محبت کے نخلستانوں میں عقیدت کا سفر


بنوں اور لکی مروت زمانۂ قدیم سے بے شمار تہذیبی و ثقافتی ، دینی و مذہبی ، علمی و ادبی اور انتظامی و انصرامی اٹوٹ رشتوں میں بندھے چلے آرہے ہیں۔ ان میں دو بھائیوں جیسا پیار یا دو اچھے پڑوسیوں کا سا رشتہ پایا جاتا ہے ۔ بڑا بھائی گروپ فوٹوہونے کے ناتے بنوں کو افرادی قوت کی کُمک پچھلے ہر دور میں ہمیشہ اپنے چھوٹے بھائی لکی مروت سے ہی ملی ہے ۔ چنانچہ محکمہ  تعلیم ، پولیس اور بینک کے متنوع شعبوں سے لے کر اردو اور پشتو شاعروں تک کی ہر چھوٹی بڑی کھیپ وہیں سے درآمد کی جاتی رہی ہے۔ فرانسیسی مفکر اندرے ژید کے نظریے ( حسن اور فن کے معاملے میں حب الوطنی کے جذبے کو دخل نہیں دینا چاہیے ) کی روشنی میں بات کی جائے تو کہنا پڑے گا کہ بنوں کے چند ایک قد آور شاعروں (مقبول عامر ، مطیع اللہ قریشی ، غازی سیال) کو چھوڑ کر دیگر تمام چھوٹے بڑے شاعروں پرلکی مروت کے رحمت اللہ درد ، عبدالرحیم مجذوب ، تبسم مروت ، افگار بخاری اور انور بابر کو واضح بزرگانہ برتری حاصل ہے اس رائے سے ہمارا مقصد کسی کی بے جا تحسین یا تنقیص کرنا ہر گز نہیں ۔ اصحابِ نظر جانتے ہیں کہ قبولِ خاطر و ُلطفِ سخن خداداد چیز ہے۔ کسی بھی ادبی ، لسانی یا علاقائی تعصب سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کے فوری ازالے کے لیے اتنا عرض کر دنیا بہر حال ضروری سمجھتا ہوں کہ بنوںنے فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں ( موسیقی، مصوری اور خطاطی ) میں جیسے جیسے قدآور نام پیدا کیے ہیں لکی مروت میں اُس کا عُشرِ عشیر بھی دکھائی نہیں دیتا۔
فنون ِ لطیفہ کے کئی ایک شعبوں ( موسیقی ، خطاطی ، نقاشی ، مصوری اور شعر و ادب ) سے مجھے بچپن ہی سے گہری دلچسپی رہی ہے ۔ خصوصاًا چھا شعر تو میرے انگ انگ کو ایک وجدانی کیف اور روحانی سرُور سے آشنا کردیتا ہے۔ معلوم نہیں بُطُونِ شعر سے کونسی ایسی طلسماتی پری نکلتی ہے جو خیالوں کی انگلی تھام کر ان دیکھے پربتوں پر لے اُڑتی ہے ۔ پھر شام و سحر ، روشنی و تاریکی ، افسانہ و افسوں ، خوف و امید ، لذت واذیت اور مسرت و ملال کے ملے جلے تاثرات کے تختِ رواں پر بٹھا کر خدا جانے کہاں کہاں لیے پھرتی ہے میں اس باطنی کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا آپ اپنی سہولت کے لیے چاہیں تو اِسے کسی نوخیز حسینہ کا غمزۂ دلفریب کہہ لیں ، کسی معصوم بچے کا تبسمِ دلنواز کہہ لیں یا کسی واصل بااللہ کا نورِ باطن ! مجھے اگر مجبور کیا جائے تو فقط اتنا کہوں گا کہ:


خوبی ہمیں کرشمۂ ناز و خرام نیست
بِسیار شیوہ ہاست بتاں راکہ نام نیست


چنانچہ شعر و سخن کے گلہائے رنگا رنگ سے اِسی ”غمزۂ دلفریب“ اِسی” تبسم ِ دلنواز“ اور اسی ”نورِ باطن “ کی نکہت و شمیم کو پیالۂ ذوق و وجدان میں اپنے نوجوان قارئینِ کرُم کے لیے سمیٹ کر لانے کی غرض سے ہم نے 24 جون 2010ءکی ایک کُہر آلود اور انتہائی خنک مگر دلفریب صبح اپنے ہمدمِ دیرینہ محمد ولی کی گاڑی میں لکی مروت کا ادبی دورہ کیا۔ میرے ساتھ میرے حساس اور ادب نواز دوست جاوید احساس بھی تھے۔ راستے میں مفتی محمود کالج ڈیرہ اسماعیل خان کے شعبہ اردو کے انتہائی سخن طراز اور سخن ساز لیکچرر عبدالمتین مبتلا بھی اپنی گرم گفتاری میں ہمیں مبتلا کرنے کے لیے آشامل ہوئے ۔ کار بنوں سے لکی مروت جانے والی نئی اور کشادہ روڈ پر کُہر اور دُھند کے مرغولوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سورج دیوتا نے اُفق ِ شرق سے بلند ہو کر اپنی نٹ کھٹ شعاعوں کے مشفق و مہربان نیزے ہماری نظروں کے ہدف پر چلانے شروع کر دئیے مجھے بے اختیار مقبول عامر یاد آگئے :


