اُردو تحقیق مسائل اور ان کا حل


اُردو تحقیق مسائل اور ان کا حل
شعبہ اُردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کے زیر اہتمام ریسرچ اسکالرس کابین جامعاتی سمینار

تحریر محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر ( عثمانیہ یونیورسٹی )

جنوبی ہندوستان میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم کی ایک اہم درسگاہ سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد ہے ۔اس یونیورسٹی کو ہندوستان کی جامعات میں ایک معیاری یونیورسٹی کا مقام حاصل ہے ۔ یہاں کا شعبہ اردو بھی اپنی علمی و ادبی کاوشوں کی بدولت ساری اردو دنیا میں ایک اہم شناخت رکھتا ہے۔ شعبہ اردو کے نئے صدر پروفیسر مظفر شہ میری اردو کے فروغ کے لئے جدت سے بھر پور پروگرام کراتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ” تخلیق 2012 “ کے عنوان سے ریسرچ اسکالر س کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے والا پروگرام کروایا تھا۔ جسے hcu 2بہت پسند کیا گیاتھا۔ 3جولائی 2013ءکو شعبہ اردو میں انہوں نے ” کاوش 2013ئ“ ریسرچ اسکالرس کا بین جامعاتی اردو سمینار ترتیب دیا۔ اور سمینار کا مرکزی موضوع ” اردو تحقیق مسائل اور حل“ رکھا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اردو کے اکثر علاقائی اور قومی سمیناروں اور دیگر ادبی اجلاسوں میں سینئر اساتذہ کو ہی مقالے سنانے کا موقع ملتا ہے۔ اور ریسرچ اسکالرس اس طرح کی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں۔ جامعات میں اردو تحقیقی کام میں مصروف ریسرچ اسکالر س کو سمینار میں حصہ لینے اور اپنا مقالہ پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے کی غرض سے شعبہ اردو نے یہ سمینار رکھا ۔اس سمینار میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی اور سری وینکٹیشورا یونیورسٹی اور دیگر جامعات کے ریسرچ اسکالرس کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ اور اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بڑے اچھے مقالے پیش کئے اور تحقیق کے موضوع پر عصر حاصل کے مسائل سے بھی آگہی حاصل کرتے ہوئے سمینار کے مقاصد کی تکمیل کو اور اپنی نوعیت کے اس منفرد اردو سمینار کو کامیاب بنایا۔سمینار کے کنوینرس جے محمد شفیع اور محمد عبدالخالق ریسرچ اسکالرس نے پروفیسر مظفر شہ میری صاحب کے مشوروں کی روشنی میں سمینار کے انتظامات کئے۔ اور تمام یونیورسٹیوں کے پروفیسرس کو اپنے ریسرچ اسکالرس کو سمینار میں مقالے پڑھنے کے لئے مدعو کیا۔نظام آباد سے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گرراج گورنمنٹ کالج اور محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد پہونچ گئے۔ شعبہ کے سینئیر اسکالرس کے طور پر ڈاکٹر محسن جلگانوی ایڈیٹر اوراق ادب اعتماد اور ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کو بہ طور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا ۔
شعبہ اردو اسکول آف ہیومانٹیز کے خوبصورت آڈیٹوریم میں ریسرچ اسکالرس صبح سے ہی جمع ہونے لگے۔ پروفیسر مظفر شہ میری ‘پروفیسر محمد انور الدین‘ ڈاکٹر رضوانہ معین ‘ڈاکٹر عرشیہ جبین اور ڈاکٹر نشاط احمد نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اففتاحی اجلاس کا آغاز ہوا۔ شعبہ کی ریسرچ اسکالر غوثیہ بانو نے نظامت انجام دی۔ اور مہمانوں کو شہ نشین پر مدعو کیا۔ مہمانوں کو گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد پروفیسر راما کرشنا راما سوامی وائس چانسلرHCU نے شمع جلا کر 10-30بجے دن سمینار کا افتتاح کیا۔ ۔اس موقع پریہ شعر بھی پڑھاگیا۔
سورج سمجھ کے سارے پرندوں نے غل کیا ….اس نے جلائی شمع تو منظر چمک اٹھے
ا س سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈین ہیومانیٹزپروفیسر امیتابھ داس گپتا نے کی۔ جبکہ بطور مہمان خصوصی ڈاکٹر محسن جلگانوی صاحب ایڈیٹراوراق ادب ،روزنامہ اعتماد حیدرآباد مدعوتھے۔ اس اجلاس کے افتتاحی پروگرام کے خیر مقدمی کلمات اداکرتے ہوئے پروفیسر مظفر شہ میری صاحب صدر شعبہ اردوHCU نے سمینار میں شرکت کرنے والے تمام ہی مہمانوں اور اسکالرس کا دلی خیر مقدم کیا اور علامہ اقبالؒ کا شعر ”پلٹنا جھپٹنا پلٹ کر جھپٹنا ۔ہے خوںگرم رکھنے کا یہ ایک بہانا“ پڑھا۔ اور کہا کہ اردو میں ہر موقع کے لئے کوئی نہ کوئی شعر نکل ہی آتا ہے۔ چنانچہ تحقیق سے متعلق بھی خواجہ الطاف حسین حالی کا شعراس طرح ہے ”ہے جستجو کہ خو ب سے ہے خوب ترکہاں۔اب دیکھئے کہ جاکر ٹھہر تی ہے نظر کہاں“۔ پڑھنا جاری رکھیں→