الف نون


آنگلو بانگلو، ہیکل  اینڈ جیکل ، چلوسک ملوسک کے    کارناموں سے سجی کہانیاں آپ میں سے اکثر نے پڑھ یا سن رکھی ہونگی ، اب ان دادی جی کے زمانے والی کہانیوں سے باہر آ جائیے ، کیونکہ میں لایا ہوں آپ کیلئے الف اور نون کے کرتوت  نما کارنامے۔ مثل مشہور ہے  “اللہ ملائی جوڑی ، اک انھا تے اک کوڑھی” لیکن خبردار !!!الف اور نون پر یہ مثل  فٹ  نہیں آتی، نہ ہی کوئی فٹ کرنے کی کوشش کرے  ۔
ان سے ملیے اس لم ڈھینگ کانام والدین نے  اویس  قرنی پتا نہیں کیا سوچ کر رکھا تھا ، قد چھ فٹ ایک انچ تین سوتر ہے ، اپنے محلے کی واحد شخصیت ہے جو خدانخواستہ کبھی نہا کر باہر آجائے تو لوگ اپنے کام ادھورے چھوڑ کر  “عید مبارک” کہتے ہوئے  ایک دوسرے سے لپٹ جاتے ہیں ،  دنیا صرف دو سو عورتوں کی عزت کرتا ہے  ،  اور باقی خواتین سے یہ واقف نہیں  ۔  اور اس عجیب و غریب و مسکین  انسان کا نام نیرنگ  یعنی نین ہے ، جسم بالکل پتلا اور سوکھا ہوا جس پر  رکھا ہواایک منحنی سا چہرہ عجیب بہاریں دکھا رہا ہوتا ہے ، جیسے کسی کیلے کو چھیل کر اس کے اوپر سیب رکھ دیا گیا ہو اگر اس کے جسم میں تھوڑی سی چربی ، خون اور کافی سارا گوشت بھر دیا جائےاور  رنگ تھوڑا سا سفید نہیں تو سانولا ہی ہو جائے توامید ہے  ایک صحت مند انسان نظر آئے گا۔
دونوں ہی تعلیم یافتہ مگر بیروزگار ہیں ، اور خیر سے محلے دار ہیں   ۔ پھٹکارنے اور کوسنے میں آسانی کی خاطردنیا نے  ان بھلے مانسوں کا نام  الف اور نون رکھ چھوڑا ہے۔ جمعہ  پڑھنے مسجد  کی طرف جا رہے ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے چندہ مانگنے جا رہے ہیں ۔ جب مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو امام مسجد ان پر نظر پڑتے ہی لوگوں کو بتا دیتا ہے کہ جیب کتروں سے ہوشیار رہیں ۔ عید کے دن کسی سے گلے ملنے کی کوشش کریں تو گلے ملنے والا سب سے پہلے تو اپنی جیب سے ساری چیزیں نکال کر دوسرے کو پکڑاتا ہے، پھر ان سے گلے ملتا ہے ۔ کبھی کبھار فاتحہ پڑھنے قبرستان جا ئیں تو یوں لگتا ہے جیسے چرس پینے جا رہے ہیں۔
“چوبیس ۔۔۔۔۔۔۔”
الف ریلوے لائن پر بیٹھا  مکھیاں مارنے میں مگن تھا کہ نون آ گیا ۔ اور  منہ لٹکا کے بیٹھ گیا۔
پچیس  ۔۔۔۔۔”
الف بدستور مکھیاں مارنے میں لگا رہا ۔
“چھبیس۔۔۔۔۔۔”
نون نے جب دیکھا کہ  الف نے نہ حال احوال پوچھا ہےنہ  لٹکے منہ کی وجہ پوچھ رہا ہے، تو بیزاری سے بولا :۔ “یار کیا  پہلی جماعت میں داخلہ لے لیا ہے ؟ جو پھر سے گنتی کو رٹا لگا رہے ہو۔؟”
“ستائیس ۔۔۔۔۔۔”
الف نے نون کی جانب دیکھا  اور بولا:۔”خیر تو ہے آج تمہارا منہ توری کی طرح لٹکا ہوا ہے ۔ شکل شریف پر ساڑھے  تیرہ کیوں بجے ہوئے ہیں ۔؟”
“اٹھائیس ۔۔۔۔۔۔”
نون کا منہ کچھ اور لٹک گیا :۔ “بس یار کچھ نہ پوچھ۔”
الف:۔” اچھا یار نہیں پوچھتا ، تو بھی کیا یاد کرے گا۔”
“انتیس۔۔۔۔۔۔”
نون (تنگ آ کر):۔” یار اب بند بھی کر معصوم مکھیوں کا قتلِ عام ،  لنڈے کی جرسی پہن کے تو بھی خود کو  امریکی میرین سمجھنے لگتا ہے ۔”
الف:۔” یار تیس تو پوری کرنے دے ۔ بس ایک مکھی اور مار لوں۔”
نون:۔” تیرا کیا خیال ہے تیس مکھیاں مارنے کے بعد لوگ تجھے تیس مارخان  سمجھنے لگیں گے۔؟؟ ”
الف :۔” اور یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیس۔۔۔۔۔۔
ارےلوگ تو الو کے پٹھے ہیں ، کسی کو بھلا کیا قدر میرے اندر چھپی ٹیلنٹ کی کان کی ۔ لوگوں کی بات کر کے میرا موڈ نہ خراب کرو۔”الف کا بھی اچھا خاصا منہ بن گیا
نون:۔” اور میرا جو موڈ خراب ہے اس کی کوئی فکر نہیں تمہیں ۔؟ ”
الف:۔” پوچھا تو تھا ۔ ویسے اگر برا نہ مناؤ تو تمہارا منہ دیکھ کر ایسالگتا ہے جیسے زپ والا سموسہ ایجاد ہو گیا ہو۔
میرے دوست ہماری تو قسمت ہی خراب ہے موڈ تو پھر بھی بنتی بگڑتی چیز ہے ۔”
نون :۔” یار دنیا میں ایک تم ہی دوست ہو میرے اور اب تم بھی جگتیں لگانے لگے ہو  (گنگناتے ہوئے ) دوست،  دوست نہ رہا۔۔۔۔۔  یار،  یار نہ رہا۔۔۔۔۔”
