اگلی بار


تحریر : اویس قرنی

ابھی رات شروع ہونے کو تھی جب اس نے میرا گلا دبا کر اس زور سے زمین پر گرا دیا کہ میری آنکھیں باہر نکل آئیں کچھ لمحوں تک تڑپنے پھڑکنے کے بعد بالآخر اس نے مجھے قتل کر ڈالا اپنے مرنے کا یہ منظر میں اس کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھتا رہا ۔ اس روز آسمان پردیر تک چیلیں ، گدھ اور ابابیلیں پہلی بار اتنی زور سے چیخی تھیں۔
غار سے کافی فاصلے پر آکر گھڑا کھودتے کھودتے جب وہ تھک کر دم بھر کے لیے رکا تو اچانک میری لاش پر نظر پڑتے ہی اسے جیسے ہوش آگیا ہو پھر وہ رات گئے تک بلک بلک کر بچوں کی طرح روتا رہا تب ڈوبتا سورج سلگتی ہوائیں اوردرخت اور دریا خون کے آنسو روئے تھے اور جب روتے روتے شفق کی آنکھیں بے تحاشا سرخ ہوگئیں تو پرندوں نے ڈر کے مارے جنگل کی شاخوں میں خود کو چھپا لیا او ر وہ دن اور آج کا دن ہر روز اسی وقت شفق خون روتی ہے اور سمندر گدلے ہوتے جاتے ہیں اور لمحوں کی مضراب سے تخلیق ہونے والے حیات کے سبھی نغمے سیاہ شال لپیٹے میری قبر پر روز آکر یوں کھڑے رہتے ہیں کہ ان کی حالت پر وقت کو رحم آنے لگتا ہے اور جب کائنات کی آنکھوں کے تارے ٹوٹ کر ان کے دامن میں آ گرتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ اپنی شال سنبھالتے ہوئے رخصت ہو جاتے ہیں۔
کچھ دنوں تک زمین نے مجھے گلے سے لگائے رکھا لیکن پھر میںنے ہمت کی اور دھیرے سے اپنے قبر کی مٹی ہٹا کر دیکھا تو باہر بہت کچھ بدلا ہوا تھا اور میرے جیسے بہت سارے لوگ زمین پر چل پھررہے تھے ۔ میں نے بھی چند لوگوں کو ساتھ ملا کر زمین کے اسی حصے میں اپنا قبیلہ آباد کر لیا۔
تب ایک دن کچھ پتھروں سے چنگاریاں نکلیں جس نے جگہ جگہ سوکھی گھاس کی ٹکڑیوں کو جلا ڈالا اس روشنی کو پکڑنے کی کوشش میں میرا ہاتھ بری طرح جل گیا جس پر میں نے چیخ چیخ کر اپنے قبیلے کو اکھٹا کیا۔ بہت دیر تک ان کی آنکھوں میں بھی حیرت کی چنگاریاں چمکتی رہیں۔
پھر وہ کچھ سوچنے لگے اورآخر کار سب نے ایک ساتھ فتح و مسرت کا نعرہ بلند کیا اور دیوانہ وار ان دہکتے شعلوں کے گرد رقص کرنے لگے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس الاﺅ نے زمانے کے جمود کو توڑ کر ایک نیا انکشاف کیا ہو اس پہلے رقص کی گردش نے پہلی دریافت کی ساری حرارت کو اپنے اندر سمو لیا تھا پھر ہم درختوں کو کاٹتے گئے تاکہ یہ شعلے کسی بھی لمحے بجھنے نہ پائیں ہم نے گوشت کے ٹکڑے بھون کر چکھے تو ہماری حیرتوں کے سبھی ذائقے بدل گئے۔
اس آگ کے سائے میں ہم نے خوفناک درندوں سے بچنے کی ترکیبیں سوچیں اور اپنی کپکپاتی راتوں کو تخلیق کے گرم گرم الاؤ کے لحاف میں لپیٹا اور یہی وہ لمحے تھے جب ہم نے پہلی بار ایک دسرے کو کہانی سنانے کی کوشش کی ۔