چند لمحوں میں سبھی عکس نکھر آئیں گے
دُھند کا راج ہے بس دھوپ نکل آنے تک


باہر کی سرد اور برفیلی فضا کے برعکس گاڑی میں خاصی گرما گرم ادبی بحث نے زور پکڑا ہوتا تھا۔ ناممکن ہے کہ کسی جگہ برادرم جاوید احساس اور متین مبتلا اکھٹے ہوں اور علامہ اقبال کی شاعری کے بسیط ،نادیدہ اور دوراز کارگوشوں پر فصیح و بلیغ مباحثی جملوں کے چھینٹے نہ اُڑیں ۔ جاوید احساس اور متین مبتلا نے ڈاکٹر طارق سلیم مروت کو فون پر اپنی آمد سے پہلے ہی مطلع کر رکھا تھا ۔ باقی شاعروں کو جمع کرنا ڈاکٹر صاحب کے ذمےّ تھا ۔ ادب کے آنگن میں مختلف موضوعات کی نوخیز کلیاں ابھی چٹک ہی رہی تھیں کہ سفر اختتام پذیر ہو گیا ۔ محبوب شخصیات پہلو میں ہوں، پسندیدہ اور دلچسپ گفتگو کا سلسلہ دائرہ در دائرہ پھیل رہا ہواور ایسے میں سفر اچانک ختم ہو جائے تو یہ اختصارمنہ کا ذائقہ کِرکِرا کر دیتا ہے ۔ اُس سمے دل بھی اِسی حسرت کی آگ میں جل کر کباب ہو گیا کہ کاش! سفر زلفِ لیلیٰ سےطویل یا برابر نہ سہی کم از کم دو چار ہاتھ ہی کم نکلا ہوتا تو شاید دل کی تمام اتھاہ ظلمتیں اس پُر خلوص رفاقت سے چھٹ جاتیں۔
بہر حال ڈاکٹر طارق سلیم ، جو خانوادہ مینا خیل کے چشم و چراغ ہیں اور سیف اللہ فیملی کی طرح اُن کے گھرانے کا شمار بھی لکی مروت کے قدیمی ، معزز اور تاریخی خاندانوں میں ہوتا ہے ہمیں تہ ِ دل سے خوش آمدید کہنے کے لیے خاصی دیر سے راستے میں آنکھیں بچھائے اس شعر کی مجسم تصویر بنے کھڑے تھے:


نظر آپ کا مکان ہے دل آپ کی گلی
اِن بستیوں میں شوق سے تشریف لائیے


ڈاکٹر صاحب گٹھیلے اور مضبوط تن و توش کے ادھیڑ عمر انسان ہیں پہلی اُچٹتی سی نظر میں وہ خاصے پُر وقار اور برُدبار دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کی نشست و برخاست کی تو ایک ایک ادا تہذیب کے سانچے میں پوری طرح ڈھل کے نکلی ہے ۔ان کے گلے ملنے کے تپاک اور محبت آمیز دھیمی گفتگو سے لے کر قہقہہ لگانے اور سیگریٹ کی راکھ جھاڑنے تک میں ایک وضع دار اور مؤ قر تہذیب کا ایک ایسا رچاؤ اور سبھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے کہ اگلا ایک ایک پل میں گزری ہوئی صدیوں کی چاپ صاف سن سکتاہے۔ مجھے تو بخدا اُس وقت شاہد زمان بے طرح یاد آئے کیونکہ اُنہی کے ایک شعر کا جیتا جاگتا اور چلتاپھرتا پیکر میری نظروں کے سامنے تھا :


