ہمارے امریکی مہمان


مسٹر فرینک کی ضیافت اڑا کر ہم ان سے تکلفاً کہہ بیٹھے:
”کبھی ہمارے ہاں بھی تشریف لایئے اور ایک روز شام کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیے۔“
دنوں میاں بیوی گویا برسوں سے ہماری دعوت کے منتظر تھے ، بولے
”ضرورآئیں گے“
میرا دل دھک سے رہ گیا ۔ ابھی سنبھلنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ مسٹرفرینک نے کہا:
”ہماری خواہش ہے کہ کسی ترک دوست کے ہاں کھانا کھایا جائے جس روز آنا ہوا، آپ کو پہلے اطلاع دے دیں گے۔“
اب ہمارا اولین کام اس خبر کو محلے میں نشر کرنا تھا۔ اگر سرارہ کوئی پوچھ بیٹھتا”کیوں حسن صاحب! یوں بھاگم بھاگ کدھر کا رخ ہے؟ “تو ہم فوراً جواب دیتے ”جی ہمارے ہاں کچھ امریکی مہمان آرہے ہیں، ذرا اسی سلسلے میں۔۔۔“
جلد ہی پورے محلے میں ایک بھی شخص ایسا باقی نہ رہا جو یہ خبر نہ سن چکا ہو۔ ایک روز محلے کے بقال نے پوچھا” آپ کے ہاں امریکی مہمان تشریف لا رہے ہیں۔ کیا یہ واقعی ٹھیک ہے؟“
میں نے یوں ظاہر کیا گویا اس واقعہ کی میری نظروں میں قطعاً کوئی وقعت ہی نہ ہو۔
”جی؟ ہاں آرہے ہیں۔“
اس خبر نے ہماری نچلی منزل والوں کو تو حسد سے پاگل کر ڈالا تھا۔ یہ لوگ بہت ہی کینہ پرور ہیں مستقل ہمارے بارے میں افواہیں اڑاتے رہتے ہیں ۔ اب انہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ دراصل ہمارے ہاں امریکی مہان سرے سے آ ہی نہیں رہے ، اور یہ کہ حسن صاحب نے قصداً یہ خبر چھوڑی ہے تاکہ بقال اور قصاب سے مزید ادھار لینے میں آسانی رہے ، اور بہشتی اور پھل فروش کچھ عرصے کے لیے اپنے بقایا جات کی ادائیگی کا تقاضا ملتوی کر دیں ۔ ان حاسدوں کے پروپیگنڈے کا یہ اثر ہوا کہ ایک روز منظور پنساری نے محلے والوں کو گمراہ کرتے ہوئے تقریر جھاڑنا شروع کر دی۔
”جھوٹ ہے، سراسر جھوٹ! کوئی امریکی ومریکی نہیں آئے گا۔ میں سب چالاکیاں جانتا ہوں ۔ ہم لوگوں کو جھانسہ دینے کے لیے حسن کسی روز ایک گوری چٹی لمبی تڑنگی واقف کار عورت کہیں سے پکڑ لائے گا اور پھر سب پر رعب جماتا پھرے گا کہ یہی میری امریکی مہمان ہیں۔ اب ہم کوئی ایسے بیوقوف بن جائیں گے۔“
ان سب سازشوں کا ہم پر رتی بھراثر نہ ہوا ۔ اب بھی کوئی کہتا :
”آج ہوا بڑی تیز اور سرد ہے۔“ تو ہم فوراً ٹکا دیتے کہ ”بڑی بری بات ہے ، بھائی صاحب ، ادھر ہمارے گھر امریکی مہمان آنے والے ہیں اور ادھر موسم ہے کہ روز بروز خراب ہوتا چلا جارہا ہے۔“
انقرہ ، سمرنا ، شہر ، گاؤں دور نزدیک جہاں کہیں جتنے دوست ، احباب یادوردراز کے واقف کار رہتے تھے ، سب کو الگ الگ خط لکھ کر اشاروں کنایوں میں اپنے ہاں آنے والے مہمانوں کی اطلاع کر دی ۔ ان میں کئی لوگ ایسے بھی تھے جن سے گزشتہ دس پندرہ سال سے نہ کبھی خط و کتابت کی تھی اور نہ ہی ملاقات ہوئی تھی۔
آخر ایک روز مسٹرفرینک کی آمد کی اطلاع پہنچی ۔ سارا گھر ایک شدید قسم کی گھبراہٹ میں مبتلا ہوگیا۔ بیگم صاحبہ بولیں :
