے نکالے گا ۔۔۔ خدا کی مہربانی اک
حقیقت ہی سہی کچھ قہر آلودہ بھی ہے ۔۔۔ جو اس
کی نافرمانیاں کرتے ہیں ان کے واسطے اس نے
دہکتی آگ بھی تیار رکھی ہے ۔۔۔ دلِ کافر
میں اس کی مہربانی اور رحمت کا تصور بھی
جب آیا مامتا کے لفظ کی صورت میں آیا ہے
مری ویران آنکھوں نے پھر ایسا وقت بھی دیکھا
کہ سورج جل رہا تھا روشنی منظر سے غائب تھی
خدا زندہ تھا لیکن اس کی رحمت سر سے غائب تھی
انہی آنکھوں میں میرے خیریت سے لو آنے پر
نہ تھا اشکِ مسرت بھی ۔۔۔ کہ میری راہ تکتا جن
کی بینائی کا مصرف تھا ۔۔۔ وہ لب دو چار دن پہلے
مرے ماتھے پہ ہو کر ثبت جو کہتے تھے ”تم جاؤ
تمہاری نوکری کی بات ہے بیٹے ! میں اچھی ہوں
مجھے اب جان کا خطرہ نہیں ہے اور اگر کچھ ہو
گیا تو ہم تمہیں فوراً بنا لیں گے ۔۔۔ چلے جاؤ“
(اگر مر جاؤں میں تو صبر کر لینا ۔۔۔ خدا حافظ)
مگر یہ بات قاصر ان لبوں سے کب سنی میں نے
اسے معلوم تھا شاید کہ مائیں مر نہیں سکتیں
دلِ اولاد میں اک یاد بن کر زندہ رہتی ہیں
بلایا تو گیا مجھ کو مگر وہ لب؟ کہاں وہ لب؟
مرے فاقہ ذدہ بچپن کو نیندوں سے گریزاں ، پا
کے جو پریوں کے افسانے سناتے تھے تو میں خوابوں
میں خود کو ان کے دستر خوان پر موجود پاتا تھا
سکت باقی نہیں ہے ان لبوں میں آج اتنی بھی
کہ میری خاطر اک حرفِ دُعا کا بوجھ اُٹھا لیتے
مجھے جو دیکھنے آتے ہیں کہتے ہیں میں زندہ ہوں
میں کھاتا ہوں کہ یہ بھی زندگی کی اک ضرورت ہے
مگر ہر زائقے میں ایک تلخی کا اضافہ ہے
کسی دیوار کا سایہ ہو یا ہو پیڑ کی چھاؤں
مرا جسمِ برہنہ چھیدتی رہتی ہیں کرنیں اب
ہوا ہر وار کو بڑھ بڑھ کے خود پر روک لیتا تھا
دُعا کو ہاتھ اُٹھاتا ہوں دعائیں اس کی خاطر ہیں
میں گویا ہوں کہ میری سب صدائیں اس کی خاطر ہیں
محبت اس کی خاطر ہے وفائیں اس کی خاطر ہیں
کہ میری ابتدائیں ، انتہائیں اس کی خاطر ہیں

غلام محمد قاصر

غزل


غزل کی رُت کا سزاوار بھی نہیں ہوتا
یہ نخلِ جاں کہ ثمر بار بھی نہیں ہوتا


کہاں سے ڈھونڈ کے لاتے ہیں زندگی کا جواز
وہ جن کو عشق کا آزار بھی نہیں ہوتا


رہا ہے دل ہی کو شوقِ سپردگی ورنہ
پس طلب کوئی اصرار بھی نہیں ہوتا


وہ داستان بھی منسوب مجھ سے ہوتی ہے
جہاں کہیں مرا کردار بھی نہیں ہوتا


عزیز ہم کو بہت ہیں یہ جان و دل لیکن
تمہارے سامنے انکار بھی نہیں ہوتا


نہیں ہے حسرتِ تعمیر بھی کوئی طارق
مگر یہ خواب تو مسمار بھی نہیں ہوتا

ڈاکٹر طارق ہاشمی

غزل


دھنک ملے تو نگاہوں میں قید رنگ کریں
رم آج رات چلو چاندنی کے سنگ کریں


یہ آئینہ سا میرا دل ہے اس میں سجتی رہو
پھر اس کے بعد تمنا نئی امنگ کریں


بدن تو مل گئے روحوں کی تشنگی بھی مٹے
سو اختیار چلو آج کوئی ڈھنگ کریں


نہیں ہیں فرصتیں آلامِ روزگار سے جب
اب اس کے بعد بتا کیا ترے ملنگ کریں


یہی ارادہ ہے بزمِ سخن سجائیں کہیں
ردیف وار لکھیں قافیہ نہ تنگ کریں

سید انور جاوید ہاشمی (کراچی)