سات نسلوں کا تعارف ہے یہ لہجہ شاہد
جب کوئی بولے تو پھر نام و نسب کھلتا ہے


ڈاکٹر صاحب پیشے کے لحاظ سے معالج ( ایم بی بی ایس ڈاکٹر ) ہیں اور سرِ دست لکی ریجن کے پولیو ڈائریکٹر ہیں۔ وہ ہم سب مہمانانِ ادب کو لے کر جیسے ہی اپنے حویلی نما مہمان خانے میں داخل ہوئے تو وہاں کی خاموش فضا میں جیسے ہلچل سی مچ گئی کیونکہ وہاں موجود تمام قدیمی نمک خوار نوکر چاکر ہماری سیوا میں لگ گئے ہمیں فرشی نشست اور گاؤ تکیوں سے آراستہ بیٹھک میں پورے روایتی طُمطُراق سے بٹھایا گیا ۔ اِسی دوران ایک ملازم کو بھیج کر پشتو کے صفِ اوّل کے بزرگ غزل گو شاعر جناب رحمت اللہ درد کو بھی ان کے گھر سے بلوا لیا گیا۔ تھوڑی دیر تک گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ، لکی مروت کے شعبہ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اُردو زبان کے خوش فکر اور تازہ کار شاعر جناب انوربابر بھی اپنا نورانی چہرہ لیے اپنے پیروں پہ چلتے ہوئے ہانپتے کانپتے آن وارد ہوئے ۔ اُن سے کچھ ہی دیر قبل پشتو ہی کے ایک اور معتبر اور متین شاعر نادرخان علیل بھی ڈاکٹر صاحب کے مہمان خانے میں قدم رنجہ فرما چکے تھے ۔
اب تو گویا محفل میں ہر سُو ادب ، اخلاق اور کلچر کے چشمے سے اُبلنے لگے ایک ہی بارات میں عرُوُسِ ادب کے اتنے سارے نوشے اور دولہے نظر نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے اس قدیمی و تاریخی عمارت کی ہر درو دیوار اور وہاں موجود ہر ذی روح اِس چشمۂ مہر و وفا میں دُھل کرپوری طرح نکھر گئے ۔
میں نے اپنی آمد کے مقصد پہ روشنی ڈالنے کے لیے با ادب لہجے میں عرض کیا:
”معزز و مکرم حاضرین! ہمارے ادارے کے سربراہ پروفیسر اشفاق علی خان ، کرم ایڈیٹر وہاب اعجاز ( اردو لیکچرر ) اور جمشید علی ( پی اے ٹو پرنسپل ) نے پچھلے سال ذاتی دلچسپی لے کر اپنے کالج کے علمی و ادبی مجلے کے اشاعتی سلسلے کو ، جو کالج انتظامیہ کی بے اعتنائی کے سبب پچھلے بارہ سالوں سے تعطل کا شکار چلا آرہا تھا ، دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ اُمید ہے آپ کو اس سلسلے کا 2008کُرم شمارہ موصول ہو چکا ہوگا اس ضمن میں ہم پروفیسر انور بابر کے بطور خاص ممنون ہیں ۔ سرِ دست 2010شمارے کے لیے آپ تمام حضرات کا تفصیلی انٹرویو لینے کی غرض سے آج ہم سب آپ کے درِ سخن پر حاضر ہوئے ہیں۔ “
اس پر تمام حضرات نے مجلے کے سرپرست اور ادارتی عملے کی کوششوں کو نہ صرف شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا بلکہ تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کے اظہار کے ساتھ ساتھ ڈھیر ساری دعاؤں سے بھی نوازا۔
اس غیر روسمی انٹرویو کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق سلیم مروت سے برادرم جاوید احساس نے پوچھا:
”ڈاکٹر صاحب! کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ کے ادبی شعور نے کب اور کیسے آنکھ کھولی ؟”
ڈاکٹر صاحب دھیمے پُر وقار انداز میں گویا ہوئے:
”جاوید صاحب!میں نے ابتدائی تعلیم تو لکی مروت ہی میں حاصل کی یہاں پشتو زبان و ادب کا تو کسی قدر ماحول موجود تھا مگر اردو ادب کے حوالے سے یہ علاقہ بالکل کورا تھا مجھے میر ے والد صاحب بچپن میں ”بڑوں کے ادب “ پر مبنی جیبی کہانیاں پڑھنے کو لا دیتے جس نے پہلے پہل میرے اندر تفریحی مطالعے کی تخم ریزی کی جسے بعد میں میٹرک اور ایف ایس سی کرنے کے دوران کیڈٹ کالج کوہاٹ جا کر پوری طرح پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ وہاں بڑی اچھی لائبریری موجود تھی ۔ ہفتے میں ہمارا ایک پیریڈ لائبریری کا ہوتا جس میں لائبریرین کتابوں کی درجہ بندی ، مخصوص کتاب ڈھونڈنے اور کیٹلاگنگ کی تعلیم اورعملی تربیت دیتے تھے اِسی علم پرور اور کتاب دوست ماحول میں میرے ادبی ذوق کا تعارف اردو کے مشہور مزاح نگاروں(کرنل محمد خان اور شفیق الرحمن ) سے ہوا۔ جس کے سِحِر سے میں آج تک نہیں نکل پایا۔ اِنہی عظیم لکھنے والوں سے متاثر(Inspire)ہوکے میں نے کیڈٹ کالج ہی میں مزاحیہ تُک بندی بالخصوص تحریف نگاری (Parody)کاآغاز کر دیا۔ پھر جب 80ءکی دہائی میں خیبر میڈیکل کالج پشاورایم بی بی ایس کرنے پہنچا تو وہاں کی نسبتاً آزاد اور رنگین فضا نے میرے خاسۂ تخلیق کے لے مہمیز کا کام کیا ۔ وہاں اپنے قیام کے دوران میں نے ہلکی پھلکی رومانوی آزاد اور پابند نظمیں لکھیں۔ میرے اولین مجموعۂ کلام ”راز“ کو آپ اسی پنچ سالہ قیام کا ثمرِ شیریں قرار دے سکتے ہیں۔“
دریں اثنا چائے آگئی جس کے ساتھ ڈھیر سارے لوازمات بھی تھے جن میں خشک میوہ جات اور خانہ زاد ُمرونڈے بھی شامل تھے۔ چائے کی گرما گرم پیہم چُسکیوں ، خشک میوہ جات نے ڈاکٹر صاحب کی رومان انگیز گرم گہری گفتگو کا لطف دوبالا بلکہ سہ بالا کر دیا۔ مجھے مولانا محمد منظور نعمانی مرحوم کا وہ یادگار جُملہ بے ساختہ یاد آگیا جو اُنہوں نے مولانا کوثر نیازی کے اِس استفسار پر برجستہ ارشاد فرمایا تھا کہ ”مولانا ! کیا وجہ ہے کہ علماءحضرات اعلیٰ درجے کے چائے نوش ہوتے ہیں؟“
”مولانا نیازی صاحب! وہ اس لیے کہ یہ لوگ ”کوئی اور نوشی “ جو نہیں کرتے۔“
گفتگو کرتے کرتے اچانک ڈاکٹر صاحب کے دل میں جناب رحمت اللہ درد صاحب کی بزرگانہ عقیدت اور مودبانہ محبت کا جذبہ متلاطم ہو گیا چنانچہ وہ اُن کے قدموں میں جابیٹھے ۔میں نے موقع غنیمت جان کر پوچھ لیا:” ڈاکٹر صاحب ! آپ کی خوش فکر خوش آہنگ اور خوش منظر شعری تخلیق کے عنوان ”راز“ میں بھلا کیا راز کی بات ہے؟“
انہوں نے اپنے مخصوص دھیمے پُروقار اور محبت میں گندھے لہجے میں بتایا:
”پہلی بات تو یہ کہ میرا تخلص ”راز“ ہے اور دوسری خاص بلکہ بنیادی بات یہ کہ ہم نے درد صاحب کے اوّلین مجموعہ کلا م کے لیے ان کا تخلص بطور عنوان کے تجویز کیا تھا بس اُسی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے میں نے بھی اپنی شعری تخلیق کا نام ”راز “ رکھ لیا:


