اردو کا پروفیسر


کچھ لوگ انکشافِ ذات کے لیے ماہرینِ نفسیات سے رجوع کرتے ہیں۔ بعض گوتم کی طرح جنگلوں میں نکل جاتے ہیںچند ایک طوطے سے فال نکلواتے ہیں اور کئی ایک تو قیافہ آشناؤں اور دست شناسوں کے آگے دھونی رماتے نظر آتے ہیں۔ لیکن میں نے اس گھمبیر و گنجلک مسئلے کے آسان اور سستے حل کے لیے دیوار پر لٹکتے آئینے کا رُخ کیا ۔ پھر کیا تھا، میرے ہی عکسِ ہزار جہت نے مجھے اپنے خدوخال کے نشیب و فراز کی کچھ چھپی، کچھ اَن چھپی داستانِ ہزار قسط یوں سنانی شروع کر دی:
ٍ    اونٹ کی طرح اردو کے پروفیسر کی بھی آپ کو کوئی کل سیدھی نہیں ملے گی ۔ اُس کی نشست و برخاست اُس کی گفت و شنید اور اُس کے عادات و خصائل میں ایک ایسی مضحکہ خیزندرت اور خودپسندانہ جھلک پائی جاتی ہے کہ دور سے آپ اُسے پہچان لیں گے۔
اس کے حُلیئے اور لباس میں آپ کو ایک مجنونانہ بے پروائی ملے گی اور بالوں کی صورتِ حال کو تو دیکھ کر ذوق کا یہ شعر یا د آجائے گا کہ :


خط بڑھا ، کاکل بڑھے ، قلمیں بڑھیں گیسو بڑھے
حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے


مقصد جس کا یہی ہوگا کہ ہم بھی شاعروں کی طرح تخیلی دنیا میں ہر وقت کھوئے رہتے ہیں ہیں۔ اس لیے نیم خود استغراقی اور نیم خود فراموشی کے باعث لباس اور بال بنانے کی طرح دھیان دینے کا موقع ہی نہیں ملا شیروانی جو کبھی اِ س کی پہچان ہوا کرتی تھی عرصہ ہوا اس طبقۂ خاص سے رخصت ہوچکی ہے البتہ شیروانی کی جگہ اب واسکٹ نے لے لی ہے۔ اب یہی سٹیٹس سمبل بن چکی ہے۔
اردو پروفیسر کا سارا علمی وادبی سرمایہ بس چند ایک گھسے پٹے شعر ہی ہوتے ہیں جس کو محفوظ رکھنے کے لیے وہ ایک عدد ڈائری کا محتاج ہوتا ہے۔ کسی بھی دوسرے درجے کے شاعر کا کوئی تھرڈ کلاس ساآسانی سے سمجھ میں آنے والا شعر سنا تو اِ ن کا قلم اور زبان دونوں حرکت میں آگئیں ۔ قلم شعر کو ضبطِ تحریر میں لانے جبکہ زبان ایک کیف آور ”واہ“ ادا کرنے کے لیے۔ طبقۂ عوام یا دوسرے مضامین سے وابستہ پروفسیر جونہی ان کے سامنے کوئی شعر پڑھنے کی کوشش کریں گے تویہ فوراً بولیں گے ، اِ سی شاعر کا آپ نے شاید فلاں شعر نہیں سنا جو نشتر ہے نشتر! ۔ آ پ لاکھ کہیں بھئی ! وہ شعر بھی برا نہیں لیکن وہ اسے ہتکِ ادب ، عزتِ نفس کا مسئلہ بنا کر آپ کی ایک نہیں چلنے دے گا۔
کسی بھی محفل میں اگراتفاق سے دوسرے مضامین کے پروفیسروں کے ساتھ صرف ایک اردو کا پروفیسر ہو تو مجال ہے کوئی اردو بول جائے جیسے ہی کسی نے منہ سے کوئی اردو کا لفظ نکالا ۔ صاحب بہادر دفعتاً چونک اُٹھے ۔ ”ذرا پھر سے کہنا ، کیا کہا ، بھی یہ پِطرس نہیں پَطرس ہے ،حِظ نہیں حَظ ہے ، مُہین بھی نہیں مَہین کہیں۔“ ویسے ہمارے دوست ”الف“ کہتے ہیں کہ یہ تلفظ اور گرائمر کے چکروں میں غیر تخلیقی اور غیر ادبی قسم کے پروفیسر ہی پڑا کرتے ہیں اگر فرائیڈ کے شہرۂ آفاق تحلیل نفسی کے اوزاروں سے اردو کے ایسے پروفیسروں کے لاشعور کے پیچ اور نٹ کھولیں تو معلوم ہوگا کہ ُا ن کی احساسِ کمتری کو دبانے کا یہ واحد کامیاب ذریعہ ہے۔
