خوابِ بنوں


شاید کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے قابل نہ رہا ہو۔ اس لیے آنکھ جیسے ہی نیند کے تانگے میں ہچکولے کھانے لگی ، بالکل اسی وقت ہم سوزوکی میں سوار بنوں شہر کی طرف جارہے تھے ۔ لیکن یہ کیا؟ خوابِ غفلت میں کچھ ہوش کے ناخن لیے تو دیکھا کہ سوزوکی میں نسوار کے گولے پھینکنے کا مقابلہ زور و شور سے زیادہ توں آخ توں۔۔۔ سے جاری تھا۔ آخر کار نتیجہ بے کار یہ نکلا کہ ایک نہایت ہی بوڑھے آدمی کو تین سو گولے پھینکنے پر القابات جدیدہ و خرافاتِ حمیدہ سے نوازا گیا۔ لیکن ایک دوسرے آدمی نے میچ فکسنگ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ نسوار اس بابا جی کو سوزوکی کا ڈرائیور بلیک میں (کنڈکٹر) کے ذریعے پہنچا رہا تھا۔
خدا خدا کرکے شور و غل ختم نہیں ہوا تھا کہ سوزوکی اڈے میں داخل ہوئی اور سفر بے سکوں کا اختتام ہوا۔ اور سر میں دو گولی ڈسپرین سے آرام ہوا۔ مگر دل یہ دیکھ کرحیران ہوا اور ہر کوئی پریشان ہوا کیونکہ کیچڑ میں ڈوبنے کا امکان ہوا۔ اور لوگوں کی زبانوں پر میونسپلٹی کا ہر رکن بندنام ہوا۔ مختصراً یہ کہ اڈے کے سامنے چوک پر کشتیاں مسافروں کو حفاظت سے کیچڑ کا دریا عبور کرنے میں لگی ہوئی تھیں۔ہر کوئی حکومت کے اس اقدام پر حکومت کے گن گانے لگا۔ دوسری سائیڈ پر سڑک کے درمیان میں بوریاں رکھی ہوئی تھیں ۔ ہم حیران و پریشان و سرگھومان ( سرگھوم رہا تھا) تھے کہ معلوم ہوا کہ یہ آیا یا چینی کی بوریاں نہیں بلکہ یہاں پر تھانہ ہے۔ جہاں پر عام سے پولیس کی حفاظ کی جاتی ہے ۔ یہ الگ بات کہ سڑکوں پر بھی عوام پولیس سے محفوظ نہیں ہیں۔
لیکن صاحب بنوں کے لوگ انتہائی صفائی پسند ہیں اس لیے کوڑا کرکٹ کا ایک تنکا بھی دکان میں نہیں رہنے دیا جاتا بلکہ درمیان میں سڑک پر پھینکنا یہاں کا اصول ہے۔ ایک آدمی نے ہمیں خبردار کیا کہ کوڑا کرکٹ سائیڈ میں نہیں بلکہ درمیان میں پھینکنا فرض ہے اور خلاف ورزی کرنے والا ۰۰۱ روپے واجب القرض ہے ( جرمانہ ہے) ہم نے بھی فرض پورا کرتے ہوئے کچھ اینٹ پتھر اٹھا کر سڑ ک میں پھینک دئیے تاکہ قرض باقی نہ رہے۔
ناجائز تجاوزات کی کمیٹی کے ارکان گزر رہے تھے جو کہ ریڑھی بانوں اور دکانداروں کو سامان ہٹانے سے زیادہ ان کو پٹانے میں میں لگے ہوئے تھے اور جو ہاتھ آیا شکریہ کے ساتھ وصول کیا اور چلتے بنے۔ ایک ٹریفک والے نے ہم سے کہا کہ موٹر سائیکل کے کاغذات دکھاﺅ ۔ ہم نے ان کو جلدی سے جیب میں پڑی عینک نکال کر تھمائی کہ شاید صاحب کی نظر کمزور ہے کیونکہ ہم تو پیدل تھے ۔ اس نے کہا کہ موٹر سائیکل ہے تو ہم نے کہاں ہاں گھر پر ہے۔ بولا تو پیدل کیوں آرہے ہو۔ کہا ہم نے کہا کہ اے افسر شاہی پیٹرول پھر ۶ روپے فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔ خوب نوک جھونک کے بعد معاملہ بیس روپے میں طے ہوا اور ہمیں شاعر کا یہ شعر یاد آگیا :