”تم کتنے عرصے سے زورڈال رہی تھی کہ اس ذلیل مکان کو چھوڑو اور کسی اچھے علاقے میں گھر لے لو۔ اب دیکھو نا، اگر امریکی مہمان اس گھر میں آتے ہیں تو ہم ان سب کی نظروں میں بری طرح ذلیل خوار ہو کر رہ جائیں گے۔“
گھر کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا۔ اماں کا چہرہ لٹکا لٹکا نظرآنے لگا۔بولیں:
”حسن بیٹا ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔ اپنوں کی بات دوسری تھی ، مگر ان غیر ملکی مہمانوں کی نظر سے ہم سب کو یوں نہ کراؤ۔“
ہمارے گھر کے ان جھگڑوں کی سن گن محلے والوں کو بھی ہوگئی اور ہر طرف ہمارے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔
”آخر ان لوگوں نے امریکیوں کو اپنے گھر دعوت دی تھی تو بھلا کس بساط پر؟“
ادھر بیگم نے بھی اکثر یہی سوال کرنا شروع کر دیا۔ آخر میں نے جھلا کر جوابدیا:
”بیگم تمہیں کتنی مرتبہ بتا چکا ہوں کہ میں نے دعوت بخوشی نہیں دی تھی ۔ بس تکلفاً مسٹرفرینک سے کہہ بیٹھا اور اس نامراد نے یہ بات پلے باندھ لی ۔ اب میں ان سے یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ جناب آپ ہمارے ہاں تشریف نہ لائیے ۔ کیونکہ ہمارا گھر غیر ملکی مہمانوں کے بٹھانے کے قابل نہیں ہے یا ہمارے ہاں آ پ کی آنکھیں چندھیا دینے والی شاندار قسم کی دوسری اشیاءکا فقدان ہے، اگر آپ آئے تو ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیگم ذرا سوچو تو یہ لوگ ہمارے پاس آرہے ہیں نہ کہ ہمارا گھر اور لوازمات خانہ دیکھنے ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے ان لوگوں کی نظروں میں یہ سب باتیں رتی بھر اہمیت نہیں رکھتیں۔
”میر ی ساس صاحبہ چپ نہ رہ سکیں۔“
”اے تو پھر وہ لوگ یہاں کس غرض کے لیے آرہے ہیں؟“
”خالہ جان ، وہ مجھے ملنے آرہے ہیں “
”لیکن تم میں کون سا سرخاب کا پر لگا ہے ، جسے دیکھنے وہ یہاں آئیں گے؟“اس موقع پر میرا دوست رجب بھی بیوی بچوں سمیت ہمارے ہاں موجود تھا ۔ میں نے اس کی حمایت طلب کرنے کی کوشش کی ۔
”بھئی رجب میاں ، تمہی انصاف کرو ۔ کیا مسٹر فرینک ہمارا گھر کا ساز و سامان دیکھنے آرہے ہیں ؟“
مجھے کیا معلوم تھا رجب کی عقل بھی گھاس چرنے گئی ہوئی ہے۔ بولا:
”لیکن حسن بھائی ، یہ مت بھولو کہ وہ لوگ ایک ُترک کا گھر دیکھنے آرہے ہیں۔ تمہیں اپنی پروانہ سہی ، قوم کی عزت کا تو خیال رکھنا چاہیے ۔ غیروں کے آگے پوری قوم کو خوارکروگے تو اپنے ہم وطنوں کو کیا منہ دکھاؤگے ۔ تمہارے گھر میں نہ ریفریجریٹر ہے نہ قالین صاف کرنے کی مشین ، تو پھر امریکی مہمانوں کو گھر پر مدعو کرنے کی کیا تُک تھی؟“
ملاحظہ کی آپ نے رجب صاحب کی حماقت ؟ یہ کمینہ ابھی اگلے روز قسطوں پر ایک سستی سی مشین خرید لایا اور اب چلا ہے مجھے مشین کا طعنہ دینے ۔
محلے والوں نے بھی تنقید کا رخ بدلا:
