پروفیسر ڈاکٹر قمر رئیس ۔۔۔خدمات اعترافات


Qamar-Rais

ڈاکٹر قمر رئیس

۔ 1932 کا سن محض اس لیے اہم نہیں کہ اس سال انگارے کی اشاعت نے اردو دنیا میں تہلکہ مچایا تھا اس لیے بھی نہیں کہ اس کتاب میں موضوعاتی حوالوں سے ہٹ کر سریلزم داد ازم شعور کی رو، داخلی خود کلامی اور مونتاژ تک کی تصویریں نظر آتی ہی یا پھر یہ کہ یہیں سے پریم چند جیسے کہنہ مشق ادیب کو بھی اپنے فن کی پرانی روش بدلنے اور کفن اور نئی بیوی جیسے افسانے لکھنے کی اکساہٹ ملی تھی۔
درحقیقت اس سال کا ایک بے اہم ترین وقوعہ قمر رئیس جیسی شخصیت کاجنم تھاوہ قمر رئیس جو آخری سانس تک ترقی پسند تحریک کے لیے اپنی توانائیوں کی گرمی اور اپنی محنتوں کا نمک دیتے زندگی بھر امیدوں کے شہر بساتے رہے جنہوں نے پریم چند پر لکھا تو ایسا کہ کوئی اور اس جیسا نہ لکھ سکا سجاد ظہر پر قلم اٹھایا تو شخصیت نگاری کی نئی روشنائی ملی۔ تحریک کے باب میں خامہ فرسائی کی تو اس ادائے تفکر کے ساتھ جو تعریف و تصویف سے بڑھ کر بھرپور محاکمے اور زندگی کے حقیقت پسندانہ تصورات پر استوار رہی جہاں سے نئے مباحث کے راستے نکلتے دکھائی دئیے۔ نئے سپنے اپنے ریشم گداز لمس کی خوشبو سے آشنا ہوئے نئے نغموں کی آبسشاروں کی وادیوں کو سیراب کر گئے ۔ قمر رئیس مشترکہ تہذیبی قدروں کے علمبردار بن کر ابھرے اور دیکھتے ہی دیکھتے اردو کے تنقیدی دبستانوں میں اپنے نام اور کام کی بناء پر مرکز نگاہ ٹھہر گئے۔ ان کے جانے سے ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ پڑھنا جاری رکھیں→

ادب اور مقصدیت


آہنگ ادب پشاور کا اجلاس 23 مارچ 2009 کو علامہ اقبال ہاسٹل کمرہ نمبر 76 میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت جناب حماد نے کی۔ اجلاس میں مضمون ادب اور مقصدیت پڑھا گیا اس کے بعد ادب اور مقصدیت کے حوالے سے عام بحث ہوئی۔ جناب اویس قرنی ، جناب وہاب اعجاز خان اور جناب امین تنہا اور صدر محفل نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس کے بعد جناب ڈاکٹر صابر کلوروی کی پہلی برسی کے موقع پر ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی ۔ ساتھ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ گزرے ماہ سال کی یاد بھی تازہ کی گئی۔ اور ان کی شخصیت اور خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

احمد فراز کی یاد میں


انجمن کا دوسرا جلاس اگست دو ہزار آٹھ میں علامہ اقبال ہاسٹل نمبر 9 جامعہ پشاور کے سبزہ زار میں شام کے وقت منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت جناب حنیف خلیل صاحب نے کی۔ سیکرٹری وہاب اعجاز نے کچھ انتظامی مجبوریوں کی بنا پر اس انجمن کا نام یونیورسٹی ادبی فورم سے تبدیل کرکے آہنگ ادب رکھنے کی تجویز پیش کی تمام ممبران نے اس تجویز کی تائید کی اس لیے انجمن کا نام تبدیل کرکے آہنگ ادب رکھاگیا۔
اجلاس کی کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے صاحب صدر نے احمد فراز کی شخصیت اور ان کی خدمات پر مختصahmad-faraz

