ابرار سالک


ibrar salikابرار سالک 14دسمبر 1960ء کو داتا مانسہرہ میں پیدا ہوئے۔اُن کے والد کانام سید معروف شاہ گیلانی تھا۔ ابرار سالک نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے سکول گورنمنٹ ہائی سکول داتا میں حاصل کی۔ اس سکول سے انہوں نے 1976ءمیں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔گورنمنٹ کالج نمبر۱ ،ایبٹ آباد سے1980ءمیں ایف اے اوراسی کالج سے1984 ءمیں بی اے کیا۔اپنی تعلیمی سفرکوجاری رکھتے ہوئے1997ءمیں اُنھوں نے پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آبادسے اُردومیں ایم اے کاامتحان پاس کیا۔
ابرار سالک نے ایم۔ اے کرنے سے پہلے ۱۹۹۱ءمیں گورنمنٹ کالج چھوٹا لاہور صوابی میں بطور لیکچرر عملی زندگی کا آغاز کیا۔2004ءمیں ابرار سالک گورنمنٹ کالج الپور شانگلہ میں بطور اسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوئے اوراسی کالج میں فرائض سرانجام دیتے ہوئے فروری2011ءکواس دارفانی سے رخصت ہوئے۔
اُن کی شاعری کاباقاعدہ آغازکالج کے زمانے میں ہوا جب وہ1980ءایبٹ آباد کالج میں زیرِ تعلیم تھے۔ شاعری کے حوالے سے ان کے دو شعری مجموعے اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ پہلا مجموعہ ”مسافت کم نہیں ہوتی“ کے عنوان سے الحمد پبلی کیشنزلاہور سے شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ ”اک دشت کی کہانی“ کے عنوان سے بھی الحمد پبلی کیشنز لاہورنے شائع کیاہے۔ ابرار سالک کے شعری مجموعوں میں غزلیں، نظمیں،حمد،نعت،مرثیہ،گیت وغیرہ شامل ہیں،جبکہ اس کے علاوہ اُن کابہت کلام غیرمطبوعہ بھی ہے،جس میں غزلیں ،نظمیں ،حمد،نعت اورگیت شامل ہیں۔
موجودہ دور کے غزل گو شعراءمیں ابرار سالک ایسا نام ہے جنھوں نے رومانوی اور انقلابی رویوں کے ساتھ شکست ذات اور احساس تنہائی کے رنگوں کو اپنی غزل میں سمیٹاہے، بلکہ اُن کا بنیادی رویہ نئی غزل کا وہ رویہ ہے جو شکست ذات اور احساس تنہائی سے ترتیب پاتا ہے۔اُنھوں نے شاعری میں نہ صرف خیبرپختونخواہ کی نمائندگی کی ہے ،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان وہندوستان کی ادبی روایت کوبھی بھرپورطریقے سے آگے بڑھایا ہے۔غزل کے میدان میں اُن کی پہچان اُن کامنفردلب ولہجہ ہے۔ اُن کالہجہ دھیما، گہرا، سنجیدہ اور بامعنی ہے۔ابرار سالک ان شاعروں میں سے نہیں ہیں جو پٹے ہوئے راستوں پر رواں رہتے ہیں۔ وہ ذہن و دل کے دریچے وا رکھتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں روایت سے پیار کے باوجود تازگی کا احساس ملتاہے۔
سا لک نے زندگی کا مشاہدہ بہت قریب سے کیاتھا۔زندگی کی کئی سفاک سچائیاں اُن کی شاعری میں جھلکتی ہیں۔اُن کی شاعری بالخصوص غزل کا بہت مضبوط حوالہ انسان اور انسانی زندگی کے مختلف روپ ہیں ۔اُنہوں نے بیرونی طور پر معاشرے میں جو کچھ دیکھا اپنی شاعری میں احسن طریقے سے بیان کیا۔ زیادہ تر نئے زمانے کے افکار کو شاعری میں جگہ دی ہے۔وہ انسانی احساسات وجذبات کو معاشرتی قدروں کے قریب لاتے ہیں۔وہ اپنی شاعری میں نئے دور کی تصویریں دکھاتے ہےں۔
سالک نے جذبوں کو جن رنگوں میں ڈھالا ہے ۔اُنھوں نے لفظ ایجاد نہیں کیے ہیں لیکن من کی گہرائی میں جس طرح لفظوں کو بسا کر اُنھیں شعور کے ساتھ برتا ہے وہ نظر انداز کرنے کے قا بل نہیں ہے ۔وہ لفظ ،وہ شعری تجربے نہ صرف غزلوں میں تکمیل پذیر ہو تے ہیں بلکہ آزاد اور پا بند نظموں کے دریچوں سے بھی جھانکتے نظر آتے ہیں ،یہ سلسلے اپنی انفرادیت کے با وصف روایات کے سلیقے میں سے ناتا نہیں تو ڑ تے اور فن کے ارتقاءکی نئی کہا نیوں کو بھی جنم دیتے ہیں ۔اس سسلسلے میں ان کے مشہور اشعار درجِ ذیل ہیں۔ 