ہم نے درختوں کی شاخیں توڑیں اور ان سے چوپال بنا لیے ، کئی بار موسم کی شدتوں نے ہمارے چوپال ہواﺅں میں اڑا دئیے لیکن ہر بار ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی خاطر یہی سوچا کہ دیکھیں اس بار کون بازی جیتتا ہے یہاں تک کہ اسی دھن میں کبھی کبھی خود ہی اپنے گھرندوں کو گرا کر نئی بنیادوں کے لیے جواز ڈھونڈنے لگے اور اس دوڑ میں ایک دن ان سب نے مل کر کچھ سوچنے کے بعد مجھ سے ہار مان لی تھی لیکن اس رات سوتے میں کسی نے میرا چوپال میرے اوپر یوں دھڑام سے گرا دیا کہ اس ملبے کے بوجھ میں کسی اور تابوت کی ضرورت ہی نہیں پڑی اب کی بار اگرچہ میں جلد ہی زمین کی گودی سے اُٹھ آیا تھا لیکن میرے اٹھتے ہی سمے وقت کا گھوڑا بڑی تیزی سے کئی موڑ کاٹ کر بہت آگے نکل چکا تھا ۔
میں نے اٹھتے ہی ادھر اُدھر نگاہ دوڑائی دور دور تک لمبی لمبی دیواریں تھیں اور گھر تھے اور گلیاں تھیں اور میرے قریب ایک شخص گزرا جس نے لکڑیوں کا گٹھا اٹھایا ہوا تھا۔
تب میں نے وہ راستہ لیا جہاں سے وہ آرہا تھا اور میں دور تک چلا لیکن نہ گلیاں ختم ہوئیں اور نہ کہیں درخت اور چوپائے دکھائی دئیے اور کچھ لوگ ایک جگہ جمع ہو کر چاندی کے کٹوروں میں دودھ اس طرح لے رہے تھے جیسے سامنے والے کان میں آنے والوں سے کچھ پوچھنے کے بعد لکڑیوں کے گھٹے بنا کر دئیے جارہے تھے یہاں اور بہت سی نئی چیزیں تھیں بہت سے نئے ذائقے تھے ۔ ایسے میں یکبارگی مجھے کچھ یاد آگیا اور میں نے ایک چھوٹی سی لکڑی اٹھا کر اس سے اپنے لیے غلیل بنا لی اورہاتھ میں کچھ پتھر لیے اور گلیوں گلیوں سینہ تان کر چلا لیکن جیسے کسی کو میری اس اکڑ کا پتہ ہی نہیں چلا کیونکہ ہر ایک اپنے کام میں ڈوبا ہوا تھا۔ جلد ہی اس نئی بستی سے مایوس ہونے کے بعد ہم نے اپنے لیے نئے گھر تعمیر کرا لیے اور دریا عبور کرنے کے لیے کشتی بنا لی اورکھیتوں میں ہل چلا کر اپنی پسند کے پھل حاصل کر لیے لیکن ایک دن کسی نے بڑی چالاکی سے دو تین جگہوں پر تفریق کا بیج پھینکا جس کا پھل بے حد کسیلا تھا یہ کڑواہٹ ہمارے اندر ایسے اتر گئی کہ ہماری آوازوں کو چاروں طرف سے بد اندیشیوں کی سڑاند نے گھیر لیا اگرچہ ایک سماوی نغمگی مسلسل ہمیں سمجھاتی رہی لیکن لطافتوں کی یہ بوندیں بے کار چلی گئیں اور ہم نے تقسیم کے تیشے سے ایک دوسرے کے سر پھوڑ کر گندم کے خوشوں اور دھان کی فصلوں کو ایک دوسرے کے خون میں نہلا دیا اور جب ہر قبیلے نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے تو ایک روز دریا کا پانی شور مچاتا گونجاتا برستا دیواروں سے دیوانوں کی طرح ٹکر یں مارتا ہوا آیا او ر تاحد نظر بدی کے راگ کو اپنے منہ سے نکلنے والے جھاگ سمیت نگلتے ہوئے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کھیت اور پیڑ ، انسان اور حیوان ، ہوائیں اور گھٹائیں اور گھر اور گلیاں سب اسی بھیانک بہاﺅ کے ایک ریلے کی نذر ہو گئے اور میں کشتی سے یہ دردناک منظر دیکھتا رہا اور جب دریا کے دل کا غبار آہستہ آہستہ اتر گیا تو مدتوںکھنڈروں کی زمین پر بھٹکتے پھرنے کے بعد چند ہیولوں کو پاکر چند چہرے ملا کر ایک نئی دنیا بسانے کی ٹھان لی۔