میں ہوں رات کا مسافر
میں ہوں صبح کا ستارا
میں وہ راز ہوں ابھی تک
نہ ہوا جو آشکارا


اب عبدالمتین مُبتلا کی باری تھی اُنہوں نے اپنی لچّھے دار گفتگو کا جال پھیلاتے ہوئے پوچھا: ”ادب کے حوالے سے کوئی دلچسپ واقعہ اگر آپ کو یاد ہو ، تو ہمیں سنائیے ۔“
ڈاکٹر صاحب نے کچھ دیر سوچنے اور کسی قدر مسکرانے کے بعد کہا:
”ایک بار خیبر میڈیکل کالج پشاور کے ادبی مجلے ”سینا“ کے ایڈیٹر ڈاکٹر اشتیاق نے ہم سے اپنی منظوم اور منثور تخلیقات رسالے میں اشاعت کے لیے جمع کرانے کا کہا۔ میرے پاس ہاسٹل میں 1922ا ایک انتہائی پرانا ادبی رسالہ پڑا رہتا جس کی کبھی کبھار خالی وقت میں، میں ورق گردانی کرلیا کرتا ۔ اس کا مدیر شاید مستانہ جوگی تھا میرے ایک دوست نے جب اسے الٹ پلٹ کر دیکھا تواُس کی خوشی سے باچھیں چِر گئیں۔ کیونکہ اُس میں ”ہاسٹل میں پڑنے “ کے متعلق پطرس بخاری کا ایک مزاحیہ مضمون شامل تھا۔ اُس نے مجھ سے رازدارانہ لہجے میں عیّاری سے چمکتی آنکھوںسے کہا : ”میں میگزین کے لیے کیوں نہ یہی مضمون نقل کرکے دے دوں“ اِس پر برجستہ قہقہہ لگاتے ہوئے میں نے اُسے کہا ”اسے پڑھ کے لوگ یہی نتیجہ نکالیں گے کہ پطرس بخاری ابھی تک مرا نہیں بلکہ زندہ ہے۔ جسے سن کر اُس کی امیدوں پہ اوس پڑ گئی۔ “آخر میں سب کی پرُزور فرمائش پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے کلام سے ہمیں یوں نوازا:


انجام
تو نے انجام کیا ہے جس کا
اے مری جان ! اس محبت کا
کبھی آغاز تو کیا ہوتا !!!


شاعر
سوچتا ہوں کہ شاعری کر لوں
پھر تیرے نام اِک غزل لکھوں
تیری آنکھیں خُمار آلُودہ
بِن پیے میں کہیں بہک جاؤں
تُو بنے پھول اِس گلستاں کا
اور میں گیت تمہارے لکھوں
مِثلِ بُلبُل ہر ایک ڈالی پر
اُڑتے اُڑتے میں تیرے گُن گاؤں
چاہتا ہوں میں کوئی نظم لکھوں
تیری زلفیں ہوا میں بکھراؤں
یہ سراپا تیرا اے جانِ غزل!
چند اشعار میں بیان کروں
اپنے دل کی لگی بھی کہہ ڈالوں
اور یہ سب تمہاری نذر کروں
کاش میں ایسی نظم لکھ لیتا!
کاش کہ میں کبھی شاعر ہوتا!


راز
برسا نہیں مدت سے وہ
پھر بھی اُسے بادل کہا
جس میں ہماری جان ہے
اُس شخص کو قاتل کہا
جس کے سبب رُسوا ہوئے
جو راز تھے افشا ہوئے
جس کے لیے شاعر بنے
اُس نے ہمیں پاگل کہا
٭٭٭٭٭٭


