تبصرہ: برقی صحافت (ٹی وی جرنلزم)


مصنف : پروفیسرمحمد مصطفی علی سروری

مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل
maazeez.sohel@gmail.com
tv tiltle (1)جدیددور سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کادور ہے اور اس ترقی کا ایک حصہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔جس کے سبب دنیا گلوگل ولیج میں بدل گئی ہے۔ دنیا میں تیزی سے معلومات پیدا ہورہی ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع انٹرنیٹ ‘ٹیلیفون ‘ٹیلی ویژن وغیرہ کے ذریعے معلومات بہت تیزی سے بریکنگ نیوز کے عنوان سے دنیا کے ہر حصہ میں پہونچ رہی ہیں جیسے کسی حادثہ کی اطلاع ہو یا کھیل کے مقابلے کی پیشرفت یا دنیا میں کوئی بھی وقوع پذیر ہونے والا ایسا واقعہ جس کی اطلاع میں دوسرے لوگ دلچسپی رکھتے ہوں انہیں فوراً انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا بھر میں منتقل کیا جاتا ہے۔ خبروں کی ترسیل کا کام میڈیا کے ذرائع پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا سے ہورہا ہے۔ پرنٹ میڈیا کی تاریخ کافی قدیم ہے اور اس کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے لیکن الکٹرانک میڈیااپنی بالکل جدید تاریخ رکھتی ہے۔ الکٹرانک میڈیا نے عوام کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے دور حاضر میں پرنٹ میڈیا سے زیادہ الکٹرانک میڈیا کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے کیونکہ اس کی پہونچ اب عوام کے ہاتھوں میں ہوگئی ہے جہاں لیپ ٹاپ اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اسمارٹ فون کی بدولت انسان جب چاہے دنیا سے تعلق پیدا کرسکتا ہے اور دنیا بھر کی معلومات سے رسائی حاصل کر سکتا ہے۔گذشتہ ایک دہائی میں زندگی کو متاثر کرنے میں الیکٹرانک میڈیا خاص طور سے ٹی وی جرنلزم نے بھی اہم رول ادا کیا ہے چاہے وہ کسی واقعے کی رپورٹنگ ہو یا کسی سیاسی ‘سماجی پہلو پر گفتگو ہو مختلف نیوز چینلز اپنے انداز میں نیوز کو پیش کرنے لگے ہیں اور لوگوں کی مخصوص انداز میں ذہن سازی کرتے ہوئے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہندوستان میں جب کبھی کہیں بم دھماکہ ہوتا ہے مخصوص قسم کے نیوز چینلز فوری شک کی انگلی کسی مسلم تنظیموں سے جو ڑ دیتے ہیں اور مختلف نام نہاد ماہرین اس واقعہ کی ایک انداز میں تشہیر کرنے لگتے ہیں لیکن جب اصل تحقےقات سامنے آتی ہیں تو ان دھماکوں کا ذمہ دار کوئی اور ہی ہوتا ہے ۔ ہندوستان اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں میڈیا کے ذریعے پروپگنڈہ عام کرنے کا جو رجحان چل پڑا ہے اسے ٹی وی دیکھنے والے عام ناظرین تک تجزیے کے ساتھ پیش کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے ۔نیوز ایک سماجی امانت ہوتی ہے اور اسے سماج تک بغیررد و بدل کے پیش کرنا صحافتی قدر کہلاتی ہے۔ دنیا کے ہر پیشہ کی طرح نیوز کو عوام تک پہونچانا بھی ایک اہم پیشہ ہے جو صحافی پیشہ صحافت سے وابستہ ہوکر کرتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں رپورٹنگ کے کیا تقاضے ہیں اور نو آموز صحافی کیسے ان تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو ایک بہتر نیوز کاسٹر ‘ نیوزرپورٹر اور الیکٹرانک جرنلسٹ بنا سکتا ہے اس کے لئے اسے اس پیشہ سے متعلق معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور میڈیا کی بڑھتی مقبولیت اور حیدرآباد کی اردو یونیورسٹی میں قائم شعبہ ماس میڈیا میں زیر تعلیم طلبائے صحافت کی تدریسی ضرورت کے لئے اردو میں یہ کام حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک جواں سال صحافی اور صحافت کی تدریس سے وابستہ پروفیسر مصطفی علی سروری اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ جرنلزم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے اپنی تصنیف ” برقی صحافت ” کے ذریعے کیا ہے ان کی اس کتاب کو میڈیا کے حقائق سے پردہ اٹھانے والی ایک اہم کتاب تسلیم کیا جارہا ہے اور اسے الکٹرانک میڈیا اور برقی صحافت کی تکنیک سے واقفیت کے موضوع پر یک اہم تصنیف کہا جاسکتا ہے۔
برقی صحافت(ٹی وی جرنلزم) پروفیسر مصطفی علی سروری کی ایک اہم تصنیف ہے جو اردو طلبائے صحافت کو پیش نظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔ کتاب کا انتساب انہوں اردو میڈیم کے طلباء کے نام معنون کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب کے پیش لفظ میں فاضل مصنف نے الکٹرانک میڈیا کی مقبولیت اور اس میڈیاکی اعتباری سے متعلق لکھا ہے۔
” گذشتہ دس برسوںمیں تو ملک میں نیوزچیانلس کو بے پناہ مقبولیت ہی نہیں ملی بلکہ ان کے ناظرین کی تعداد میں بے شمار اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ خبر وہی ہے جو ٹی وی چیانلس بتلائیں والا ماحول بن گیا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹی وی نیوز چیانلس کی اس بہتات اور غیر ذمہ دار انہ مسابقت نے اس میڈیا کو بے اعتباربنانے کا بھی سامان فراہم کیا ہے ”۔ (ص ٧)
فاضل مصنف نے اپنے پیش لفظ میں طلبائے صحافت کو دعوت فکر دی ہے کہ وہ ٹی وی نیوز کو غیر جانب دارانہ انداز میں پیش کرنے کو کیسے یقینی بنائیں گے۔
اس کتاب کا پہلا عنوان” خبر کی تعریف ”سے شروع ہوتا ہے۔ جس میں خبر کی تعریف’ کونسی اطلاع خبرہے اور خبر کے عوامل کیا ہیں وغیرہ کی تفصیلات پیش کی گئی ہیںاس متعلق فاضل مصنف نے لکھا ہے۔” عام طور پر ذیل کے پانچ اہم عوامل کسی بھی اطلاع میں خبریت پیدا کرتے ہیں۔ تازہ ترین اور بر وقت ہونا،قربت ہونا،غیر معمولی پن، ممکنہ اثرات و اہمیت (نمایاں یا متاثرین کی تعداد کا ہونا) انسانی فطرت کی دلچسپی ہونا ان خواص میں سے کسی خبر میں ایک ہی خاصیت ہو سکتی ہے اور کسی خبر میں ان میں سے کئی عوامل بھی بیک وقت ہو سکتے ہیں”(ص٩)َ
کتاب کا دوسرا عنوان” خبروں کی اقسام ”سے متعلق ہے جس میں مصنف نے خبروں کو ان کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف زمروں میں تقسیم کیا ہے جیسے ٹھوس خبر،لائیو نیوز، ایمرجنسی رپورٹنگ ،معمول کی خبریں ،تحقیقاتی رپورٹنگ، فیچر نیوز وغےرہ ۔فاضل مصنف نے اس موضوع کے تحت صحافت اور خاص کر الکٹرانک میڈیا کے طلباء کیلئے بہت ہی اہم معلومات فراہم کی ہیں کہ ٹیلی ویژن رپورٹر کس کی بائٹ لے ،سوالات کی تیاری کیسے کرے، ٹیلی
