غزل


ہزار بار دبانے کو شہر یار اُٹھا
مگر یہ شور ِغریباں کہ بار بار اُٹھا

یہ ٹوٹ کر تو زیادہ وبال ِ دوش ھوئی
میں اٹھ پڑا تو نہ مجھ سے انا کا بار اُٹھا

یقین رکھنے لگا ھے جو عالم ِ دل پر
تو پھر علائق ِ دنیا سے اعتبار اُٹھا

عدو سے اگلی لڑائی کا دن تو طے کر لیں
چلے بھی جائیں گے شانوں پہ اپنی ھار اُٹھا

زمین ِحُسن بھی شق تھی سپہر ِعشق بھی شق
یہاں کسی سے نہ میری نظر کا بار اُٹھا

یہ بزمِ خاک نشیناں ھے سوچ کر بیٹھو
یہاں سے کوئی اُٹھا تو برائے دار اُٹھا

زمیں سہار نہ پائی مری شکست کا بوجھ
کہ جتنی بار گرا ھوں میں اُتنی بار اُٹھا

میں حُکم ِ ضبط کو نافذ نہ کر سکا دل پر
جہاں بھی ظُلم کو دیکھا ، وہیں پُکار اُٹھا

ملا کے خاک میں مجھ کو وہ جب چلا نیر
تو اُس کے پاؤں پکڑنے مرا غُبار اُٹھا

(شہزاد نیر)

رحمان بابا


کتاب کا نام : رحمان باباRahman baba

مصنف :دوست محمد خان کامل مومند

مترجم : یوسف جذاب

ناشر : ڈائریکٹریٹ آف کلچر حکومت خیبر پختون خوا

الہامی اور لازوال نغموں کے شاعر ، بلبل ہزار داستان رحمان بابا پشتو کے کلاسیکی ادب کے افق پر ایک درخشاں ستارے کی مانند ہمیشہ چمکتے رہیں گے اور بھٹکے ہوئے انسانوں کی رہنمائی کا مقدس فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے ۔ یہاں کلاسیکی ادب سے مراد وہ ادب نہیں جو کتابوں کے قبرستان میں زندگی اورحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اور نقاد حضرات اپنے شعلہ بار الفاظ اور جملوں سے اسے زندگی فراہم کررہے ہیں بلکہ اس سے وہ معیاری ادب مراد ہے جس نے زماں و مکاں کی حدود سے بالاتر ہو کر ہر دور میں عوام سے تعلق رکھا ہے۔ رحمان بابا اور پشتون لوگوں کے مابین ایک مضبوط اور نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہمیشہ رہا ہے جو کسی واسطے کا محتاج نہیں اس لیے وہ پشتو کے کلاسیکی شعراء کے صفِ اول کے شاعر ہیں ۔ یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ بابا صرف عوام کے شاعر نہیں بلکہ اپنے پہلو دار کلام کے باعث اُن کی حکمرانی سب پر ہے جس میں عوام اور خواص دونوں شامل ہیں۔ ان کی شاعری کا ناطہ گھر و حجرہ ، خلوت و جلوت ، رزم و بزم اور منبر و محراب سب سے ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کی مقبولیت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ اضافہ برابر جاری رہے گی ۔
رحمان بابا کے پاکیزہ تصورات پشتون عوام اور خواص کے دلوں میں تازہ خون کی طرف دوڑ ہے ہیں ، اسی عقیدت کا تقاضا تھا کہ ان کی شاعری جو بیک وقت سادی و پُرکاری سے عبارت ہے ، کا جائزہ لیا جائے اور ان کی الہامی شاعری کے وہ گوشے بھی دریافت کیے جائیں جو ابھی تک عوام کی نظروں سے مخفی تھے چنانچہ عرصے سے اس سلسلے میں کام ہو رہا ہے اور اب تک رحمان بابا کے فکر و فن کے حوالے سے کتابوں کی ایک معقول تعداد سامنے آگئی ہے ۔ مگر دوست محمد کامل نے رحمان شناسی کے سلسلے میں جو کارنامہ سر انجام دیا ہے اس کی وہی حیثیت ہےجو اردو ادب میں اقبال شناسی کے حوالے سے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی ’’فکر اقبال‘‘ کو حاصل ہے چنانچہ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ رحمان بابا بڑے شاعری تھے مگر ان کے کلام کی تفہیم و تعبیر کے لیے انہیں نقا د بھی بڑا ملا اور یہ حقیقت میں ان کی خوش قسمتی تھی ۔ زیرِ بحث کتاب ’’ رحمان بابا‘‘ ان کے کاوش کا ثمرہ ہے جسے رحمان شناسی میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے ۔ حمزہ شنواری نے 1958ء میں کتاب کے مقدمے میں لکھا تھا کہ ’’پشتو ادب میں اس سے اچھی کتاب نہیں لکھی گئی ۔‘‘ اور دیکھا جائے تو حمزہ صاحب کے اس دعوے کی حیثیت آج بھی برقرار ہے۔
یوسف جذب صاحب نے دس سال کی محنت سے اس کتاب کو اردو میں ترجمہ کیا ہے ۔ جس کا مقصد ایک طرف اردو دان طبقے کو رحمان بابا کی فکر سے آشنا کرانا ہے تو دوسری جانب کامل صاحب کے عالمانہ اسلوب کو بھی اردو میں منتقل کرکے اردو دان طبقہ کو اس اسلوب سے واقفیت کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحقیقی حوالے سے کتاب میں حوالہ جات اور مفید حواشی کا اضافہ بھی ترجمہ نگار کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے،۔