ادب اور شاعری لوگوں کے لیے خوش وقتی کا شُغل ہو تو ہو رحمت اللہ درد کے لیے یہ ایک مستقل طرزِ حیات اور کُل وقتی اندازِ زیست کا نام ہے اگر کوئی شاعری کو نکھرے ستُھرے اور کومل و نرمل انسانی روپ میں دیکھنا چاہے تو اُسے لکی مروت جا کر درد صاحب کے پرُنور چہرے سے اپنی آنکھوں کو طروات بخشنی چاہیے ۔ اگر کسی بدنصیب کو زندگی میں اُن سے ملنے کاموقع نہیں ملا تو وہ کچھ صفات کو ترکیب دے کربھی اپنے تخیّل میں اُن کی شخصیت کا خاکہ کھینچ سکتا ہے۔اُسے چاہیے کہ پہلے وہ فرشتوں سے روحانی پاکیزگی مسُتعار لے پھر اُسے بچوں کی معصومیت سے دیتے ہوئے اس میں بزرگانہ تدبر ، عالمانہ وقار اور مردانہ وجاہت کو جمع کرکے اس میں سے ابلیسی مکر و ریا اور بغض و حسد کو قطعی منہا کر دے۔ حاصلِ تفریق سے اُس کے ذہنی کینوس پر جو عظیم انسانی مرقع وجود میں آئے گا بس وہی رحمت اللہ درد ہوگا ۔
میں جب کبھی اپنے ذہن میں جذباتِ انسانی کے پُردرد پہلو پہ سوچتے ہوئے میر تقی میر ، فانی بدایونی ، ناصر کاظمی یا پھر غلام محمد قاصر کی زندگیوں اور اُن کے کلام میں موجزن حزن و ملال اور سوز و درد کے طوفان کا نقشہ جماتا ہوں تو لاشعور سے کتنے ہی ایسے دلگیر اور ل دوز شعر شعور کی سطح پر آکر تڑپا دیتے ہیں:


مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا


چھیڑا سحر نے پھر مجھے قاصر پُکار کر
ورنہ تمام رات مرا نام درد تھا


پھر اِ ن رنجور شخصیات کے پہلو بہ پہلو رحمت اللہ درد کی انشراح اور انبساط سے ہمہ جا اور ہمہ وقت ہنستی مسکراتی شخصیت کو کھڑا کرکے دیکھتا ہوں تو اُن کے لیے ”درد“ کا تخلص کچھ اَن مِل بے جوڑ سا لگنے لگتا ہے۔ لیکن وجدان بروقت بیچ میں پڑ کر اس گتھی کو یوں سُلجھا دیتا ہے کہ:
”اور شاعروں کے ہاں زندگی نے ”کھونے کے احساس“ نے درد اور غم کی ایک دائمی اور لاعلان مرض کی شکل اختیار کر لی ہے لیکن رحمت اللہ درد کے ہاں زندگی نے محبت کی آگ میں تپ کر اور کشادہ قلبی کے سانچے میں ڈھل کر سوز اور درد کے فرحیہ اور طربیہ رُخ کو پالیا ہے ۔“
غالب جیسے بحرِ حیات کے بالغ نظرشناور نے بھی اِسی راز کو پا لیا تھا جبھی تو کہہ گئے ہیں:


رنج سے خوگر ہوا اِنساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں


مجھے خود کو درد صاحب کے رُوبرُو پا کر اِس یادگار سمے ایک افتخار آمیز خوشی کا بے پایاں احساس ہو رہا تھا لیکن درد صاحب نے یہ کہہ کر بازی ہی جیت لی کہ ”شبیر حسین انسپکٹر پولیس، بنوں مجھ سے ملاقات کے لیے جب بھی آتے ہیں تو اُن کی زبان پرہمیشہ آپ ہی کا ذکر ِ خیر ہوتا ہے جس کے باعث مجھے خود آپ سے ملاقات کا ایک عرصے سے اشتیاق تھا۔“
میں نے درد صاحب سے کہا کہ ”آپ نے ہمارے مادرِ علمی ، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں میں بطور طالب علم کے بھی وقت گزار ا ہے اور بطور استادبھی رہے آپ کو کالج سے وابستہ اپنی زندگی کا کوئی دلچسپ اور یادگار واقعہ اگر اس وقت یاد آرہا ہو تو سنائیے !“
اُنہوں نے اپنے پُردرد اور شگفتہ لہجے میں سنانا شروع کیا:
”یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں گورنمنٹ کالج بنوں میں پڑھتا تھا ۔ اس وقت پروفیسر میاں تقویم الحق کاکا خیل ہمارے ہاسٹل کے وارڈن تھے ۔ میرے ہاسٹل کے ساتھیوں میں دل جان خان ، فضلی ، مجذوب صاحب وغیرہ شامل تھے۔ سرور ہمارے ہاسٹل کا باورچی تھا ۔ تھا تو وہ نہایت سادہ مگر پرلے درجے کا بڑبولا اور شیخی خورا مشہور تھا ۔ آج کی طرح اُس وقت بھی ہاسٹلوں میں زیادہ تر دال سبزی ہی پکا کرتی تھی لیکن ایک شام ہم نے دیکھا کہ خلاف توقع مطبخ سے پلاؤ اور بھُنے ہوئے مُرغ کی مست کر دینے والی خوشبو آرہی ہے جسے سونگھ سونگھ کر ہماری توبھوک اور تجسس دونوں بیک وقت چمک اُٹھے ۔ میں فی الفور شوق کے پروں پر اُڑتا ہوا باورچی خانے پہنچا ۔ جہاں میاں سرور سرخ انگاروں پر پلاؤ کے پتیلے کو دم دینے سے فارغ ہو کر اب مرغ تل رہا تھا۔ میرے تو منہ میں سیروں پانی بھر آیا ۔ میں نے ایک آدھ بوٹی چکھانے کے لیے سرور کی ہزار ہا منتیں کیں مگر وہ ظالم ٹس سے مس نہہوا کیونکہ وہ کم بخت جتنا سادہ مزاج تھا اِس سے کہیں بڑھ کے دیانتدار بھی تھا۔ اس لیے باورچی خانے سے ناکام لوٹنا پڑا ۔ سن رکھا تھا کہ مایوسی کفر ہے سو میں نے بھی امید کا دامن تھامتے ہوئے ایک ترکیب سوچی اُسی وقت غلام شبیر شاہ سامنے سے آتا ہوا دکھلائی دیا میں نے اُسے روک کر پوچھا: ”کیوں حضرت! بھُنا ہوا مرغ چلے گا۔“ شاہ صاحب نے حیرت اور طنزملے لہجے میں ایکا ایکی کہہ دیا۔“ ”یہ منہ اور مسورکی دال “اور خود آگے بڑھ گیا ۔ یہاں سے بھی مایوس ہو کے میں دل جان خان کے پاس پہنچا ( جو بعد میں صوبے کے آئی جی پی بنے ) انہوں نے میری اِس اشتہا انگیز ترکیب پہ عمل کرنے میں میرا ساتھ دینے کی فوراً حامی بھر لی ۔ ہم دونوں روغنِ عیاری مل کرلپاک جھپاک سرور بارورچی کے پاس پہنچے۔ حسبِ ترکیب میں نے اپنی بات سرور کے گوش گزار کرنے کے لیے اونچی آواز میں کہا: ”دل جان خان ! کیا تم جانتے ہو کہ میں اور سرور آنکھیں بند کرکے بھی چیزیں دیکھ سکتا ہے۔“ دل جان خان نے کہا : ”سفید جھوٹ “ میں نے کہا : ”اچھا ، آزما کے دیکھ لو ۔“ سرور میری آنکھیں بند کرے گا تم اُنگلیاں ُاٹھانا میں تعداد بتا دوں گا ۔“ سرور نے کھانا پکانا چھوڑ کر میری آنکھیں بند کر دیں ہم پہلے ہی طے کرکے آئے تھے ۔ دل جان خان نے پہلے دو اور پھر چار انگلیاں اٹھائیں جو میں نے ٹھیک ٹھیک بتا دیں جس پر دل جان خان نے حیران ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا : ” واہ بھئی واہ! تم تو چُھپے رستم اور سامری جادوگر نکلے ۔ تم نے تو کمال کی ٹانگ توڑ کے رکھ دی ہے مگر یہ سرور ! یہ ہرگز ہرگز ایسا نہیں کر سکتا ۔“ سرور جو سدا کا شیخی خورا اور بڑبولا تھا ، فوراً پکار اُٹھا : ”کیوں نہیں کر سکتا ، ابھی آزمالو!“
میں نے جونہی سرور کی آنکھوں پہ رومال رکھا دل جان خان بغیر کسی آہٹ کے ، کمال صفائی سے ایک عدد مرغِ مُسلّم لے اُڑا ۔ میں نے جھوٹ مُوٹ سرور سے پوچھا: ”بتاؤ دل جان خان نے کتنی انگلیاں اٹھائی ہیں؟“ اُس نے یونہی سے کہہ دیا : ”تین“ میں نے خوب داد دی ۔ ایک دو بار یہی پُر فریب کھیل دہرایا گیا اور جب مجھے یقین ہو گیا کہ دل جان خان اب تک کمرے میں پہنچ گیا ہوگا تو میں بھی وہاں سے کھِسک گیا اور تقریبا بھاگتا ہوا جیسے ہی دل جان خان کے کمرے میں پہنچا تو اُس وقت تک وہ آدھا مرغ ہڑپ کر چکا تھا خیر چھینا جھپٹی سے کچھ بوٹیاں مجھے بھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے مل ہی گئیں۔ اُسی رات ۹ بجے سرور ہمارے کمروں میں آیا اور آتے ساتھ کڑک کے کہا :
”میاں صاحب ! تم دونوں سے ابھی اور اسی وقت ملنے کے خواہشمند ہیں “
اُس کی تنی ہوئی بھویں اور اکڑی ہوئی گردن آگے کی کہانی سنانے کے لیے کافی تھی ۔ ہم نے راستے ہی میں طے کر لیا تھا کہ واردات کا اعتراف نہیں کریں گے چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے۔ لیکن میاں صاحب بلا کے ذہین انسان تھے اُنہوں نے ہمیں سوچنے کا موقع ہی نہ دیا اور چھوٹتے ساتھ کہا:
”درد ! انکار نہیں چلے گا صرف اتنا بتا دو کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی ؟ میں نے جب اُن کے تیور ملاحظہ کیے تو مجھے دور دور تک غصے یا ناراضگی کا کوئی ہلکا سا رنگ بھی دکھائی نہ دیا جس سے حوصلہ پا کر میں نے کہا:
”اجی ! مہینہ بھر ہوگیا اور تو دال کھاکھا کے ہمارا بُھرکس ہی نکل گیا تھا آج جب بُھنا ہوا مرغ دیکھا تو بس ! ضبط نہ ہوسکا !“
ِاس بے ساختہ اور معصومانہ جواب کو سُن کر میاں صاحب سمیت اُن کے مہمان قاضی صاحب کا بھی زور دار قہقہہ اُبل پڑا۔ اس پر میاں صاحب نے پہلے تو سرور کو مخاطب کرکے حکماً کہا : ”آئندہ ہفتے میں لڑکوں کے لیے دو بار گوشت پکا کرے گا۔“ پھر ہماری طرف قدرے تیز نظروں سے دیکھتے ہوئے فرمایا:
”اگر تم دوسرا مرغ بھی لے اُڑتے تو یقینا سزا کے مستحق ٹھہرتے تم نے اچھا کیا کہ مہمان کا حصہ چھوڑ دیا اب وہ سامنے والی پلیٹ سے اپنے حصے کے دو دو کیلے اُٹھاؤ اور یہاں سے چلتے پھرتے نظرآؤ۔“
اتنا دلچسپ اور مزاحیہ واقعہ سننے کے بعد میں نے درد صاحب سے پوچھا کہ : ”درد صاحب ہر شاعر اور ادیب کا کوئی نہ کوئی نظریہ یا نصب العین ضرور ہوتا ہے جس کے شعوری یالاشعوری پرچار کے لیے وہ نظم یا نثر کو بطور میڈیم ( وسیلہ اظہار ) کے استعمال کرتا ہے ۔ آپ اپنی شاعری کے ذریعے معاشرے میں کن اقدار کو فروغ دینے کے خواہش مند ہیں؟
اس پر درد صاحب نے فرمایا:
”میر ادُنیا میں کوئی دشمن نہیں کیونکہ میں محبت پر ایمان رکھتا ہوں میں شاعری کے ذریعے بھی محبت ہی کی اعلیٰ و ارفع قدر کو پروان چڑھانا چاہتا ہوں ۔ محبت دراصل ایک نور ہے ایک روشنی ہے ایک اُجالا ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ دنیا میں نفرت کینے اور بغض کا کہیں کوئی وجود نہیں بلکہ یہ منفی جذبات تو زندگی کا تاریک رُخ دکھاتے ہیں اور آپ میرے ساتھ کلیتاً اتفاق کریں گے کہ تاریکی کا اپنا کوئی مستقل اور قائم بالذّات وجود نہیں ہوتا بلکہ یہ تو روشنی کا فقدان ہے جو ہمیں روز دھوکہ دیتا ہے۔ آپ انسانی سماج اورخود انسان کے باطن کو محبت کے نور سے اُجال دیں ۔ میں یقین سے کہتا ہوں یہ تمام اندھیرے جھٹ سے دور ہو جائیں گے۔“
آخر میں ، میں نے درد صاحب سے معذرت کے ساتھ پوچھا کہ:” موت تو اٹل اوربرحق ہے میں نے ، آپ نے اور ہم سب نے بالآخر مرنا ہے ۔ آپ چونکہ اتنے شریں زبان شاعر ہیں آپ نے اپنی قبرکے لیے اپنا کون سا شعر تجویز کر رکھا ہے؟“
اس پر درد صاحب نے حسبِ دستور اور حسبِ عادت محفل پر اپنے تبسم کینورانی کرنیں منعکس کرتے ہوئے انبساط بھرا جواب دیا :
”میں کبھی نہیں مروں گا میں اپنے پڑھنے والوں اور چاہنے والوں کے دلوں میں تغزل کی روح اور محبت کی خوشبو بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہوں گا۔“
کیونکہ بقول حافظ شیرازی :


