قلم کے دھنی ، حیران خٹک


تحریر: بلیاز خاکساربنوسے
HIRAN KHATTAKکسی نے کیا خوب کہاہے کہ مال ودولت اور دنیا کی چیزیں انسان کو مفت میں بھی مل سکتی ہیں لیکن علم وادب کے حصول کیلئے انسان کو خود محنت کرنی پڑتی ہے۔یہ بات کسی حد تک صحیح ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اور مشاہدے اور تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ کہ اگر کسی خاندان کے آبا واجداد میں عالم ،فاضل اور ادیب گزرے ہوں تو ان کے علم وفضل کا اثر بھی ایک زمانے تک جاری رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال پشتونوں کے ایک بڑے معزز اور علمی وادبی موتیوں سے بھرپور قبیلے خٹک کابھی ہے۔اس قبیلے میں خوشحال خان خٹک جیسے نابغہ روز گار اور متنوع الصفات شخصیت نے جنم لیا ہے جو دوسری کئی صفات رکھنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے مصنف ہو گزرے ہیں،بلکہ پشتو ادب میں شاید ہی کوئی دوسرا ادیب ہوجس نے خوشحال خان کی طرح نظم ونثر کی متعدد بلند پایہ تصنیفات چھوڑی ہوں۔انہیں دور حاضر کے ادباءنے صحیح طور پر د پختو پلار(بابائے پشتو ) تسلیم کیا ہے خوشحال خان خٹک کے عہد میں اور اس کی وفات کے بعد بھی اس قبیلے میں ایسی ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جو آسمانِ علم ادب کے درخشندہ ستارے ہیں جن کی پشتو ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب کیلئے بھی اَن گنت خدمات ہیں۔انہی درخشندہ ستاروں میں ایک ستارہ حیران خٹک بھی ہیں جن کے ابا واجداد کاشت کے لحاظ سے بنجر اور معدنیات کے لحاظ سے مالا مال علاقے کرک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کی جنم بھومی ضلع بنوں کازرخیز علاقہ ہے۔9ستمبر1955ءکو پیاوداد خان خٹک کے گھر میں آنکھ کھولنے والے دلاور خان گیارہ سال کی عمر میں دلاور خان سے حیران خٹک کے نام سے مشہور ومعروف ہوئے یعنی گیارہ سال کی عمر سے حیران خٹک کے دل ودماغ میں شعر وشاعری کے جذبے نے انگڑائی لی۔ابھی پانچویں جماعت میں تھے کہ شعر وشاعری کا شغف رکھتے تھے۔ 1969ءمیں سکول میں”کاروانِ ادب”کے نام سے ایک ادبی اور ثقافتی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی اور حیران خٹک اس کے جنرل سیکرٹری چنے گئے اس تنظیم نے طلباءمیں ادبی شعوراُجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا جن کے روح روا ںحیران خٹک تھے۔ایک اور اصلاحی تنظیم جو” معماران ملت “کے نام سے بنائی گئی تھی اس میں بھی حیران صاحب کا کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔حیران خٹک زمانہ طالب علمی ہی سے ادبی وثقافتی اور اصلاحی تنظیموں سے وابستہ رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر بھی بھر پور توجہ دی اور گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان سے نمایاں پوزیشن میں ایم ایس سی اکنامکس کی ڈگری حاصل کی۔پشاور میں کچھ عرصہ ایک فلاحی تنظیم میں خدمات سر انجام دینے کے بعد پریس انفارمیشن میں پہلے “کاروان”اور پھر ایک سرکاری رسالے “اباسین”کے مدیر مقرر ہوئے۔آپ کی زیر اِدارت اباسین کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگا۔جس کا ثبوت اس دور کے وہ رسالے ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں ۔عظیم صوفی شاعر رحمٰن بابا اوربابائے پشتوخوشحال خان خٹک پر ضخیم نمبرات کی اشاعت آپ کاایک ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔حیران خٹک کا تصنیفی وتالیفی کام بہت زیادہ ہے جس کا احاطہ یہاں ممکن نہیں تاہم چینی لوک کہانیوں (ڈاور قوم کی کہانیاں)کا پشتو ترجمہ،حافظ محمد ادریس کے پشتو ناول “پیغلہ”کا اردو ترجمہ دوشیزہ اور افغانستان کے حالات پر پشتوشاعری کی کتاب”وینے بھیگی سپرلے بہ راشی”وغیرہ ایسی کتابیں ہیں جو محتاجِ تعارف نہیں۔حیران خٹک آج کل بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے عہدے پر ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ لیکرایک نہایت ہی فرض شناس اور ذمہ دار افسر کے طور پر اپنے کام میں مصروف ہیں ۔اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دنیائے علم وادب سے بھی اپنا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیںاور اپنی قومی زبان اردو میں نظم ونثر میں اپنی فن کے موتی بکھیر رہے ہیں۔ان کی پشتواور اردو تحریریں معاصر قومی اخبارات ورسائل میں زیورِطباعت سے آراستہ ہوتے رہتے ہیں۔1971ءمیں نامور پشتو شاعر وادیب مولانا عبید اللہ مجبور سورانی نے ادبی تنقیدی ٹولنہ بنوں کے زیر اہتمام بنوں کے معروف شعرائے کرام کا ایک ادبی تذکرہ”دَبنوں اَدب”کے نام سے شائع کیاتھا۔اس وقت حیران خٹک میٹرک کے طالب علم تھے لیکن اپنے معیاری ادبی شاعری کی وجہ سے ان کا کلام بھی اس کتاب میں شامل کیا گیا۔”بنوں ادب “کے مولف مجبور سورانی اُن کے تعارف کے باب میں اُن کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں”حیران خٹک کی موجودہ شاعری اُن کے روشن مستقبل کی غمازی کرتی ہے۔ اور اگر زمانے اور ماحول نے اس کی بہترین تربیت کی تو حیران صاحب ایک اعلیٰ پائے کے ادیب اور صاحب طرز شاعرثابت ہوسکتے ہیں”مجبور سورانی کی یہ پیشن گوئی واقعی درست ثابت ہوئی اور حیران خٹک نے ایک صاحب طرز اور عمدہ صاحب اسلوب کے شاعر کے طور پر ادبی دنیا میں اپنا ایک مقام پیدا کیا۔اُن کی ادبی تربیت میں نامور شاعر ،ادیب اور چالیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ومو¿لف سرفراز خان عقاب خٹک کا بڑا ہاتھ ہے۔کیونکہ آپ ابتداءمیں انہی نابغہ ¿ روزگار شخصیت سے اپنی شاعر ی کی اصلاح کرواتے تھے۔حیران خٹک بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور غزل کیلئے جن تہذیبی شائستگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ اُن کے کلام میں موجود ہے۔لفظوں کے استعمال کا سلیقہ ،جذبے اور فکر کو پُراثر انداز میں قاری تک پہنچانے کا شعور اُن کی شاعری کا وہ جوہر ہے جس نے اُن کی غزل میں نکھار پیدا کیا ہے۔اُن کی شاعری میں رومانیت بھی ہے اور موسیقیت بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کا کلام نامو رگلوکاروں کی آواز وں میں ریکارڈ ہوا ہے ۔خصوصاً بنوں کے مرحوم گلو کار قسمت خان کی آواز میں آپ کی جو غزلیں ریکارڈہوئی ہیں وہ عوامی حلقوں کے ساتھ ساتھ خواص میں بھی خاصے معروف ومقبول ہیں۔اپنے ایک شعر میں اپنے دل سے یوں مخاطب ہیں۔

