بادشاہ


لفظ ”بادشاہ“ کے ساتھ میرا تعلق تقریباً اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ میری عمر ہے۔ بچپن میں پہلی دفعہ ماں جی کو یہ دعا دیتے سنا تھا کہ ”بیٹا! اللہ میاں تجھے بادشاہ بنا دے“
اُسی دن سے میرے ننھے سے ذہن میں دو باتیں بیٹھ گئیں ۔ ایک یہ کہ اللہ میاں کوئی ایسی ہستی ہے جو لوگوں کو بادشاہ بناتا ہے اور دوسری یہ کہ اماں جی کی یہ خواہش بلکہ حسرت ہے کہ میں بادشاہ بن جاﺅں ۔ بس اُسی دن سے میں ہروقت اسی جستجو میں رہتا کہ کہیں مجھے اللہ میاں مل جائے اور میں اُ س سے کہوں کہ دیکھو! مجھے جلدی جلدی بادشاہ بنا دیں تاکہ میری ماں جی کی دلی خواہش پوری ہو سکے۔
جب میں پانچ سال کا ہوا تو مجھے سکول میں داخل کر دیاگیا ۔ ہماری کلاس میں دوتین انتہائی نالائق اور شریر قسم کے بچے بھی تھے۔ ماسٹر صاحب نے ان کو سدھارنے کی بہت کوششیں کیں ، مارا پیٹا ، سمجھایا بجھایا لیکن وہ جیسے تھے ویسے ہی رہے ۔ ایک دن صبح سویرے اچانک ماسٹر صاحب نے کلاس میں یہ اعلان کر دیا کہ ”آج سے یہ دونوںاس کلاس کے بادشاہ ہیں۔‘ ‘ یہ سنتے ہی میرے چھوٹے ذہن کو دھچکا سا لگا کہ آخر ماسٹر صاحب کو کیاہو گیا ہے کہ ایک طرف تو جو کام اللہ میاں نے کرنا تھا وہ ماسٹر صاحب کر رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ انہوں نے اللہ میاں کا کام کرنا شروع کر ہی دیا ہے تو مجھ جیسے لائق اور اچھے بچے کو بادشاہ کیوں نہیں بنا دیتے ۔ سکول سے واپسی پر ایک دفعہ پھر میرا ذہن منصوبے بنانے لگا کہ اگر راستے میں کہیں مجھے اللہ میاں مل گیا تو اُس سے ماسٹر صاحب کی شکایت ضرور کروں گا۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ شعور پختگی کی منزلیں طے کرتا رہا ۔ جمہوریت ، آمریت اور بادشاہت کی اصکافی عرصہ بعد کالج میں ایک دن ہاسٹل کلرک کے ساتھ کسی بات پہ جھگڑا ہوگیا ۔ میں شکایت لے کر سیدھا پرنسپل صاحب کے پاس گیا ۔ پرنسپل صاحب نے پنڈ چھڑاتے ہوئے کہہ دیا کہ
”بیٹا گزارا کرو یہ کلرک تو بادشاہ ہے۔ اب اس کے ساتھ کیا کریں“
”یہ سنتے ہی ماضی کی ساری فلم دماغ میں تیزی سے گھومنے لگی ۔ ماں جی کی دعا والا بادشاہ ، ماسٹر صاحب کے بادشاہ ، پرنسپل صاحب کا کلرک بادشاہ ، ایران ، سعودی عرب اور اردن کے بادشاہ ۔۔۔۔۔“
ذہن میں طرح طرح کے سوالات نے سر اٹھانا شروع کر دیا مثلا اگر ہمارے ملک میں جمہوریت ہے ، تو یہ بادشاہ کہاں سے آگئے ؟ اور اگر بالفرض شہنشاہیت ہے تو پھر ایک ہی بادشاہ ہونا چاہیے تھا۔ اتنے ڈھیرسارے بادشاہوں کابھلا ایک ہی ملک میں کیا کام ؟