ہر گز نمیرد آنکہ دلش زندہ شُد بعشق
ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما


ہم سب نے اُن کے اس پُر عزم دعوے میں اپنی پُر امید آوازیں ملاتے ہوئے کہا:
بے شک آپ اپنے گلہائے سخن میں خوشبو بن کر ہمیشہ تروتازہ رہیں گے ۔ آخر میں درد صاحب نے بھی میری پُر زور خواہش پر اپنا اردو کلام اہلِ محفل کو پڑھ کر سنایا۔ اپنے ”کُرم“ قارئین کو بھی اس سوغات میں شامل کر تا چلوں:


اتنی قربت کے باوجود بتا؟
کیا اِسی طرح سے بسر ہوگی؟
جس طرح ”درد“ کے حروف جدا!
٭٭٭٭٭


اشک پلکوں پہ رُکا ہو جیسے
یہ بھی جینے کی ادا ہو جیسے
تو جو بچھڑا تو یہ محسوس ہوا
مجھ سے ناراض خدا ہو جیسے
اُس کے چہرے پہ پسینے کی بہار
پھول شبنم میں دُھلا ہو جیسے
اس قدر جلد بکھرنا گُل کا
مُسکرانے کی سزا ہو جیسے
مُدتوں بعد یہ معلوم ہوا
درد ہی دل کی دوا ہو جیسے
٭٭٭٭٭٭


عشق کی آگ کو آنچل کی ہوا دی جائے
لوٹ آئے گی ، جوانی کو صدا دی جائے
میری دیوانگی ہے باعثِ حیرت جن کو
کوئی تصویر تیری اُن کو تھما دی جائے
کوئی تارا ، کوئی جگنو ، کوئی آوارہ کِرن
ورنہ پلکوں پہ کوئی شمع جلا دی جائے
٭٭٭٭٭


ان تیز آندھیوں میں کسے کیا دکھائی دے
سمٹے غبارِ راہ تو رستہ دکھائی دے
کیا شہر سامری ہے کہ آنکھوں کے باوجود
ہر شخص مرے شہر کا اندھا دکھائی دے
شاید اِسی کا نام محبت ہے کہ وہ شخص
مری رگوں میں دوڑتا پھرتا دکھائی دے
رشتہ کسی کے درد کا کتنا عظیم ہے
ہر غم رسیدہ دل مجھے اپنا دکھائی دے
٭٭٭٭٭٭


