نامور ادیبوں کا اندازِ تحریر


مصنفوں ، ادیبوں اور شاعروں کی ”بوالعجبیاں“ یا ”کج ادائیاں“ مشہور ہیں۔ اکثر اوقات اُنھیں اپنے تخلیقی عمل کو بروئے کار لانے کے لیے خاص فضا یا لوازمات کے اہتمام و انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر ایک انداز جداگانہ ہوتا ہے ، جس سے اس کی انفرادیت جھلکتی ہے۔ ان بوالعجبیوں کا کوئی منطقی یا عقلی جواز نہیں ہوتا۔ انھیں ہم فنکار کی ترنگ کا نام دے سکتے ہیں۔ جب تک لوازمات پورے نہ ہوں فنکار کے ذہن میں نہ خیالات اُبھرتے ہیں اور نہ اس کا قلم رواں ہوتا ہے۔ اس بارے میں کرشن چند لکھنے سے بیشتر چند ایک معروف ادیبوں کے بارے میں لکھنا بے جانا نہ ہوگا۔
مولانا ابوالکلام آزاد:۔
مولانا ابوالکلام آزاد ، جو اپنے زمانے کے ایک بے مثل خطیب اور عالمِ متبحر تھے۔ تحریکِ آزادی کے دوران کئی سال قلعہ

ابوالکلام آزاد

ابوالکلام آزاد

احمد نگر میں نظر بند رہے ۔ دوران نظر بندی اُن کا قاعدہ تھا کہ وہ علی الصباح چار بجے نیند سے بیدار ہو کر ، اپنے ادبی کام کی جانب رجوع ہونے سے بیشتر ، اپنے لیے چائے بنانے کا عمل شروع کرتے ۔ مولانا صاحب ۔ وہائٹ جسمین کی چینی چائے استعمال کرتے اور اس چائے کا ان کے ہاں بڑا اہتمام تھا ۔ وہ چائے دم دے کر اپنے سامنے رکھتے ۔ اس کے بعد لطیف اور نازک روسی فنجانوں میں یہ چائے ڈالی جاتی ۔ چینی کی بجائے وہ شوگر کیوب استعمال کرتے تھے اور پھر بنا دودھ کی اس چائے کو ، وہ چھوٹی چھوٹی چسکیاں لے کر دیر تک پیتے رہتے ۔۔۔چائے پینے کا انداز یہ تھا کہ ہر چسکی کے بعد سگریٹ کا ایک کش لیتے اور پھر چسکی لیتے ۔ اس طرح ان کا یہ سلسلۂ چائے نوشی ، جو شاید کسی طرح بھی شغلِ مے نوشی سے کم نہ تھا ۔ جاری رہتا ۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں: پڑھنا جاری رکھیں→

غزل


خدا سے برسرِ پیکار ہیں ہم
یہ جو رسوا سرِ بازار ہیں ہم

شکایت غیر کی بے جا کریں گے
خود اپنی راہ کی دیوار ہیں ہم

اُسے دشمن بنایا ، دوست تھا جو
جو تھا دشمن ، اُسی کے یار ہیں ہم

سہارا تھے کبھی اوروں کے لیکن
خود اپنی دوش پہ اب بار ہیں ہم

ابھی تو موت کو آنا پڑے گا
بہت مدت ہوئی بیمار ہیں ہم

ہمیں سچ بولنے کی خوئے بد ہے
اگرچہ نوکرِ سرکار ہیں ہم

شناسا تھے سبھی ، جب کام کے تھے
ہوئے تنہا ، جو اب بے کار ہیں ہم

پروفیسرشاہد اسلام تنہا  گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں

مقبول عامر” دشت بے آب” سے "عالم بیکراں” تک


مقبول عامر کے انتقال کو سترہ سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے ممکن ہے اب تک ان کے دوستوں، رشتہ داروں اور مداحین کے دلوں کے زخم مندمل ہوچکے ہوں اگر مکمل طور پر مندمل نہ بھی ہوئے ہوں تب بھی یہ اتنے گہرے