اے نیاز ! چپکے سے نوٹ جب اسے ایک سو کا تھما دیا
جسے لوگ کہتے تھے سخت خو، اُسے موم ہم نے بنا دیا
لیکن میرے پاس سو نہیں بلکہ بیس کا نوٹ تھا جو ہم نے ان کی نذر کر دیا۔
چنگ چی کی وجہ سے لوگوں کو بڑی سہولت ہے لیکن وہ جو اس میں بیٹھے ہوئے ہوں اور مصیبت پیدل چلنے والوں کو اٹھانا پڑتی ہے۔ جیسے ایک بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اسی طرح کسی بھی ٹریفک حادثے کے پیچھے ایک چنگ چی کاکارفرما ہونا جیسے ایک ضروری امر ہے۔
بنوں شہر تو جیسے سڑکوں اور عمارتوں کی بجائے منڈیوں سے بنا ہے۔ قدم قدم پر منڈیاں ہی منڈیاں ہیں۔ مال منڈی ، بٹیر منڈی ، گڑ منڈی ، روئی منڈی ، نعمت منڈی یہاں کی مشہور منڈیاں ہیں۔ یہاں حضرات سے گزارش ہے کہ اگر وقت کی بچت ( جو کہ کوئی بھی نہیں چاہتا ) مقصود ہے تو نوٹ فرما لیں کہ جمعہ کے دن مال منڈی کے راستے سے نہ گزریں ۔ کیونکہ جو کوئی مال منڈی کے ٹریفک میں پھنس گیا تو وہ صاحب ایسے پھنستا ہے جیسے کوئی کشتی منجدھار میں پھنس جاتی ہے۔ کوئی قیدی کیوبا کی جیل سے رہائی پاسکتا ہے اور پشاور آسکتا ہے مگر اس ٹریفک سے نکلنا ایسا ہے جیسے کہ امریکہ عراق اور افغانستان سے نکل رہا ہے۔
واہ صاحب جمعہ کے دن بازار کوئی جائے اور اس جگہ نہ جائے جو کہ امریکہ و یورپ کی تجارتی منڈیوں ، دبئی اور سعودی کی سپر مارکیٹوں اور اسلام آباد ، کراچی ، راولپنڈی اور لاہور کی بازاروں سے زیادہ مشہور ہے ۔ شاید اس کی تعریف کچھ بھی نہیں ہے لیکن”تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا“ کے مصداق اسی پر گزارا کریں۔ صاحب آپ بھی پیٹ پر زور دے کر سوچ رہے ہوں گے کہ بنوں میں ایسی کونسی جگہ ہے جس کی تعریف میں دنیا کا انسائیکلو پیڈیا بیان ہو رہا ہے۔ تو حاضرین وغائبین و ناظرین و سامعین و مبصرین و ماہرین و ناقدین ، قدیمین (بوڑھے) وجدیدین ( بچے ) و شبابین ( جوان)الغرض سب صاحبِ شوقین سوائے عورتوں کے خبردار ہوں کہ یہ وہ جگہ ہے جو بنوں کی شان ، بنوچیوں کی جان نعمت منڈی کا جمعہ بازار ۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ یہ تعریف بے جا تو نہ تھی جمعہ بازار میں آپ کو وہ چیز بھی مل جائے گی جو آپ کو لندن کے سپر مارکیٹوں میں دستیاب نہ ہو سکے۔
لوگ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ، مسجدوں میں جائیں یا نہ جائیں مگر جمعہ بازار میں نہ جائیں یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ کیونکہ جمعہ بازار میں جانا فرائض کبریٰ میں داخل ہے۔ جمعہ بازار میں آپ کو ہر طرح کے لوگ وافر مقدار میں میسر آئیں گے۔ امیر ، غریب ، سچے ، جھوٹے ، لوفر ، چور ، بھکاری ، نشئی نیز ہر کوئی جمعہ بازار میں کچھ خریدے یا نہ خریدے لیکن جائیں گے ضرور ، کیونکہ یہاں پر ان کی حاضری بے حد ضروری ہے۔