اب تواپنے ہونے نہ ہونے کا شک ہے اور میں ہوں
کتنی ہل چل تھی سینے میں اس ٹھہراؤسے پہلے

یہ اپنی ذات میں محصور لوگ کیسے ہیں
پس فصیل بھی دیکھوں اُچال کر آنکھیں

مجھے تلاش نہ کر شہر جاں کی گلیوں میں
میں لا مکاں میں ہوں میرا کوئی مکاں نہیں ہے

یو نہی خلش سی ہے حرفِ دعا کے بارے میں
میں بے یقیں تو نہیں ہوں خدا کے بارے میں

تو خود کشی کا گنہ اپنے سر نہ لے سالک
یہ خلق خود ہی کو ئی اہتمام کر دے گی

یہ دور بے روز گاریوں کا ہے دور سالک
ذہانتیں کیا ، ہُنر کہاں کا ، کمائی کیسی

پہنتا ہوں میں سالک جب بھی کوئی قیمتی ملبوس
مجھے اپنا وہ صد پارہ لبادہ یاد آتا ہے

کسی نے مڑ کے نہ دیکھا مسافرِ غم کو
مثال نقشِ قدم نیم جان بیٹھ گیا

ذرا سی دیر بھی خالی رہا نہ تختِ مراد
جو اک اُٹھا تو نیا حکمران بیٹھ گیا

یہ کون اُٹھا ہے اس جلسہ گاہ میں سالک
کہ جس کو دیکھ کے سارا جہان بیٹھ گیا

حِرص کی ہو لی بس اِک لمحے کو کھیلے تھے مگر اب رنگ اُترتا ہی نہیں ہے
ایک پل کو زندگی کی بھیڑ میں گزرے ہیں اور ہاتھوں سے پرچم کھو گیا

سائے جلتی ہے گٹھا جلتی ہے
شہر کی آب و ہوا جلتی ہے

اُنہیں تو خون بہاناہے ، چاہے کس کا ہو
جو سامنے ہو اُسی کو نشانہ کرتے ہیں

قینچیاں لے کر پھرے گی شہر میں پاگل ہوا
چھت کی کڑیوں میں چُھپی چڑیوں کے پر لے جا ئے گی