ویژن کے لیے انٹرویو کس طرح لیاجائے، خبر کے کون کون سے ذرائع ہیں وغیرہ۔ اسطرح کی بہت سی مفید معلومات اس عنوان کے تحت کتاب میں شامل ہیں۔
زیر ہ تبصرہ کتاب کا تیسرا مضمون ”ٹیلی ویژن نیوز رپورٹنگ کتنا خطرناک کام! کے عنوان سے شامل ہے اس عنوان کے تحت انہوں نے لکھا ہے کہ صحافی کو رپورٹ یا اطلاع عوام کے ذریعے ملتی ہیں اور RTIسے متعلق لکھا ہے کہ حکومت ہند نے ملک میں قانون حق معلومات رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2005کا نفاذ عمل میں لایا تب سے رپورٹر س کیلئے کے RTIجواب میں ملنے والی دستاویزات خبروں کا ایک بڑا ذریعہ بن رہی ہیںـ” (ص ٣٣)۔
اس کے علاوہ پروفیسر محمد مصطفی علی سروری صاحب نے بین الاقوامی پر یس کی دستاویزات کا حصول اور وکی لیکس امریکہ کے سرکاری محکمہ کی اطلاعات وغیرہ کے بارے میں تفصیلی طور پر معلومات فراہم کی ہیں ساتھ ہی رپورٹنگ کے دوران ایک رپورٹر اور بحیثیت مجموعی ایک نیوز چینل کو کن باتوں کا خاص کر لحاظ رکھنا چاہیے جیسے نکات کی شکل میں بیان کیا ہے۔
زیرہ تبصرہ کتاب کا ایک اور اہم موضوع ”ٹیلی ویژن پر خبروں کا انداز پیش کش” ہے۔ جس میں انہوں نے ٹیلی ویژن خبروں کو پیش کرنے کے طریقوں،اینکر اسکرپٹ، وائس اوور،ویژولس،فیچر نیوز ،اسپارٹ نیوز کوریج وغیرہ جیسی ٹکنیکی چیزوں پرسیر حاصل معلومات پیش کی ہیں ان چند موضوعات کی طرح اس تصنیف کے دیگر موضوعات بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں جن کا مطالعہ صحافت اور خاص کر الکٹرانک میڈیا کے طالب علموں کیلئے ناگزیر ہے۔
پروفیسرمحمد مصطفی علی سروری صاحب نے بڑی عرق ریزی سے اس کتاب کو ضبط تحریر میں لایا ہے اور الکٹرانک میڈیا کے اس دور میں برقی صحافت (ٹی وی جرنلزم)کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور صحافت کے طالب علموں کیلئے یہ کتاب ایک بیش قیمتی جوہر ہے ۔ اس کتاب کو عصر حاضر کے جرنلزم کورس میں شامل نصاب کرنا چاہئے اور برصغیر کے مختلف اردو اور ہندی نیوز چیانلس میں کام کرنے والے صحافیوں کو زیر مطالعہ رکھنا چاہئے ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت سے وابستہ طلباء اس کتاب سے استفادہ کریں۔ بلا شبہ ےہ کتاب صحافت سے وابستہ حضرات اور صحافت سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔
امید ہے کے اردو کے صحافتی ادب اور خاص کر صحافتی شعبوں میں پروفیسر محمد مصطفی علی سروری کی اس تصنیف کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائیگا اور انکی ہمت ،حوصلہ افزائی کی جائیگی۔اور یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ وہ صحافت سے متعلق اورمزید گراں قدر تصانیف کواردو ادب کے طالب علموں کیلئے پیش کر تے رہیںگے۔
یہ کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس نئی دہلی کی جانب سے شائع ہوئی ہیں۔22 موضوعات اور 175صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 200روپیئے رکھی گئی ہیں جو ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس نئی دہلی کے علاوہ دیگر اہم بک ڈپوس سے حاصل کی جاسکتی ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s