غزل ۔ڈاکٹرفقیرا خان فقری


دندناتا ہوا جس روز نکل آئے گا
شہر کا بھوت مرے کھیت نگل جائے گا


آک ٹیلوں پہ رہیں گے نہ شجر کیکر کے
دل گڈریا ہے کہاں روز غزل گائے گا؟


پھول سرسوں کے کھلیں گے نہ مہک پھیلے گی
شہرترکول جو فطرت پہ چھڑک جائے گا


میں کہاں جاؤں گا اب سوچ رہا ہوں فقری
وقت ویرانوں میں بازار اٹھا لا ئے گا