اگر مردم شماری والوں کو جمعہ بازار کی آبادی گننے کا کام دیا جائے تو ایمولینس بھی ساتھ میں ضرور کھڑا ہو کیونکہ کسی بھی رکن کا دل اختیار سے باہر ( ہارٹ اٹیک) ہو سکتا ہے ۔ یہ نہ ہو تو کم از کم یہ ارکان ضرور کئی دنوں تک نیند میں گنتی کرنے کے عادی ہو جائیں گے۔ جمعہ بازار میں آپ کو قیمتی چیزوں سے زیادہ بے قیمت چیزیں نظر آئیں گی۔ کیونکہ قیمتی چیزیں کوئی نہیں خریدتا۔ پانچ روپے کے پلاﺅ یا حلو ہ پلیٹ سے کسی بھی پیٹو رام کا پیٹ بھر سکتا ہے مگر گھر جاتے ہوئے پیٹ درد کی گولیاں لینا نہ بھولیے گا۔ اس بازار میں آپ کو سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک تمام چیزیں دستیاب ہیں لیکن اصلی ہوائی جہاز نہیں بلکہ کھلونا ہوائی جہاز۔
یہاں سے دل نورنگ کے ڈاٹسن کی طرح بھر گیا تو سوچا کہ کیوں نا یہاں سے بے نمبر ڈاٹسن کی طرح نکل کر ٹیڑھا ٹیڑھا پارک کی طرف چلا جاﺅں ۔ یہ سوچ کر بڑی آہ بھری کہ یہ کارآمد خیال میرے بے کار دل میں کیسے آیا۔ خیر ”چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر، آہستہ آہستہ “ پر عمل کرتے ہوئے آہستہ سے قدم اٹھانے شروع کیے۔ راستے میں ہم نے وافر مقدار میں دھوئیں کی بوتلیں پیئں اور گندی نالیوں کی خوشبو سے یہ مزہ دوبالا کیا۔ آخر کار پارک آ ہی گیا ۔ ارے کیا یہ وہی پارک ہے یا ہم غلط جگہ میں آگئے ہیں ؟ دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے تو سامنے بورڈ پر ہدایات درج تھیں جو کہ شاید لکھنے والوں نے بھی دوبارہ پڑھی ہوں ۔ کیا ریوں کے ساتھ ہی لکھا ہوا تھا کہ پھول توڑنے ، پتے توڑنے اورپودے اکھاڑنے کی کھلی اجازت ہے۔ اب عوام تو بڑے فرمان بردار واقع ہوئے ہیں اس لیے تو صرف کیاریوں کے نشانات باقی رہ گئے تھے۔ ڈسٹ بینوں پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ کوڑا کرکٹ اس میں ہرگز نہ ڈالیں۔ اس لیے بیٹھنے کی بھی جگہ نہ بچی تھی۔ نہروں میں گندگی سے ماحول اور زیادہ خوشگوار ہوگیا تھا۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہاں پر کبھی جھولے وغیرہ ہوا کرتے تھے ۔ پارک کا نام ”شہید با با پارک“ شاید اس لیے تھا کہ فضل قادر شہید کو انگریزیوں نے شہید کر دیا تھا مگر پارک لوگوں کے ہاتھوں شہید ہوا چاہتا تھا۔ شاید اب لوگ کہیں کہ یہاں پر کبھی پارک ہوا کرتا تھا۔
جیسے مقبوضہ کشمیر پاکستان سے الگ کیا گیا بالکل ایسے ہی بنوں چھاﺅنی بنوں سے الگ شمارہوتی ہے۔ دال میں کچھ کالا ہو یا سفید کوئی صاحب چھاﺅنی کے اندر جانے کی قطعی کوشش نہ کرے۔ حکومت نے شناختی کارڈ اور کچہری کے دفاتر شاید اسی لیے اندر چھوڑے ہیں تاکہ عوام کو فوج کی پاور کا یقین ہوتا رہے ۔ لیکن ایک بات ہے کہ اس طرح سے عوام کو سیدھی قطاریں بنانا تو آگئی ہیں۔
