ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق


Scan1تبصرہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق
مصنف : شاہانہ مریم شان
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد ، ہندوستان
دکن میں اردو ادب اور تحقیق کے فروغ میں خواتین نے بھی گراں قدر رول انجام دیا ہے۔ تخلیقی میدان میں صغرا ہمایوں مرزا‘جیلانی بانو ‘رفیعہ منظور الامین‘فاطمہ یزدانی فریدہ زین ‘اور شاکرہ اور قمر جمالی کے نام اہم ہیں تو تحقیق کے میدان میں ڈاکٹر زینت ساجدہ‘پروفیسر سیدہ جعفر‘پروفیسر اشرف رفیع‘پروفیسر ثمینہ شوکت‘پروفیسر فاطمہ پروین نے اپنے کارناموں سے شہرت حاصل کی ہے۔ اردو کے فروغ کے لئے خواتین دکن کی خدمات کا سلسلہ اب نئی نسل کو منتقل ہورہا ہے اور شعر و ادب اور تحقیق و تنقید میں دکن سے خواتین کے کارنامے منظر عام پر آرہے ہیں ۔ ڈاکٹر عسکری صفدر‘ڈاکٹر اطہر سلطانہ‘ڈاکٹر آمنہ تحسین اور ڈاکٹر نکہت جہاں نے تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کی ایک ریسرچ اسکالر اور اردو کی ابھرتی محقق شاہانہ مریم شان نے موضوع کے اعتبار سے ایک اہم اور وقت کی ضرورت سمجھی جانے والی تصنیف” ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق“ پیش کی ہے۔ اور ان کی اس تصنیف کو جامعاتی تحقیق کے حلقوں میں کافی پذیرائی ملی ہے۔ اور ہندوستان کی تمام جامعات میں اس کتاب کو ریفرنس کی کتاب کے طور پر رکھا جارہا ہے۔ بہت عرصے سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ہندوستان کی جامعات کے اردو شعبہ جات میں ہونے والے تحقیقی کام کا تعارف کسی ایک کتاب کے ذریعے ہو تاکہ آنے والے محققین کو اپنے تحقیقی موضوعات کے انتخاب میں رہنمائی ہو اور وہ موضوعات کی تکرار سے بچتے ہوئے اپنی تحقیق کے لئے کوئی مناسب موضوع منتحب کر سکیں۔ چنانچہ شاہانہ مریم شان کی اس کتاب نے اردو شعبہ جات کی اس اہم ضرورت کو اپنی تصنیف کے ذریعے مکمل کیا ہے۔ تحقیقی کتاب” ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق“ دراصل شاہانہ مریم کا ایم فل کا تحقیقی مقالہ ہے جسے کتابی شکل دی گئی ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ پروفیسر محمد انوار الدین شعبہ اردو حیدرآبادسنٹرل یونیورسٹی نے لکھا ۔جس میں انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ دور حاضر میں اردو تحقیق کے لئے نئے موضوع کا انتخاب ایک اہم مسئلہ ہے لیکن کوئی بھی اس بات کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے خیر شاہانہ مریم نے اس ضمن میں پہل کی ہے شائد ان کی یہ پہل شعورکو بیدارکرنے کیلئے کارگر ثابت ہوگی ۔ پیش لفظ میں پروفیسر محمد انوارالدین اس بات کی اہمیت سے متعلق لکھتے ہیں۔
’’اگر کوئی اسکالر ہندوستان بھر کی جامعات کے شعبے ہائے اردو کے تحقیقی مقالوں کا جامع کٹیلاگ تیار کرتا ہے تو یہ کام نہ صرف اس کیلئے اہم کریڈٹ ثابت ہوگا بلکہ اردو کے آئندہ آنے والے تمام اسکالرس کے لیے موضوع کے انتخاب کے سلسلے میں شمع ِراہ کاکام کرے گا ۔ شاہانہ نہایت ذہین ریسرچ اسکالر ہے اس نے فوراََ اس کام کی اہمیت اور افادیت کو محسوس کیا اور اسی کو اپنا ایم فل کے مقالے کا موضوع بنانا طئے کیا ۔ اس طرح موضوع کے انتخاب کا مسئلہ حل ہوا۔“ ص۷)