تحریر:سبحان اللہ لیکچرر ڈگری کالج نواگئی باجوڑ

اباسین ایوارڈ


awes qarniاباسین آرٹس کونسل پشاور نے سال 12-2011 کے لیے اباسین ایوارڈ کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ مصنفین کے فیصلے کے مطابق تحقیق و تالیف کا جسٹس کیانی ایوارڈ پروفیسر اویس قرنی کی کتاب ’’کرشن چندر کی ذہنی تشکیل‘‘ کو دیا گیا۔ اس سے پہلے بھی کتاب کو تمام ادبی حلقوں کی جانب سے پذیرائی مل چکی ہے اور انجمن ترقی پسند مصنیفن پنجاب کی جانب سے کتاب کی تقریب رونمائی بھی ایک اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ اس کے علاوہ  ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر کتاب کے متعلق تبصرے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں عارف وقار اور مستنصر حسین تارڈ کے لکھے گئے کالم قابل ذکر ہیں۔ آہنگِ ادب کی جانب سے پیش کی جانے والی اس کتاب کا سال کی بہترین کتاب کے زمرے میں شامل  ہونا تنظیم اور خاص طور سے تنظیم کے روح رواں جناب اویس قرنی کے لیے فخر اور اعزاز کا باعث ہے۔ آہنگ ادب کے تمام ممبران کی جانب سے محترم اویس قرنی کے لیے نیک خواہشات اور ڈھیروں مبارک باد۔

