مقبول عامر” دشت بے آب” سے “عالم بیکراں” تک


مقبول عامر کے انتقال کو سترہ سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے ممکن ہے اب تک ان کے دوستوں، رشتہ داروں اور مداحین کے دلوں کے زخم مندمل ہوچکے ہوں اگر مکمل طور پر مندمل نہ بھی ہوئے ہوں تب بھی یہ اتنے گہرے

مقبول عامر

نہیں رہے ہوں گے جتنے سترہ سال پہلے تھے۔ لہٰذا اب مقبول عامر کی وفات پر نوحے کہنے اور تعزیت نامے تحریر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اور نہ اب یہ سوچنا سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔ کہ وہ ایک ایسے مقام پر ہم سے بچھڑ گئے۔ جب وہ شعری ارتقا کے منازل طے کر رہے تھے۔ انہوں نے ابھی بہت کچھ کہنا تھا۔ اگر وہ زندہ رہتے۔ تو نہ جانے تخلیق کی کون کون سی راہیں طے کر چکے ہوتے۔ اگر ہم ان باتوں میں وقت صرف کرنے کے بجائے اپنی سوچ کا دھارا اس تخلیق تک محدود رکھیں جو ہمارے سامنے ہے اور یہ سوچیں کہ انہوں نے جو کچھ تخلیق کیا۔ اس کی قدرو قیمت کیا بنتی ہے؟ تو زیادہ مناسب ہوگا۔
ہم نے ادب کو تفریح کاذریعہ سمجھ کر اسے شخصی کوائف نامہ تسلیم کرکے زندگی کی تفہیم کے راستے میں کئی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اگرہم ٹی ایس ایلیٹ کے اس قول پر ایمان لے آتے۔ شاعر کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو فن کے حوالے کر دے تو نہ ہمیں لکیریں پیٹنے کی تکلیف گوارہ کرنی پڑتی اور نہ ہی ہماری شاعری عمومی شخصی اور رومانی کیفیات کا روزنامچہ بن کر رہ جاتی اور نہ ہی ہمارے مشاعروں میں “واہ واہ ٹھاں ٹھاں” کی روایت جنم لیتی۔ جس نے ہماری شاعری کو میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مزاحیہ شاعری کا درجہ دے دیا ہے۔ لیکن ایسی شاعری کو مکمل طور پر سنجیدہ فن بھی قرار نہیں دیا جاسکتالہٰذا کوئی بھی شاعر اگر ہماری شعری روایت میں کسی نئی فکری معنویت، نئے لہجے اور اسلوب کا اضافہ نہیں کرتا اور محض تقلیدی رویہ اختیار کئے رہتا ہے تو مناسب ہوگا کہ اس کے بجائے اصل شعرا کا مطالعہ کیا جائے۔
ہمارے عہد میں ایسے شعرا کی تعداد چونکہ اچھی خاصی ہے۔ لہٰذا ہر شاعر کے باب میں کچھ زیادہ سوچ بچار کے بعد ہی کوئی فیصلہ دیا جاسکتا ہےکہ وہ نیا شاعر ہے بھی یا نہیں؟
اب ذرا مقبول عامر کے بارے میں سوچتے ہیں اور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا انہوں نے شاعری کے فن میں کوئی اضافہ کیا جائے یا وہ بھی “ادب برائے تفریح” اور “ادب برائے تقلید” کے زمرے میں آتے ہیں۔
مقبول عامر کی شاعری مانگے تانگے لہجے کے بجائے اپنے مخصوص لہجے اور اسلوب میں گفتگو کرتے ہیں۔ جو کم از کم وہ مروجہ لطیف لہجہ نہیں جس نے شاعری کو موسیقیت کے منظر نامے میں ڈھال کر گہرے افکار وخیالات اس کے باطن سے کھرچ دئے ہیں۔ اس لہجے میں ان کی ذات اور علاقے کی خوشبو بھی موجود ہے اور سنگ و آہن کی بازگشت بھی شاید اسی لیے احمد ندیم قاسمی نے اسے فراق ویگانہ کے لہجے کا تسلسل قرار دیا ہے۔ جو خالصتا نئی غزل کا لہجہ ہے۔ لیکن اس میں بھی بقول قاسمی مقبول عامر اپنی انفرادیت پر آنچ نہیں آنے دیتا۔” (۱)
اس نئے لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے مقبول عامر نئے عہد کی معنویت سمیٹے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور نئے عہد کا نیا شاعر بن جاتا ہے لیکن محض ان سرسری باتوں سے ان کی انفرادیت ظاہرنہیں ہوسکتی اس کے لیے کہانی کے سارے رنگوں کو پیش کرنا ضروری ہے مقبول عامر نے اپنی اکلوتی کتاب “دئیے کی آنکھ” میں دو ہی اصناف پر توجہ دی ہے غزل اور نظم ان دونوں اصناف کا اپنا لہجہ ہے اپنا اسلوب ہے اور اپنا تخلیقی سفر،اگرہم نظم کے مخصوص لہجے، اس کے ارتقائی سفر اور اس سفر میں ابھرنے والے بڑے نظم نگاروں کو ذہن میں رکھتے ہوئے مقبول عامر کی نظموں کا تجزیہ کریں تو ممکن ہے۔ مقبول عامر نے بعض اچھی نظمیں ضرور تخلیق کی ہیں۔ ان میں سے بعض نظموں میں چونکا دینے والی کیفیت بھی موجود ہے۔ مگر اس کے باوجود مقبول عامر اردو نظم کا کوئی بڑا نام نہیں۔ ان کی زیادہ تر نظمیں یا تو ایک تاثر کی حیثیت رکھتی ہیں یا نعرہ بازی اور پروپیگنڈہ کی صورت میں مکمل ہوتی ہیں۔ خاص کر یہ کیفیت شخصیات پر لکھی گئی نظموں میں محسوس کی جاسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ نظم کےارتقاء میں ایسی نظموں کی کوئی بڑی حیثیت نہیں نظم اپنی تکمیل کے لیے جس گھلاوٹ کا تقاضہ کرتی ہےیا کہانی کے جس تکمیلی پن سے عظمت کے نقوش ابھارتی ہے وہ مقبول عامر کے یہاں خال خال ہی دکھائی دے گا۔ البتہ ان کے نظام فکر کے تعین میں بعض نظمیں اہمیت ضرور رکھتی ہیں۔
مقبول عامر بنیادی طور پر غزل کا شاعر ہے۔ جو مخصوص لہجے کے آہنگ سے لےکر نئے نظام فکر کی تشکیل تک کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ نئی غزل جن راہوں کا سفر اختیار کئے ہوئے ہیں۔مقبول عامر نے بھی ان کے تعین میں اپنا کردار اداکیا ہے اور شخصیت کے رنگ اس میں داخل کرکے ایسے مقام پر اسے لے آئے ہیں جہاں شاعری محض تفریح کا ذریعہ بنتی ہے۔ نہ عمومی شخصی کوائف کے گرد دائرے کھینچتی ہے بلکہ فن کی سطح پر سفر کرتے ہوئے اپنے عہد میں ڈھل کر ایک سنجیدہ معیار قائم کرتی ہے۔
۱۹۴۷ء کے بعد کی غزل نے کچھ نئے معیارات قائم کئے ہیں جن میں سب سے اہم قدر زمین سے وابستگی کی ہے۔ نیا شاعر اپنے مخصوص نقطہ نظر کے تحت بغیر کسی سیاسی و نظریاتی وابستگی کے اپنے ماحول سے تعلق استوار کر رہا ہے۔ اور اپنے وجود کو عارضی وجود سے ہم آہنگ کرکے کچھ نئے منطقوں سے گزررہا ہے اس نے ماورائی یادوراز کارتہذیبی عناصر سے تعلق پیدا کرنے کے بجائے اپنی مٹی اور تہذیب سے تعلق استوار کرلیا ہے اب اس کا اپنا چمن ہے اور اپنے پرندے اور اپنی ہی تہذیب کے کوائف۔ نیا شاعر ارضیت سے تعلق جوڑنے کے باوجود اس سطح سے اٹھ کر ماورائیت اور مابعدالطبیعات سے تعلق بھی پیدا کرتا ہے۔ زمین سے اٹھ کر اس نے آسمان کی طرف بھی سفر شروع کردیا ہے۔ لیکن زمین سے اس کا رشتہ پھر بھی ٹوٹتا دکھائی نہیں دیتا نئی شاعری کی انہی اقدار کی جھلک آپ کو مقبول عامر کے یہاں بھی دکھائی دے گی۔ لیکن اس میں اس کی شخصیت کا حصہ بھی شامل ہے اور یہی عمل اس کی انفرادیت کو برقرار رکھتا ہے اور اسے نئی غزل کے نمائندے شعراء میں داخل کردیتا ہے اس لیے نیا غزل گواپنی آنکھ سے دنیا کو دیکھنا چاہتا ہے بغیر کسی سیاسی اور نظریاتی وابستگی کے۔
مقبول عامر معلوم سے اپنا رشتہ قائم رکھتا ہے ارضی وجود کی کہانی رقم کرتا ہے کہ اس کا سب سے بڑامسئلہ ہے بھی معلوم سے رشتہ قائم رکھنا اور زمین سے تعلق استوار کرنا۔ جس میں یقیناً اس کے اس تجربے اور مشاہدے کا بھی کردار ہے جواسی زندگی نے اسے عطا کیا ہے اسی تجربے اور مشاہدے نے اسے زمین کے اس قدر قریب کر دیا ہے کہ ذات اور فطرت کے درمیان تفاوت مٹنے لگا ہے۔ جہاں زمین کی رنگت اور اڑتی دھول اس کے جسم کا لبادہ بن جاتی ہے۔ جہاں پھول کھلتا ہے تو خوشبو اس کے اندر پھیل جاتی ہے ندی پھولوں سے گفتگو کرتی ہے چاند، دریا اور ساحل کے درمیان مکالمہ شروع ہوجاتا ہے ذات اور فطرت اپنی اکائیاں ختم کرکے ایک اکائی میں ڈھل جاتی ہیں۔
دراصل پرانے انسان کی نسبت نئے انسان کا فطرت سے مکالمہ زیادہ قربت اختیار کرچکا ہے تہذیب، اقدار۔ مذہبی روایات اور صوفیانہ افکار سے کٹنے کے بعد نیا انسان فطرت سے تعلق استوار کرکے فنا کو بقا میں بدلنےکی کوشش کر رہا ہے۔
نئے انسان کا فطرت سےجوگہراربط قائم ہو رہا ہے اس کی بہت سی مثالیں آپ کو نئی غزل میں مل سکتی ہیں اس میں مقبول عامر کا حصہ بھی دیکھتے جائیں۔


