ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی


nasir qazmiتبصرہ ”ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی“
مصنفہ : سمیہ تمکین(ریسرچ اسکالر یونیورسٹی آف حیدرآباد)
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد


عہد حاضر میں جامعات کے اردو شعبہ جات میں معیاری تحقیقی کام ہورہا ہے اور اردوادب کے نئے گوشے سامنے آرہے ہیں یہ اردو زبان کے فروغ کے لئے حوصلہ افزا بات ہے۔ اردو تحقیق کے بارے میں اکثر یہ تاثر دیا جاتاہے کہ جامعات میں جو سندی مقالے لکھے جاتے ہیں وہ معیاری نہیں ہوتے اور شائع ہونے کے لائق نہیں رہتے لیکن اب یہ صورتحال نہیں ہے۔ اور نگران پروفیسروں کی مناسب رہبری و رہنمائی اور اردو ادب کی زیادہ سے زیادہ کتابوں کی دستیابی نے اردو تحقیق کے معیار میں بہتری پیدا کی ہے۔ اور اچھی قابل مطالعہ کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں۔ سندی تحقیق کے مرحلے سے گذر کر کتابی شکل پانے اور اپنے موضوع کی ندرت کی وجہہ سے مقبول ہونے والی ایک ایسی ہی تصنیف ” ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی“ ہے جسے شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کی ایک لائق طالبہ سمیہ تمکین نے شائع کرایا ہے۔ اور اس کتاب کارسم اجراء3جولائی کو شعبہ اردو کے تحت منعقدہ اردو سمینار ”کاوش2013“ میں یونیورسٹی کے وائیس چانسلر پروفیسر رام کرشنا راما سوامی نے انجام دیا۔ اس تقریب میں صدر شعبہ اردو پروفیسر مظفر شہ میری اور ڈاکٹر محسن جلگانوی بھی شامل تھے۔سمیہ تمکین کی یہ تصنیف ان کے ایم فل تحقیقی مقالے پر مشتمل ہے۔ جسے انہوں نے بعد ترمیم و اضافہ کتابی شکل میں شائع کیا۔ناصر کاظمی اردو غزل کی ایک جانی پہچانی آواز ہے۔ جن کی غزلوں کی لفظیات‘ تشبیہات اور استعاروں نے انہیں اردو غزل گو شعرا میں اہم مقام عطا کیا ہے۔ ان کی شاعری میں پیکر تراشی کی تلاش اس کتاب کا بنیادی موضوع ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی“ تین ابواب پر مشتمل ہے۔ کتاب کا پیش لفظ ”پیش گفتار“کے عنوان کے تحت پروفیسر مغنی تبسم صاحب(مرحوم) نے لکھا تھا۔انہوں نے سمیہ تمکین کی کتاب اور ”ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی “سے متعلق لکھا ہے کہ
” سمیہ تمکین نے اپنے مقالہ میں ناصرکاظمی کی حیات ،شخصیت اور شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی پیکر تراشی پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ ناصر کاظمی کے اشعار میں بیشتر مرکب پیکر ملتے ہیں جو بہ یک وقت قاری کے مختلف حواس کو متوجہ کرتے ہیں ۔سمیہ تمکین نے اپنے موضوع سے پورا انصاف کیا ہے“(ص۷)
پروفےسر مغنی تبسم صاحب کے پیش لفظ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناصر کاظمی ایک عہد ساز شاعر تھے۔اور انکی شاعری میں پیکر تراشی کا مخصوص انداز پایا جاتا ہے جو انکی انفرادیت رہاہے۔ سمیہ تمکین نے ناصر کاظمی کی شاعری کے اس پہلو کو اپنی اس تصنیف کے ذریعہ اجاگر کیا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب میں پیش لفظ کے بعد پروفیسر مظفر شہ میری صاحب صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آٓف حیدرآباد نے ”پروفیسر مغنی تبسم کی یاد میں“ کے عنوان سے تبصرہ کیا ہے اورلکھا ہے کہ اس عنوان پر کام کرانے کی پروفیسر مغنی تبسم صاحب کی دیرینہ خواہش تھی ۔ جسکی تکمیل سمیہ تمکین نے کی ہے۔ سمیہ تمکین کے اس کام سے متعلق پروفیسر مظفر شہ میری صاحب لکھتے ہیں۔
” سمیہ تمکین نے پیکر تراشی اور اس کی مختلف قسموں کو ثابت کرنے کے لیے ناصر کاظمی کے علاوہ اردو کے کئی شعراءکی بیسوں اشعار کا انتخاب کیا ۔پھر ان سے عمدہ اشعار کو چھانٹ کر پیکر تراشی اور اسکی گونا گوں قسموں کو استناد و استحکام عطاکرنے کے با وصف نا صر کاظمی کی شاعری کے اس پہلو کو روشن اور اجاگر کیا۔اس طرح یہ کتاب اس موضوع پر دستاویز ی اہمیت کی حامل بن گئی ہے“(ص ۹)
اس مضمون میں پروفیسر صاحب نے پیکر تراشی سے متعلق لکھا ہے کہ پیکر تراشی پر کام کرنا کار دشوار ہے۔حرف آغاز کے عنوان سے فاضل مصنفہ نے مقدمہ لکھاہے انہوں نے اس بات کا اظہار کے ہے کہ شعر و شاعری سے انہیں از حد شغعف اور دلچسپی ہے ضروری بھی ہے کہ جب کسی شاعر پر تحقیق کا کام کیا جارہا ہے تو شعر و شاعری کی نزاکتوں سے واقفیت محقق کا اہم فریضہ بھی ہے۔ شاعری کے محاسن ومعائب سے واقف ہونا ضروری ہے۔
فاضل مصنفہ نے ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”1960کے بعد اردو ادب میں جو رحجانات در آئے ہیں ان میں پیکر تراشی کا رحجان بھی تھا جو ایک رحجان بھی ہے اور شعری تکنیک بھی۔“
اپنے مقدمہ میں انہوں نے کتا ب کی اشاعت پر اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا خوب شعر نقل کیا ہے۔