الف ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا :۔”رحم۔۔۔۔ جناب بڑے مہدی حسن صاحب۔۔۔۔ رحم۔۔۔۔  کشور کمار کی روح کو تڑپانے کی بجائے سیدھی طرح بکو کہ مسئلہ کیا ہے۔؟ ”
نون:۔” بس یار میرا تو اب اس نامراد زندگی سے جی اکتا گیا ہے ، جی چاہتا ہے کسی گندے نالے میں چھلانگ لگا دوں ۔”
الف:۔” اوہ یار تم تو واقعی سنجیدہ ہو ، میں سمجھا ایویں ڈرامے بازی کر رہا ہے ۔ خیر تو ہے کیا ہوا؟”یہ کہتے ہوئے الف نے جونہی نون کے کندھے پر تسلی دینے کیلئے ہاتھ رکھا تو نون تڑپ اٹھا اور بولا :۔” آرام سے یار، ابے نے آج پھر  میری اچھی خاصی خاطر تواضع کی ہے ، جسم دکھ رہا ہے۔”
الف کُڑک مرغی کی طرح ہنسا:۔” ہمت کر یار ! مجھے دیکھ ! میری بھلا گھر میں کونسا عزت افزائی ہوتی ہے ۔ اب تک تو ہم دونوں کو اس روز روز کی مار کا عادی ہو جانا چاہیے تھا ۔”
نون کا منہ کچھ اور بن گیا  :۔” ڈھٹائی کے جس مقام پر تم فائز ہو ، وہاں تک پہنچنے میں مجھے ابھی کافی عرصہ لگے گا۔”اور ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولا :۔”   پتا نہیں کب وہ دن آئے گا جب گھر میں ہماری بھی کچھ عزت ہوگی۔”
الف:۔”پیارے لال! یہ خواب دیکھنا بے کار ہے ، نہ ہمیں کہیں نوکری ملے گی ، نہ ہم کچھ کما کر گھر لے جائیں گے، نہ ہی ہمیں گھر میں عزت نصیب ہو گی ۔”
نون:۔” یار پیسہ کمانے کا ذریعہ صرف نوکری ہی تو نہیں ہے ، ہم کوئی اور کام دھندہ بھی تو کر سکتے ہیں ۔ دماغ لڑا یار ! کوئی ترکیب سوچ، مجھ سے اب اور مار نہیں کھائی جاتی ۔”
الف کچھ سوچتے ہوئے بولا:۔”  یار ایک ترکیب ہے تو سہی ، مگر   ہم کامیاب ہو جائیں گے یا نہیں، اس بات کا دارومدار تجھ پر ہے  ۔”
نون :۔” بتاؤ گے نہیں تو کیسے پتا چلے گا  مجھے ، میں کوئی نجومی یا بزرگ تو ہوں نہیں نہ ہی ٹیلی پیتھی  جانتا ہوں جو تیرے دماغ  کے گھن چکر پڑھ لوں۔ چلو اب جلدی بتاؤ بھی۔” نون کی بے تابی دیکھنے لائق تھی۔
الف:۔” ڈاکٹر لوگوں کی آج کل چاندی ہی چاندی ہے ۔ اگر ہم ایک عددد کلینک کھول لیں تو پھر مزہ ہی آجائے ، اندھی کمائی ہے ، منہ مانگی فیس ، اور عزت الگ سے ۔ لوگ ڈاکٹر صاحب ، ڈاکٹر صاحب کرتے نہیں تھکتے ۔”
نون: ۔ (منہ بنا کر) “یہ منہ اور مسور کی دال ۔ محلے میں سب ہمیں جانتے ہیں، اب اچانک کون ہمیں ڈاکٹر صاحب سمجھے گا؟  پلان وہ بنا ؤ ، جو قابلِ عمل بھی ہو۔خیالی پلاؤ تو میں خود بھی تم سے اچھا پکا سکتا ہوں ۔ ”
الف:۔” سیانے سچ ہی کہتے ہیں ، عقل نئیں تے موجاں ای موجاں ۔ جس کی سوچ کبھی محلے کی حدود سے نہ نکلی ہو وہ بھلا زندگی میں کیسے ترقی کر سکتا ہے ، ہمارے محلے سے باہر بھی محلے ہیں  ، وہاں بھی لوگ رہتے ہوں گے، لازمی بات ہے وہ بیمار بھی ہوتے ہونگے ۔”
یہ سن کر  نون  کی باچھیں خوشی سےشرقاً  غرباً پھیلنے لگیں  ، اچھلتے ہوئے بولا   :۔ اچھا تو تمہارا مطلب ہے ہم کسی اور محلے میں کلینک کھولیں گے؟  یار بات تو تمہاری زبردست ہے۔(پھر اچانک جیسے غبارے کی ہوا نکل جائے ) مگر کلینک صرف باتوں سے تو نہیں بن جاتا ، سامان وغیرہ کہاں سے آئے گا ؟”
الف:۔ کیا تم صرف حصہ بٹورو گے؟ ، ترکیب میں نے سوچی ہے ، اب کچھ تم بھی تو حصہ ملاؤ ، آگے کا پلان تم بناؤ ۔  سامان کچھ زیادہ تو نہیں چاہیے ، بس ایک میز ، دو چار کرسیاں ، ایک عدد الماری ۔۔۔۔۔۔
نون:۔ (بات کاٹ کر) اور دوائیاں وغیرہ کہاں سے آئیں گی؟  میز کرسیاں تو میں گھر سے لے آؤں گا ، باقی کا انتظام تم کرو۔
الف :۔ یہ ہوئی نا بات ، سرکاری ڈنگر ہسپتال کا چوکیدار ہمارا کلاس فیلو ہے ، اس سے دوائیوں کے ڈبے اور دوائیاں وغیرہ مانگ لیں گے ، آخر دوست کب کام آئے گا، الماری میں گھر سے اٹھا لاؤں گا ۔اور پندرہ بیس روپے کا تھرما میٹر  بھی کسی میڈیکل سٹور سے خرید لیں گے۔
نون :۔ خرید لیں گے۔۔۔۔۔ ، جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہیں اور باتیں شہنشاہوں والی۔۔۔۔۔، خرید لیں گے۔ کبھی دس روپے کے نوٹ کی شکل بھی دیکھی ہے؟  پیسے کہاں سے آئیں گے؟  میں اس بار کسی سے ادھار نہیں مانگنے والا ۔ پچھلی بار بھی تیرے کہنے پر ذلیل ہوا تھا ۔نون کے لہجے  کی تلخی  ماضی قریب کے کسی سانحے کی غماز تھی