یہ نئی دنیا ہم نے بڑی عجلت میںبنائی ہم نے دریاﺅں کا رخ موڑا اور مچھلیوں کے پھانسنے کے لیے نت نئے داﺅ آزمانے لگے اور وقت کی طوفانی لہروں کا لحاظ کیے بغیر دور دور تک اپنے پھندے پھیلا دئیے لیکن بہت جلد وقت کے دریا سے ایک ایسی لہر اٹھی جو ہمارے گلے کا کانٹا بن کر اٹک گئی۔مگر ہم نے اس وقت ایسی بے نیازی دکھائی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔
تب دھیرے دھیرے ہمارے کان اور ہماری آنکھیں ، ناک اور گردنیں ، ہاتھوں اور پیروں ، ناخنوں اور بالوں کی کایا یوں پلٹی کہ ہمارے چہروں پر اچانک نوکیلی جھاڑیاں اُگ آئیں یہ دیکھ کر ہمیں ایک دوسرے سے بے تحاشا خوف محسوس ہو ا یا شاید ہم ایک دوسرے کے آئینے میں پہلی بار خود کو اصل صورت میں دیکھ رہے تھے ایسا لگا جیسے وجود کی ہر شاخ پر کانٹوں کا ایک جنگل اُگ آیا ہو اور دل و دماغ کی کھدروں میں جگہ جگہ ببول کے درختوں کی باڑ لگی ہو لیکن میں برابر دیکھتا رہا کہ جس طرح زمین خود سانس لیتی ہے اس طرح وہ میری روح کے تنفس سے بھی کبھی لاتعلق نہیں رہی اور جب روح کا تنفس بحال ہوتے ہوتے ایک یُگ بیت گیا تو کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے ان بے حد چڑھے ہوئے منہ زور دریاﺅں پر بند باندھنے کا ارادہ کر لیا کہ یہ فیصلہ اب ناگزیر ہو چکا تھا یہ بند باندھتے ہی ہم نے اپنے وجود میں ایک نئی توانائی ، ایک نئی قوت اور بجلی دوڑتی محسوس کی اس برقی رو سے تہذیب کے نئے الاﺅ روشن ہوگئے۔یہ بجلی کسی کاغذی پیراہن کی طرح دیر تک ہمارے جسموں کے اوپری سطح پرسراسراتی ہوئی رینگتی رہی لیکن جب اس سطح کے نیچے بھونچال آئے تو اوپر کی ساری چکا چوند بھک سے اڑگئی۔ ان نئی بستیوں کے بندوبست میں ہم خود سے انصاف نہ کرسکے اور بہت جلد ہر شخص کے لیے اپنا گھر اور اپنا گھرانہ ایک گالی بن کر رہ گیا اور وہ پرائے گھروں اور پرانی رفاقتوں پر گدھ بن کر اس طرح منڈلانے لگا کہ تخلیق کی ساری طہارت ناپاک دھبوں میں بدل کر رہ گئی اور ایک دن سبھی رستوں کے روکھے سوکھے پتے یوں ٹوٹ کر بکھر گئے کہ وہ بالکل برہنہ پیڑوں کی مانند نکل آئے۔ پھر یوں لگا جیسے بجلی کی سبھی تاریں ننگی ہو کر ان برہنہ پیڑوں کے تنوں سے سنپولوں کی طرح چمٹ کر انہیں بڑی بے دردی سے ڈس رہی ہوں اس وقت ہواﺅں نے یہ منظر دیکھ کر سرسے پیروں تک اپنے چہروں کو پاتال کے برقع میں ڈھانپ لیا تھا لیکن وہ زہر اب درختوں کے جسموں سے ہرکر بڑی تیزی سے دراڑیں پیدا کرتا ہوا زمین کی تہہ تک اتر رہا تھا اور ہوائیں جنہوں نے خود کو کہیں بہت تاریکی میں چھپا لیا تھا اس زہر ناکی کی تاب نہ لاتے ہوئے پوری قوت سے زمین کے اس ٹکڑے سمیت اوپر اٹھ آئیں اور پھر اوپر سے ایسی ہولناک بارش ہونے لگی جیسے کوئی کسی کو سنگسار کرنے نکلا ہو۔ پھر زمین ہلنے لگی اور عمارتیں دھڑام سے منہ کے بل گرنے لگیں۔
