تذکرہ ایک رنگوں بھری شام کا


تحریر : اویس قرنیawes

ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کا فون آیا کہ آج کی شام تو ڈاکٹر نذیر تبسم کے نام ہے یہ بیچ میں بادلوں کے جام کہاں سے چھلک پڑے۔ ۔۔۔ میں نے کہا نذیر تبسم کی بھی طرح طرح کے موسموں سے دوستی ہے ، پتہ نہیں کب کہاں سے کسی پھوار کے جھونکے اٹھکیلیوں پر اتر آئیں ۔ پھر ہم نے خانہ فرہنگ ایران کا راستہ لیا جہاں ڈاکٹر نذیر تبسم کو تمغہ امتیاز ملنے کی خوشی میں احباب کی محفل سجی تھی ۔ اباسین آرٹس کونسل کے بینر تلے منعقدہ اس نشست کی صدارت پروفیسر قبلہ آیاز کررہے تھے جبکہ مہمان خصوصی امریکہ سے آئے ہوئے افسانہ نگار داؤد حسین عابد تھے، رنگوں بھری اس شام میں تلاوت کی سعادت راقم الحروف کے حصے میں آئی ، پروگرام کے پہلے حصے میں نظام کی چوکی مشتاق شباب نے سنبھالی تھی۔ ڈاکٹر نذیر تبسم کی صاحبزادی صدف نذیر نے اپنے مضمون میں نہایت نپے تلے انداز مین اپنے والد صاحب کی شخصیت اور ان کی پدرانہ شفقتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کسی تشنگی کا احساس نہیں ہونے دیا ، فاروق جان بابر آزاد نے صاحب شام کو منظوم خراج تحسین پیش کیا ، پروفیسر بادشاہ منیر بخاری نے نذیر تبسم کی شاعری اور شخصیت کے ان گنت پہلوئوں پر نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی، غیغم حسن ، شکیل نایاب ، اسماعیل اعوان اور اظہار اللہ اظہار اشعار کے گلدستے لیے فضائ کو مہکاتے رہے ، اویس قرنی بھی کچھ نئی کچھ پرانی سطرح جمع جوڑ کے محبت کے قافلے مین شامل ہو گئے ، تقریب کے دوسرے حصے کی نظام ناصر علی سید کی منتظر تھی تھی جن کے آتے پروگرام نے ایک اور رنگ بدلا، ابھرتے ہوئے خاکہ نگار خالد سہیل ملک اب ادبی خاکے کے فن میں بھی طاق ہونے لگے ہیں ، انہوں نے نذیر تبسم کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بے پناہ داد بٹوری۔ یوسف عزیز زاہد نے اپنے دیرینہ دوست کو ایک طویل نثرانے کا نذرانہ دیا، مہمان خصوصی حسین عابد گزرے بیتے افسانوں کے درپن میں نذیر تبسم کو ڈھونڈتے ہوئے بہت پیچھے چلے گئے ، حسام حر نے سفر و حضر کی رفاقت اور ماہ و سال کے بدلتے مناظر و تناظر مین نذیر تبسم کی ایک نئی تصویر بنانے کی کوشش کی ۔ آغائے یوسفی نے علم و ادب کی اس چھتر چھایا مین کچھ لمحوں کی بیٹھک کو اپنی خوش نصیبی قرار دیا۔ صدر مھفل ڈاکٹر قبلہ آیاز نے تمغۂ امتیاز ملنے پر ڈاکٹر نذیر تبسم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے پشاعر کے قلم قبیلے کے لیے اعزاز قرار دیا، اس تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی ۔ آخر میں ڈاکٹر شفیع اللہ خان ( بابا جی ) نے دعائیہ کلمات کے ساتھ مہمانان گرامی کو محفل مین شالیں اوڑھائیں یوں یہ خوشگوار شام اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s