الف:۔ ارے چھوڑ یار ، اب ہم ڈاکٹر بننے والے ہیں ، اور تو ماضی کا منحوس ذکر کر کےاتنے اچھے پلان پر نحوست کے سائے ڈالنے میں لگا ہے  ۔بس اب جیسے بھی ہمیں کامیاب ہو کر دکھانا ہے ۔ میں تو ان کمبخت دنیا والوں کو وہ ٹیکے لگاؤں گا، وہ ٹیکے لگاؤں گاکہ یاد رکھیں گے۔اور پیسوں کی فکر نہ کر ، مہ جبین آپی سو ڈیڑھ سو تو ادھار دے ہی دیں گی۔ اور کلینک کیلئے جگہ کی فکر نہ کر ۔ وہ اپنا دوست ہے نا بلال اعظم ان کی فردوس مارکیٹ میں کچھ دکانیں پڑی ہیں ، ایڈوانس سے تو جان چھوٹی ، اور کرایہ بھی مناسب ہوگا۔
نون خوفزدہ ہوتے ہوئے بولا :۔ یار مجھے تیری اس ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی عادت سے ڈر لگتا ہے ، پھر جب مار پڑتی ہے تو تیری یہ لمبی لمبی ٹانگیں تجھے بچا لے جاتی ہیں ، اور پٹنے کیلئے میں اکیلا رہ جاتا ہوں ۔ پلان فول پروف ہونا چاہیے ۔ دکان کو چونا کتھا تو خیر میں  خودکر لوں گا ، مگر سائن بورڈ اور وال چاکنگ کیلئے پینٹرکا انتظام تیرے ذمے۔
الف کے حامی بھرتے ہی یہ “قرارداد ِ روزگار” متفقہ طور پر منظور ہو گئی ، شرکا نےخوشی سے  ایک دوسرے کو مبارک باد دی  اور شیخ چلی کی طرح مستقبل کے سہانے خوابوں میں غوطے کھانے لگے
اگلے کچھ دن دکان کی سیٹنگ کرنےمیں  لگ گئے ،کلینک کی پیشانی پر جلی حروف میں ایک خوشخبری خوشخط درج کی گئی تھی :۔نشتر ہسپتال ملتان ، اور بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں ناکام پریکٹس اور  نکالے جانے کے بعد ڈاکٹر صاحب اب آپ کے محلے میں۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر الف لام میم ۔ایم بی بی ایس ، ایف آر سی پی ،ایچ  ٹی ایم ایل ،سی ایم ایچ کے علاوہ   اور بھی الٹی سیدھی اے بی سی میں کئی نامعلوم ڈگریاں درج تھیں ۔ ماہر امراض مردانہ و زنانہ ۔ ماہر نفسیات ۔ کامیاب زندگی گزارنے میں مددگار مشورے۔ راز داری کی ضمانت،  وغیرہ وغیرہ  ۔  کلینک کا نام”الف نون ہیلتھ کلینک ” رکھا گیا ۔دکان کو اندر سے رنگ روغن کرنے کی ذمہ داری نون نے بخوبی نبھائی ۔ میڈیکل چارٹس دیواروں پر سجا دئیے گئے ، ڈاکٹر صاحب کیلئے ریوالونگ چیئر  جبکہ کمپاؤنڈر یعنی نون کیلئے ایک کرسی  ، مریض کیلئے ایک سٹول ، اور لواحقین کیلئے ایک عدد لکڑی کا بنچ رکھے گئے تھے ۔الف کا گھرسے  لایا گیا  شو کیس دواؤں کی الماری کے طور پر دھرا تھا ، جس میں ڈنگر ہسپتال سے لائی گئی قسم قسم کی دوائیاں اپنی بہار دکھا رہی تھیں ۔ نون نے   ماحول میں کلینیکل رنگ بھرنے کیلئے           سپرٹ اور ۓٹنکچر آیوڈین کا محلول بنا کر کلینک میں چھڑکا دیا ۔اس کا خیال تھا کہ سپرٹ اور ٹنکچر کی بو مریضوں پر ایک خاص طرح کا نفسیاتی اثر ڈالتی ہے اور وہ ڈاکٹر کے رعب میں رہتے ہیں۔
آخر کار وہ  دن بھی آن پہنچا جب الف نون ہیلتھ کلینک کا شاندار افتتاح انجمن ِ سگریٹ نوشاں کے ضلعی صدر جناب وارث مرزا کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوا ۔ اس مبارک  موقع پر محلے کے بچوں کی کثیر تعداد کے علاوہ کچھ نشئی اور چرسی حضرات بھی موجود تھے ، جنہوں نے تالیاں پیٹ پیٹ کر خوشی کا اظہار کیا ۔فضلو کمہار کے گدھے اور چند آوارہ کتوں نے آرکسٹرا کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ اس کے علاوہ  جامع مسجد کے مولوی صاحب نے بھی علاقہ میں ہیلتھ کلینک کے قیام کا اعلان کر کے حقِ حلوہ ادا کیا ۔ یہ ترکیب نون کی تھی ، مولوی صاحب کو حلوے کی دو چار پلیٹیں پیش کرکے  آمادہ ءِ پبلسٹی کیا گیا ۔ حلوے والی ترکیب کے دوررس نتائج ظہور میں آئے ۔ مولوی صاحب نے نہ صرف کلینک کے قیام اور افتتاح کامسجد کے سپیکر سے  اعلان کیا ، بلکہ جمعہ کے خطبے میں بھی احادیث اور سنت ِ نبوی ﷺ کی روشنی میں بیماریوں کے علاج اور اس سلسلے میں ڈاکٹر کی اہمیت واضح کی ۔