اس واقعے کے کچھ ہی روز بعد مجھے ایک پہاڑ کی تہہ میں ایک بوسیدہ سی کتاب ملی میں اسے الٹ پلٹ کر دیکھتا گیا تب مجھے معلوم ہوا کہ ایسی اور بھی بہت سی کتابیں میرے آس پاس موجود ہیں مگر انہیں ڈھونڈنا ہوگا لیکن جس روز میں کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوا عین اسی وقت ایک شخص نے ہمارے قبیلے پر لشکر کشی کی اور تلوار کی نوک سے اپنا ”طورہ“ لکھ ڈالا اور سوائے اپنے طورے کے باقی سبھی کتابوں اوررسالوں کو ناچتے ہوئے شعلوں کی نذر کردیا۔
اور مجھے وہ دن یا د آیا جب بہت سالوں پہلے ایسے ہی ایک شخص نے ہمارے قبیلے کے ایک بچے کی تلاش میں ہزاروں معصوم بچوں کی کھوپڑیوں کاہار اپنے گلے میں ڈال کر اپنی خدائی کا آتشین جام لنڈھایا تھا اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھاکہ نیل کی موجیں دونوں مرتبہ ہم پر بعینہ اسی طرح مہربان ہوں گی جیسے ایسی ہی ایک قہر ناک آگ میں ڈالے جانے پر بھی شعلوں نے ہمارا دامن جلانے سے انکار کیاتھا ۔شاید اسے گزرے ہوئے ماضی کے رقص اور بیتے دنوں کا پاس تھا جبھی پھولوں کی سیج میں بدل گئی تھی۔
تب اس شام سمندر کی ڈوبتی اچھلتی لہروں نے اپنے ماضی کے صندوق سے کتابِ عبرت کے کئی اوراق ہمیں پڑھ کر سنا ڈالے۔ پر یہ معلوم نہ تھا کہ جس دریا کا پانی آج ہم پرمہربان ہوا ہے کل ان موجوں کے تھپیڑے کسی درد کے دجلے اور فراق کے فرات کا نوحہ بھی بن سکتے ہیں۔ اب کی بار ارادہ کیا کہ اس زمین و زماں کی سیر کے لیے نکلیں گے لیکن ہمارے فیصلے سے پہلے ہی ہواﺅں میں اڑان بھرنے کے لیے طرح طرح کے اڑن کھٹولے آ موجود تھے۔۔۔آنے والا دن شدت سے یہ احساس لے کر آیا کہ زہر میں بجھے ہوئے تیروں اور تلواروں کا مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ ابھی انہیں سوچوں میں مگن تھے کہ پہاڑوں کے دامن میں ایک ایسا مہیب دھماکہ ہوا جس سے دھرتی کاسینہ لرز اٹھا۔۔۔کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی ایسی قوت بھی ہوسکتی ہے جو پہاڑوں کے دلوں کو بھی ہلا کررکھ دے گی اور مخالف قوتوں کی توڑ کے لیے اڑن کھٹولوں سے وہی آگ برسائے گی جسے پاکر ایک دن ہم نے جشن منایا تھا اگلے روز کسی نے عقب سے حملہ کرکے لوہے کی جیک کو میرے سر پر اس زور سے مارا کہ میرے جبڑے توڑ کر رکھ دئیے اورمیرے دانت باہر نکل آئے پھر اس نے ایک آہنی ٹکوے کی مدد سے میرے وجود کا بٹوارہ کر دیا ور میری زبان کو بھی جگہ جگہ سے کاٹ کر کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر ڈالا اور پھر اپنے آہنی بوٹوں سے ٹھوکر لگا کر ایک ”چوکور “ مین ہو ل کی ”چھاونی“ میں پھینک ڈالا کئی گولیاں میرے سینے اور میرے دل اور میرے جگر میں سے ہوتے ہوئے اس گٹھر کے تعفن میں غائب ہوگئیں اور گٹھر کے دوبارہ کھلنے کے ڈر سے یہاں پر سرحدوں کے خوف نے اپنا پہرا بٹھا دیا۔جس ایذا رسانی سے میں یہاں گزرا شاید اتنی اذیت تو مجھے اس وقت بھی نہیں پہنچی تھی جب مجھے سولی پر چڑھا دیا گیا تھا۔