”حسن صاحب کو اپنے ہاں امریکی مہمان بلا کر ہم سب کو رسوا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ہمیں فوراً پولیس کو اطلاع دینا چاہیے ۔ ایسا نہ ہو یہ غیر ملکی مہمان پوری قوم کے گھروں کے بارے میں کوئی رُسو ا کُن رائے قائم کر لیں۔“
ایک روز بقال کی چھوٹی بیٹی آئی اور تتلائی ہوئی بولی ” چچا جان ! ابا جی نے سلام کہا ہے ۔ کہتے ہیں آپ کے گھر امریکہ سے مہمان آنے والے ہیں آپ کے ہاںنہ تو ڈرائننگ روم ہے نہ ہی کام کا فرنیچر۔
”پھر؟ “ میں نے غصے سے پوچھا۔
”ابا کہتے ہیں غیروں کے سامنے بڑی شرمندگی اٹھانا پڑے گی ۔ ہم نے ایک نیا ریفریجریٹر خرید ا ہے ۔ آپ اپنے مہمان کو ہمارے گھر کیوں نہیں لے آتے ؟“
میں نہایت برہم ہو کر اٹھا ، لڑکی کی طرف جست لگائی ، مگر وہ سیڑھیاں پھلانگتی میرے ہاتھوںسے بچ کر بھاگ گئی ۔ اگلی صبح مستری رحمت نے مجھے رقعہ بھیجا جس کا متن یہ تھا۔
”پیارے دوست حسن! سنا ہے تم نے ایک امریکی افسر کو بمعہ اہل خانہ ایک ترک گھر دکھانے کی غرض سے اپنے ہاں مدعو کیا ہے ۔ میری ناچیز رائے میں غیروں پر مادرِ ِوطن کے بارے میں عمدہ تاثر پیدا کرنا ایک قومی فریضہ ہے ۔ اس لیے زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ مہمان تمہارے گھر کے بجائے ہمارے گھر آجائیں ۔ جلد از جلد اپنے جواب سے آگاہ کرو۔“
میں نے خط پڑھ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور حامل رقعہ کے منہ پر دے مارا ۔ اسی شام مستری رحمت سے گلی میں ملاقات ہوگئی کہنے لگا:
” بھائی تم ناراض کیوں ہوگئے؟ میں نے کوئی بری بات تو نہیں لکھی تھی ۔ آخر ایک مسئلہ ہے ہم سب نے مل جل کر حل کرنا ہے ۔ میں نے حال میں ایک نیا صوفہ سیٹ خریدا ہے جسے دیکھنے والے بھی غش کھا جائے ۔ ریڈیو گرام ، کپڑے دھونے کی مشین ، فریج ، غرضیکہ اس دور میں ہر شریف گھرانے میں جتنی ضروری اشیاءموجود ہونا چاہئیں خدا کے فضل سے اپنے ہاں موجود ہیں اور پھر ہماری بڑی بیٹی بھی تو امریکن کالج میں پڑھ رہی ہے۔ کم از کم مہمانوں سے گٹ مٹ انگریزی تو بول لے گی ۔ تمہارے ہاں Yes،Noاور OKکے علاوہ کسی کو چوتھا لفظ انگریزی کا نہیں آتا۔“
رفتہ رفتہ ہمارے گھر والوں کے دل میں بھی یہ تجویز گھر کر گئی کہ مہمانوں کو اپنے ہاں لانے کے بجائے ہمسائے کے گھر لے جائیں ۔ آخر مسٹر فرینک نے کون سا ہمارا گھر پہلے سے دیکھ رکھا ہے؟ میں نے اس مشورے پر غور خوض کے بعد کہا:
”بھئی آپ لوگ اپنے ہمسایوں سے واقف نہیں ہیں کیا؟ ہم مسٹر فرینک کے کسی ہمسائے کے ہاں لے جائیں مگر کم بخت جان بوجھ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور کر دیں گے جس سے صاف پتہ چل جائے گا کہ گھر دراصل ہمارا نہیں ، ان کا ہے۔
میری ساس صاحبہ کافی عقلمند ثابت ہوئی ہیں۔ فوراًبولیں:
