غزل


دنیائے اضطراب کی خدمت نہ کرسکے
جو لوگ مطمئن تھے وہ ہجرت نہ کر سکے


میں اُن کی دوستی کا بھروسہ کروں تو کیا
ڈٹ کر جو میرے ساتھ عداوت نہ کر سکے


ہاں ! اہلِ درد گزرے کئی دورِ منفعت
ہم زخم ہائے دل کی تجارت نہ کر سکے


جو بھی ستم تھا نعرۂ حاکم پناہ تھا
ایسے میں اہلِ شہر بغاوت نہ کر سکے


خاکے تو بے شمار بناتے تھے ہم مگر
قائم کوئی بھی خواب عمارت نہ کر سکے


آؤ کہ اعتراف کریں دل کے رُوبرُو
ورثہ ملا ہم اُس کی حفاظت نہ کر سکے


ڈاکٹر نذر عابد ہزارہ یونیورسٹی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s