پہلے دن کلینک پر ایک بابا جی کی پُر شور آمد ہوئی ۔ بابا جی نہ صرف کثرت  کلامی شوقین تھے ، بلکہ سونے پہ سہاگہ اونچا بھی سنتے تھے۔ڈاکٹر الف نے اس سے چھٹکارے  کی ترکیب یہ نکالی کہ بابا جی کے منہ میں تھرما میٹر د ے کر بٹھا دیا اور خود کئی دنوں کے باسی اخبار کا معائنہ  شروع کر دیا ۔کافی دیر تو بابا جی نے برداشت کیا مگر شاید اس سے زیادہ دیر چپ بیٹھنا ان کی برداشت کے باہر تھا ، اس لیے انہوں نے تھرما میٹر نکال کے میز پر پٹخا اور ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے ان دنوں کو یاد کرنے  لگے ، جب” ڈاکدار وں” کی وبا ابھی روئے زمیں پر نہیں پھیلی تھی ، اور کرہ ارض پر ہر طرف حاذق حکیم  پائے جاتے تھے ۔ تھرما میٹر کی بدعت کا تصور بھی نہ تھا ، اور حکیم لوگ نبض پکڑ کر پیٹ کے کیڑے بھی گن لیتے تھے ۔ ماضی کو یاد کرتے وقت بابا جی کو کراہنا اور کھانسنا بھی بھول گیا ۔ اس دوران ایک واقعہ بھی سنایا :۔”(بزبانِ بابا جی) میرا ایک دوست جس کا نام رمضان تھا  مگر ہم سب اسے “دڑا” کہتے تھے ، وہ دائمی قبض کا مریض تھا ، ایک بار کہیں حکیم محمود مغل سے ملاقات ہو ئی تو حکیم صاحب نے اپنے دواخانے کا پتا بتایا اور کہا کہ ایک بار آؤ ، پھر بتانا کہ قبض بڑی کہ حکیم ۔  ہم دو دوست دڑے کے ساتھ حکیم صاحب کے دواخانے جا پہنچے ، دڑے نے کہا حکیم صاحب کئی علاج کیے ہیں مگر افاقہ تو دور کی بات کوئی فرق بھی نہیں پڑتا ۔حکیم صاحب نے تسلی کے ساتھ ساتھ   ایک پڑیا بھی دی  ۔ ہم حیران ہوئے اور کہا حکیم صاحب !کئی سیرروغنِ ارنڈ ( کیسٹر آئل) پی کر بھی اس کی قبض کا کچھ نہیں بگڑا یہ چھوٹی سی پڑیا   بھلا کیا کرلے  گی ۔ حکیم صاحب نے پڑیا کھلا کے کہا وہ سامنے یہاں سے ایک ایکڑ دور  مکئی کا جو کھیت ہے آپ کے وہاں تک جا کر واپس آئیں انشاءاللہ قبض کا نام ونشان بھی نہیں ہوگا ۔ دڑے کو یقین تو نہیں آیاپھر بھی آزمانے میں کیا حرج تھا ۔ ابھی ہم دواخانے سے نکل کر پانچ یا چھ قدم ہی چلے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس کے بعد بابا جی کو ہنسی کا دورہ پڑ گیا ،  بتیسی نے شاید عافیت کی تلاش میں ہنسی کے پہلے ریلے کے ساتھ ہی منہ سے باہر چھلانگ لگا دی ۔ ہنسی کیا تھی ، یوں لگتا تھا بابا جی جان کنی کے عالم میں ہیں ،بتیسی سے عاری منہ سے کچھ اس قسم کی آوازیں خارج ہوئیں جیسی کہ پرانے زمانے میں پن چکیوں سےآیا کرتی ہونگی ۔  سینہ پھولنے پچکنے سے پسلیاں چٹخیں تو نون کے ہاتھ پیر پھول گئےاور ڈاکٹر الف نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً جوتا اٹھا کر بابا جی کے ناک سے لگا دیا ۔ اس تیر بہدف  نسخے نے کمال دکھایا اور بابا جی کی ہنسی کوخدا خدا کر کے  بریک لگے ۔  کچھ وقت بابا جی کو معمول پر آنے میں لگا اوراس دوران نون نے کچھ لال پیلی گولیوں کی پڑیا باندھ کر بابا جی کے حوالے کر دیں ۔ بابا جی جہاندیدہ آدمی تھے ، یہ با عزت اشارہ سمجھ گئے اور   کراہتے ہوئے پوچھا :۔ کتنے پیسے ہوئے بیٹا ؟
نون:۔ “ویسے تو  ڈاکٹر صاحب صرف چیک اپ اور تشخیص کی فیس دو سو روپے لیتے ہیں ، مگر آپ چونکہ ہمارے بزرگوں جیسے ہیں ، اور ہمارے پہلے مریض بھی ، اس لیے  آپ  سے صرف دوا کے پیسے لیں گے ، آپ صرف دو سو روپے ڈھیلے کریں ۔”
بابا جی کا منہ حیرانی سے ادھ کھلا رہ گیا :۔ کیا۔۔۔۔؟؟؟ دو سو روپے ۔۔۔؟؟؟ ایک ہمارا بھی  زمانہ تھا ، جب حکیم مہنگے سے مہنگے  کشتے کی  پڑیا بھی پانچ روپے میں دیا کرتے تھے ۔  بیٹا کچھ تو رعایت کرو ،  میں تو صرف پچاس روپے دوں گا ۔”
نون نے ابھی کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ الف نے مداخلت کی :۔ ” بزرگو!! آپ بھی کن زمانوں کی بات کرتے ہیں ، اب تو پانچ روپے بھی فقیر نہیں لیتے ۔ دو سو روپے بھی  تو ہم نے آپ کو رعایتی قیمت بتائی ہے  ۔  ویسے اگر گولیوں کے دوسو روپے آپ کو زیادہ لگ رہے ہیں ، تو کوئی بات نہیں ۔ ”  نون سے مخاطب ہو کر :۔ “ایسا کرو تم بابا جی کو ٹیکہ لگا دو ، پچاس روپے میں تو ٹیکہ ہی لگایا جا سکتا ہے ۔”