”یقیناًبتادیں گے ۔ کیوں نہ بتائیں؟ میں ان کی جگہ ہوں تو میں بھی بتادوں۔ یہ لوگ تو مسٹر فرینک کو سو فیصد یقین دلانے کی خاطر اپنے مکان کی رجسٹری نکال کر اس کے سامنے لا رکھیں گے تاکہ حسن خاندان کو ہمیشہ کے لیے ذلیل خوار کریں۔“ مہمان ہفتے کے روز آنے تھے۔ جمعہ کے دن ہم نے گھر میں سفیدی شروع کر دی ۔ چھوٹے بڑے سب اپنا اپنا کام کا ج چھوڑ کر گھر کی صفائی میں مصروف ہوگئے ۔ سفیدی ختم ہوئی تو سب نے مل کر جھاڑودے کر جھاڑ پونچھ میں لگے ہوئے تھے کہ مسٹر فرینک کا پیغام آگیا۔
”ایک ضروری کام نکل آنے کی وجہ سے ہم لوگ اس ہفتے حاضر نہیں ہوسکتے ۔ معافی چاہتے ہیں۔“
سب نے سکھ کا لمبا سانس لیا ۔ ایک ہفتے کی مزید مہلت گھر کو اچھی طرح ٹھیک ٹھاک کرنے کے لیے کافی تھی۔
اب ہم نے قسطوں پر گھر کا ضروری ساز و سامان خریدنے کی کوشش کی مگر افسوس حکومت نے سوائے پہننے کے کپڑوں کے باقی ہر چیز کی بالا قساط فروخت پر پابندی لگا دی تھی ۔ البتہ چند دوستوں کی مدد سے قسطوں پر ایک قالین مل گیا ۔ جس کی رسید پر پرانی تاریخ درج کرکے قانون کی گرفت سے بچت کا انتظام کرنا پڑا ۔ کچھ رقم نقد ادا کرکے ایک بڑا لیمپ بھی خرید لیا ۔ ہفتے کادن قریب آتا گیا اور گھر کے سب افراد کی مصروفیتوں میں اضافہ ہوتا گیا ۔ ادھر مسٹر فرینک نے پھر کہلا بھیجا کہ اس ہفتے سرکاری دورے کی وجہ سے اگلے ہفتے آئیں گے ۔ میں نے بیگم سے کہا:
”بیگم مجھے شک پڑ رہا ہے کہ ان امریکنوں کی آمد موسم کی طرح نہایت بے یقینی ہوتی جارہی ہے ۔ ہوسکتا ہے ہمارے کسی ہمسائے نے انہیں اطلاع کر دی ہو کہ ان کے ہاں تو بیٹھنے کو کرسی تک نہیں، آپ پھکڑ قسم کے لوگوں سے دوستی گانٹھ رہے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے ہاں آنے سے ٹال مٹول کر رہے ہیں۔“
یہ سن کر میری ساس بیگم اور اماں تینوں نے گھٹنے پیٹ لیے۔
”تف ہے امریکہ والوں پر۔ یعنی ہم سب خواہ مخواہ ہی اپنے گھر کی صفائی کرکے جانیں ہلکان کررہے ہیں؟نئے پردے خریدے ، سفیدی کرائی ، لیمپ ، قالین۔۔۔اب کیا ہوگا؟اگر وہ نہ آئے تو بڑا ظلم ہوگا حسن!“
میں نے تسلی دی ایک ہفتہ اور انتظار کر لیتے ہیں ۔ بیگم کو خیال آیا اس موقع کے لیے جو کپڑے خریدے تھے وہ تو اب تک پرانے ہوگئے ہیں ۔ مہانوں کے آنے پر کون سے کپڑے پہنیں گے ؟ گھر کے آٹھ افراد کو نئے کپڑے بنو ا کر دینا تو یقینا بعید از امکان تھا۔ بیگم نے مشورہ دیا:
”صرف مجھے ایک سوٹ بنو ادیجیے۔“
ہماری اماں نے فوراً مداخلت کی ۔ ”اگر بہو نیا سوٹ بنوائے گی تو میں بھی بنواؤں گی۔“
بیگم کی اماں کو بھی جوش آیا۔”مجھے بھی گرم کوٹ کی سخت ضرورت ہے۔“
”لیکن خالہ جان اس بلا کی گرمی میں گرم کوٹ کی کیا ضرورت پیش آگئی۔“ میں نے پوچھا ۔ بولیں:
”اب موقعہ ہے تو بنوا ہی دو ۔ پھر نہ کبھی امریکن ہمارے گھر آئیں گے اور نہ تم مجھے نیا کوٹ بنو ا کر دو گے۔“
”ادھر سفیدی اور صفائی کے بعد گھر خالی خالی سا نظر آنے لگا۔ چند واقف کاروں کے پاس التجا کی ۔