جدا نہیں مری رنگت زمین سے عامر
یہ اڑتھی دھول مرے جسم کا لبادہ ہے (2)
دوسائےاک چنار کے نیچے بہم ہوئے
اور دھوپ کو ہسار کے پیچھے اترگئی (3)
چاند نےکل شب دریا سے سرگوشی کی
ساحل میرے بارے میں کیا کہتا ہے (4)
ندی نے چاند سے سرگوشیوں میں پوچھ لیا
اب اور کتنی شبِ انتظار باقی ہے (5)
فرطِ غم سے میں اپنی زنجیریں کاٹنے لگتا ہوں
جب دیوار پہ بیٹھا کوئی پنچھی پر پھیلاتا ہے (6)


اب اس کردار نے اپنی زمین اور اس کے مظاہر میں ڈھلنے کا ہنر سیکھ لیا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ جو زمین اس کے اردگرد پھیلی ہوئی ہے وہ ویرانی کے رنگ اوڑھ چکی ہے۔ بنجرپن اس کی تہوں میں اترچکا ہے زمین بھوک اگارہی ہے اور وہ ایسی زمین کا باسی ہے جسے “دشتِ بے آب” کا خطاب دینا پڑرہا ہے۔ بنجرپن اور ویرانی میں گھرا تہذیب کا صرف وہ ایک کردار نہیں بلکہ ہر طرف ریت اڑتی دکھائی دے رہی ہے یہ ویرانی ایک خطے سے شروع ہوتی ہے۔


