اقبال کی شاعری میں ابلیس کا کردار


روایتِ دینی سے ماخوذ کرداروں میں ابلیس کا کرداراقبال کے ہاں نہایت پر کشش کردار ہے ۔ یہ کردار مختلف مذہبی روایات میں مختلف ہے لیکن ہر روپ میں توانا اور کسی بڑی طاقت کی صورت میں ابھرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس کردار نے بہت سے شاعروں اور ادیبوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی ہے۔ کرسٹوفر مارلو ، جان ملٹن اور گوئٹے کی تخلیقات میں ابلیس ایک نمایاں ہی نہیں ، شاہکار کردار ہے۔
اقبال نے ابلیس کے کردار کی پیشکش میں روایتوں سے کسی حد تک استفادہ کیاہے اور ان کے ذہن میں ابلیس کے کردار کی وہ شکل بھی ہے جو روایت قرآنی سے متعلق ہے لیکن اپنی نظموں میں اقبال نے اس کردار کو ایک ایسے کردار کی شکل میں پیش کیا جس کی تشریح ، شیکسپیئر کے کرداروں کی طرح مختلف سطحوں پر کی جاسکتی ہے۔
ابلیس کاکردار اقبال کے ہاں مختلف جہتیں رکھتا ہے ، ایک جہت تو وہ ہے جو مذہبی روایتوں میں عام ہے یعنی شر اور بدی کا استعارہ ، اقبال نے شیطان کو اس روپ میں اپنی مختلف نظموںمیں دکھایا ہے ۔ ان نظموں میں ”ابلیس کی عرضداشت“ ، ”ابلیس کافرمان“ اور ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ لائقِ ذکر ہیں، لیکن موخر الذکرنظم میں ابلیس کا کردار زیادہ توانا نظرآتا ہے ۔ اس نظم میں ابلیس اپنے مشیروں سے یہ مشورہ کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنی طاقتِ شر کو استحکام بخش سکتا ہے ، شیطان کی طاقت دنیا میں دو نظام ہائے زندگی کے بل بوتے پر قائم ہے یعنی شہنشاہیت اور فاشزم ۔ شیطان کو خوف ہے کہ یہ دونوں نظام ، انقلاب کی زد پر ہیں اور ان کا خاتمہ دراصل اس کی اپنی ہی موت ہے ۔ شیطان اس موقع پر زیاہ خائف سوشلزم سے نہیں بلکہ اسلام سے ہے:


کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار ، آشفتہ سر ، آشفتہ مُو
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو


چنانچہ وہ باوجود اس احساس کے کہ یہ امت ، الہیات میں الجھی ہوئی ہے اورکتاب اللہ پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اس کی تاویلات میں غلطاں ہے وہ اپنے لیے خطرہ گردانتا ہے اور اپنے مشیروں کو حکم دیتا ہے کہ:


مست رکھو ذکر و فکرِ صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاجِ خانقاہی میں اسے


اقبال کی تمام شاعری میں ابلیس ایک ایسا انقلابی کردار ہے جو فطرت کے جدلیاتی نظام میں اثبات کے مقابلے میں نفی کی طاقت ہے اور یہ طاقت ہمیں ہر زماں و مکاں سے برسرپیکار نظرآتی ہے ۔ لیکن یہ امر دلچسپی کا حامل ہے کہ اقبال کی شاعری میں ابلیس کا کردار پہلی بار کسی منفی حوالے کے بجائے ایک مثبت زاویے سے ابھرتاہوا نظرآتا ہے ۔ ”جبریل و ابلیس “ وہ نظم ہے جس میں جبریلؑ و ابلیس مکالمہ کرتے ہیں۔ اس نظم میں ابلیس انتہائی دلچسپ ، پرکشش اور جاذب نظر کردار کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں جبریل کا کردار اپنی تمام تر تنزیہہ و تقدیس کے باوجود کمزور اور بے جان لگتا ہے۔ جبریل ؑکے مقابلے میں ابلیس کی دلیل نہ صرف مستحکم ہے بلکہ پرزور بھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ ابلیس کی جبریل پر تعریض بھی تاثیر رکھتی ہے ۔ یہاں ابلیس اپنے معروف حوالہ یعنی بدی کی طاقت کے روپ میں قطعاً دکھائی نہیں دیتا البتہ کسی حد تک عہد نامہ قدیم کے اس عقیدے کے قریب ضرور ہے جس کے مطابق ابلیس ، خدا کا حریف نہیں بلکہ اس کا کام نسل آدم کی غلط کاریاں تلاش کرکے خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ لیکن ابلیس کا کردار اقبال کی اس نظم میں اس عقیدے سے کہیں آگے ترفع رکھتا ہے۔ وہ جبریل ؑسے کہتا ہے :


دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خیر و شر
کون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے میں کہ تو
خضرؑ بھی بے دست و پا ، الیاسؑ بھی بے دست و پا
میرے طوفاں یم بہ یم ، دریا بہ دریا ، جو بہ جو
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصۂ آدمؑ کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
میں کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ھو ، اللہ ھو ، اللہ ھو


نظم کے ان آخری ، اشعار میں ابلیس ، خودی کے استعارہ کے طور پر ظاہر ہورہا ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ اقبال کے ہاں ابلیس کا یہ روپ محض اسی نظم میں سامنے آیا ہے بلکہ ایک نظم ( جو اقبال کے آخری دور شعری سے مختلف ہے ) میں خدا ابلیس کے اس جذبۂ حریت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ یہ نظم ابن عربیؒ سے ماخوذ ہے۔


ابلیس
اے خدائے کن فکاں ! مجھ کو نہ تھا آدم سے بیر
آہ ! وہ زندانیء نزدیک و دور و دیر و زود
حرفِ استکبار ، تیرے سامنے ممکن نہ تھا
ہاں مگر تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجود
یزداں
کب کھلا تجھ پر یہ راز ، انکار سے پہلے کے بعد ؟
ابلیس
بعد اے تیری تجلی سے کمالاتِ وجود !
یزداں
(فرشتوں کی طرف دیکھ کر)
پستیء  فطرت نے سکھلائی ہے یہ حجت اسے
کہتا ہے تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجود
دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام
ظالم اپنے شعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دُود


اقبال کی شاعری میں یہی وہ شعلۂ سوزاں ہے جو خودی کی حرارت ہے۔

تحریر: ڈاکٹر طارق ہاشمی

ایک خیال “اقبال کی شاعری میں ابلیس کا کردار” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s