میرے ابو اور امی نے کیا کامل مجھے
بیٹھنے کے کردیا ہے چار میں قابل مجھے

زیر تبصرہ کتاب کے ابواب میں باب اول ناصر کاظمی۔ماحول اور شخصیت ،باب دوم۔ناصر کاظمی کی شاعری، باب سوم ۔ناصرکاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی ہیں۔ فاضل مصنفہ نے پہلے باب کودو حصوںمیں تقسیم کیا گیا ہے ۔پہلا حصہ ماحول اور دوسرا حصہ شخصیت سے متعلق ہے۔ جس میں انہوں نے ماحول کے تحت تقسیم ہند کے واقعہ کوبیان کیا ہے اور ناصر کاظمیسے متعلق لکھا ہے۔”ناصر کاظمی تقسیم ہند کے بعد اردو شاعری کو ایک نیا تخلیقی مزاج عطا کرنے میں پیش رو کا درجہ رکھتے ہیں“
فاضل مصنفہ نے آزاد ہند کی تقسیم کے واقعہ کو ناصر کاظمی کی زندگی کا ایک بہت بڑا جذباتی حادثہ قرار دیا ہے۔ ناصر کاظمی کی پر امیدی سے متعلق شعر کویہاں نقل کیا ہے۔

وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

فا ضل مصنفہ نے ناصر کاظمی کے حالات زندگی اور شخصیت سے متعلق کافی اہم معلومات فراہم کی ہیں اور مختلف واقعات کا تذکرہ بھی کیا ہے ناصر کاظمی کے والد نے انتقال سے قبل ناصر سے کہا تھا کہ ”ناصر میرا نام زندہ رکھے گا اور ادب تجھ پر ناز کرے گا۔ ناصر کاظمی کے والد کے اس قول نے واقعی ناصر کاظمی کو ادب کا ایک اہم ستون بنادیا۔
زیر تبصرہ کتاب کے دوسرے باب کو تین عنوانات کے تحت تقسیم کیا گیا ۔موضوعات،ناصر کاظمی کا آرٹ،ناصر کاظمی کی غزل۔ موضوعات کے تحت ناصر کاظمی کا یہ شعرنقل کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔

جنھیں دیکھ کر جیتے تھے ناصر
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہیں

اس شعر میں ناصر نے بزرگوں کو مشعل راہ کے طور پر پیش کیا ہے کہ کسطرح ہم انکی تقلید کرتے تھے وہ لوگ جنھیں ہم دیکھ کر زندگی گزار تے تھے اب وہ ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں رہے۔ فاضل مصنفہ نے ناصر کاظمی کے آرٹ کے تحت یہ شعر نقل کیا ہے ملاحظہ ہو۔

جب سے دیکھا ہے ترے ہاتھ کا چاند
میں نے دیکھا ہی نہیں رات کا چاند

ناصر کاظمی زندگی سے خوب لطف اندوز ہوتے تھے۔جسکی جھلک انکے اس شعر میں ملتی ہیں ملاحظہ ہو۔

اے دوست ہم نے تر ک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

فا ضل مصنفہ نے ناصر کاظمی کی مختلف غزلوں سے اچھے اچھے اشعار جو موقع کی مناسبت سے اہمیت رکھتے ہیں پیش کیا ہے اور انکے تخلیق کے آنے کے مقصد کو بھی بیان کیا ہے ساتھ ہی انکی تشریح بھی کی ہے۔
زیر تبصرہ کتا ب کا آخری باب پیکر تراشی سے متعلق ہے اس میں فاضل مصنفہ نے پیکر تراشی کے معنی و مفہوم اور تعریفات کو بیان کرتے ہوئےناصر کاظمی کے شاعری میں پیکر تراشی کو پیش کیا ہے ۔ساتھ ہی اردو کے دےگرشعراءکے اشعار میں پیکر تراشی کی تصور کو بیان کیا ہے اور ساتھ ہی پیکر تراشی کی اقسام کی وضاحت بھی کی ہے ناصر کاظمی کے اس شعر کو بھی پیش کیا ہے جس میں متضاد پیکر بھی نظر آتے ہیں۔

میں اس جانب تو اس جانب
بیچ میں پتھر کا دریا تھا

پیکر تراشی کا فن اور اس کے تقاضے ایک بہت مشکل کام ہے اور بات اس پر تحقیق کی ہو تو یہ اور بھی مشکل کا کام ہے۔ بہر حال سمیہ تمکین قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے ایک منفرد اہمیت کے حامل کام کو اپنی تحقیق کا مقصد بنائےا اور اس میں وہ کامیاب بھی رہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے ناصر کاظمی کے زندگی کے مختلف گوشوں سے واقفیت ہوتی ہیں۔ امید کے سمیہ تمکین کی اس تصنیف کو اردو ادب خاص کر شاعری کے میدان میں پسند گی کی نگاہ سے دیکھاجائےگا۔ یہ کتاب 235صفحات پر مشتمل ہیں جو کہ 250روپیئے کی ادائیگی کے ساتھ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤ س نئی دہلی اوربمکان مصنفہ 10-2-318/1/7 وجئے نگر کالونی حیددرآباد فون نمبر 9573969108سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s