قلزمِ فیض میرزا بیدل


کتاب کا نام : قُلزمِ فیض میرزا بیدل bedil

تحقیق و ترتیب : شوکت محمود (پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں)

ناشر : قاضی جاوید ناظم، ادارہء ثقافت اسلامی لاہور

ڈاکٹر سید ابوالخیر کشفی کی یہ بات درست ہے کہ غالب کی دلآویز شخصیت اور دلپذیر فن پہ قلم اُٹھانے والے ہر سوانح نگار، محقّق اور نقاد نے غالب کی 25 برس کی عمر تک کی شعر گوئی پہ طرزِ بیدل کے اثرات کا فنی و نفسیاتی جائزہ ضرور لیا ہے۔ لیکن یہ بات بھی غلط نہیں کہ ابوالمعانی مرزا عبدالقادر بیدل کی اردو میں اپنی قائم بالذات شناخت ہمیشہ سے موجودرہی ہے۔اعلیٰ پائے کے بے شمار تحقیقی اور تنقیدی مضامین اس کے علاوہ ہیں جو وقتاً فوقتاً علم و ادب اور فکر و نظر کی مقتدر ہستیوں کے قلم سے نکل کر مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ۔ شمع ادبیاتِ بیدل میں ایسی وہ کونسی دلفریب کشش ہے جو ہر دور میں شاعروں ، ادیبوں ، صوفیوں ، مفکّروں اور دانشوروں کو اپنے گرد پروانہ وار طواف پر مجبور کرتی رہی ہے ؟ اس کا سادہ اور آسان سا جواب تو یہی ہے کہ بیدل شاعروں کا شاعر ، صوفیوں کا صوفی او ر مفکروں کا مفکر ہے اِ سی لیے ہر سطح کا قاری اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق اُس سے ذوق و شوق ، فن و تکنیک، فیض و عرفان اور فکر و نظر کی غذا حاصل کر سکتا ہے۔ علامہ اقبال نے ویسے تو نہیں کہا تھا کہ ”دنیا میں چار اشخاص یعنی محی الدین ابنِ عربیؒ ، شنکر اچاریہ ، بیدل اور ہیگل کے طلسم میں جو شخص گرفتار ہو گیا تو وہ مشکل سے رہائی پاسکتا ہے۔ ان میں سے ایسے اشخاص بھی ہیں جو اپناتن من دھن سب تج کر بیدل کے چرنوں میں دھونی رما کے یوں بیٹھ رہتے ہیں کہ پھر موت کے علاوہ اُنہیں وہاں سے کوئی اُٹھا نہیں پاتا۔ میری مراد خواجہ عباد اللہ اختر ، ڈاکٹر عبدالغنی اور سید نعیم حامد علی الحامد سے ہے۔ ان میں اوّل الذکر نے اپنی بے نظیر کتاب بیدل کے محیطِ بے ساحل میں چالیس سال کی عمیق غوّاضی کے بعد تحریر کی، ثانی الذکر تا دمِ آخر میں بیدل کی سوانح شخصیت اور فن کے مختلف پہلوﺅں پر دادِ تحقیق دیتے رہے اور ثالث الذکر نے بھی ”بہار ایجادی بیدل“ کی تالیف ، تحقیق اور ترجمے پر حیاتِ مستعار کے بیس سال پھونک ڈالے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ صاحبِ کرامات مرزا بیدل نے اپنے بعد آنے والے اِسی چُنیدہ اور گرویدہ گروہ کے لیے کہا تھا :


دیگر چہ سحر پرورد افسونِ آرزو
من زاں جہاں بہ حسرتِ دیدارت آمدم


کسی قدر طویل یہ تعارفی تمہید اس لیے باندھنی پڑی کہ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی کا بھی ذوق رکھنے والے قارئینِ ادب پر واضح ہو سکے کہ بیدل فہمی کی روایت عالمانہ شان اور تحقیقی وقار کے ساتھ بیدل کی وفات سے لے کر تادمِ تحریرِہذا اردو میں نہ صرف موجود رہی ہے بلکہ مستقبل میں بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس کے جاری و ساری رہنے کے امکانات نہایت روشن ہیں۔ جناب شوکت محمود کی جانب سے اس کتاب کی تدوین بھی انہی کاوشوں میں سے ایک ہے جو وقتاً فوقتاً اہل قلم حضرات کی طرف سے بیدل فہمی کے سسلسلے میں جاری اور ساری رہی ہے۔ زیرِ نظر مجموعے کو تین حصّوں میں تقسیم کیاگیا ہے :
الف )سوانح و شخصیت
۱۔مرزا بیدل (محمد حسین آزاد)
۲۔مرزا بیدل کیا عظیم آبادی نہ تھے ؟ (سید سلیمان ندویؒ)
ب)فکرو فن
۱۔مرزا عبدالقادر بیدل (مولانا غلام رسول مہر)
۲۔مرزا عبدالقادر بیدل (ڈاکٹر عبدالغنی)
۳۔میرزا عبدالقادر بیدل (ڈاکٹر جمیل جالبی )
۴۔بیدل ! آفتاب ِ جہل سوز و علم تاب(نعیم حامد علی الحامد )
۵۔پردیسی کے خطوط(بیدل کے سلسلے میں)(مجنوں گورکھپوری)
۶۔بیدل کی انفرادیت (ڈاکٹر سید عبداللہ)
(حقائق پسندی ، تمثال آفرینی)
۷۔بیدل کی غزل اور اخلاق و موعظت (ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی )
ج)موازنہ و تقابل
۱۔غالب اور بیدل (پروفیسر حمید احمد خان)
۲۔اقبال اور بیدل (ڈاکٹر ابواللّیث صدیقی )

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s