ٹیکے کے نام سنتے ہی بابا جی کے اوسان خطا ہو گئے ، چہرے کا رنگ مزید سیاہ ہو گیا ، اور کانپتی آواز میں بولے:۔ “نہیں نہیں بیٹا ۔۔۔ ٹیکہ رہنے دو ، گولیاں ہی ٹھیک ہیں ۔ یہ لو دو سو روپے ۔”اور گولیاں  لے کر کلینک سےرخصت ہوئے ۔ بابا جی جونہی کلینک سے نکلے ، الف اور نون نے بے اختیار بھنگڑے اور دھمالیں ڈالنا شروع کر دیں ۔ “ایسا لگتا ہے میں ہواؤں میں ہوں ۔۔۔آج اتنی خوشی ملی ہے  ۔” گاتے ہوئے ان دونوں  کے سٹیپ اگر اس وقت مائیکل جیکسن بھی دیکھ لیتا تو انگشت بدنداں رہ جاتا ۔جی بھر  ناچنے کے بعد  جب دونوں میں مزید اچھل کود کی سکت نہ رہی تو الف اپنی کرسی پر بیٹھ کے ہانپنے لگا ، اور نون کو  لکڑی کے  بنچ نے سہارا دیا،ٹانگوں کے جواب دے جانے کے باوجود بھی نون  کی خوشی کم ہونے کا نام نہیں ے رہی تھی۔ بنچ پہ بیٹھے بیٹھے ہی وجد میں ڈوب گیا ۔شام کو گھر جاتے وقت دونوں نے پہلی کمائی آدھی آدھی آپس میں بانٹ لی۔
اگلے دن صبح جب دونوں کی کلینک پر ملاقات ہوئی توالف نے حال پو چھا :۔ “سناؤ جگر !!آج بڑے خوش نظر آ رہے ہو ،  آج خالہ نے مولیوں والے پراٹھے کھلائے ہیں اپنے کماؤ پوت کو۔ ہیں نا۔؟”
نون کی باچھیں پہلے ہی کانوں کو ہاتھ لگانے کی کوشش میں تھیں ، اب جو الف نے چھیڑا تو دانت بھی نکل آئے ، خوشی سے بھرپور لہجے میں بولا :۔ “بڑا ندیدہ ہے یار تو ۔تجھے کیسے معلوم ہوا کہ میں مولیوں والے پراٹھے کھا کے آ رہا ہوں ۔؟؟”
الف ناک سکوڑتے ہوئے بولا :۔”مہکاریں چغلیاں کھا رہی ہیں کہ نون  غنہ  مولیوں والے پراٹھے سے ناشتہ  کر کے آیا ہے۔”
نون  کھسیانی ہنسی ہنسا اور   بتانے لگا:۔” واقعی یار سچ ہی کہتے ہیں ، کہ پیسے میں بڑی طاقت ہے ۔ کل تو گھر میں وہ عزت ہوئی کہ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ میری عزت ہو رہی ہے ۔ گھر جا کے جب ابے کو سو کا نوٹ پکڑایا ، تو اس نے جوتا اتار لیا ، کہنے لگا اب تو چوریاں  بھی کرنے لگا ہے؟  میں نے  جب سمجھایا کہ مجھے ایک کلینک پر نوکری مل گئی ہے اور یہ آج کی دیہاڑی ہے ، تو اماں جو بیلنا اٹھا کے میرا نشانہ لگانے ہی والی تھی ، اس کے  ہاتھ سے بیلنا گر گیا ، اور بڑھ کے میرا ماتھا چوم لیا ۔ابا جی کا بھی پیار امڈ امڈ کر آنے لگا ۔اور تو اور کل میں نے جب چھوٹےبھائی کی روٹی سے ایک دو لقمے لیے تو باں باں کر کے رونے لگا ۔ اماں نے اسے جھڑکا  “چل اب چپ کر ۔ بڑا بھائی ہے تیرا” جبکہ اس سے پہلے اگر میں اماں کے لاڈلے کی شان میں خدانخواستہ کوئی گستاخی کر بیٹھتا تھا تو مار کے علاوہ میرا دن بھر دانہ پانی بین کر دیا جاتا تھا ۔”
الف ہنستے ہوئے بولا :۔ ” ہاں بھئی  !! باپ بڑا نہ بھیا ،سب سے بڑا روپیہ ۔ کل میرے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی واردات گزری، حسبِ معمول گھر میں داخل ہوتے ہی اماں کی چپل چیل کی طرح مجھ پر جھپٹی ، جسے میں کمال مہارت سے کیچ کر لیا، اور آؤٹ کی زور دار اپیل کی ، ایمپائر نے میرے ہاتھ میں لال نوٹ دیکھ کر آؤٹ کا اشارہ دے دیا ، اور پھرتو  اماں کو مجھ پر اتنا پیار آیا جیسے میں حج سے واپس آیا ہوں ۔”
اسی طرح باتیں کرتے کرتے کلینک کی صفائی اور جھاڑ پونچھ ہو گئی۔ اور دونوں کسی شکاری کی طرح مچان سنبھال کے بیٹھ گئے  ،
ایک آدمی اپنے بیٹے کی انگلی پکڑے کلینک میں داخل ہوا ، اور سلام دعا کے بعد بولا :۔” ڈاکٹر صاحب !! میرے بیٹے کی طبیعت بہت خراب ہے ، ذرا اس کا چیک اپ تو کریں۔”
نون نے تسلی دیتے ہوئے کہا :۔  “جناب اطمینان سے تشریف رکھیں ، اب ڈاکٹر صاحب جانیں اور بیماری جانے ۔”  (بچے سے مخاطب ہو کر )  “آ جاؤ بیٹا !  ادھر ڈاکٹر صاحب کے پاس سٹول پر بیٹھ جاؤ ۔”
آدمی فکرمند لہجے میں بولا :۔ “میرا یہ اکلوتا بیٹا ہے ، بڑی منتوں مرادوں کے بعد اللہ نے ہمیں یہ عطا فرمایا ۔ کل سے اسے بہت بخار ہے  مجھے تو بہت فکر ہو رہی ہے ۔”
بچے کی عمر تقریباً آٹھ یا نو سال ہوگی ، وہ آکے سٹول پر بیٹھ گیا ۔ ڈاکٹر الف نے بچے کے منہ میں تھرما میٹر لگایا اورباپ سے بولا :۔ “آپ فکر نہ کریں ، اب آپ الف نون ہیلتھ کلینک پر تشریف لائے ہیں ، تو بڑی سے بڑی بیماری کی بھی مجال نہیں  کہ ٹھیک نہ ہو ۔ ” تھرما میٹر پر ٹمپریچر دیکھا اورکہا :۔ “بچے کو تو بہت بخار ہے ۔”پھر بچے کے  منہ کا معائنہ کیا ۔
