غزل


یہ اور بات کہ موجود اپنے گھر میں ہوں
میں تیری سمت مگر مستقل سفر میں ہوں


نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جاؤں
ابھی تو چاک پہ ہوں دستِ کوزہ گر میں ہوں


میں اپنے فکر کی تجسیم کس طرح سے کروں
بریدہ دست ہوں اور شہرِ بے ہنر میں ہوں


نہ جانے کون سا موسم مجھے ہرا کر دے
نمو کے واسطے بے تاب ہوں شجر میں ہوں


یہ دوستی بھی عجب چوبِ خشک ہے ناصر
نبھا رہا ہوں مگر ٹوٹنے کے ڈر میں ہوں

ناصر علی سید

ایک ذاتی نظم


میں اکثر دیکھنے جاتا تھا اُس کو جس کی ماں مرتی
اور اپنے دل میں کہتا تھا یہ کیسا شخص ہے؟ اب بھی
جیے جاتا ہے ۔ آخر کون اس کے گھر میں ہے جس کے
لیے یہ سختیاں سہتا ہے تکلیفیں اُٹھاتا ہے
تھکن دن کی سمیٹے شب کو گھر جانے پہ کون اس کے
لیے دہلیز پر بیٹھا ۔۔۔ دعا کی مشعلیں دل میں
جلائے ۔۔۔   دیدہ بے خواب کی ہر راہ دروازے
کی درزوں سے نکالے گا ۔۔۔ خدا کی مہربانی اک
حقیقت ہی سہی کچھ قہر آلودہ بھی ہے ۔۔۔ جو اس
کی نافرمانیاں کرتے ہیں ان کے واسطے اس نے
دہکتی آگ بھی تیار رکھی ہے ۔۔۔ دلِ کافر
میں اس کی مہربانی اور رحمت کا تصور بھی
جب آیا مامتا کے لفظ کی صورت میں آیا ہے
مری ویران آنکھوں نے پھر ایسا وقت بھی دیکھا
کہ سورج جل رہا تھا روشنی منظر سے غائب تھی
خدا زندہ تھا لیکن اس کی رحمت سر سے غائب تھی
انہی آنکھوں میں میرے خیریت سے لو آنے پر
نہ تھا اشکِ مسرت بھی ۔۔۔ کہ میری راہ تکتا جن
کی بینائی کا مصرف تھا ۔۔۔ وہ لب دو چار دن پہلے
مرے ماتھے پہ ہو کر ثبت جو کہتے تھے ”تم جاؤ
تمہاری نوکری کی بات ہے بیٹے ! میں اچھی ہوں
مجھے اب جان کا خطرہ نہیں ہے اور اگر کچھ ہو
گیا تو ہم تمہیں فوراً بنا لیں گے ۔۔۔ چلے جاؤ“
(اگر مر جاؤں میں تو صبر کر لینا ۔۔۔ خدا حافظ)
مگر یہ بات قاصر ان لبوں سے کب سنی میں نے
اسے معلوم تھا شاید کہ مائیں مر نہیں سکتیں
دلِ اولاد میں اک یاد بن کر زندہ رہتی ہیں
بلایا تو گیا مجھ کو مگر وہ لب؟ کہاں وہ لب؟
مرے فاقہ ذدہ بچپن کو نیندوں سے گریزاں ، پا
کے جو پریوں کے افسانے سناتے تھے تو میں خوابوں
میں خود کو ان کے دستر خوان پر موجود پاتا تھا
سکت باقی نہیں ہے ان لبوں میں آج اتنی بھی
کہ میری خاطر اک حرفِ دُعا کا بوجھ اُٹھا لیتے
مجھے جو دیکھنے آتے ہیں کہتے ہیں میں زندہ ہوں
میں کھاتا ہوں کہ یہ بھی زندگی کی اک ضرورت ہے
مگر ہر زائقے میں ایک تلخی کا اضافہ ہے
کسی دیوار کا سایہ ہو یا ہو پیڑ کی چھاؤں
مرا جسمِ برہنہ چھیدتی رہتی ہیں کرنیں اب
ہوا ہر وار کو بڑھ بڑھ کے خود پر روک لیتا تھا
دُعا کو ہاتھ اُٹھاتا ہوں دعائیں اس کی خاطر ہیں
میں گویا ہوں کہ میری سب صدائیں اس کی خاطر ہیں
محبت اس کی خاطر ہے وفائیں اس کی خاطر ہیں
کہ میری ابتدائیں ، انتہائیں اس کی خاطر ہیں

غلام محمد قاصر

غزل


غزل کی رُت کا سزاوار بھی نہیں ہوتا
یہ نخلِ جاں کہ ثمر بار بھی نہیں ہوتا


کہاں سے ڈھونڈ کے لاتے ہیں زندگی کا جواز
وہ جن کو عشق کا آزار بھی نہیں ہوتا


رہا ہے دل ہی کو شوقِ سپردگی ورنہ
پس طلب کوئی اصرار بھی نہیں ہوتا


وہ داستان بھی منسوب مجھ سے ہوتی ہے
جہاں کہیں مرا کردار بھی نہیں ہوتا


عزیز ہم کو بہت ہیں یہ جان و دل لیکن
تمہارے سامنے انکار بھی نہیں ہوتا


نہیں ہے حسرتِ تعمیر بھی کوئی طارق
مگر یہ خواب تو مسمار بھی نہیں ہوتا

ڈاکٹر طارق ہاشمی