چہ ھغہ نہ رازی دَ چا سہ وس دے
زڑگیہ سہ اوکڑم زما سہ وس دے

یعنی محبوب اگر یہاں آنا نہیں چاہتے تو اس کو یہاں آنے پرآمادہ کرناکسی کے بس کی بات نہیں۔اے دل میں کیا کرسکتا ہوں میں خود بھی بے بس ہوں ۔ایک اور شعر میں اپنے زندگی کے شب وروزکا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔

پہ سنگ کے مِ چہ نشتہ نن قرار دَ زندگی
پیکہ پیکہ بہ خود خکاری بازار دَ زندگی

(ترجمہ)یعنی آج کل میری زندگی بے رونق ہے اوراس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میرا محبوب میرا ہم نشین نہیں ہے۔اپنی بہترین اور عمدہ غزل گوئی کےساتھ ساتھ حیران خٹک کی نظم گوئی بھی منفرد انداز کی حامل ہے۔اُن کی نظموں میں قومی درد ،نوجوانوں کیلئے ایک تحریک اورخدمت وطن کا درس پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حیران خٹک کو ہم بہترین غزل گو شعراءکے ساتھ ساتھ ساتھ بہترین نظم گو شعراءکے صف میں بھی کھڑا کرسکتے ہیں۔اُن کی شاعری پر اثر ہے اور ہم اُنہیں کامیاب شاعر کہہ سکتے ہیں ۔حیران خٹک کی شاعر ی کے ساتھ ساتھ اُن کی نثری تخلیقات بھی فنِ اثر سے بھر پورہیں ۔وہ ہر موضوع پر لکھ سکتے ہیں۔

ایک خیال “قلم کے دھنی ، حیران خٹک” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s