دشتِ بے آب سے پوچھو کہ وہاں کے اشجار
کن مراحل سے گزرتے ہیں نموپانے تک (7)
میں ایسے دیس کا دہقان ہوں جہاں عامر
زمین بھوک اگاتی رہی بشر کے لیے (8)


اس بنجرماحول میں وہ اور اس کا محبوب دونوں ایک ہی جیسی اذیت سے گزررہے ہیں۔ دونوں اجاڑپن کا شکار ہیں۔ بے بس ہیں اردوغزل میں محبوب کی لاتعداد روپ آپ کو نظر آئیں گے۔ ظالم،جابر، مہربان، لیکن شاید بے بس محبوب کا چہرہ آپ نے بہت کم دیکھا ہوگا۔ مقبول عامر کی غزل میں یہ چہرہ کئی مرتبہ آپکے سامنے آئیگا۔ اس کی وجہ قطعاً بے وفائی کی صورت میں ہونے والا ظلم و ستم نہیں۔ بلکہ اجاڑ زمینوں کے دکھ ہیں۔ جووجود کو اداسیوں سے بھر دیتے ہیں۔ یہ دو اداس چہرے ایک دوسرے کی بے وفائی کے شاکی نہیں یہ تو اپنے ماحول کی ویرانی پر اشک بہا رہے ہیں ۔ آپ کو یہ دو افراد اپنے ماحول کا نوحہ رقم کرتے نظر آئیں گے۔ تو حیرت ہوگی کہ محبت، اس کی کیفیات اور مکالمے ہی بدل گئے ہیں۔


مجھے خود اپنی نہیں اس کی فکر لاحق ہے
بچھڑنے والا بھی مجھ سا ہی بے سہارا تھا     (9)
بچھڑتے وقت میں اس کو دلاسہ دیتا رہا
وہ بے زباں تھی مجھے بے بسی سے تکتی رہی (10)
سفر کی دھوپ اڑالے گئی ہے رنگ تمام
نہ میرے زخم نہ تیرے لبوں پر لالی ہے         (11)
دیدہ ترنے بڑی دیر میں پہنچانا اسے
روپ کھوبیٹھاہےدوچارہی سالوں میں کوئی     (12)
پل بھر وہ چسم ترسےمجھے دیکھتا رہا
پھر اس کے آنسووں سے مری آنکھ بھرگئی    (13)


“دشت بےآب” کی کہانی جو ایک محدود خطے، ایک محدود جغرافیائی ماحول سے شروع ہوئی تھی “دشت بیکراں” تک پھیلتی چلی گئی جس میں مختلف خطوں اور تہذیبوں کے رنگ شامل ہوتے چلے گئے۔ ایک زمین سے دوسری زمین تک، ایک خطے سے دوسرے خطے تک، ایک ملک سے دوسرے ملک تک، پھر اس ویرانی اجاڑپن اور بنجرپن کا نوحہ بین الاقوامی نوحہ بن گیا اور بڑھتے بڑھتے اس نے آفاقی تعزیت کا رنگ اختیار کرلیا۔


دوگام تک ہی سبز مناظر تھے
اک دشت بیکراں تھا جہاں تک نظر گئی (14)
پیاس، صحرا، سراب، سناٹا
جانے یہ سلسلہ کہاں تک ہے (15)


اسی لیے وہ باچاخان، نیلسن منڈیلا، فیض احمد فیض، بنجمن مولائس جیسے انقلاب پسندوں پر نظمیں تحریر کرتا چلا گیا۔ دراصل اسے ارضی جنت کی تلاش تھی وہ ویرانی، اجاڑپن اور بنجر عہد کی زنجیریں توڑ کر کسی نئی صبح، نئی بہار کے انتظار میں سانسیں گن رہا تھا ویران زندگی کا نقشہ کھینچے کے باوجود مایوسی اور ناامیدی کے جہانوں میں گھرا ہوا شاعر نہیں تھا۔ بلکہ ان سے ایک قدم آگے بڑھ کر نئی زندگی کے خواب دیکھنے والا شاعر بھی تھا جہاں وہ محبوب کو بہار کےانتظار کےلیے کہتا ہے اور فردوس ارضی کی تمنا لیے آگے بڑھتا ہے۔