ر روشنی ڈالی ۔ جس کے بعد فورم کھول دیا گیا۔ جناب امداد صاحب نے احمد فراز کی جامعہ پشاور کے مشاعرے میں شرکت کے حوالے سے اپنی یادیں تمام دوستوں سے شیئر کیں۔ جناب حماد صاحب نے احمد فراز کو لہجے اوراسلوب کا خوبصورت شاعر قرار دیا ۔ جنہوں نے روایت کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جدید موضوعات کو غزل کے پیرائے میں خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
جناب نذر عابد صاحب نے فراز کو فیض کے بعد اردو کا سب سے بڑا شاعر قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ فراز جیسا شاعر ہماری سرزمین پر پیدا ہوا۔ ان کی مزاحمتی شاعری اور اپنے مقصد کے لیے ان کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا گیا
وہاب اعجاز خان نے احمد فراز کو ایک روایت پسند شاعر قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان کی انفرادیت اور جدت پسندی کا بھی حوالہ دیا ۔ جس کی بدولت وہ ہر طبقے کا شاعر ہے۔ انہوں نے فراز کے تصور عشق پر بھی روشنی ڈالی جو کہ اپنے عہد کے دوسرے شعراء سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
>یہ غزل دین اسی غزال کی ہے
جس میں ہم سے وفا زیادہ تھی
دن منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا
اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا
جناب نیاز انور نے احمد فراز کی وفات کو ادب کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا ۔ جناب اویس قرنی نے احمد فراز کے حوالے سے کئی دلچسپ واقعات سنائے جس میں ان کی شخصیت میں موجود مزاح کے پہلو کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ صاحب صدر نے اختتامی کلمات میں احمد فراز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فراز کی موت سے شاعری کا ایک دور ختم ہو گیا ہے اور اس دور کو صرف اورصرف فراز کے نام سے ہی پہچانا جائے گا۔ آخر میں ان کی مغفرت کے لیے دعائے خیر کی گئی۔

افتتاحی اجلاس


آہنگ ادب کا افتتاحی اجلاس علامہ اقبال ہاسٹل نمبر 9 کی سبزہ زار میں جناب نذر عابد کی صدارت میں جون دوہزار آٹھ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں انتظامی نوعیت کے معاملات پر بحث ومباحثہ ہوا ۔ اس کے ساتھ ساتھ مجلس عاملہ کے ارکان کا انتخاب بھی عمل میں آیا۔
تنظیم کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انجمن کے سیکرٹری جناب وہاب اعجاز نے کہا کہ اس تنظیم کا مقصد نوجوان ادیبوں اورقلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی تخلیقی صلاحتیوں کو جلا بخشنا ہے۔ انجمن کا کوئی سیاسی ، مذہبی مقصد نہیں۔ بلکہ اس کا مقصد صرف اورصرف ادب کی خدمت ہے۔ اہوں نے اس نوزائیدہ تنظیم کا نام یونیورسٹی ادبی فورم تجویز کیا جس پر تمام دوستوں نے اتفاق کیا۔جناب اویس قرنی نے انجمن کے اغراض و مقاصد پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ
تنظیم کے ممبران کی یہ کوشش ہوگی کہ اس کی شاخیں یونیورسٹی کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی قائم کی جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ نیاز انور سید، جناب امین تنہا ،، جناب اسرار خاموش کی جانب سے انجمن کے قیام کو خوش آئند عمل قرار دیاگیا۔ اس کے علاوہ فیصلہ کیا گیا کہ انجمن کا اجلاس ہر مہینے کی کسی بھی تاریخ کو بلایا جائے گا۔ جناب اسحاق وردگ کو تنظیم کے منشور پر غور و غوص کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جناب حماد صاحب نے اس کاوش کو سراہا اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کی یونیورسٹی میں موجود دوسرے شعبہ جات کے قلمکار ساتھیوں کو اس انجمن میں خصوصی نمائندگی دی جائے اس کے علاوہ ادبی نشتوں کے ساتھ ساتھ فائن آرٹ ، سائنس ، عمرانیات جیسے موضوعات پر مذاکرے کرائیں جائیں کیونکہ ادب کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے۔

sir-sabir

ڈاکٹر صابر کلوروی

 اجلاس کے دوسرے حصے میں شعبہ اردو جامعہ پشاور کے سابق چیرمین اور معروف ماہر اقبالیات جناب صابر کلوروی کے حوالے سے ایک نشست کا احتتام کیا گیا اس موقع پر تمام شرکاء محفل نے جناب صابر کلوروی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔انہیں صوبہ سرحد کا اعلیٰ پائے کا ماہر اقبالیات قرار دیاگیا۔ مجلس میں ان کی شخصیت کے روشن پہلوؤں پر بھی بات کی گئی ۔ اجلاس کے اختتام پر صاحب صدر نذر عابد نے اختتامی کلمات میں صابر صاحب کے لیے دعا مغفرت کی اور کہا کہ صابر صاحب کی اچانک موت سے ادب میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو پر کرنا ناممکن ہے۔