”دوستو ہمارے گھر امریکی مہمان آ رہے ہیں۔ ہماری عزت محلے اور قوم کی عزت ہے۔ ایک رات کے لیے مجھے گھر کا ضروری سامان ادھار دے دو تو ساری عمر تمہارے قدم چومتا رہوں گا ۔ آخر انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔“
عمر نے جواب دیا۔
”میں قالین دینے کو تیار ہوں مگر نقد ضمانت جمع کرانا ہوگی۔ جب قالین واپس لاؤ گے اپنی رقم لے لینا۔ ہاں ، قالیں پر داغ دھبے پڑے تو ضمانت واپس نہیں ہوگی۔“ شریف کا خدا بھلا کرے ، اس نے فریج دینے کا وعدہ کیا۔
”مہمانوں کی کی آمد سے آدھ گھنٹہ پہلے اس شرط پر لے جانا کہ مہمانوں کے رخصت ہونے کے آدھ گھنٹے کے اندر اندر ہمارا فریج واپس پہنچا دو گے۔“
الغرض ہر ایک نے مشروط طور پر کوئی نہ کوئی چیز دینے کا وعدہ کیا ۔ لوگوں نے یہ اشیاءاکٹھی کرکے ہر چیز اپنے گھر میں اس طرح سے لٹکا دی کہ مہمانوں کو آسانی سے نظرآسکے ۔ بیگم اپنی ایک سہیلی سے اخروٹ کی لکڑی کا ایک ڈبل پلنگ لے آئیں جسے بصد مشکل بیٹھک کے ایک حصے میں فٹ کیا ۔ اب گھرو الوں نے بیٹھک کو ڈرائنگ روم کہنا شروع کر دیا۔۔
ہفتے کی شام آگئی ۔ تمام مستعار چیزیں یوں لگتی تھیں جیسے صدیوں سے اس گھر کی زینت رہ چکی ہوں ۔ اب صرف فریج اور ریڈیو گرام آنا باقی تھے۔ ہم نے چند فنی ماہرین کو بلا کر گھر کے بارے میں رائے لی ۔ سب نے تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔
”واہ صاحب واہ! ماشاءاللہ بالکل امریکی فلموں میں دیکھے بھالے امریکی گھروں کی طرح دکھائی دیتا ہے۔“
ایک صاحب نے فریج کی کمی کی طرف توجہ دلائی۔
میں نے فوراً کہا :
”وہ بھی آرہا ہے ۔ وہ سامنے جو خالی جگہ نظرآرہی ہے فریج ہی کے لیے ہے۔“
ابھی ہم سیڑھیوں سے ریڈیو گرام اوپر لے جانے کی کوشش کررہے تھے کہ مہمان آدھمکے اور آئے بھی ایسے غلط وقت پر کہ کچھ نہ پوچھیے ۔ گھر کا دروازہ ذرا تنگ تھا اور ریڈیو گرام اچھا خاصا بڑا۔ ہم کسی طرح اندر گھسیڑ نے کی کوشش کررہے تھے کہ نامراد درازے میں پھنس کر رہ گیا ۔ مہمان باہر ، ہم اندر اور دروازے کے عین بیچ میں ریڈیو گرام خدا خدا کرکے دھکیل دھکیل کر ریڈیو گرام اندر لے جانے میں تو کامیاب ہوگئے مگر ایک طرف سے ذرا ٹوٹ گیا۔
بیگم نے مہمانوں کو اشارے سے بیڈ روم کی طرف چلنے کو کہا۔ وہاں سے ڈرائنگ روم ( جو چند گھنٹے پہلے بیٹھک کے نام سے یادکیا جاتا تھا ) لے گئی۔ بیڈ روم کا فلسفہ بعد میں کھلا۔ بیگم چاہتی تھی کہ جو نئی چیزیں ڈرائنگ روم میں بیٹھے بیٹھے نظر نہ آسکیں وہ مہمان بیڈ روم میں دیکھتے چلیں۔
بھی تعارفی کلمات ختم نہ ہو پائے تھے کہ گلی میں شور و غوغا بپا ہوگیا۔ ہم گھبرا کر باہر بھاگے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ فریج کی سواری تشریف لارہی ہے۔ تف! یہ بھی کوئی موقع تھا اس کمبخت کو لانے کا؟ اگر مہمانوں نے باہر فریج آتے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے ۔ میں نے فوراً آگے بڑھ کر مستعار فریج دینے والے دوست سے آہستہ کہا ۔