منتظر رہنا مری جان بہار آنے تک
رنگ شاخوں سے گلابوں میں اترجانے تک (16)
میں اس امید پہ صحرا میں آگے بڑھتا رہا
کہ اگلے موڑ پہ شاید فرات مل جائے (17)
مجھے یقین ہے عامر کہ ایک روز خدا
اسی زمیں پہ بہشت بریں اتارے گا (18)


یہاں تک کہانی کا ایک منظر مکمل ہوجاتا ہے مقبول عامر کی شاعری میں ارضیت کی کہانی کا منظربہ سنفر فطرت کےساتھ گہری انسیت کے بعد شروع ہوا تھا اور اس میں ایک مسافرنے اپنی ماحول کی ویرانی کو محسوس کرتے ہوئے اسے وجود کی اندرونی تہوں تک اتار لیا تھا پھر اس نے اس بنجرپن کو کرہ ارض کی اجاڑرتوں سے ملانا شروع کیا۔ اور اس کےبعد کے صبح کی تازگی اور شادابی کے خواب دیکھے لیکن اس مسافر نے زمین سے مکمل وابستگی کے بعد اپنا چہرہ آسمان کی طرف بھی اٹھانا چاہا وہ معلوم سے رشتہ قائم کرنے کے بعد نامعلوم کی طرف ہی بڑھنا چاہتا تھا۔ کیونکہ اسے احساس ہوچلاتھا کہ زندگی معلوم سے نامعلوم یا نامعلوم سےمعلوم تک کا سفر ہے نئی حقیقتوں کی دریافت زمیں سے آسماں کا سفر ہے۔ ہجرتوں پر آمادگی انسان پر نئی دنیا کےدرواکردیتی ہے۔ سوا اس مسافر نے بھی زمین سے آسماں کی طرف ہجرت کرنے کی کوشش کی وہ ارضی حقیقتوں سے اوپر اٹھ کر سماوی حقائق جاننا چاہتا تھا لیکن زمین نے اس کے قدم جکڑ لئے تھے۔ اسی لیے اسے کئی مقامات پر یہ اعتراف کرنا پڑا۔


مہ و نجوم کی جانب نظر اٹھے کیسے
اس اپنے رنگ بھرے خاکداں کے ہوتے ہوئے (19)
رکے ہیں یوں کہ سلاسل پڑے ہیں پاؤں میں
زمین بندوفا سے ربائی دے تو چلیں (20)
رنگ جتنے ہیں سب زمیں پر ہیں
اک خلا ہےجو آسماں تک ہے (21)


لیکن ان رنگوں کو وجود میں سمیٹے ہوئے اس نے خلا کی طرف سفر کرنے کی کوشش کی زندگی، وقت، ازل، فطرت اور انسان کی کشمکش کو سمجھنے کے لیے اس نے کئی دفعہ اپنا رخ آسمان کی طرف پھیرا۔ غزل میں کئی سوالات اٹھائے کیونکہ اسے یہ احساس ہوچلا تھا۔


اس سے آگے ہی بیکراں عالم
ساری تنگی حصاِرجاں تک ہے (22)


