غزل


نیند سے پہلے ہی آنکھوں میں پھرا کرتی ہے
یہ مرے خواب کی تعبیر بھی کیا کرتی ہے


بجھ نہیں سکتا کسی طور مرے دل کا چراغ
روشنی اس میں محبت کی ہوا کرتی ہے


ماں تیری قبر سے آتی ہوئی سنتا ہوں صدا
مجھ کو معلوم ہے تُو اب بھی دُعا کرتی ہے


ٹوٹ جاتی ہے وہیں ہجر کی ڈوری شاہد
اُس کے آنے کی جوامید بندھا کرتی ہے

شاہد زمان کوہاٹ

ایک خیال “غزل” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s