بچے کے باپ سے رہا نہ گیا تو بے تابی سے پوچھا :۔”ڈاکٹر صاحب !! کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو ؟  یہ ٹھیک تو ہو جائے گا نا۔؟؟؟”
الف نے بچے سے زبان دکھانے کو کہا ، اور پھر فکر مند لہجے میں بولا :۔ ” آپ کے بیٹے کو رانی کھیت (بیماری )ہے ۔”
بچے کا باپ حیرت سے اچھل پڑا :۔ ” مگر۔۔۔۔ مگر ۔۔۔ وہ تو مرغیوں کی  بیماری ہے ۔۔۔ ”
الف کے ماتھے پر شکنیں پڑ گئیں ، اور رعب دار لہجے میں بولا :۔ “اچھا تو کیا آپ مجھ سے زیادہ بیماریوں کے بارے میں جانتے ہیں ۔؟؟؟  ڈاکٹر میں ہوں یا آپ ہیں ۔۔۔۔؟؟؟ کیا میں نہیں جانتا کہ رانی کھیت مرغیوں کی بیماری ہے۔؟؟”
آدمی تھوڑا شرمندہ ہو گیا اور بولا :۔ ” ڈاکٹر صاحب میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا ، مجھے آپ کی قابلیت پر کوئی شک نہیں ، مجھے تو اس بات پر حیرت ہےکہ مرغیوں کی بیماری میرے بیٹے کو کیسے ہو گئی ۔”
الف نے فلسفیانہ انداز میں  سمجھایا :۔ ” یہ اکیسویں صدی ہے جناب! اب کچھ بھی نا ممکن نہیں رہا ، کیا کچھ عرصہ پہلے آپ کو معلوم تھا کہ برڈ فلو کیا ہے ؟ اور وہ انسانوں کو بھی ہو سکتی ہے؟؟؟ ۔ کیا آج سے پانچ سال پہلے آپ نے کبھی ڈینگی مچھر اور ڈینگی بخار سنا تھا ۔؟؟؟ میڈیکل کا شعبہ اگر اتنا ہی آسان ہوتا تو آج ہر بندہ ڈاکٹر نہ ہوتا ۔ یہ جو ڈگریاں باہر بورڈ پر لکھی ہوئی ہیں ، وہ سب میں نے کوئی ردی کی دکان سے نہیں خریدیں۔  کیا سمجھے آپ ۔؟؟؟؟”
آدمی الف کی لن ترانیوں سے تھوڑا مرعوب ہوگیا ، اور بولا :۔ ” جی ڈاکٹر صاحب!  آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، مگر خدا کیلئے کچھ کیجئے ، کوئی ایسی دوا دیجئے کہ میرا بیٹا جلد سے جلد ٹھیک ہو جائے ۔ فیس کی آپ فکر نہ کریں ، بس میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے۔”
منہ مانگی فیس کا سن کر الف کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی ، اور نون کے بھی دانت نکل آئے ۔الف نے تسلی دی اور کہا:۔ “شفا تو اللہ دینے والا ہے مگر دوا دینے کیلئے ہم بیٹھے ہیں  ناں ۔ آپ فکر نہ کریں ، ہماری دوا سے آپ کا بیٹا جلد ہی ٹھیک ہو جائے گا ۔ مگر دوا ذرا مہنگی ہے ۔”
آدمی  بے تابی سے بولا :۔ ” ڈاکٹر صاحب فیس کی فکر نہ کریں ، بس میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے ۔ ”
الف نے کاغذ پر کچھ الٹی سیدھی لکیریں  گھسیٹ کر پرچی  نون کو پکڑائی اور کہا کہ یہ دوائیاں پیک کر دو۔ نون نے ایک مٹھی لال گولیوں کی ایک مٹھی پیلی اور ایک مٹھی گلابی گولیوں  کی اور ایک مٹھی کیپسول شاپر میں ڈال کر آدمی کے سامنے رکھ دئیے ۔آدمی نے پوچھا :۔ “ڈاکٹر صاحب ! ان کو کیسے کھلانا ہے؟   اور احتیاط ، پرہیز وغیرہ بھی بتا دیں ۔”
الف:۔ ” چھ گولیاں اور دو کیپسول  پانی کے ساتھ ۔ صبح دوپہر اور شام ، مگر احتیاط کیجئے گا کہ خالی پیٹ دوا کا سائیڈ ایفیکٹ ہو سکتا ہے ۔”
آدمی :۔ “بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب !  کتنے پیسے ہوئے ؟؟  ”
نون:۔ ” دو سو روپے چیک اپ فیس  اور ایک ہزار روپے دوائیوں کے ۔ یہ کل ملا کر بارہ سو روپے ہوئے ۔”
آدمی نے حیرانی سے پہلے نون اور پھر الف کی طرف دیکھا ، اور پھر جیب سے بارہ سو روپے نکال کر دئیے اور بیٹے کی انگلی پکڑ کر کلینک سے رخصت ہو گیا ۔
الف نون کا تو جیسے بھنگڑا پیریڈ شروع ہو گیا ۔ اور” موجاں ہی موجاں ، شام سویرے ہُن موجاں ہی موجاں” کی دھن پر خوب بھنگڑا بازی ہوتی رہی ،جو کہ ایک اور مریض کی آمد پر موقوف ہوئی ۔
اس طرح الف نون کلینک چل نکلا اور خوب آمدنی ہونے لگی، الف اور نون کے تو جیسے پیر ہی زمین پر نہ ٹکتے تھے ، اور دماغ تو ظاہر ہے ساتویں آسمان پر بیٹھا غالبؔ کی طرح یہی سوچتا کہ :۔ منظر بلندی پر اک اور ہم بنا سکتے٭٭ عرش سے ادھر ہوتا کاش کہ مکاں اپنا۔لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منا سکتی ہے بھلا ۔  بے چارے الف اور نون جو کہ نہ تو کہیں کے دانا تھے نہ کسی ہنر میں یکتا تھے ، فلک ِ کج رو بے سبب ہی ان مسکینوں  سے دشمنی پر اتر آیا۔