”شریف بھائی اب ہمیں اس کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ واپس لے جائیے۔“
وہ صاحب کہاں ماننے والے تھے ۔ بولے:
”حسن میاں! ساری عمر میں ہمیں کسی دوست کی مدد کرنے کا پہلا موقعہ ملا ہے ۔ کیا تم چاہتے ہو میں اس ثواب سے محروم رہ جاؤں ؟“
یہ کہا اور مزدوروں کو ڈانٹنا شروع کر دیا:
”کھڑے کھڑے کیا منہ دیکھ رہے ہو؟ چلو اندر چلو!“ اتنے میں میری نظر شریف کی بیٹی پر پڑی جو ہمارے مہمانوں سے انگریزی میں فر فر باتیں کررہی تھی۔ ایسے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے میں نے پیش بندی کے طور پر ترجمان کا بندوبست کررکھا تھا۔ میں نے ترک ترجمان کو ایک طرف لے جا کر پوچھا:
”یہ لڑکی مہمانوں سے کیا باتیں کررہی تھی؟ ترجمان بولا کہہ رہی تھی”ترک لوگ ایک دوسرے کی بہت مدد کرتے ہیں۔ حسن صاحب کے گھر میں فریج نہیں تھا ہم نے سوچا انہیں مہمانوں کے سامنے شرمندگی سے بچانے کی خاطر چند روز کے لیے اپنا فریج دے دیا جائے ۔ آپ کو یہاں جتنی چیزیں نظرآرہی ہیں ، سب امداد باہمی کے تحت اکھٹی کی گئی ہیں۔“
یہ سن کر میری آنکھوں میں خون اتر آیا ۔ اس لڑکی کو چٹیا سے پکڑ کر گلی میں گھسیٹنے کا ارادہ کیا مگر پھر گھر کے سب لوگ مہمانوں کے سامنے آوارد ہوئے، حالانکہ ایک دوست ہمیں سمجھا چکا تھا کہ سب گھر والوں کو ایک ساتھ مہمانوں کے روبروپیش کرنے سے احتراز کرنا۔ ورنہ انہیں تشویش ہوگی کہ یہ شخص اتنے لوگوں کا پیٹ کیسے پالتا ہوگا۔ لیکن اب ان بیگمات کو یہ بات کون سمجھائے۔ سب سج دھج کر بن ٹھن کر جھومتی مٹکتی یوں آ جمع ہوئیں جیسے کسی شادی پر جارہی ہوں۔ ادھر مسز فرینک کی سادگی ملاحظہ کیجیے کہ چھینٹ کی سادہ سی قمیص پہن رکھی ہے ، پاؤں میں جرابیں تک نہیں اور زیور نام کی کوئی چیز جسم پر کہیں دکھائی نہیں دیتی ۔ میری چھوٹی بیٹی کلثوم آگے بڑھی ، مسٹر فرینک کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے چوم کر اپنے ماتھے سے چھوا اور چھوڑ دیا ۔ ہم اسے کئی مرتبہ سمجھا چکے تھے کہ ان لوگوں کے ساتھ ایسی حرکت مت کرنا۔ کلثوم تو خیر بچی تھی ، ہماری ساس صاحبہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے قدیم دستور کے مطابق اپنا ہاتھ مسٹر فرینک کی طرف بڑھا دیا ۔ اس بیچار نے ہاتھ ملا کر چھوڑ دیا مگر خالہ جان ہیں کہ ہاتھ پیچھے ہی نہیں ہٹاتیں ۔ مسٹر فرینک کو پریشانی میں مبتلا دیکھ کر انہوں نے زبردستی غریب کو مجبور کیا کہ ان کی بزرگی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا ہاتھ ضرور چومے۔
تھوڑی دیر بعد میں اٹھا اور شومارنے کی خاطر فریج کھولنے کی کوشش کی ۔ بہت زور لگایا مگر نا مراد ٹس سے مس نہ ہوا۔ بعد میں پتہ چلا شریف صاحب نے اسے تالا لگا رکھا تھا اور جلدی میں چابی اپنے ساتھ واپس لے گئے تھے ۔ میری بیگم نے مجھے ہیئت ِکذائی سے نکالنے کی نہایت دانشمندانہ چال چلی ۔ فوراً بولی:
”حسن ذرا ریڈیو گرام تو لگا دو“
میں نے فریج کی جاں بخشی اور ریڈیو گرام سے کشتی شروع کر دی لیکن اس ناہنجار نے بھی تعاون کرنے سے صاف انکار کردیا۔ میں اسے چھوڑ کر دوبارہ فریج کے قریب پہنچا اور اپنی پوری طاقت سے اسے کھولنے کی کوشش کی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دروازے کا ہینڈل اکھڑ کر میرے ہاتھ میں آیا اور دروازہ جوں کا توں بند، میرا منہ چڑا تا رہ گیا ۔ مسٹر فرینک زوردار قہقہہ مار کر ہنسا اور دیر تک ہنستا چلا گیا۔ مجھے اس کی ناشائستہ حرکت پر سخت غصہ آیا مگر مہمان کو تو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا بیگم کو ڈانٹنا شروع کردیا۔
”بیگم تم وہاں ہاتھ پہ ہاتھ رکھے کیا بیٹھی تماشا دیکھ رہی ہو؟ ان غیر ملکی مہمانوں کے سامنے ہمیں یوں ندامت اٹھاتے دیکھ کر تمہیں اتنا خیال نہیں آتا کہ کپڑے دھونے کی مشین ہی چلا دو تاکہ ان کا خیال ہمارے مشین کی طرف لگ جائے۔“
بیگم مشین کے پاس گئی تو معلوم ہوا کہ اس کا ایک بٹن مزدوروں نے سیڑھیاں چڑھاتے ہوئے توڑ دیا تھا۔
اتنے میں اماں نے چیخ ماری ہائے اللہ! دیکھا تو پتہ چلا کہ ہمارے چھوٹےبرخوردار نے قالین پر پیشاب کر دیا تھا۔ اماں بے ساختہ چلائیں۔
”اور لاؤ دوسروں کی چیزیں ۔ میں نہ کہتی تھی یہ سودا مہنگا رہے گا؟ اب تووہ کمبخت ضمانت کا ایک دھیلا واپس نہیں کرے گا۔“
بیگم نے یہ صورت حال دیکھی تو پنجے جھاڑ کر ننھے کے پیچھے پڑ گئی۔
”پھر پیشاب ؟ کلثوم ذراچمٹا گرم کرکے لانا میں اس کی ببو کو ابھی جلاتی ہوں تاکہ پھر کبھی ایسی حرکت نہ کرے۔‘’‘
ننھے نے اپنی ببو کی عافیت کے ڈر سے زور زور سے رونا شروع کردیا۔ ادھر میں اپنی تمام نئی مشنری کا افتتاح کرنے کی بیکار کوششوں میں سرگرداں اِدھر سے ُادھر، ُادھر سے ِادھر بھاگا پھر رہا تھا ۔ اچانک گلی میں شور سنائی دیا۔ معلوم ہوا محلے کے نوجوان امریکیوں پر اپنی وطن دوستی کا رعب جمانے کی خاطر ہمارے گھر کے سامنے جمع ہو کر قومی نغمے گانے میں مصروف تھے۔
خدا خدا کرکے کھانے کا مختصر دور ختم ہوا۔ مہمان رخصت ہونے کے لیے اٹھے باہر گلی میں نکلے ہی تھے سینکڑوں لوگوں نے انہیں گھیر لیا ۔ بچوں نے تالیاں بجانا شروع کردیں۔ ہر شخص مہمانوں سے ہاتھ ملانے کی کوشش کرنے لگا۔ بصد مشکل مسٹر فرینک اور اس کی بیگم کی جان چھوٹی ۔ ان کی جان تو چھوٹ گئی مگر میں آج تک انہیں دعوت دینے کا خمیازہ بھگت رہا ہوں۔ اس روز جتنی چیزیں لوگوں سے ادھار لی تھیں ان میں کوئی ایسی نہ تھی جو ٹوٹ نہ گئی ہو، یا خراب نہ ہوگئی ہو۔ خدا جانے ان سب کا تاوان ابھی کتنے سال اور ادا کرنا ہوگا۔

تحریر:اعزیز نہِ سِن (ترکی)

اردو ترجمہ : کرنل ریٹائرڈمسعود اختر شیخ(اسلام آباد)

4 خیالات “ہمارے امریکی مہمان” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s