غزل


کوئی اجنبی خلش ہے کوئی اجنبی چبھن ہے
مجھے بھی خبر نہیں ہے مجھے کون سی لگن ہے


مری عقلِ حیلہ جُو نے کئی شانے توڑ ڈالے
تری زلف میں ابھی تک وہی خم وہی شکن ہے


تری رسمِ بے رُخی کو ترا طرزِ ناز سمجھا
میرے دیدۂ عقیدت میں عجیب بانکپن ہے


کئی روپ میں نے بدلے تری دلبری کی خاطر
تری بے نیازیوں کا وہی طور وہ چلن ہے


مری وسعتِ نظر کی نہیں سرحدیں کہیں بھی
مرا ہر جگہ بسیرا میرا ہر وطن ، وطن ہے


تری دلنشیں غزل ہے کہ پیامِ زیست طاہر
یا کہیں سحر کے دامن سے گری کوئی کرن ہے 

طاہرکلاچوی

غزل


سمندروں کے سفر پر مجھے بلاتا ہوا
فلک پہ دور ۔۔۔۔ستارہ سا ٹمٹماتا ہوا


الجھ رہا ہوں زمانوں کی بے کرانی سے
میں سطحِ آب پہ کچھ دائرے بناتا ہوا


کوئی تو بات تھی ایسی کہ ہوگیا خاموش
وہ میرے دل میں پرندہ سا چہچہاتا ہوا


چھپائے رکھتا تھا ، اندر کی خامشی جیسے
وہ اپنے یاروں میں یوں ہاؤ ہو مچاتا ہوا


سمجھ رہا ہوں تری بات بات کا مفہوم
میں حوصلے سے ، قرینے سے مسکراتا ہوا


چھنک اٹھی ہے کہیں تیری یاد کی پازیب
میں جارہا ہوں کہیں دور گنگناتا ہوا


گذر رہا ہوں کسی اور کہکشاں سے نذیر
میں روشنی کے لیے راستے بناتا ہوا


ڈاکٹر نذیر تبسم پشاور

یقینِ خدا ، خدا حافظ!


آگ ہی آگ چار جانب آگ
کیا بہشتِ وطن کا حال لکھوں
کچھ نہیں میری دسترس میں مگر
چاہتا ہوں چمن کا حال لکھوں
کیوں وہ پھولوں کے سہرے مرجھائے
کیوں خزاؤں نے ڈیرے ڈالے ہیں
رُوح فرسا نسیم کے جھونکے
غم فزا پنچھیوں کے نالے ہیں
سوچتا ہوں تو جان جاتی ہے
کل یہاں کیا تھا اور اب کیا ہے
پیار تھا صحبتیں تھیں میلے تھے
تھے مگر اب نہیں ، سبب کیا ہے
کن بلاؤں میں گِھر گئے ہیں ہم
کون خونخوار حملہ آور ہیں
کہیں لٹکے ہیں سر بغیر بدن
کہیں زنجیر بے بدن سر ہیں
موت کا راج ہے سرِ مُو بھی
زندگی مدارات نہیں رکھتی
بے حسی نے لگا لیے خیمے
رہبری معرفت نہیں رکھتی
رہ گزاروں پہ سوگ سایہ کناں
منزلوں ماتمی قناتیں ہیں
دھند میں کچھ پتا نہیں چلتا
یہ جنازے ہیں یا باراتیں ہیں
نا امیدی کی تیز بارش میں
بھگتی ہر دُعا ، خدا حافظ
جا رہا ہے خدا کے گھر لیکن
اے یقینِ خدا ۔۔۔ خدا حافظ !

شہاب صفدر