خود نمائی پر تو یہ بچارے جان دیتے ہیں ایم اے کے دوران یہ کوئی پانچ سات ناولوں اور تین چار شعری مجموعوں کے نام رٹ لیتے ہیں بہت ہوا تو اِن کے کرداروں کے ناولوں اور زبردستی یاد کر لیے ۔ کچھ مشہور شعروں کا تڑکا بھی لگا لیا ، بس اللہ اللہ ۔۔۔خیر سلا! ۔لوگوں کو ان کے ناموں کی لاٹھی سے ہانکنے کا بندوبست مکمل ۔ کسی پہ شعر کی چھڑی چلائی کسی کے پیٹ میں ناول کا خنجر گھونپا ۔ کوئی شعر و نغمے کا شوقین ہاتھ لگ گیا تو اُس بے چارے پر شعروں کے اتنے تابڑ توڑ فائر کیے کہ اگلے نے بوکھلا کر شعر و شاعری سے توبہ کر لی۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اردو پڑھاتے وقت خودنمائی کا موقع ویسے بھی ذرا زیادہ نکل آتا ہے کیونکہ فزکس والے تو وہی کچھ پڑھائیں گے جو کتاب میں لکھا ہوگا، کیمسٹری والے بھی اُسی ٹاپک کی وضاحت کریں گے جو کورس میں ہوگا۔ علیٰ ھذا القیاس لیکن یہ میر اور غالب کی معنوی اولاد تو غزلوں کی تشریح کے دوران اپنے رٹے رٹائے شعر سناتے سناتے رکشوں اور چنگ چیوں والے شعر سنانے کا بھی موقع نکال لیں گے ۔ ذرا لمبا ہاتھ مار لیا تو مجاز کی کوئی رومانوی نظم یا میراجی کی کوئی مبہم اور غلیط سی نظم سنا کر بے چارے سائنس مضامین کے ستائے طلباءکو مبہوت کرکے رکھ دیا ۔ ذرا اور حال طاری ہوا تو چاک پکڑ کر تختہ سیاہ پر دے مارا اور لگے طلباءکو طعنے دینے کہ ” تم لوگ آخر کس مٹی کے بنے ہو کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ چاہیے تھا کہ دو چار کے تو اب تک گریبان چاک یا بٹن ٹوٹ چکے ہوتے ۔ یہ نہ سہی کچھ آہیں تو بھر ہی لیتے تاکہ مجھے شعروں کا رسپانس تو مل جاتا ۔“
آپ کالج گیٹ سے جیسے ہی اندر داخل ہوں تو آپ کو دیگر پروفیسر وں کے برعکس صرف اردو کے پروفیسر کے ہاتھ میں ذاتی کتاب دیکھ کر اُس کی فرض شناسی کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ لیکن بعد میں پتہ چلے گا کہ حضرت کا تو سارا علم دماغ کے بجائے مذکورہ ذاتی کتاب کے اندر پیچ در پیچ حاشیوں اور کچی پنسل سے لکھے معنوں کی صورت میں موجود بلکہ محفوظ ہے ۔ برصغیر کی ہزار سالہ ہندو مسلم مشترک تہذیب کا برا ہو کہ اردو میں بھانت بھانت کی زبانوں کے الفاظ جمع ہوگئے اور اُردو زبان کو ایسی شاخ بنا دیا جس پر ایران توران سے لے کر مصر و شام تک کی بولیوں کے رنگ برنگے چہچہاتے پرندے نظرآتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں کہیں کا پتھر کہیں روڑا ، بھان متی نے کنبہ جوڑا ۔ اردو کا پروفیسر بھی آخر انسان ہے اب کمپیوٹر تو ہے نہیں کہ بس زبانیں ہی سیکھتا چلا جائے آخر اُس نے امتحانی ڈیوٹیاں بھی کرنی ہیں اور پرچوں کی مارکنگ کو بھی وقت دینا ہے پھر اردو تو نہ ہوئی عذاب ہوااور وہ بھی درد ناک! اردو کے مظلوم و مجبور پروفیسروں کی ذاتی جیب خرچ سے خریدی ہوئی مجلدوپلاسٹک کور کتاب کے اندر آپ کو کا، کے ، کی سے لے کر برگشتہ طالعی ، طائرِ لا ہوتی رُوباہی تک کے تمام مشکل الفاظ کے معنی پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ لکھے ہوئے ملیں گے اور تو اور ان کی مناسبت سے ہوسکتا ہے آپ کو کوئی ضرب المثل یا شعر بھی دیکھنے کو مل جائے۔ اِس کارروائی کے بعد حاشیے کے فیتوں اور گوٹہ کناری سے لیس یہ کتاب پروفیسر صاحب کی ذاتی اولاد ، دھن دولت اور دین ایمان کی طرح عزیز ہوتی ہے کیونکہ اِس پر مارکیٹ کی تمام دستیاب گائیڈز اور مرحوم و مغفور حاجی فیروز الدینؒ کی مشہورِ زمانہ فیروز اللغات کے عرق ریزی و دقّتِ نظر سے کیے گئے مطالعے کا نچوڑ خطِ شکستہ کی صورت محفوظ ہوتا ہے۔ اردو کے پروفیسر کی نظر میں ۔۔۔دنیا کی ہر قیمتی سے قیمتی شے کا نعم البدل ہوسکتا ہے لیکن اگر کوئی چیز حقیقی معنوں میں نایاب و بے مثٓل ہے تو وہ صرف حاشیہ بردار کتاب۔ اس لیے تو نصاب میں تبدیلی کی خبر ان پر بجلی بن کر گرتی ہے ۔ کیونکہ انہیں پھر سے اِس جانکاہ اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔
کہتے ہیں چورچوری چھوڑ سکتا ہے مگر ہیرا پھیری نہیں چھوڑ سکتا ۔اردو کا پروفیسر بھی ہرگناہ و جرم سے دامن بچا لے گا مگر پرائے نوٹس اور لاہوری گائیڈوں سے نقل کیے گئے تنقیدی مضامین پر اپنا نام مع ایم اے ڈویژن و پوزیشن ، موجودہ سابقہ عہدہ ، موبائل نمبر اور ہوم ایڈریس کے لکھنے سے ہر گز ہرگز باز نہیں آسکتا ۔ یہ گویا اُس کے دین کا چھٹا رکن ہوا۔
ایسی سستی شہرت اور نمود و نمائش کے لیے وہ سالوں پرمحیط قابل ِ احترام تعلقات ، دوستیاں ، رشتے ناطے تک قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت مستعد اور تیار نظرآتا ہے ۔ دو رشتوں ( والدین اور اساتذہ ) کا تقدس و احترام باقی تھا اُستادوں کے تو نام پر پانی پھیرتے ہوئے اِس نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”ہاں جیینئس ہوگا مگر وہ کون سی اضافی خوبی ہے جو مجھ میں نہیں۔“ اب صرف والدین باقی ہیں جس پرالبتہ کام جاری ہے۔
عرصہ ہوا اردو کے پروفیسر وں میں ایک اور مرض وبا کی طرح پھیل رہا ہے اور وہ ہے کتب نما علم فروشی اورعوام الناس پر اپنی دھاک اور دوسرے اردو پروفیسروں پر امتیاز حاصل کرنے کے لیے ایک عدد لائبریری کا قیام ۔ اس ضمن میں بھی روزانہ بڑے پر لطف واقعات و لطائف جنم لیتے رہتے ہیں۔ اب خربوزے کی طرح دوسرے پروفیسر بھی رنگ پکڑتے جارہے ہیں۔ ایک جب دیکھتا ہے کہ فلاں پروفیسر تنقید پر کتابیں جمع کررہا ہے تو دوسرا اقبالیات پر مقالات اکھٹے کرنا شروع کر دیتا ہے ایک تیسرے درجے کے شاعروں کی معیار سے عاری قلمی بیاضوں کے کتب مینار کھڑے کر دیتا ہے تو دوسرا بڑی سے بڑی ہانکنے کا استحقاق حاصل کرنے کے لیے انڈین کتب کے بندباندھنے شروع کر دیتا ہے ۔ اس نمائشی کتاب دوستی اور ریاکارانہ ادب پروری کی آڑ میں جگہ جگہ کتابوں کے ناقابل ِ تسخیر قلعے وجود میں آگئے ہیں۔ جس سے یقینا آنے والی نسلیں ناقابل یقین حد تک علمی و ادبی فیض اٹھائیں گی ۔ کیونکہ موجودہ نسل کی تو عمر کتابیں جمع کرتے کرتے ہی بیت جائے گی ۔ البتہ قدرت نے انہیں اگر ایک اور انسانی زندگی علمی و ادبی ذوق کی پرورش و پرداخت کے لیے دی تو شاید پھر سے پاکستانی اسلامی معاشرے میں علمی انقلاب آ جائے جس کا ذکر صرف تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔
اردو پروفیسروں کی محفلیں آپ کو علم و ادب کے مباحثوں اور مذاکروں سے ایسے ہی خالی نظرآئیں گی جیسے کافر کادل ایمان سے ، لق و دق صحرا ، سبز گھاس کی پتی سے ، اردو غزل کا محبوب حیااور رحم سے اور رقیب سچی اور کھری محبت سے خالی ہوتا ہے ۔ان محفلوں میں تنخواہوں میںاضافے،اپ گریڈیشن، بورڈ کی ڈیوٹیاں اور پرچوں کی چیکنگ جیسے موضوعات عام نظر آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو چائے کی پیہم رومانوی چسکیوں کے ساتھ غیبت کا چسکا اور چٹخارہ دیکھنے کو ملے گا گویا ان نام نہاد خود ساخستہ ادبی ٹھیکیداروں کی محفلوں میں غیبت چٹ پٹے پکوڑوں اور بد گوئی و بدگمانی چٹخارے دار چٹنی کا کام کرتی ہے۔ ویسے بھی پیرو مرشد حضرتِ یوسفی کے بقول ”چائے کے ساتھ غیبت کی آمیزش شراب کا مزہ دیتی ہے ۔“
ایسے میں وہ کیا کیا گل کھلاتے ہیں ، یوں سمجھئے کہ جیسے ہی ایک منہ اور ایک کان یک جا ہوئے تو مخصوص سرگوشیوں اور آنکھوں کے اشاروں سے بدگوئی اور بدگمانی کی توپوں کے دہانے کا رخ تیسرے کی شخصیت بلکہ نجی و ذاتی معاملات کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ جوخوش قسمتی یا بدقسمتی سے وہاں موجود نہیں ہوتا ۔ اگر شومئی قسمت سے اُس کی تعریف کسی طالب علم سے سن لی یا اُس کا کوئی مضمون کسی رسالے میں چھپ گیا پھر تو اُسے تو کیااُس کی اکیس اگلی اور اکیس پچھلی پشتوں کو بیالیس غیبتوں کی فوری سلامی پیش کر دی۔اگر کسی کے متعلق کوئی غیر پارلیمانی قسم کی بات ذہن میں آجائے تو نہ صرف جوشِ مسرت سے آپ کی ران پہ زور سے ہاتھ ماریں گے بلکہ آپ سے یہ بھی کہیں گے کہ ذرا ہاتھ تو لانا۔ ایسے میں اگر کوئی نزدیک نہ ہوا تو خود ہی تالی بجا کر مسرت کااظہار کرلیتے ہیں۔
اس دوران اگر حاسدانہ مکر میں ڈوبے مسرت بخش قہقہے کا ایک آدھ راکٹ لانچر بھی بے اختیار چل پڑا تو اسے معمول کی کارروائی سمجھنا چاہیے ۔ ان کی عیاریاں ہزار شیوہ اور ان کی فطرت ہزار رنگ ہوتی ہے ان کا ظاہر بڑا روشن چمک دار پُر خلوص عقیدت کیش تابعدار اور نر م خو مگر باطن کا اگر ایکس رے ہوسکتا تو رپورٹ میں شاید یہ لکھا ہوا نظرآتا کہ :


حسین سانپ کے نقش و نگار خوب سہی
نگاہ زہر پہ رکھ خوشنما بدن پہ نہ جا