ہاکی گراونڈ کے باہر بروسلی صاحب کرتب دکھا رہے تھے ۔ لیکن یہ فلموں والا بروسلی نہیں جو کہ مارشل آرٹ اور کراٹے میں ماہر تھا بلکہ یہ تو بروسلی آف بنوں ہے ۔ اس کے کرتب کبھی بھی انجام پذیر نہیں ہوتے۔ مثلاً شروع میں رسی زمین پر ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ رسی سانپ کی طرح چلے گی ، پھر اس کو درمیان میں چھوڑا اور دوسرا کرتب شروع کیا اُسے بھی پورا نہ کیا اور تیسرا شروع کیا یہاں تک کہ نشست کے اختتام تک نہ رسی سانپ کی طرح چلی اور نہ دوسرا اور تیسرا کرتب مکمل ہوا۔ ایک دفعہ کسی نے کہا کہ رسی تو نہ چلی تو ہاتھ کھینچ کر رسی کو یہاں سے وہاں لے گئے اور کہا کہ بس آپ کا گلہ دور ہوگیا۔
بھکاریوں کارش ہرجگہ پرلگا رہتا ہے اگر اُن کو جیل بھیجنے کا حکم ہو جائے تو بنوں میں ایک اور جیل کی تعمیر نہایت ضروری ہوگی۔ اب بھکاری بھی ۵ روپے سے کم نہیں لیتے کہتے ہیں کہ مہنگائی زیادہ ہوگئی ہے۔
مسجدوں میں نمازیوں کے ساتھ ساتھ نشئی بھی درجنوں کی تعداد میں آتے ہیں لیکن نماز پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سائیکل اور چپل وغیرہ چرانے کے لیے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ چپل مسجد میں ساتھ لے جائیں ، نماز میں بھی چپلوں پر کھڑی نظر رکھیں ، سجدے جلدی جلدی ادا کریں تو چپلوں کے بچ جانے کا امکان ہے ۔ ہم نے بھی ان ہدایات پر عمل کیا مگر سلام ایک طرف پھیرنے کے بعد دوسری طرف سلام پھیرنے سے قبل ہی ماہر چپل چور اپنا کام کرگیا تھا۔ لوگ موسیقی کے دلدادہ ہیں اس لیے نماز کے اندر بھی اس کا اہتمام ہوتا ہے۔ مختلف ساز و آواز مختلف موبائلوں پر نماز کے اندر بھی سننے کو ملتا ہے۔
بنوں میں بجلی بالکل نہیں جاتی کیونکہ وہ آتی نہیں تو جائے کیسے۔ چینی اورآٹا یوٹیلی سٹوروں کے ساتھ ساتھ دکانوں میں بھی قطاروں میں ملتا ہے ۔ بنوں کے لوگ چندہ دینے میں بہت آگے ہیں۔ عوام ہرروزہ چندہ دیتے ہیں اور پولیس نہایت چستی سے یہ سرکاری چندہ وصول کرتی ہے ۔ اور اپنے اکاموں میں خرچ کرتی ہے۔
چوک بازار میں ہرروز زلزلے آتے ہیں ڈھولوں کی آوازوں سے اور روزانہ ہزاروں لوگ ان آوازوں سے بہرے ہورہے ہیں۔ اس لیے شہر میں کانوں کے ڈاکٹروںمیں اضافہ ہوگیا ہے۔ لوگ شادی کے دوران چوک بازار آتے ہیں اور سڑکوں کے بیچوں بیچ ناچتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر وہ ” جو نہ کام کے نہ کا ج کے ، دشمن ہیں اناج کے “ اس کے علاوہ ہندوﺅں کے ساتھ اظہارعقیدت کے طور پر ہولی بھی ہروز یہاں پر کھیلی جاتی ہے۔ اجی! ہم وہ وقت نہیں بھول سکتے جب ہم ان ناہنجاروں کی حرکتوں پر ہنس سے زیادہ رو رہے تھے اور کوئی ماہر جیب کترا ہمارا جیب صاف کرچکا تھا۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو روپے ندرد ۔ ہم نے بھی اس ماہر کے قصیدے اوراس کو دعاﺅں کے ساتھ پکار پکار کر گلا پھاڑ ا لیکن سوائے گلا بیٹھنے کے اور کچھ نہ ہوا۔