حسن کی ہمہ گیر قدر کا شاعر


Photo0145غلام سرور نام ، تخلص طاہرؔ ، آبائی شہر کلاچی ، مسکن بنوں، خاندانی پیشہ طب مصروفیت کتابت ، شغل شاعری ، اوڑھنا بچھونا تصوف ۔ وہ واقعی ہمارے بزرگوں کے اُس آخری قافلے کے خوش نصیب فرد تھے جنہیں بیک وقت اتنے ڈھیر سارے مشرقی علوم اور اسلامی فنون سیکھنے کی فرصت اور موقع ملا۔ میں خود تو اُن سے شرفِ نیاز حاصل کرنے سے محروم رہا ۔تاہم اُن بڑے بوڑھوں کی جوتیاں سیدھی کرنے کا موقع مجھے ضرور ملا جنہوں نے طاہر کلاچوی جیسے بامروت اور باکرار بزرگوں کی آنکھیں دیکھی تھیں ۔ چائے بازار جہاں طاہرؔ صاحب مطب کرتے تھے وہیں ایک چوبارے میں مجھے اُستادِ محترم جناب فضل الرحمن صاحب سے اپنی طرز تحریر کی نوک پلک سنوارنے کے یادگار اور خوشگوار لمحے گزارنے کا اتفاق ہوا۔طباعت جو طاہرؔ صاحب کا پیشہ اور روزگار تھا میرے بھی خاندان کے کئی ایک بزرگوں کا کل وقتی یا جُز وقتی شغل رہا ہے۔ شاعری جہاں اُن کی ذہنی کیفیات اور قلبی وارداتوں کے اظہار کا وسیلہ تھی وہیں میرے لیے بھی ذوق کی تسکین کا سامان رکھنے کے علاوہ انسان کے ذہنی وظائف اور قلبی اُمور کے سمجھنے اور سمجھانے کا ذریعہ بنی ۔
تصوف ان کا مسلک اور کردار تھا۔ تصوف میر بھی دین اور ایمان ہے نپولین بونا پارٹ جب جرمن شاعر گوئٹے سے پہلی بار ملا تو وہ بے ساختہ پکار اٹھا کہ’’ میری ایک انسان سے ملاقات ہوئی ہے۔‘‘ میں بھی آج تک ایسے جتنے لوگوں سے ملا ہوں جنہیں طاہرؔ صاحب کی صحبت میں بیٹھنے کا ایک یا ایک سے زیادہ بار اتفاق ہوا تھا، سب کو میں نے طاہر ؔصاحب میں کوٹ کوٹ کر بھری انسانیت اور آدمیت کی تعریف میں رطب اللسان پایا۔
لوگوں سے سنے ایسے بے شمار تاثرات کو سمیٹ کر تخیل کے کینوس پر جب میں اُن کی شخصیت کا خاکہ بنانے کی کوشش کرتا ہوں تو ایسا محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتا کہ جیسے اُن کے باطن میں’’ احساس جمال ‘‘ کی کوئی ایسی ہمہ دم جھلملاتی شمع سی روشن رہتی تھی جس کی نفیس اور لطیف کرنیں کبھی تو خوش خوئی اور خوش اخلاقی کی صورت میں ظاہر ہوتی تھیں کبھی خوش خطی اور خوش نویسی کے روپ میں تو کبھی شروع کی شکل میں اپنی خوش نوائی اور خوش گفتاری سے قارئین و سامعین کے کانوں میں رس گھولتی رہتی تھی ۔ یہی احساسِ حسن و جمال اُن کے مزاج اور مذاق کی وہ بنیادی و اساسی قدر قرار دی جاسکتی ہے جو اُن کی شخصیت و کردار ، اُن کی سوچ و فکر ، اُن کے علم و فن میں نت نئی صورتوں اور شکلوں میں جلوہ گر ہوتی رہی وہ شخصی اور اجتماعی زندگی کے ہرمظہر میں ایک معیاری حسن کے جو یا رہے ادبی اصطلاح میں اگر بات کو سمجھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ایک شعر کا معیاری حسن اُس کے ’’تغزل‘‘ کو قرار دیا جاسکتا ہے طاہر ؔ صاحب کی نظر میں پوری انسانی زندگی اور خدائی کائنات ایک غزل کی طرح تھی ۔جس کا ہر ہر مظہر اور روپ اُن کے لیے ایک شعر کی حیثیت رکھتا تھا۔ جس میں وہ تغزل ( یعنی معیاری حسن ) کی تلاش میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔ شاید اسی لیے وہ ادبی اصناف میں سے غزل ہی کے اچھے شاعر ثابت ہوئے۔
فطری منظر ہو کہ نسوانی پیکر ، انسانی عمل ہو کہ سیاسی نظام معاشرتی تعلقات ہوں کہ فنی اسالیت وہ ہر چیز میں ایک معیار کا تعین کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اہلِ نظر جانتے ہیں کہ تناسب ، توازن اور معیار جمالیات ہی کی بنیادی اقدار ، شرائط اور اصول ہیں۔ طاہر کلاچوی کے اس جمالیاتی سفر کی کئی منزلیں اور پڑاؤ ہیں کہیں یہ صوفیانہ ہے تو کہیں اخلاقی ، کہیں ادبی ہے تو کہیں فنی ، کہیں یہ معاشرتی ہے تو کہیں سیاسی اورکہیں شخصی ہے تو کہیں اجتماعی ۔ اقبالؔ کی خودی کی طرح یہ ہر رنگ میں ڈوب کے بے رنگ ہے لیکن کہیں یہ بے چگوں ہے اور بے نظیر بھی ۔ افلاطون نے بنیادیں قدرین تین گنوائی تھیں یعنی حسن کا خیراور صداقت لیکن طاہرؔ کلاچوی کی انفرادیت بلکہ کملا یہ ہے کہ اُنہوں نے خیر او ر صداقت تک میں حسن کو ڈھونڈ نکالا ۔ آئیے ان کے اس جمالیاتی سفر میں کچھ دیر اُن کے ہم سفر بنیں ۔ اُن کی نظر میں غزل کا معیاری حسن اُس کی دلنشینی میں مضمر ہے:

تری دلنشین غزل ہے کہ پیامِ زیست طاہرؔ
یا کہیں سحر کے دامن سے گری کوئی کرن ہے

اب اخلاقی حسن کا معیار دیکھیے ۔ یہ احترامِ انسانیت سے عبارت ہے:

محترم جب بنو گے اے طاہرؔ
پہلے اوروں کا احترام کرو

فطرت کا معیاری حسن و سادگی کے بجائے مشاطگی اور آرائش میں دیکھتے ہیں:

عارضِ گل پہ گوہرِ شبنم
حسن کے سلسلے نرالے ہیں پڑھنا جاری رکھیں→