اردو غزل کا سورج (سورج نرائن)


لوگ کہتے ہیں کہ مضمونِ غزل میں سورج
ایک رنگین سا اندازِ بیاں رکھتا ہے


سورج نرائن نے شاعری کا آغاز 60ءکی دہائی میں کوہاٹ سے کیا یہ وہ دور تھا جب اردو شاعری میں تخلیقی مزاج ، شعری جمالیات اور طرز احساس کے حوالے سے متنوع تجربات ہو رہے تھے یہی وہ وقت ہے جب ترقی پسند ی اور جدیدیت کی ہم آہنگی سے ایسے تجربات ہوئے کہ اردو شاعری دنیا کی بڑی زبانوں کی شاعری کے ہمرکاب آگئی یہ نظم کا دور تھا اور ظفر اقبال جیسے باغی شعراءنے مسلسل غزل لکھ کر نئے دور کا آغاز کیا ۔ مقامی زبانوں کے الفاظ حقیر غزل بنے اور متروک تراکیب کا دوبارہ احیاءہوا۔ تب جب فیض ، ساحر لدھیانوی، ناصر کاظمی ، منیر نیازی ، شہزاد احمد جیسے شعراءاپنے اپنے موسموں کی گونج پیدا کررہے تھے ۔ سورج کی پہلی کتاب ”پیاسا چاند “ منظر عام پر آئی اورغزل کی دنیا میں ایک طوفان برپا کردیا ۔ بعض لوگوں نے ان کا کلام کو سن کر ناک بھون چڑھائی لیکن یہ تو تب بھی ہوا تھا جب فراز جیسی شخصیت جلوہ گر ہوئی تھی۔


تیغ بکف جب لوگ تھے ایسے عالم میں
میرے ہاتھ سے صرف قلم وابستہ تھا

پڑھنا جاری رکھیں→

شمع اردو کا پروانہ


شمالی وزیرستان کے واحد اردو شاعر اکرم وزیر سے خصوصی انٹرویو


وہاب اعجاز:۔ حسب روایت سب سے پہلے آپ اپنا تعارف کرائیں؟
اکرام وزیر:۔ جناب ! میرا اصل نام امیر شہزادہ اور ادبی نام اکرم وزیر ہے۔ ۶ فروری 1966کو شمالی وزیرستان کی تحصیل ”وسلّی“ کے ایک خوبصورت گاؤں ”دوسلّی “ میں آنکھ کھولی ۔ یہیں تعلیم حاصل کی آج کل اسی گاؤں کے ایک سرکاری اسکول میں معلم کی حیثیت سے اپنے فرائضِ منصبی بحُسن و خوبی سرانجام دے رہا ہوں۔
وہاب اعجاز:۔ سنا ہے کہ آپ صرف اردو میں لکھتے ہیں نیز اس زبان سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔ حالانکہ آپ ایک پشتو ن اور قبائلی ماحول میں رہتے ہیں۔اس بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے؟
اکرم وزیر:۔ اردو ہماری قومی زبان ہے ۔ مسلمانوں کی عظیم زبانوں میںسے ایک ہے ۔ دنیا کے ہر ملک میں اِس کے بولنے اور سمجھنے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں ۔ مقتدرہ قومی زبان کے مجلّے ”اخبار اردو“ کی رپورٹوں کے مطابق اس وقت ( یہ بولنے اور سمجھنے والوں کے اعتبار سے ) دنیا میں دوسرے نمبر ہے ۔ یہ اپنے اندر بڑی وسعت رکھتی ہے۔ بڑ ی میٹھی اور پیاری زبان ہے۔حضرتِ داغ کیا خوب فرما گئے ہیں:


اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے


یہ الگ بات کہ ہمارے ملک میں اسے وہ مقام نہیں مل رہا جس کی یہ حقدار ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو قومیں اپنی اقدار کو نہیں جانتیں، اپنی زبان و ثقافت کواہمیت نہیں دیتیں اور اپنے آپ کے بجائے دوسروں پر انحصار کرتی ہیں۔ وہ غلاموں کی سی زندگی بسر کرتی ہیں۔ کامیاب اور باعزت زندگی ان کے نصیبوں میں نہیں ہوتی ۔ ہمیں اپنے دین ، اپنے ملک ، اپنی زبان غرض یہ کہ اپنی ہر ایک چیز سے محبت کرنی چاہیے۔ پڑھنا جاری رکھیں→

غزل



داغ سجدوں کا بر جبیں آیا
بات کرنے کا ڈھنگ نہیں آیا


وہ حسین بھی زُباں کا پکا تھا
”نا“ ، کہا جب تو پھر نہیں آیا


بات اُس نے کہی پہ بن نہ سکی
جب وہ رقیبِ نکتہ چیں آیا


سارے لفظوں میں زباں پر تیری
”تو“ کا اِک لفظِ دلنشیں آیا


اُس کے وعدے پہ میں جو ُمسکایا
وہ یہ سمجھا ، مجھے یقیں آیا


اب افتخار سے گلہ کیا ہے
گھوم پھر کر تو پھر یہیں آیا


افتخار درانی ایڈوکیٹ

غزل


دنیائے اضطراب کی خدمت نہ کرسکے
جو لوگ مطمئن تھے وہ ہجرت نہ کر سکے


میں اُن کی دوستی کا بھروسہ کروں تو کیا
ڈٹ کر جو میرے ساتھ عداوت نہ کر سکے


ہاں ! اہلِ درد گزرے کئی دورِ منفعت
ہم زخم ہائے دل کی تجارت نہ کر سکے


جو بھی ستم تھا نعرۂ حاکم پناہ تھا
ایسے میں اہلِ شہر بغاوت نہ کر سکے


خاکے تو بے شمار بناتے تھے ہم مگر
قائم کوئی بھی خواب عمارت نہ کر سکے


آؤ کہ اعتراف کریں دل کے رُوبرُو
ورثہ ملا ہم اُس کی حفاظت نہ کر سکے


ڈاکٹر نذر عابد ہزارہ یونیورسٹی