ان سوالات نے مجھے اتنا الجھا دیا کہ لفظ ”بادشاہ“ کے معنی ہی مجھے مشکوک نظر آنے لگے ۔ کیا ان سب لوگوں میں کوئی قدر مشترک بھی ہے ، اگر ہے تو وہ کونسی ہے ، جس کی بنا پر یہ سارے ”بادشاہ “ کہلاتے ہیں۔
اسی ادھیڑ بن میں لائبریری کی طرف جانکلا ، مختلف لغات کنگالے ، اگلے دن اردو کے پروفیسروں سے بھی پوچھتاپھرا لیکن مسئلہ جہاں تھا وہیں رکا رہا ۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
عملی زندگی کاآغاز ہو اتو درجنوں بلکہ سینکڑوں نئے بادشاہوں کے ساتھ تعارف نصیب ہوا۔ دوستوں کی بے تکلف محفلوں میں کسی کا ذکر خیر آجاتا تو دوست کہتے ”یار چھوڑو وہ تو بادشاہ آدمی ہے۔”
میں سوچ میں پڑ جاتا کہ اگر وہ عام آدمی ہے تو بادشاہ کیسے بن گیا اور اگر بادشاہ ہے تو عام آدمی کیسے ہوا؟ بادشاہ آدمی میں کم از کم کچھ تو فرق ہو نابھی چاہیے تھا۔
ایک روز اچانک اشفاق احمد کی طرح میری کسی ”بابے“ سے سرِ راہ ملاقات ہو گئی ۔ بس اندھے کو کیا چاہیے ۔۔۔دو آنکھیں ۔ میں نے فوراً سوال داغ دیا۔
”بابا! یہ بادشاہ آخر ہوتا کیا ہے؟“
بابے نے لاپرواہی سے میری طرف دیکھے بغیر ہی جواب جڑ دیا۔
”جو کرتا ورتا کچھ نہ ہو مگر لیتا سبھی کچھ ہو۔“
یہ سنتے ہی گویا میرے چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ آنکھوں پر سے پردے دفعتاً چھٹ گئے ۔ پورا معاشرہ بے نقاب ہوگیا ۔ ہر طبقے اور ہر فرد کی اصلیت کھل گئی ۔ اپنےماحول میں جس پر بھی میری نظر پڑی وہ مجھے کسی نہ کسی حوالے اور کسی نہ کسی حد تک بادشاہ ہی نظرآیا ۔ میں چکرا سا گیا۔
”اف میرے خدا! اتنے ڈھیر سارے بادشاہ اور رعایا سرے سے ندارد!“
بھاگم بھاگ میں ماں جی کے پاس پہنچا اور کہا،
”اماں جی !آئندہ کے لیے میرے بادشاہ بننے کی دعا نہ کیجیے گا“
ماں جی بڑی حیران ہوئیں:
”کیوں بیٹا! کیا ہوا؟ خدا نہ کرے کہ تُو بادشاہ نہ بنے“
میں فوراً بول پڑا:”اماں جی! پھر وہی بادشاہ، ایک دفعہ کہہ تو دیا

کہ میں بادشاہ نہیں بنوں گا۔“
ماں جی ناراض ہوتے ہوئے بولیں:
”اچھا تو بتا، پھر میں تیرے لیے اور کون سی دُعا مانگوں“
میں نے کہا ، میرے لیے ہمیشہ یہی دُعا کیا کرو کہ
”اے اللہ ! میرے بیٹے کو معاشرے اور سماج کا فرض شناس اور محنتی فرد بنا دے۔“
ماں جی نے دل پر بھاری پتھر رکھ کر میری دعا دہرائی اور میں مطمئن ہوگیا !

تحریر: پروفیسر شاہد اسلام

3 خیالات “بادشاہ” پہ

  1. پسند ایا۔ ہم واقعی بدنصیب ہیں کہ اتنے سارے بادشاہوں کی موجودگی میں ہمارے ملک کے خالات جوں کے توں خراب ہی ہیں۔ اللہ ہم سب کو اچھی رعایا بنادے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s