غزل


غزل کی رُت کا سزاوار بھی نہیں ہوتا
یہ نخلِ جاں کہ ثمر بار بھی نہیں ہوتا


کہاں سے ڈھونڈ کے لاتے ہیں زندگی کا جواز
وہ جن کو عشق کا آزار بھی نہیں ہوتا


رہا ہے دل ہی کو شوقِ سپردگی ورنہ
پس طلب کوئی اصرار بھی نہیں ہوتا


وہ داستان بھی منسوب مجھ سے ہوتی ہے
جہاں کہیں مرا کردار بھی نہیں ہوتا


عزیز ہم کو بہت ہیں یہ جان و دل لیکن
تمہارے سامنے انکار بھی نہیں ہوتا


نہیں ہے حسرتِ تعمیر بھی کوئی طارق
مگر یہ خواب تو مسمار بھی نہیں ہوتا

ڈاکٹر طارق ہاشمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s