غزل


دھنک ملے تو نگاہوں میں قید رنگ کریں
رم آج رات چلو چاندنی کے سنگ کریں


یہ آئینہ سا میرا دل ہے اس میں سجتی رہو
پھر اس کے بعد تمنا نئی امنگ کریں


بدن تو مل گئے روحوں کی تشنگی بھی مٹے
سو اختیار چلو آج کوئی ڈھنگ کریں


نہیں ہیں فرصتیں آلامِ روزگار سے جب
اب اس کے بعد بتا کیا ترے ملنگ کریں


یہی ارادہ ہے بزمِ سخن سجائیں کہیں
ردیف وار لکھیں قافیہ نہ تنگ کریں

سید انور جاوید ہاشمی (کراچی)

ایک خیال “غزل” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s