دو دن بعد وہ آدمی گھبرایا ہوا کلینک میں آیا ، اور آتے ہی پریشان لہجے میں بولا:۔”ڈاکٹر صاحب ! غضب ہو گیا  ہے ، میرا بیٹا تو اب مرغیوں جیسی آوازیں نکالنے لگ گیا ہے ۔ پلیز ڈاکٹر صاحب کچھ کریں ، میرا تو یہ اکلوتا وارث ہے ، اسے کچھ ہو گیا تو  ہم جیتے جی مر جائیں گے۔”
الف نے تسلی دی اور چیک اپ کے بعد کہا :۔” آپ نے پرہیز اور دوا کھلانے میں کوئی بے احتیاطی کی ہوگی ، اس وجہ سے بیماری پھیل رہی ہے ۔  خیر فکر کی کوئی بات نہیں ۔ آپ یہ دوا لے جائیں ، اور انشاءاللہ آپ کا بیٹا جلد ہی صحت یاب ہو جائے گا۔”
اور نون نے الف کے کہنے پر اور دوا پیک کر دی  اور پانچ سو روپے بٹور لیے۔
اسی طرح دن بھر کلینک پر مریضوں کا تانتا بندھا رہا ،  اور نون کسی کو انجکشن ، کسی کو گولیا ں، کسی کو مکسچر  محلول   دے کر لوٹتا رہا۔
اگلے دن کلینک پر ایک مریض آیا اور مسکین صورت بنا کے بیٹھ گیا :۔”  ڈاکٹر صاحب !! میں بہت پریشان ہوں ، لیکن میں اپنا مسئلہ سب کے سامنے بیان نہیں کر سکتا  ۔”
الف اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اوراس کے کندھے پر تھپکی  دے کر  کہا :۔ ” اطمینان رکھو یار ۔  بے فکر ہو کر اپنا مسئلہ بتاؤ ۔”
مگر اس کی تو بس وہی رٹ تھی :۔ “ڈاکٹر صاحب  میں بہت پریشان ہوں  ۔۔۔۔۔۔”
نون اس رٹ سے زچ ہو کر بولا :۔ “یہ ہیلتھ کلینک ہے کسی عامل بنگالی باوا ، یا نجومی اعظم کا آستانہ نہیں۔ اللہ کے بندے اپنا مسئلہ بیان کرو گے تو کچھ حقیقتِ حال کھلے گی ۔”
اس کے چہرے پہ مظلومیت  کے سائے مزید گہرے ہو گئے  :۔ ” وہاں بھی گیا تھا ۔ کوئی عامل  بنگالی نہیں چھوڑا  ۔ کئی حکیموں کے پاس بھی گیا   مگر ۔۔۔۔۔۔”
الف اور نون بیک  زبان  بولے:۔ “مگر کیا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
آدمی :۔ “مگر وہ تو ہفتوں ، اور مہینوں کی بات کرتے ہیں ۔ جبکہ(شرماتے ہوئے) میری پرسوں شادی ہے ۔”
الف:۔” اچھا تو یہ بات ہے ۔۔۔۔۔ مگر اس کا تو مستقل علاج کیا جاتا ہے ، جس میں کچھ وقت تو بہر حال لگتا ہی ہے لیکن  اطمینان  رکھیں کوئی بھی مرض ایسا نہیں جس کا علاج نہ ہو۔”
آدمی:۔” ارے نہیں  نہیں  ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔ آپ غلط سمجھ رہے ہیں ۔ اللہ کا شکر ہے میں  بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں ۔ لیکن یاروں دوستوں نے ڈرایا ہوا ہے ۔  ایلو پیتھی  میں کوئی تو ایسی زود اثر دوا ہوگی ، جو کسی ممکنہ شرمندگی سے بچانے میں مددگار ہو ۔”
نون  کے منہ سے ایک لمبی سی اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ   نکلی ۔ جیسے کافی دیر سے رکا سانس اب خارج ہو اہو۔الف کی تنی ہوئی بھنویں بھی اپنی اصلی حالت میں لوٹ آئیں ۔ اور ایک لمبی سی سانس لے کر بولا :۔ “یہ تو  بہت اچھی بات ہے ، احتیاط اچھی ہوتی ہے ۔ اس سے بھی اچھا آپ نے یہ کیا کہ ہمارے کلینک پر تشریف لے آئے ۔ویسے حکیموں کا اب صرف نام ہی رہ گیا ہے ، ایلو پیتھی بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ۔  ادویات تو بہت ساری ہیں ۔ لیکن اس کا انحصار آپ کی جیب  پر ہے ۔ جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا میٹھا ہوگا ۔ میرا مطلب ہے  قیمتی ادویات کی قیمت بھی تو زیادہ ہوتی ہے ۔ لیکن اگر آپ زیادہ خرچہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں ، تو پھر دوائی اسی معیار کی ہوگی ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کیا پسند کرتے ہیں ۔”
آدمی کی تو  یہ تسلی بخش بات    سن کرباچھیں پھیل گئیں۔ خوشی سے بولا :۔ ” خرچے کی فکر نہ کریں ۔ بس دوا قابل ِ بھروسہ ہونی چاہیے ۔ اورسائیڈ ایفیکٹ  بھی کوئی نہ ہو تو کیا ہی بات ہے ۔ آپ اچھی سے اچھی دوا دیں ، پیسوں کی بالکل فکر نہ کریں ۔”
مرغے کو جال میں پھنستے دیکھ کر نون کے دل میں بھی لڈو پھوٹ رہے تھے ، اور چہرے سے بھی خوشی کے جھرنے بہہ رہے تھے   ۔ الف کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بولا :۔ ” بس پھر آپ بھی  بالکل فکر نہ کریں ، جناب !!”