درد صاحب کے بعد اہلِ بزم نے شمع ِ سخن پروفیسر محمد انور بابر کے ُروبرُو لا کے رکھ دی ۔ برادرم جاوید احساس نے اُن سے پے درپے کئی ایک ثقیل علمی ادبی سوال کیے۔ وسیع مطالعے ، ادب سے گہری اور دیرینہ تخلیقی وابستگی کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان میں بطور اناؤسر کے اپنے سالوں پر محیط تجربے کے کے باعث انٹرویو میں احساس صاحب کا سامنا کرنا واقعی بڑا دل گردے والا کام ہوتا ہے مگر اپنی خُداداد حاضر جوابی اور کئی عشروں پر پھیلے تدریسی تجربے کے باعث بابر صاحب اِس گہرے اورچوڑے پاٹ والے دریا کو آسانی سے عبور کرگئے ۔ درد صاحب نے بابر صاحب کا تعارف اِن الفاظ میں کرایا کہ :
”لکی مروت میں مکمل اور باقاعدہ اردو شاعر اگر کوئی ہے تو وہ صرف بابر صاحب ہے۔“اس دوران دلچسپ ، پر لُطف اور بے ضرر معاصرانہ چشمک کی بجلی بھی چمکتی رہی۔وہ یوں کہ بابر صاحب نے سرِ بزم کہیں کہہ دیا کہ : ”میں نے پچھلے دنوں”غزل “ کے موضوع پر ایک” نظم“ لکھی ہے ۔“ درد صاحب نے یہ سن کر تُرکی بہ تُرکی جواب دیا۔پھر تو مجبوراً ہمیں بھی نظم کے موضوع پر ایک عدد غزل لکھنی پڑے گی ۔“جسے سن کر ساری محفل سے لوٹ پوٹ ہوگئی۔ بابر صاحب نے اس محبت اور خلوص بھری ادبی سبھا کی سماعتوں میں اپنے تازہ کلام کا رس بھی نچوڑا مگر مجھے بالخصوص اُن کی کہی ہوئی یہ نظم بے حد پسند آئی ہے۔


لیلےٰ مجنوں کی کہانی اب پرانی ہوگئی
یہ شعیب و ثانیہ مرزا کا یارو دور ہے
پاک انڈیا میڈیا نے کیوں مچایا شور ہے
اک کھلاڑی کو کھلاڑی کی ادائیں بھاگئیں
ثانیہ مرزا بنی دلہن بہاریں آگئیں
اِس خوشی میں نوٹ چھاپے بھارتی سرکار نے
چادریں ، دیگیں چڑھیں اجمیر کے دربار میں
پاک بھارت کا ملن کتنا عظیم الشان ہے
اب مسائل سے نمٹنا ہو گیا آسان ہے
٭٭٭٭٭


لوڈشیڈنگ
دیکھ بجلی کی سبک رفتاریاں
آنے جانے میں کبھی تھکتی نہیں
”واپڈا“ والوں کا انور کیا کریں
بد دعائیں بھی انہیں لگتی نہیں
٭٭٭٭


منزلیں قومی بقا کی طے کرے
صبر کر تُو ، آہ کر نہ ہائے کر
گرمیوں کی لذتیں محسوس کر
”لوڈشیڈنگ“ کو بھی کچھ انجوائے کر
٭٭٭٭٭٭


نشست کے ختتام پر طعام گاہ میں پُر تکلف کھانا چن دیا گیا جس نے ادبی ذائقے کو مزید تڑکا لگا دیا۔ہر ہر ڈش محبت میںبھُونی خلوص میں تلی اور روایتی مہمان نوازی سے پروسی گئی تھی ۔ ذوق وجدان اور کام و دہن ایک ساتھ آسودہ اور نہال ہو گئے جسم و جاں کے اتھاہ گوشوں سے دعاوؤں کے چشمے یوں ابل پڑے کہ : ”کاش ! یہ محفل اِسی شان سے روز جما کرتی “ ۔ کھانے کے بعد چائے کا دور بھی چلا اور ڈاکٹر صاحب نے ہمیں اپنے خاندانی نوادرات کی سیرکرائی پھر اُنہوں نے مجھے برادرِ مشفق شہزاد نیر(گوجرانوالہ) کی تازہ ترین شعری تخلیق ”چاک سے اُترے وجود“ اور درد صاحب کی چند ایک شعری تخلیقات کے گراں قدر تحائف، ڈھیر ساری دعاؤں اور نیک خواہشات کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے الوداع کہا۔
فرانسیسی مفکر اور ادیب آندرے موروا کی طرح اگر میں اِن حضرات سے اپنی زندگی میں دوبارہ نہ بھی مل پاؤں تب بھی پُر گداز محبت اور پُر نورعقیدت سے بھری یہی ایک مختصر سی ملاقات میری بقیہ تمام زندگی کو افسردگی کی خزاں سے بچانے کے لیے ان شاءاللہ کافی ہے۔ کیونکہ بقول میر:


روز ملنے پہ نہیں نسبتِ عشقی موقوف
عمر بھی ایک ملاقات چلی جاتی ہے
٭٭٭٭٭


تحریر: پروفیسر شوکت محمود پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں

نوٹ: یہ تحریر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں کے مجلہ کرم میں شائع ہوئی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s