احساسِ کمتری کے چونکہ یہ پیدائشی مریض ہوتے ہیں آزمائش کے لیے آپ کوئی بھی ادب سے وابستہ بات ان کے سامنے منہ سے نکال کے دیکھ لیں ، جو یہ نہ جانتے ہوں تو اُلٹا چورکوتوال کو ڈانٹے کے مصداق یہ اُلٹا آپ کو مورد ِ الزام ٹھہراتے ہوئے اپنے ننگ دھڑنگ وجود پر احساسِ برتری کی چادر تان لیں گے ۔مثلاً آپ کہیں گے اقبال نے بڑی اچھی شاعری کی ہے موصوف فوراً بول اٹھیں گے آ پ نے یقینا غالب کو نہیں پڑھا ورنہ ایسا کبھی نہ کہتے ۔ ( پھر وہی ایم اے کے نوٹسوں والی رٹی رٹائی طوطا کلامی) اُس کے ہاں جو آفاقیت ہے وہ بھلا کسی اور میں کہاں!اِسی طرح غالب کے ایک یا زیادہ سے زیادہ دو ایسے شعر ضرور کسی سے پبلک سروس کمیشن کے انٹرویو میں سن کر یاد کر لیں گے کہ جن کے ایک سے زیادہ مطلب نکل سکیں گے آپ نے جیسے ہی ایک مطلب نکالا تو وہ آپ پر اپنی سطح اور سنُی سنائی غالب شناسی کی دھاک بٹھانے اور دھونس جمانے کے لیے دوسرا مطلب نکال کر آپ کو لا جواب کر دیں گے۔ایسے اشعار میں سرفہرست شعر اکثر یہی ہوتا ہے:


کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا


آپ کہیں گے مختار مسعود کی آواز دوست بھی کیا غضب کی کتاب ہے موصوف کہیں گے آخ آپ نے یوسفی کی آبِ گم نہیں دیکھی آپ کے منہ اگر نکل گیا کہ وہ بھی دیکھی ہے پھر تو گویا آپ نے بارود کوآگ دکھا دی ۔ نہیں ، میں نہیں مانتا ، دوبارہ دیکھیں ، آپ کہیں گے امراؤ جان ادا بڑا دلچسپ ناول ہے جناب آپ کی معلومات اور ذوق کو صابن کی جھاگ کی طرح آناً فاناً بٹھانے کے لیے کہیں گے قرة العین حیدر کے ”آگ کا دریا“ کے سامنے اس کی وہی حیثیت ہے جو تروتازہ گلاب کے آگ کاغذی پھول کی ہوتی ہے ۔ اگر آپ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اِن کے گیسی غبارے میں سے خود نمائی کی ساری ہوا نکالنے کے لیے فقط اتنا کہہ دیا کہ اِس عنوان کا ذرا مطلب تو سمجھا دیں تو شاید آئندہ کبھی آپ کے سامنے کم از کم ادبی گفتگو کی طوطا مینا اڑانے سے پرہیز کریں گے ہاں اِس کی جگہ شاید ڈیوٹیاں ، پرچے اورمارکنگ لے لیں۔ اِن کا چہرہ گرگٹ سے زیادہ تیزی سے رنگ بدلتا ہے اگر آپ نے اِن کے روبرو کسی دوسرے اردو پروفیسر کا نام لے کر اُس کی تعریف بھی کر دی پھر تو گویا کریلے کی بیل کو نیم کے درخت پر چڑھا دیا فوراً اُس پروفیسر کی مقبولیت کا گراف نیچے لانے کے لیے اُس کی کوئی ایسی خامی نکال لائے گا جو اُس کی علمیت تو کیا اُس کے کردار تک کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دے گی ۔ ”اُس نے ریگولر ایم کہاں کیا ہے ؟ یہ تو بہت جونئیر ہے ! شاید کنٹریکٹ پر ہے ، یہ تو سمپل ایم۔ اے ہے ڈویژون بھی سیکنڈ ہے میں توفرسٹ کلاس ریگولر ، گولڈ میڈلسٹ اور ایم فل لیڈنگ ٹُو پی ایچ ڈی ہوںوغیرہ۔“
اردو پروفیسر وں کے مذاق اور مزاج کو دیکھتے ہوئے اگر اُنہیں شاعروں سے تشبیہ دینی پڑ جائے تو کچھ یوں ہوگی ۔ اردو کے بعض پروفیسر جوش ملیح آبادی کی طرح پُرجوش ، بھاری تن و توش کے مالک آواز اور لہجے میں صورِ اسرافیل کا طنطنہ ، باتوں میں توپوں کی گھن گرج ، قہر و غضب کی گویا چلتی پھرتی تصویر ، کچھ بے چارے میر تقی میر کی طرح شکستہ دل ، گربہ مسکین ، عاجزانہ صورت ، انکساری کی مورت اگلے کو اتنی عزت دیں کہ ”نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے “ کا مصرعہ زندہ کر دکھائیں ، بات بات پر جی جی کی گردان رٹنے والے ، تھالی کے بینگن ، ادھر بھی خوش اُدھر بھی خوش ۔۔ کچھ غالب کی طرح یار باش اور محفل آرا ہر لمحہ ہر پل دیوارِ قہقہہ اٹھانے میں مستعد ، غموں سے کوسوں دور پریشانیوں سے قطعی ناآشنا دوستوں کے دوست ، یاروں کے یار ، ناﺅ نوش کے شوقین ، کچھ انشائ اللہ خان انشاءکی طرح موقع شناس ، خود غر ض ، شاطر ، سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر ، زمانے کی ہواددیکھ کر مرغِ باد نما کی طرح رُخ بدلنے ، مطلب نکالنے والے ، دولت و شہرت اور ناموری پر دل و جان سے فدا ، کچھ بے چارے مجید امجد کی طرح شہرت سے نفور ، ادبی مجالس سے دور رہ کر خاموشی ، بے ریائی اور خلوص سے ادب کی خدمت کرنے والے ، خوددار ، خودمست ، دوسروں کی خاموشی سے مدد کرنے اوراحسان جتانے سے گریز کرنے والے ، اور کچھ ن، م راشد کی طرح تُنک مزاج ، خود پسند ، مغرور اور جابر و قاھر قسم کے ، کچھ جعفر زٹلی کی طرح ڈرامہ باز اور نقال اور کچھ مرزا رفیع سودا کی طرح دربار دار معاشرے میں اپنے لیے ہردلعزیز مقام ( ہر جائز و ناجائز طریقے سے ) پیدا کرنے میں شہد کی مکھی کی طرح ہمہ وقت مصروف ! ۔
اردو کے پروفیسروں میں تحسین اور اعتراف کامادہ ڈھونڈنے سے نہیں ملے گاوہ دوسروں کی خداداد صلاحیتوں ( شاعری ، انشاءپردازی وغیرہ ) کا اعتراف اِ س وجہ سے نہیں کرے گا کہ وہ خود اِس سے عاری ہونے کے باعث اگلے کو بہتر و برتر دیکھ نہیں سکے گا اس لیے وہ ہمیشہ اگلے کی خوبیوں میں بھی خامیاں نکال کے اپنے حسد کی آگ بجھائے گا۔ سینئر پروفیسروں سے (بظاہر) نیاز مندانہ تعلقات رکھے گا وہ صرف یہی ہوگی کہ اگر کسی تحریر میں مشورہ لینا پڑ گیا یا کسی ہوشیار شاگرد نے ایسا ویسا ٹیکنیکل سوال پوچھ لیا تو اِن سے پوچھ کراُسے بتا سکے کہ رات کو خود بخود اِس کا جواب میرے ذہن میں آگیا تھا۔ یا یہ کہ جواب تو میرے ذہن میں پہلے سے تھا بہرحال میں نے اور ایک سینئر پروفیسر سے بھی ڈسکسکنفرم کر لیا ہے۔(اور پروفیسر کا نام جان بوجھ کر نہیں لے گا)
یہ اور ایسی دیگر بے شمار خامیوں کے باجود نجانے کیوں اردو کے پروفیسروں سے نفرت کرنے کو جی نہیں چاہتا ۔ چونکہ اِ ن کے ٹیوشن اور پریکٹیکل نہیں ہوتے اس لیے وقت اچھا گزارنے کے لیے یہ اِ ن نفسیاتی بیماروں کا شکار ہو جاتے ہیں ورنہ یہ دل سے بر ے لوگ ہرگز نہیں یہ تو محبت کا درس دیتے ہیں ،وفا اور خلوص کے ترانے گاتے ہیں ، شعروں کی لوری سنا کر شعور کو غذا دیتے ہیں ، ان کی باتیں دلچسپ اور مزیدار ہوتی ہیں ۔ اگر ایک دوسرے کو بچھو کی طرح ایک آدھ ڈنک مار بھی لیتے ہیں تو پھر چھوٹے بچوں کی طرح بعد میں سب کچھ بھُول بھُلا کر پھر اکٹھے بیٹھ کر کھاتے پیتے بھی ہیں اور ایک دوسرے کی محبت کا دم بھی تو بھرنے لگتے ہیں اور اِ ن اداﺅں کے سبب اُن کی تمام خامیاں بھلائی جاسکتی ہیں:


روٹھنے سے کیا ہوگا آؤ دوستی کر لیں
آپ میں بھی مجھ میں بھی خامیاں بہت ہوں گی

تحریر : محمد اسرار خان پوسٹ گریجویٹ کالج ایچ ایٹ اسلام آباد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s