الف  کے کہنے پر نون دوا کی ایک خوراک کی پڑیا باندھ لایا ۔ اور آدمی کے حوالے کر دی ۔ الف  نے ہدایات دیتے ہوئے کہا :۔” یہ آپ پرسوں  شام کو دودھ کے ساتھ کھا لیجئے گا۔”
آدمی  خوش ہو گیا اور پوچھا :۔ ” بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب !!  آپ کی وجہ سے اب میں خود کو کافی پر اعتماد محسوس کر رہا ہوں ۔ کتنے پیسے ہوئے دوا کے ۔؟”
الف :۔ ” آپ بالکل بھی فکر نہ کریں  اسے کوئی عام دوائی  نہ سمجھیں ،  سونے کا کشتہ بھی اس کے سامنے کچھ نہیں ۔ آپ  ایسا کریں صرف  دو ہزار دے دیں ، اور بے فکر ہو جائیں ۔”
آدمی نے خوشی سے جیب سے ہزار ہزار کے دو نوٹ نکالے اور الف کے حوالے کر دئیے ۔
نون نے خوشی سے  کہا :۔” دولہا صاحب !! آپ کو الف نون  ہیلتھ کلینک کی جانب سے شادی مبارک ہو۔”
اگلے دن  کلینک کھلنے کے کچھ ہی دیر بعد بچے کا باپ  نہایت پریشانی اور بدحواسی کے عالم میں آیا ، اور روہانسی آواز میں بولا:۔ “ڈاکٹر صاحب !! غضب ہو گیا ،  میرے بیٹے کی بیماری تو جیسے بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔   میری تو جان پر بنی ہوئی ہے ۔ پلیز ڈاکٹر صاحب کچھ کریں ۔۔۔”
الف  نے اسے تسلی دی:۔ “حوصلہ رکھیں جناب !!   آپ کو کیونکر لگتا ہے کہ  بیماری بڑھتی جا رہی ہے۔؟؟”
آدمی کی پریشانی کسی طرح کم ہونے میں نہ آ رہی تھی :۔ ڈاکٹر صاحب !! پہلے تو وہ صرف مرغیوں کی طرح آوازیں نکالتا تھا ، مگر اب تو مرغی کی طرح بیٹھ جاتا ہے ، عجیب طرح سے کُڑ کُڑ کرتا ہے ۔ ہمیں تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔”
الف  ہنکارا بھرتے ہوئے :۔ “ہممم  مم ۔۔۔۔موذی مرض ایسے ہی تو جان نہیں چھوڑتے نا، کچھ وقت تو بہر حال لگتا ہے ۔شاید آپ کے بیٹے کو یہ دوا راس نہیں  آ رہی ، اب کے نسخہ تبدیل کر کے دیکھتے ہیں ، انشاءاللہ آپ کا بیٹا جلد ہی مکمل صحت یاب ہو جائے گا۔”
اور اٹھ کر الماری سے ایک  محلول کی شیشی اٹھائی ، جس پر مرغیاں اور بطخیں  بنی ہوئی تھیں ، اور چھ سات مٹھیاں بھر کے گولیاں بھی پیک کر دیں  ۔ اورآدمی سے کہا :۔ “یہ دوا لے جائیں ، اور اس محلول کے دو چمچ ہر تین گھنٹے بعد پلا دیجئے ، اور گولیاں جتنی زیادہ کھلائیں گے اتنی ہی جلدی آپ کے بیٹے کی بیماری  ختم ہو گی ۔”
وہ شکریہ ادا کر کے اور پیسے دے کر چلا گیا ، اور الف نون  حسبِ معمول مریضوں کو ٹیکے لگاتے رہے، اور اپنی جیبیں  بھرتے رہے۔
دو دن بعد جب  الف  نون کلینک پر مریضوں کی لائن لگی ہوئی تھی  ۔ایک آدمی دولہے کے لباس میں  غصے سے بپھرا  ہوا اپنے ساتھ پانچ چھ ہٹے کٹے پہلوانوں   کے ساتھ کلینک پر آ دھمکا ، اور آتے ہی شور مچانا شروع کر دیا:۔ “دغا بازو، دھوکے بازو!! تم انسان نہیں شیطان ہو ۔ آج تمہاری خیر نہیں ۔۔۔”
الف کے چہرے پہ ہوائیاں اڑنے لگیں ، اور نون کا   “اڑنے سے پیشتر  رنگ زرد” ہو گیا بلکہ ٹانگیں بھی کانپنے لگیں ۔ لیکن آسمان کے ترکش میں ابھی ایک اور تیر باقی تھا ۔ اسی اثنا میں  بچے کا باپ بھی غصے میں لال بھبھوکا  ہوا ، تین دیو جیسے آدمیوں ، جنہوں  نے ہاتھ میں ہاکیاں سنبھالی ہوئی تھیں کے  ساتھ کلینک میں داخل ہوا،  اور چلا کے بولا :۔ ” یہ ہیں  وہ قصائی ، پکڑ لو ان کو جانے نہ پائیں ۔ ”
کلینک پر موجود مریضوں کے ساتھ آئے لوگوں نے بیچ بچاؤ  کرانے کی کوشش کی ، اور کہا  کہ مسئلہ کیا ہے ، کچھ پتا تو چلے ۔ مگر ان دونوں کے منہ سے تو غصے کے مارے جھاگ نکل رہا تھا ۔اس شور شرابے میں کچھ اور لوگ بھی جمع ہو گئے ، اور سب نے پوچھا کہ جھگڑا کیا ہے تو دولہا بولا :۔ “میرے ساتھ تو ایسا ظلم کیا ان شیطان کے چیلوں نے کہ کسی کے ساتھ نہ ہوا ہوگا ۔ میری کل شادی تھی ۔ میں ان سے دوا لینے آیا تو انہوں نے مجھ سے قیمتی دوائی کے نام پر دو ہزار بٹور کر مجھے  پتا نہیں کونسی گولیاں دے دیں ، جو کھانے کے کچھ ہی دیر بعد مجھے باتھ روم سے نکلنا نصیب نہیں  ہوا اور  میری سہاگ رات کموڈ پر بیٹھے بیٹھے گزر گئی ۔”
بچے کا باپ بھی غصے میں پاگل ہو رہا تھا :۔ “میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ، جب تک ان کی ہڈی پسلی ایک نہ کر لوں ، مجھے چین نہیں آئے گا ۔”
الف اور نون کی حالت لمحہ بہ لمحہ غیر ہوتی جا رہی تھی ،اور انہیں مار پڑنے سے پہلے ہی دن میں تارے نظر آنے لگے ۔نون الف کے کان میں بولا:۔  “مروا دیا نا ۔ آج تو لگتا ہے غالب کے پرزے بھی اڑیں گے اور تماشا بھی خوب ہوگا  ۔”الف نے جواب میں کچھ کہنا چاہا مگر حلق سے آوا ز نہ نکل سکی ۔ اور سوکھے لبوں پہ بے چارگی سے زبان پھیر کر رہ گیا
ایک بوڑھے نے بچے کے باپ سے پوچھا :۔ “پتر تو کس بات پہ اتنا لال پیلا ہو رہا ہے ۔؟”
وہ  چلاتے ہوئے بولا :۔ ” ارے میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔۔۔۔میرے بیٹے کو بخار تھا  میں دوا لینے آیا تو اس جعلی ڈاکٹر نے کہا کہ میرے بیٹے کو رانی کھیت ہے ۔   ان کی دی ہوئی دوائی سے کل رات میرے بیٹے نے  انڈہ دے دیا ۔ میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ۔”
اور لپک کے الف کی جانب بڑھا ۔ اس کی دیکھا دیکھی اس کے ساتھ آئے ہوئے مسٹنڈے  بھی ہاکیوں سے بے چارے الف اور  نون پر پل پڑے ، دولہا اینڈ کمپنی بھلا کیوں پیچھے رہتی ۔ انہوں نے بھی  یلغار کر دی ۔ حد تو یہ ہوئی کہ موقع پہ موجود لوگ بھی  بیچ بچاؤ  کرانے کی بجائے  ثوابِ دارین  سمجھ کے اس مار کٹائی میں اپنا حصہ ملانے لگے    ۔پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔۔۔۔۔۔

تحریر : چھوٹا غالب

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s