تحقیق میں سب سے اہم مرحلہ موضوع کے انتخاب کاہوتا ہے ۔ اکثر طلبہ اس مرحلہ میں ناکام ہوجاتے ہیں اس کے نتیجے کے طور پر یا تو غیر دلچسپ موضوع کا انتخاب کرلیتے ہیں یا ایسا مشکل موضوع منتحب کرتے ہیں کہ تحقیقی رکاوٹوں کے سبب درمیان میں انکا تحقیقی کا کام رک جاتاہے۔ اگر ان کے سامنے تحقیقی موضوعات کا ایک کیٹلاگ ہو یا کوئی رسالہ جس میں وقفہ وقفہ سے ہندوستان کی جامعات میں تحقیقی عنوانات کا ذکر ہو تو محقق کیلئے اندھیرے شب کے مسافر کو شمع دکھانے کا عمل ہوگا۔ کیوں کہ کئی جامعات میں ایک جیسے موضوعات پر کام ہورہا ہے ۔بچوں کے ادب سے متعلق تقریبا جامعات میں کام جاری ہے لیکن کونسی یونیورسٹی میں کس موضوع کے تحت کام ہورہا ہے یہ کسی کو پتہ نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہی کہ کو ئی ایسا رسالہ شائع کیا جائے جس میں ہندوستان کی تمام جامعات میں تحقیقی موضوعات کا احاطہ ہو۔ اور نئے محقق کیلئے آسانیاں پیدا ہو۔
زیر تبصرہ کتاب میں حرف آغاز کے عنوان سے مصنفہ کا دیباچہ شامل ہیں جس کا آغاز ایک بہترین شعر سے ہوتا ہے۔

الہی دے مجھے طرزتکلم ، میری آوازکو زندگی دے
مجھے افکار صالح بھی عطاکر، میری تحریرکو تابندگی دے

اس مضمون میں مصنفہ نے اپنے رب حقیقی کا شکر بجالایا ہے ساتھ ہی ساتھ پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر درود وسلام بھیجا ہے۔ انہوں نے موضوع کے انتخاب سے متعلق وہی باتیں لکھیں ہے جس کو پیش لفظ میں پروفیسر انوار الدین نے بیان کی تھیں۔ مصنفہ نے لکھا ہی کہ۔
”ہندوستان کی یونیورسٹیوںمیں تحقیق کی صورتحال اصلاَ میرا ایم فل کا مقالہ ہے آج یہ کتاب منظرعام پر آئی اس پر مجھے بے حد مسرت ہے کہ میری دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔پیش نظر تصنیف میں ہندوستان کی ساٹھ یونیورسٹیوں کے تحقیقی اور زیر تحقیق ایم فل ،پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کے مقالات کی فہرستوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ساٹھ یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی اور بارہ یونیورسٹیوں کے ایم فل کے مقالات کی فہرستیں اس میں شامل ہیں ۔چند ڈی لٹ مقالات کو بھی شامل کیا گیا ہے“ (، ص۰۱)
فاضل مصنفہ نے کتاب کی اشاعت کے موقع پراپنے تمام اساتذہ اور افراد خاندان اور دیگر احباب کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ اور آخر میں اس بات کو واضح کردیاہے کہ تحقیق میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی اور انکا یہ موضوع اپنی وسعت اور ہمہ گیری کے اعتبار سے کبھی نہ ختم ہونے والا موضوع ہے۔
فاضل مصنفہ نے زیر تبصرہ کتاب میں ہندوستان کی تقریباََ تمام یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق کے عنوان کے تحت یونیور سٹیوں کی جانب سے اسناد کا اجراء، یونیورسٹیوں میں تحقیقی موضوعات ، عہد حاضر میں یونیورسٹیوں میں تحقیق کا میعارکی صورتحال ،موجودہ صورتحال کا تدارک ،تحقیقی مقالات کے اشاریہ کی اہمیت ، فہرست مقالات یونیورسٹیز جیسے عنوانات پر data جمع کرکے انکا تجزیہ و تشریح کی ہے جو وقت کا ایک اہم تقاضہ ہے۔
فاضل مصنفہ نے لکھا ہی کہ اردوتحقیق کا پہلا مقالہ سودا پر شیخ چاند نے عثمانیہ یونیورسٹی سے 1932ءمیں بابائے اردو مولوی عبدالحق کی نگرانی میں مکمل کیا تھا۔ اور یہ مقالہ ایم۔اے کا ہے۔ پہلے ایم۔اے میں مقالہ لکھا جاتا تھا۔ انہوں نے بہ حیثیت پی۔ایچ۔ڈی سند کے اجرائی سے متعلق لکھا ہےکہ سب سے پہلے الہ آبادیونیورسٹی سے 1942ءمیں ڈاکٹر رفیق حسین کو انکے مقالہ” اردو غزل اور اسکی نشوونما 1857ءتک “کو پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا جن کو ہندوستان کی پہلی پی ایچ ڈی کی سندحاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔
