غزل


کوئی اجنبی خلش ہے کوئی اجنبی چبھن ہے
مجھے بھی خبر نہیں ہے مجھے کون سی لگن ہے


مری عقلِ حیلہ جُو نے کئی شانے توڑ ڈالے
تری زلف میں ابھی تک وہی خم وہی شکن ہے


تری رسمِ بے رُخی کو ترا طرزِ ناز سمجھا
میرے دیدۂ عقیدت میں عجیب بانکپن ہے


کئی روپ میں نے بدلے تری دلبری کی خاطر
تری بے نیازیوں کا وہی طور وہ چلن ہے


مری وسعتِ نظر کی نہیں سرحدیں کہیں بھی
مرا ہر جگہ بسیرا میرا ہر وطن ، وطن ہے


تری دلنشیں غزل ہے کہ پیامِ زیست طاہر
یا کہیں سحر کے دامن سے گری کوئی کرن ہے 

طاہرکلاچوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s