مقبول عامر

نہیں رہے ہوں گے جتنے سترہ سال پہلے تھے۔ لہٰذا اب مقبول عامر کی وفات پر نوحے کہنے اور تعزیت نامے تحریر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اور نہ اب یہ سوچنا سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔ کہ وہ ایک ایسے مقام پر ہم سے بچھڑ گئے۔ جب وہ شعری ارتقا کے منازل طے کر رہے تھے۔ انہوں نے ابھی بہت کچھ کہنا تھا۔ اگر وہ زندہ رہتے۔ تو نہ جانے تخلیق کی کون کون سی راہیں طے کر چکے ہوتے۔ اگر ہم ان باتوں میں وقت صرف کرنے کے بجائے اپنی سوچ کا دھارا اس تخلیق تک محدود رکھیں جو ہمارے سامنے ہے اور یہ سوچیں کہ انہوں نے جو کچھ تخلیق کیا۔ اس کی قدرو قیمت کیا بنتی ہے؟ تو زیادہ مناسب ہوگا۔
ہم نے ادب کو تفریح کاذریعہ سمجھ کر اسے شخصی کوائف نامہ تسلیم کرکے زندگی کی تفہیم کے راستے میں کئی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اگرہم ٹی ایس ایلیٹ کے اس قول پر ایمان لے آتے۔ شاعر کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو فن کے حوالے کر دے تو نہ ہمیں لکیریں پیٹنے کی تکلیف گوارہ کرنی پڑتی اور نہ ہی ہماری شاعری عمومی شخصی اور رومانی کیفیات کا روزنامچہ بن کر رہ جاتی اور نہ ہی ہمارے مشاعروں میں "واہ واہ ٹھاں ٹھاں” کی روایت جنم لیتی۔ جس نے ہماری شاعری کو میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مزاحیہ شاعری کا درجہ دے دیا ہے۔ لیکن ایسی شاعری کو مکمل طور پر سنجیدہ فن بھی قرار نہیں دیا جاسکتالہٰذا کوئی بھی شاعر اگر ہماری شعری روایت میں کسی نئی فکری معنویت، نئے لہجے اور اسلوب کا اضافہ نہیں کرتا اور محض تقلیدی رویہ اختیار کئے رہتا ہے تو مناسب ہوگا کہ اس کے بجائے اصل شعرا کا مطالعہ کیا جائے۔
ہمارے عہد میں ایسے شعرا کی تعداد چونکہ اچھی خاصی ہے۔ لہٰذا ہر شاعر کے باب میں کچھ زیادہ سوچ بچار کے بعد ہی کوئی فیصلہ دیا جاسکتا ہےکہ وہ نیا شاعر ہے بھی یا نہیں؟ پڑھنا جاری رکھیں→

