غزل



کمال آنکھیں تھیں اس کی ، عجیب لہجہ تھا
سکوت میں بھی وہ جیسے کلام کرتا تھا


میں اپنی ذات کی گہرائیوں میں اُترا تو
وجود اس کا سبھی راستوں میں پھیلا تھا


پھر اس کے بعد خود اپنی تلاش مشکل تھی
نہ جانے کونسے موسم میں تجھ سے بچھڑا تھا


اسے بھی پچھلی رتوں کا ملال تھا شاید
میرا بدن تو گئی ساعتوں کا نوحہ تھا


تیرے وجود کی منطق تلاش کرنے میں
ہجوم ساتھ تھا میرے میں پھر بھی تنہا تھا


سہیل یاد میں اس کی کچھ ایسی شدت تھی
میں اس کو خواب کے پیکر میں ڈھال آیا تھا


پروفیسر سہیل احمد شعبۂ اردو جامعہ پشاور

ایک خیال “غزل” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s