رختِ سفر باندھ کر پیدل گھر واپس ہوئے۔ ابھی بازار سے نکلے ہی تھے کہ معلوم ہوا کہ ابھی اور سرکھپانا ہے۔ جناب حوالدار صاحب ہمارے استقبال کے لیے پانچ ، چھ اہلکاروں کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کا مطالبہ وہی پرانا اور نکلاہمارا انداز جو بیگانہ یعنی ہم نے سرگزشت جو سنائی تو حوالدار حیران ہو کر بولا کہ ہم سے بڑا جیب کترا شہر میں کیسے داخل ہوا۔ ہم ان کو حیران چھوڑ کر قدم آگے بڑھا رہے تھے کہ ہمارے قدم زمین سے اٹھے اور مین ہول جس کا ڈھکن غائب تھا میں جا گھسنے۔ اور ہم نیند کی سواری سے چارپائی کی سواری پر واپس آگئے یعنی جاگ گئے۔ اور دل میں کہا کہ
اے بنوں گلہ زما پہ شان دَ گلستان یے
خو پہ چمن کے دے ازغی ڈیر شوی دینہ
الغرض آپ دنیا گھومیں ، مری و اسلام آباد کی سیر کریں مگربنوں کی دھوئیں اور گردو غبار سے بھری ہوئی ہوائیں ، کوڑا کرکٹ سے ڈھکی سڑکیوں ، ٹوٹی پھوٹی گلیوں اور گندے نالوں کے دلکش مناظر ، یوٹیلٹی سٹوروں پر دھکم پیل سے سجی قطاریں ، مہنگائی سے بنی بازاروں اور اُجڑی ہوئی مرغزاریں بھولنے کے قابل نہیں ہیں۔ اگر بھولنے کی کوشش کریں تو یہ آپ کے خوابوں میں ضرور جلوہ گر ہوں گی۔ کیا یہ ہمارا بنوں حکومت کی نااہلیوں اور عوام کی بے پروائی اور کوتاہیوں سے مسائل کا گڑھ بنا رہے گا۔ اور تمام پاکستان کے مسائل اسی طرحسے پاکستان کو مسائلستان بناتے رہے گے ۔ اے اللہ ہمارے ملک پاکستان اور شہر بنوں کو مسرور بلبلوں ، رنگا رنگ تتلیوں اورخوشنما و خوشبودار پھولوں کا ایک سدا بہار گلستان بنا دے۔ آمین ثم آمین

تحریر:حافظ محمد قاسم خان

2 خیالات “خوابِ بنوں” پہ

  1. سواد آگیا بادشاہو !
    مضمون کو مزاح سمجھ کر پڑھ رہا تھا اور مضمون کی روانی میں گم تھا۔ لیکن آخری پیرا گراف پڑھ کر سنجیدہ، رنجیدہ بلکہ نمدیدہ ہوگیا۔ یہ جو نقشہ آپ نے کھینچا ہے یہ صرف بنوں کا نہیں کم و بیش سارے پاکستان کا ہے۔ اگر آج ڈارون زندہ ہوتا اور پاکستان تشریف لاتا تو یقینا اپنے نظریہ ارتقاء میں ترمیم کرتا کہ اور کہتا کہ “انسان پہلے بندر تھا لیکن آج تعلیم و تہذیب نہ ہونے کی وجہ سے کتا بن گیا ہے”۔ مسجد میں جوتا چوری ہونے کی بھی خوب کہی قلعہ اسلام میں خدا کے گھر میں بندگان خدا مجھے بھی کئی دفعہ ہاتھ دکھا چکے ہیں۔ مجبورا گھر پر نماز پڑھنا شروع کردی کہ مسجد میں اگر جوتے آگے رکھیں تو نماز نہیں ہوتی پیچھے رکھیں تو جوتے نہیں ہوتے۔

  2. بہت خوب جناب۔ بنوں شہر پر لکھی ہوءی یہ نیاب ونادر تعارفی مضمو ن پڑھ کر بہت پسند ایا۔ شہر کا جانقشہ واضح کیا ہے واقعی جامع ، مفصل اور معلومات سے بھر پور ہے لیکن شاید وقت کی کمی کی وجہ سے انتہاءی عجلت میں لکھا ہے لہذا غلطیوں کی تصحیح کی کوشش نہیں کی۔ گزارش ہے دوبارہ پڑھ کر تصحیح کیجیے۔ کوشش اچھی ہے۔ پسند ایا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s