محبت کے نخلستانوں میں عقیدت کا سفر


بنوں اور لکی مروت زمانۂ قدیم سے بے شمار تہذیبی و ثقافتی ، دینی و مذہبی ، علمی و ادبی اور انتظامی و انصرامی اٹوٹ رشتوں میں بندھے چلے آرہے ہیں۔ ان میں دو بھائیوں جیسا پیار یا دو اچھے پڑوسیوں کا سا رشتہ پایا جاتا ہے ۔ بڑا بھائی گروپ فوٹوہونے کے ناتے بنوں کو افرادی قوت کی کُمک پچھلے ہر دور میں ہمیشہ اپنے چھوٹے بھائی لکی مروت سے ہی ملی ہے ۔ چنانچہ محکمہ  تعلیم ، پولیس اور بینک کے متنوع شعبوں سے لے کر اردو اور پشتو شاعروں تک کی ہر چھوٹی بڑی کھیپ وہیں سے درآمد کی جاتی رہی ہے۔ فرانسیسی مفکر اندرے ژید کے نظریے ( حسن اور فن کے معاملے میں حب الوطنی کے جذبے کو دخل نہیں دینا چاہیے ) کی روشنی میں بات کی جائے تو کہنا پڑے گا کہ بنوں کے چند ایک قد آور شاعروں (مقبول عامر ، مطیع اللہ قریشی ، غازی سیال) کو چھوڑ کر دیگر تمام چھوٹے بڑے شاعروں پرلکی مروت کے رحمت اللہ درد ، عبدالرحیم مجذوب ، تبسم مروت ، افگار بخاری اور انور بابر کو واضح بزرگانہ برتری حاصل ہے اس رائے سے ہمارا مقصد کسی کی بے جا تحسین یا تنقیص کرنا ہر گز نہیں ۔ اصحابِ نظر جانتے ہیں کہ قبولِ خاطر و ُلطفِ سخن خداداد چیز ہے۔ کسی بھی ادبی ، لسانی یا علاقائی تعصب سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کے فوری ازالے کے لیے اتنا عرض کر دنیا بہر حال ضروری سمجھتا ہوں کہ بنوںنے فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں ( موسیقی، مصوری اور خطاطی ) میں جیسے جیسے قدآور نام پیدا کیے ہیں لکی مروت میں اُس کا عُشرِ عشیر بھی دکھائی نہیں دیتا۔
فنون ِ لطیفہ کے کئی ایک شعبوں ( موسیقی ، خطاطی ، نقاشی ، مصوری اور شعر و ادب ) سے مجھے بچپن ہی سے گہری دلچسپی رہی ہے ۔ خصوصاًا چھا شعر تو میرے انگ انگ کو ایک وجدانی کیف اور روحانی سرُور سے آشنا کردیتا ہے۔ معلوم نہیں بُطُونِ شعر سے کونسی ایسی طلسماتی پری نکلتی ہے جو خیالوں کی انگلی تھام کر ان دیکھے پربتوں پر لے اُڑتی ہے ۔ پھر شام و سحر ، روشنی و تاریکی ، افسانہ و افسوں ، خوف و امید ، لذت واذیت اور مسرت و ملال کے ملے جلے تاثرات کے تختِ رواں پر بٹھا کر خدا جانے کہاں کہاں لیے پھرتی ہے میں اس باطنی کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا آپ اپنی سہولت کے لیے چاہیں تو اِسے کسی نوخیز حسینہ کا غمزۂ دلفریب کہہ لیں ، کسی معصوم بچے کا تبسمِ دلنواز کہہ لیں یا کسی واصل بااللہ کا نورِ باطن ! مجھے اگر مجبور کیا جائے تو فقط اتنا کہوں گا کہ:


خوبی ہمیں کرشمۂ ناز و خرام نیست
بِسیار شیوہ ہاست بتاں راکہ نام نیست


چنانچہ شعر و سخن کے گلہائے رنگا رنگ سے اِسی ”غمزۂ دلفریب“ اِسی” تبسم ِ دلنواز“ اور اسی ”نورِ باطن “ کی نکہت و شمیم کو پیالۂ ذوق و وجدان میں اپنے نوجوان قارئینِ کرُم کے لیے سمیٹ کر لانے کی غرض سے ہم نے 24 جون 2010ءکی ایک کُہر آلود اور انتہائی خنک مگر دلفریب صبح اپنے ہمدمِ دیرینہ محمد ولی کی گاڑی میں لکی مروت کا ادبی دورہ کیا۔ میرے ساتھ میرے حساس اور ادب نواز دوست جاوید احساس بھی تھے۔ راستے میں مفتی محمود کالج ڈیرہ اسماعیل خان کے شعبہ اردو کے انتہائی سخن طراز اور سخن ساز لیکچرر عبدالمتین مبتلا بھی اپنی گرم گفتاری میں ہمیں مبتلا کرنے کے لیے آشامل ہوئے ۔ کار بنوں سے لکی مروت جانے والی نئی اور کشادہ روڈ پر کُہر اور دُھند کے مرغولوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سورج دیوتا نے اُفق ِ شرق سے بلند ہو کر اپنی نٹ کھٹ شعاعوں کے مشفق و مہربان نیزے ہماری نظروں کے ہدف پر چلانے شروع کر دئیے مجھے بے اختیار مقبول عامر یاد آگئے : پڑھنا جاری رکھیں→