سیدہ حنا کے ماہیے


تھل دیس کو جانا ہے
بچھڑے ہوئے ساتھی کو
خود ڈھونڈ کے لانا ہے


کانٹوں سے بھرا رستہ
کچھ بات نہیں بنتی
جب بخت ہو برگشتہ


تھالی میں دانے دو
راتوں کے اندھیرے میں
ملتے ہیں دوانے دو


بگلوں کی قطاریں ہیں
گوری ترے ہاتھوں میں
گجروں کی بہاریں ہیں


آنگن میں اگی بیری
پتھراؤمیں یادوں کے
ہم راہ تکیں تیری


کیچڑ میں کنول دیکھا
بے آسرا بچے کو
روتے ہوئے کل دیکھا


کچھ بات بنا لیتیں
ٹوٹے ہوئے صوفے میں
اینٹیں ہی لگا لیتیں


چپکے سے چلی آئی
یاد اس کی دبے پاؤں
آنگن میں اتر آئی


چلنے لگی پروائی
گزرے ہوئے موسم کی
ایک چوٹ ابھر آئی


اک یاد سہانی ہے
تتلی سا لڑکپن تھا
خوشبو سی جوانی ہے


ساغر سا چھلکتا ہے
ان آنکھ پیالوں میں
یوں پیار چھلکتا ہے


کرتے کا بٹن ٹوٹا
بتلا تو سہی ساجن
کس بات پہ تو روٹھا