غزل


یہ اور بات کہ موجود اپنے گھر میں ہوں
میں تیری سمت مگر مستقل سفر میں ہوں


نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جاؤں
ابھی تو چاک پہ ہوں دستِ کوزہ گر میں ہوں


میں اپنے فکر کی تجسیم کس طرح سے کروں
بریدہ دست ہوں اور شہرِ بے ہنر میں ہوں


نہ جانے کون سا موسم مجھے ہرا کر دے
نمو کے واسطے بے تاب ہوں شجر میں ہوں


یہ دوستی بھی عجب چوبِ خشک ہے ناصر
نبھا رہا ہوں مگر ٹوٹنے کے ڈر میں ہوں

ناصر علی سید

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s