شہرسے دور کسی بن میں بسیرا کرنے کی خواہش اس کے دل میں ابھرتی رہی لیکن وہ ارضی مزاج سے گریزنہ کرسکا۔ شہرکو چھوڑ کر جنگل، زمین کو چھوڑ کر آسمان کی طرف جانہ سکا۔ اس لیے نوعیت کے فلسفیانہ تصورات اس کے یہاں بہت زیادہ عظمت اور آفاقیت اختیار نہیں کرسکے اس نے غزل میں کئی مقامات پر ایسی فلسفیانہ گفتگو کرنے کی کوشش کی ‘زندگی’ ‘اپنے ہمزاد سے’ اور ‘ملازمت’ جیسی نظمیں بھی تخلیق کیں۔ لیکن وہ انہیں توانا فکر اور تخلیقی گھلاوٹ عطا نہ کرسکا۔ جو اس کی ارضی مزاج کی شاعری میں نظر آتی ہے۔ اس لیے مقبول عامر بنیادی طور پر ارضی مزاج کا وہ شاعر ہے، جس کے تمام تصورات کی جڑیں زمیں میں پیوست ہیں جس میں بنیادی رشتہ معلوم کے ساتھ استوار ہوتا ہے۔ نامعلوم کےساتھ اس کا تعلق زیادہ مضبوط نہیں سوائے اس کے تصورمحبت کے جس میں ارضیت کی نشانیاں کم ہیں۔ کیونکہ اس کی محبت کا مزاج جسمانی نہیں روحانی ہے یا ماضی پرستانہ جو زمینی نہیں۔ آسمانی ارفعیت سے تعلق رکھنے والا رویہ ہے۔ لیکن محبت، محبوب اور مخصوص سماجی ماحول جسے ایک مرکز سے وابستگی اختیار کرتے چلے جاتے ہیں وہ مرکز معلوم کے ساتھ تعلق اور زمین کے ساتھ انسلاک کا نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ بہت ممکن تھا کہ ماورائی حقیقتیں اسے آواز دے لیتیں اپنی طرف بلالیتیں اگر اس کا ارضی تعلق اس قدر مضبوط نہ ہوتا یا اس اس کے قدم زمین میں اس درجہ پیوست نہ ہوتے۔

حواشی

۱ ۔         خبرنامہ اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد اپریل تا مئی جوں ۱۹۹۱ء
۲۔         مقبول عامر                     دئیے کی آنکھ       ص ۱۰۴
۳۔         ایضاً                                                      ص ۲۰
۴۔         ایضاً                                                      ص ۶۶
۵۔         ایضاً                                                      ص ۱۰۶
۶۔         ایضاً                                                      ص ۹۶
۷۔         ایضاً                                                      ص ۳۱
۸۔         حسین محمود داوڑ مقبول عامر شخصیت اور فن غیر مطبوعہ مقالہ برائے ایم اے اردو۔ شعبہ اردو پشاور ص ۱۲۲
۹۔         مقبول عامر         دئیے کی آنکھ       ص۶ ازرتارپبلی کیشنز، اسلام آباد باراوال جنوری ۱۹۹۰ء
۱۰۔       ایضاً                                                      ص ۸۹
۱۱۔       ایضاً                                                      ص ۳۰
۱۲۔       ایضاً                                                      ص ۱۴۵
۱۳۔       ایضاً                                                      ص ۲۰
۱۴۔       ایضاً                                                      ص ۱۹
۱۵۔       ایضاً                                                      ص ۸۲
۱۶۔       ایضاً                                                      ص ۳۱
۱۷۔       ایضاً                                                      ص ۹۹
۱۸۔       ایضاً                                                      ص ۳۴
۱۹۔       ایضاً                                                      ص ۲۴
۲۰۔       مقبول عامر         دئیے کی آنکھ                   ص ۷۹
۲۱۔       ایضاً                                                      ص ۸۲
۲۲۔       ایضاً                                                      ص ۸۲
۲۳۔       ایضاً                                                      ص ۶۸۔۶۷

کتابیات
۱۔         مقبوعامر                        دئیے کی آنکھ       زرتار پبلی کیشنز اسلام آباد باراول جنوری ۱۹۹۰ء
۲۔         خبرنامہ اکادمی ادبیات پاکستان (مدیر۔ نسرین عباس) اپریل تا مئی جون ۱۹۹۱ء
۳۔         حسین محمودداوڑمقبول عامرشخصیت اورفن غیرمطبوعہ مقالہ برائے ایم اے اردو۔ شعبہ اردو پشاور

تحریر: پروفیسر سہیل احمد شعبہ اردو جامعہ پشاور

2 خیالات “مقبول عامر” دشت بے آب” سے “عالم بیکراں” تک” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s