فاضل مصنفہ نے یونیورسٹیوں میں تحقیقی موضوعات کی زمرہ بندی کی ہے انہوں نے جن زمروں کی نشاندہی کی ہیں ان میں شخصیات، تقابلی مطالعہ ، علاقائی ادب ، دکنیات، تحقیق، اشاریہ وکتابیات،قومی یکجہتی،تنقید، لسانیات، صحافت،تصوف،دبستان اور تحریکات،نسوانی کردار،،بچوں کا ادب نثری اصناف،لغت وفرہنگ سازی، سیرت قرآنیات،ابلاغیات میڈیا،ترتیب وتدوین وغیرہ شامل ہیں۔اور ان عنوانات کے تحت کونسی یونیورسٹی میں کیا کام ہورہا ہے۔اس سے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔
زیر بتصرہ کتاب میں فاضل مصنفہ نے عہد حاضر میں مختلف یونیورسٹیوں میں تحقیق کے میعار اور صورتحال پر بھی روشنی ڈالی ہیں ۔اور اس نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے کہ مختلف یونیورسٹیوں میں ایک ہی موضوع پر کام ہورہا لیکن ضروری نہیں کی دونوں مقالوں کے خاکے ایک ہی ہی طرح کے ہوں انہوں نے محقیقن کو موضوع کے انتخاب کیلئے نئے نئے پہلووں کو تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یونیورسٹیوں کے تحقئقی مقالات میں موضوعات کی تکرار سے متعلق انہوں نے یونیورسٹیوں کے موضوعات کا تقابل پیش کیاہے بتایا ہے کہ کہاں کس عنوان پر کام جاری ہے۔ تحقیقی کام اور میعار پر مختلف مشاہیر ادب کی رائے کو پیش کیا ہے اور ساتھ ہی موجودہ صورتحال کے تدارک کیلئے حل بھی پیش کیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی تجاویز کو روبعمل لایا جائے۔ فاضل مصنفہ نے اس باب میں اشاریہ سازی کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہیں
زیر تبصرہ کتاب میں مختلف یونیورسٹیوں کی فہرست دی گئی ہیں جہاں پر اردو کے تحقیقی شعبہ قائم ہیں ساتھ ہی ہندوستان کی تقریبا تمام یونےورسٹیوں میں اب تک کن موضوعات پر کام ہو ا ہے اور کس کس موضوع پر جاری ہے فہرست دی گئی ہے جو کہ ایک ویکی پیڈیا سے کم نہیں ہیں کتاب کا تقریباََ حصہ اسی فہرست سے بھراپڑا ہے۔
کتاب کے آخری میں ضمیمہ کے تحت بیرون ممالک میں جن یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق پر کام ہورہا ہے انکی فہرست دی گئی ہے ضروری نہیں کہ مصنفہ نے جو معلومات فراہم کی ہیں وہ مکمل ہو ں انہوں نے ایک حد تک کوشش کی ہیں جس میں وہ کامیاب بھی رہی ہیں۔مصنفہ نے اس کتاب کو بطور معلوماتی ذخیرے کہ پیش کیا ہے جس کو سامنے رکھ کرجامعات اور اسکالرس اپنے تحقیقی مراحل کی منصوبہ بندی آسانی سے کرسکتے ہیں جدید تحقیق کاروں کیلئے یہ کتاب ایک گنجینہ ثابت ہوگی ۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد چند گوشوں سے اعتراضات بھی سامنے آئے کہ اس کتاب میں شامل فہرستیں مکمل نہیں ہیں۔ اور اہم محققین کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ جیسے عثمانیہ یونیورسٹی کے تحت جو اردو تحقیقی کام ہوا ہے اس میں اہم محققین کے نام شامل نہیں ہیں۔ اس جانب مصنفہ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک تحقیق مزید تحقیق کی راہیں کھولتی ہے کہ مصداق اس موضوع پر مزید اور مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔نقش اول کے طور پر شاہانہ مریم نے یہ اہم کام کیا ہے جس کی ادبی اور تحقیقی گوشوں سے پذیرائی ہونی چاہئے۔ یہ کتاب تمام جامعات ‘اردو تحقیق کے نگران کاروں اور تحقیق کے طلباءکے ہاں موجود ہو تاکہ اساتذہ اور طالب علم دونوں کو تحقیقی موضوعات سے متعلق مکمل واقفیت حاصل ہو۔
دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ یہ کتاب 411صفحات پر مشتمل ہے جس کی طباعت عفیف آفسیٹ پرنٹر نئی دہلی نے انجام دی ہیں یہ کتاب 450روپئے قیمت کے ساتھ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس نئی دہلی فون نمبر 23216162 011-یا رعایتی قیمت پر مصنفہ سے( 09394034168) اس کے علاوہ انجمن بکڈپو۔اردو ہال۔حمایت نگر، حیدرآباد ہندوستان سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s