اس روز دوپہر کو ایک شخص نے مجھے کچھ اس طرح نشانہ بنایا کہ خود اس کاسر بھی اس کے دھڑ سے یکلخت جدا ہوگیا گرتے گرتے اس کاسر میرے دھڑ کے اوپر گرا تھا اور میرا سر اس کے دھڑ سے لگ کر حرارت لینے لگا تھا اور ہمارے خون سے معبدوں کی سرزمین ”لال“ ہو چکی تھی دوسرے دن ہم ایک دوسرے کا چہرہ پہن کرنکلے تو احساس تک نہیں ہوا کہ ہم ایک دوسرے کے جسم میں پھر رہے ہیں اور اس روز ہم نے سارا وقت یہی سوچ سوچ کر گزارا کہ ایک دن وہ جو ہم نے بند باندھے تھے پتہ نہیں کہاں کہاں ٹوٹ گئے تھے۔
ابھی سوچ کی پہلی سانس بھی لینے نہ پائے تھے کہ کئی کڑکڑاتے ہوئے رائفلوں نے ہماری لاشوں کو بھرے بازار میں روندنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ میرے اردگرد لاشوں کے کھمبے سے گرائے جارہے ہیں جیسے میرے قریب دھویں کا کوئی آرا چل رہا ہو اور سماج کی ہرکہانی مذہب کا ہر قاعدہ ، سائنس کے سارے مفروضے اور فلسفے کی سبھی موشگافیاں لاشوں کے ڈھیر میں جھلس رہی ہوں لوگ زمین چھوڑ کر بھاگ رہے تھے ان کے پیچھے آگ لگی تھی وہ آگ جس میں ایک دن انہوں نے پناہ ڈھونڈی تھی اب ان کا پیچھا کررہی تھی پھر اچانک ایک ہولناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ ایسی جان لیو بدبو کائنات کے اس کونے سے اس کونے تک یوں پھیل گئی کہ زمین پر گرتی ہوئی لاشوں کی جلدیں تک اترگئین ہم نے اس طرح ننگے جسموں کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کی کیونکہ نیچے سے کوئی زمین کی چادر بڑی بے دردی سے کھینچ رہا تھا لیکن اب بدبو کی شدت میں اتنی تیزی آچکی تھی کہ اس نے ہماری ہڈیوں تک کو پگھلانا شروع کر دیا دھویں کا سمندر ٹھاٹیں مارتا ہوا یوں چڑھ رہا تھا جیسے کسی نے دنیا کے چہرے پر ہزاروں ناگا ساکیوں کو دے مارا ہو۔
ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو کر بکھررہی تھین ۔۔۔آخری منظر جو دیکھنے میں آیا تو یوں لگا جیسے کائنات کے وجود میں اندر ہی اندر کیڑے پڑ گئے ہوں اور وہ اندر سے مکمل طور پر اکھڑ گیا ہو اور اب کسی بڑے گُرز کی ضرب سے اس کا وجود پارہ پارہ ہو کر ختم ہو چکا ہو۔ ”تو بالآخر“۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یوں بھی اس گھناﺅنے کھیل کا خاتمہ ایک دن تو ہونا ہی تھا لیکن ایک چنگاری اب بھی کہیں دور خلاﺅں میں سوچ بن کر بھٹک رہی ہے کہ اگلی بار اٹھنا ہوا تو جانے کس شکل میں کن حشر سامانیوں کے ساتھ نکلوں گا؟؟؟؟؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s